پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مصنف کا تعارف:
میرا نام محمد عقیل ہے اور میں کراچی کے ایک مقامی کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ۱۹۹۷ سے تدریس کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ میں نےایم کام کراچی یونیورسٹی سے سن ۱۹۹۶ میں مکمل کیا جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی (سوشل سائنس) ہمدرد یونیورسٹی سے کیاہے۔
سوشل سائنس میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے میری اسپیشلائزیشن سماجی اور مذہبی موضوعات سے بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ میری ساری دلچسپی اسلام کے تناظر میں سماجی و معاشرتی معاملات کو زیر بحث لانے میں ہے۔ میرے آرٹیکل ایک مقامی ماہانہ میگزین “انذار” میں باقاعدگی سے چھپتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ مضامین جسارت میں بھی شایع ہوچکے ہیں۔ اکثر بلاگز اور ویب سائٹس پر میرے مضامین وقتاّّ فوقتاّّ شایع ہوتے رہتے ہیں۔ ان تمام مضامین اور تحریروں کا مقصد سوسائٹی کے غلط رویوں کی نشاندہی کرنا، انکی اصلاح کرنا، اور ان پر لوگوں کو متنبہ کرنا ہے۔
میرا مسلک کیا ہے؟ 
میرا تعلق کسی جماعت، تنظیم یا فرقے سے نہیں۔ چونکہ میں ریسرچ کی فیلڈ سے منسلک ہوں اس لئے میں جو کچھ بھی قرآن و سنت پر تحقیق سے دریافت کرتا ہوں اسے قارئین کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔میرا اصل مذہب قرآن اور سنت کی اتباع ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس بلاگ کے مقاصد و اہداف کیا ہیں؟
اگر غور سے دیکھا جائے تو پاکستانی سوسائٹی دو واضح گروہوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک طبقہ روایتی مذہبی لوگوں پر مشتمل ہے اور دوسرا جدید یت پسند لوگوں کا ہے۔ علماء حضرات کا تعلق چونکہ روایتی گروہ سے ہے اس لئے عام طور پر ان کا رابطہ جدید پڑھے لکھے طبقے سے نہیں ہوپاتا۔ اس جدید پڑھے لکھے طبقے میں ایک بڑی تعداد ایسے مخلص لوگوں کی ہے جو دین کے ساتھ اخلاص رکھتے اور اسے سمجھ کر اپنی زندگیوں میں لانا چاہتے ہیں۔ لیکن قدیم روایتی علماء سے ان کا مناسب رابطہ نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے سوالات و مسائل کا تسلی بخش جواب نہیں تلاش کرپاتے اور دین سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اس بلاگ کا بنیادی مقصد مسلمانوں کی علمی اور عملی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا، ان سے بچنے کے لئے حل تجویز کرنا اور تربیت کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تاکہ لوگ اللہ کی بندگی اختیار کرکے دنیا و آخرت کی کامیابی کے مستحق بن جائیں۔
دوسرا مقصد اس بلاگ کے ذریعے اس جدت اور قدامت پسند گروہوں میں کمیونکیشن گیپ کو کم کرنا اور اسلامی تعلیمات کو عصر حاضر کے اسلوب میں پیش کرنا ہے۔ لیکن اس مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اسلام کے ابدی اصولوں میں ترمیم کردی جائے۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کا مفہوم محض پریزینٹیشن کی تبدیلی ہے اور اس سے زیادہ کچھ اور نہیں۔
اس بلاگ کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو فرقہ واریت اور مسلکی تعصب سے بلند کرنے کے لئے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کہ جائے جس کے ذریعے لوگ خالص قرآن اور سنت کے ذریعے دین کی تعلیمات جان سکیں۔
ایک اور مقصد مسلمانوں کو ان کے حقیقی ورثے یعنی اخلاقیات کو اپنانے کی دعوت دینا ہے۔ اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ اخلاقیات کو بھی شامل کرتا اور انہیں عبادات جیسی اہمیت دیتا ہے۔ چنانچہ جس طرح نماز ، روزہ، حج اور زکوٰۃ کو ترک کرنا گناہ میں آتا ہے ویسے ہی جھوٹ، غیبت، بہتان، حسد، کینہ، حرص اور زنا بھی بڑے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس بلاگ کا ایک اہم ٹارگٹ مسلمانوں کو ان گناہوں پر متنبہ کرنا اور ان سے بچنے پر تعلیم اور تربیت فراہم کرنا ہے۔
بلاگ کن اجزا ء پر مشتمل ہے؟
یہ بلاگ صرف مضامین پر ہی مشتمل نہیں بلکہ اس میں ایک فرد کی تعلیم، اصلاح اور تربیت کے جدید ٹولز موجود ہیں۔ ان میں “مسلم شخصیت کو جانچنے کا کیلولیٹر، رمضان ورک بک ، اصلاحی ورکشاپ، تربیتی وڈیوز، بچوں کی تربیت پر ایک مکمل گائیڈ، آن لائن عربی پروگرام، قرآنی تفاسیر کا آن لائن تقابلی مطالعہ اور دیگر پروگرامز شامل ہیں۔
ان ٹولز کے علاوہ اس بلاگ کے ذریعےآپ کے مذہبی اور سماجی سوالات اور مسائل کا جواب بھی فراہم کیا جاتا ہے۔اسکے ساتھ ہی آپ کے تبصروں کو شایع کرتا ہے تاکہ دو رخی کمیونکیشن کے ذریعے ایک مثبت مکالمے کی فضا پیدا کی جاسکے۔
اس مشن میں تعاون کس طرح کیا جائے؟
اس مشن میں تعاون کی پہلی صورت تو یہ ہے کہ اس کی کامیابی کے لئے اللہ سے دعا کریں کہ اللہ ہماری ان کاوشوں کو قبول فرمائیں اور اسے دنیا و آخرت کی فلاح کا ذریعہ بنائیں۔
تعاون کی ایک شکل یہ ہے کہ اس بلاگ پر شایع ہونے والے مضامین اور پروگراموں کا مطالعہ کریں اور ان پر اپنے مثبت یا تنقیدی کمنٹس دیں تاکہ کسی بھی غلطی کی جانب جوع کرکے اس کی اصلاح کرلی جائے۔
ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان مضامین کو انٹرنیٹ ، پرنٹ آؤٹ یا کسی اور ذریعے سے لوگوں میں پھیلایا جائے تاکہ اللہ کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ اسی کے ساتھ ہمارا معاشرہ ایک صالح اور پاکیزہ سوسائٹی میں تبدیل ہوسکے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ ایک صدقہ جاریہ ہوگا اور اس کا اجر ہمیں قیامت تک ملتا رہے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تب بھی یہ یہ ہماری بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ ہمارا کام لوگوں تک پہنچادینا ہے، اور ہم لوگوں پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں۔چنانچہ اصل مقصد دعوت کی کامیابی یا ناکامی نہیں بلکہ اللہ کی رضا کا حصول ہے جو دو نوںصورتوں میں ہمیں مل سکتی ہے۔
تقبل اللہ منی ومنکم
پروفیسر محمد عقیل