پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

امام صاحب کی آمدنی از مبشر نذیر

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Sep 11, 2011


پاکستان میں مدارس کی بالعموم دو اقسام ہیں: ایک تجوید و قرآء ت اور حفظ کے مدارس اور دوسرے درس نظامی اور اعلیٰ دینی تعلیم کے مدارس۔ پہلی قسم کے مدارس کے فارغ التحصیل قرا ء اور حفاظ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد عموماً کسی مسجد میں امام یا موذن کی خدمات انجام دیتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی حفظ یا تجوید کے مدرسے میں بطور معلم خدمات انجام دیتے ہیں۔ آج کل یہ حضرات اپنی آمدنی میں کچھ اضافہ کرنے کے لئے ہوم ٹیوشنز پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے بے شمار مدارس کا ایک جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کامکمل کیریئر بس یہی ہوتا ہے اور وہ اسی سے حاصل ہونے والی قلیل آمدنی سے اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔
دینی تعلیم کے کورس کو درس نظامی کہا جاتا ہے۔ یہ اورنگ زیب عالمگیر کے دور کے ایک ماہر تعلیم ملا نظام الدین کا ترتیب دیا ہوا نصاب ہے جو تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس میں بالعموم رائج ہے۔ اس دور میں یہ نصاب حکومت کی سول سروس کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ وقت کی ضرورت کے پیش نظر اس میں چند معمولی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ حال ہی میں حکومت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے نصاب کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے ہیں جس کے تحت بعض جدید علوم کو بھی دینی مدارس کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔
ان مدارس کے فارغ التحصیل علماء عموماً مساجد میں امام یا خطیب کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے جو افراد اچھی تقریر کرنا جانتے ہیں وہ جمعے کی نماز کی خطابت کے علاوہ جلسوں وغیرہ میں تقاریر کرکے بھی کچھ رقم کما لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے جو علمی اعتبار سے مستحکم ہوتے ہیں، وہ کسی مدرسے میں بطور معلم ملازمت حاصل کر لیتے ہیں۔ ہمارے عام سکولوں کے نصاب میں بھی عربی پڑھائی جاتی ہے، اس وجہ سے بعض علماء جدید تعلیمی اداروں میں بھی بطور عربی اور اسلامیات کے معلم کے خدمات انجام دیتے ہیں۔ بعض ایسے حضرات جنہیں مالی امداد کرنے والے دوست اور ساتھی مل جائیں ، عموماً اپنا دینی مدرسہ کھول لیتے ہیں۔ یہ حضرات معاشی اعتبار سے سب سے بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔
اگر دینی تعلیم و تعلم کو کوئی بطور کیریئر اختیار کرنا چاہے تو اس میں اس کے لئے دنیاوی اعتبار سے کوئی خاص کشش موجود نہیں ہے۔ 2003 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق حفظ و قراۃ کے مدارس کے ایک عام معلم کی تنخواہ 2500 سے لے کر 6000 روپے تک ہوتی ہے۔ مدارس کے ائمہ کی تنخواہیں بھی اسی رینج میں ہوتی ہیں جبکہ مساجد کے موذن اور خادم حضرات کو 1500 سے 3000 روپے تک ادا کئے جاتے ہیں۔ درس نظامی کے فارغ التحصیل علماء بطور خطیب تقریباً 4000 سے 8000 روپے تک تنخواہ پاتے ہیں اور مدارس میں بطور معلم بھی زیادہ سے زیادہ اتنی ہی رقم حاصل کر پاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بھی بڑے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عام لوگ مساجد اور مدارس کو اچھی خاصی رقم بطور چندہ ادا کرتے ہیں۔
چھوٹے شہروں اور دیہات میں یہ رقوم اور بھی کم ہو جاتی ہیں۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک امام مسجد اپنی تمام تر کاوشوں کے بعد بڑی مشکل سے زیادہ سے زیادہ پانچ چھ ہزار روپے اور خطیب زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار روپے کما پاتا ہے۔ جو حضرات اپنے مدرسے قائم کر لیتے ہیں، وہ نسبتاً بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔ افراط زر کے ساتھ ساتھ ان ائمہ و خطباء کی تنخواہوں میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا۔گویا جس تنخواہ پر ایک امام یا خطیب اپنے کیریئر کا آغاز کرتا ہے، تقریباً اتنی ہی یا اس سے کچھ زیادہ پر اس کے کیریئر کا اختتام ہوتا ہے۔
یہ بھی غنیمت ہے کہ عموماً مساجد کے ساتھ امام و موذن کی رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے اور ان کے یوٹیلیٹی بلز وغیرہ ادا کردیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اس رقم سے یہ حضرات جس درجے کا معیار زندگی حاصل کر سکتے ہیں، اس کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے۔یہی وجوہات ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ فل ٹائم خدمت کے طور پر اسے اختیار نہیں کرتا۔ اس طبقے میں جو لوگ دین کا درد رکھتے ہیں، وہ اپنی معاش کے لئے کوئی اور انتظام کرتے ہیں اور دینی خدمات کو پارٹ ٹائم مشغلے کے طور پر انجام دیتے ہیں۔
مساجد کی اکثریت کا نظام انتظامیہ کمیٹیوں کے تحت چلتا ہے۔ بہت سے مساجد کی کمیٹیاں بھی ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہیں جو شاذ ونادر ہی مسجد میں آ کر نماز پڑھتے ہیں۔ بہت مرتبہ ان لوگوں کا رویہ امام مسجد سے حقارت آمیز ہوتا ہے اور یہ انہیں ذاتی ملازم سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام و خطیب کے انتخاب اور احتساب کا فریضہ وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو علوم دینیہ کی ابجدبھی واقف نہیں ہوتے۔
یہی وجہ ہے کہ امام و خطیب کو مسجد میں انتظامیہ اور نمازیوں کی منشا اور مرضی کے مطابق ہی بات کرنا پڑتی ہے اور اسے مکمل طور پر آزادی رائے حاصل نہیں ہوتی۔ کھل کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا بھی اکثر اوقات ان کے لئے خاصا مشکل ہوجاتا ہے جو ان کی اصل ذمہ داری ہے۔ ان سب کے علاوہ مساجد کی تزئین اور آرائش پر تو لاکھوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور لوگ بھی اس میں دل کھول کر چندہ دیتے ہیں لیکن اس زندہ وجود کی کسی کو خبر نہیں ہوتی جو اس مسجد کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مساجد کی تزئین و آرائش میں اسراف کی حد تک خرچ کرنے میں کسی کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا لیکن اس انسان کا کوئی خیال نہیں کرتا جسے اپنے علاوہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے۔ اگر مساجد کی کمیٹیوں کے عہدے دار اپنے اپنے ائمہ مساجد کے گھروں میں جاکر ان کے معیار زندگی کا اندازہ لگائیں تو وہ خود کبھی بھی ایسی زندگی گزارنا پسند نہ کریں۔
ملک بھر میں چھوٹے بڑے مدارس کا اتنا بڑا جال پھیلا ہوا ہے کہ اس سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔ ملک میں اتنی بڑی تعداد میں نہ تو مساجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور نہ ہی نئے مدارس وجود میں آ رہے ہیں۔ مدارس کے ذہین طلباء عموماً دین پر ریسرچ کا ذوق رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسے ادارے بہت کم ہیں جہاں دین پر ریسرچ کی جارہی ہو۔ ان حالات کے پیش نظر اس طبقے میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا حل سوچنا نہ صرف ارباب حکومت کا کام ہے بلکہ مدارس کے منتظمین اور علماء کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر خوب غور و خوض کرکے اس کا کوئی حل نکال سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مسائل دوہرے نظام تعلیم کی پیداوار ہیں۔ مسلم ممالک پر اہل مغرب کے قبضے سے پہلے یہ صورتحال تھی کہ ایک ہی نظام تعلیم تھا جس میں تمام طالب علم تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اس میں دینی و دنیاوی کی کوئی تفریق نہ تھی۔ مدارس کے تعلیم یافتہ علماء ہی اپنی اہلیت کے مطابق بیوروکریسی، تعلیم، تجارت اور دوسرے شعبوں میں خدمات انجام دیا کرتے۔
اہل مغرب کے سیکولر ازم نے دوہرے نظام تعلیم کو جنم دیا جس کے مطابق دینی مدارس کے تعلیم یافتہ دنیاوی ذمہ داریوں کے لئے نااہل تھے اور دنیاوی علوم کے ماہرین کا دین سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہ ہوتا تھا۔ پاکستان کی کئی حکومتوں نے اس خلیج کو پاٹنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں جن میں مدارس کی سند کو ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مدارس کے تعلیم یافتہ بھی سرکاری نوکریوں کے لئے اہل قرار پا گئے ہیں۔ اسی طرح مدارس کے نصاب میں جدید علوم اور کمپیوٹر کی تعلیم کو شامل کرلیا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود ان معاشی مسائل پر قابو نہیں پایا جاسکا۔
ہمارے خیال میں مندرجہ ذیل تجاویز کے ذریعے دینی مدارس کے تعلیم یافتہ طبقے کے معاشی مسائل پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے اور انہیں بھی زندگی کی خوشیوں میں شریک کیا جاسکتا ہے:
۱۔دینی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا ہنر بھی سکھایا جائے جس میں وہ اپنی روزی کماسکیں۔ یہ تجویز بہت پہلے دی جاچکی ہے لیکن اسے بہت سے علماء نے رد کردیا۔ ایک عالم دین کے مطابق ، اگر ایک امام مسجد یا خطیب معاشرے کے لئے اپنی فل ٹائم خدمات انجام دیتا ہے تو معاشرے کو بھی اس کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے۔ ان کا یہ نقطہ نظر اپنی جگہ بالکل درست ہے لیکن اگر معاشرہ اپنی اس ذمہ داری کو بطریق احسن انجام نہیں دے رہا تو پھر مدارس کے طلباء ہی کو اپنے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔ اگر مدارس میں اس طرز کی کسی تعلیم وتربیت کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا تو طلباء کو چاہئے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت خود ہی اپنے طور پر کوئی ہنر سیکھ کر اپنے کیریئر بنانے کے لئے کچھ اقدام کریں۔ ہمارے ہاں عام لوگوں کی طرح دینی طلباء میں بھی محنت اور ہاتھ سے کام کرنے کو برا سمجھا جاتا ہے اور اس سے اغماض برتا جاتا ہے۔جو شخص بھی دین کا تھوڑا بہت علم رکھتا ہے وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے کام کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ اکثرجلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محنت مزدوری کیا کرتے تھے ۔ کوئی کپڑے سیتا، کوئی گوشت بیچتا، کوئی جوتے مرمت کرتا، کوئی لوہے کا کام کرتا، کوئی قبریں تیار کرتا، کوئی گھوڑوں کی پرورش کرتا اور کوئی کھیتوں اور باغات میں کام کرتا۔ سیدنا ابوبکر اور عثمان رضی اللہ عنہما تجارت کرتے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ باغات میں مزدوری کرکے اپنی روزی کماتے۔ ان حضرات میں ایسا کوئی کمپلیکس نہیں تھا کہ ان میں سے کوئی پیشہ گھٹیا ہے۔ اہل عرب میں اب تک تما م پیشوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ تصورات ہم میں برصغیر کے مخصوص جاگیر دارانہ ماحول کے زیر اثر آئے ہیں جہاں محنت کشوں کو تیسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔
۲۔امام، خطیب اور موذن کو مساجد کی انتظامیہ میں اہم مقام دیا جائے اور ان کی رائے کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ مساجد کو حاصل ہونے والے چندے کی رقم کے زیادہ تر حصے کو غیر ضروری تعمیرات پر خرچ کرنے کی بجائے مستحق انسانوں پر خرچ کیا جائے۔ ان مستحقین میں مسجد کے اردگرد رہنے والے مساکین، بیواؤں اور یتیموں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ انشاء اللہ اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ ملے گا اور مسجد کے اہم ترین ادارے کو بھی ایک فلاحی مرکز کے طور پر معاشرے میں لایا جاسکے گا۔
۳۔اعلیٰ تعلیم دینے والے مدارس کے نصاب میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں کی جائیں تاکہ ان کے فارغ التحصیل طلباء معاشرے سے کٹنے کی بجائے اس کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے والے بنیں۔
۴۔مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا بھرپور اہتمام کیا جائے اور طلباء میں پوری طرح اخلاقی شعور بیدار کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ دوسروں کو دین کی دعوت دیں لیکن ان کی اپنی اخلاقی حالت عام لوگوں سے بھی زیادہ خراب ہو۔ اس معاملے میں حفظ و قراۃ کے مدارس خاص توجہ کے مستحق ہیں کیونکہ آج کل ان کے طلباء بہت زیادہ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ معلمین کی جانب سے توجہ کی کمی ہے۔
از مبشر نذیر
Extracted from www.mubashirnazir.org

14 تبصرے کیے گئے ہیں »

May the government of Pakistan n its people try 2 practise accordingly. Instead of wasting money on beautifying the mosque spend the money 4 the right purpose i.e. by increasing the salary of the imam n the mau’zin n others . May Allah Almighty reward u 4 making the people aware.

September 11th, 2011 | 7:36 pm

میں مبشر نذید صاحب کے بیان کردہ افراد میں سے ایک ہوں، مجھے حیرت ہے کہ انہوں اتنے عجیب موضوع پر قلم اٹھایا ہے۔ اللہ انہیں جزا دے۔

September 12th, 2011 | 10:58 pm

السلام علیکم
آپ کی پسندیدگی کا شکریہ عطا بھائی۔ اگر آپ اس طبقے سے متعلق ہیں تو آپ کے تجربات قابل قدر ہونگے۔ اگر آپ تفصیل سے بیان کرنا چاہیں تو یہ فورم حاضر ہے۔ وگرنہ آپ اس ای میل پر تفصیل سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

aqilkhans@gmail.com

September 13th, 2011 | 12:04 pm

mashallah achi koshish he may Allah almighty reward you

September 13th, 2011 | 1:58 pm
Mohammad Umair bin Saleem Hameed ud din:

Dear Sir Aqeel, Assalamoalaiqum, Kindly enlighten me by the will of ALLAAH, i read on a website by the name of real islam that the salary taken by the imam or khateeb or any person involved with dealings of islam wether it even be an islamiyaat teacher, is haraam, they quoted the ayat of Quraan that, Do not sell your Quraan for money. I try to argue with them that ok, u guys might have a good point, but i told them the same reason that you have mentioned in your article that in madrasa, these ulema are not given anyother education and some of them r so poor n usually without referrences, due to which , many of them are’nt able to even apply for the jobs. So i tried to convince that sahabas time was different, they carried out religious affairs and they did jobs. But due to change in times, these ulemas cant do double jobs or else they will be absent from the masjid. Its not like that an aalim will be looking after a shop, or do gardening or do some cleaning job and for every namaz then he runs to the masjid or runs for the nikaah ceremony or some other reason. Plus its also not possible that he does a job for 3 hours and make enough living. Like as if that after isha, he will work till morning at a call centre or a hotel. I hope u r gettting my point sir. I just want clarification. Is earning for religious duties haraam or halaal?? and if its haraam thenh how will these people make an earning. If u can support your answer with some examples also it will really hel me out. Jazaak ALLAAH khair sir.??

September 14th, 2011 | 12:48 pm

Dear Muhammad Umair
Walaykum Assalam
Hope u will be fine. There is no harm in taking money as remuneration for the religious duties. I am quoting just on Hadith of Bukhari

محمد بن بشار، غندر، ابوبشر، ابوالمتوکل، ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چند لوگ عرب کے کسی قبیلہ کے پاس پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں نے ان کی ضیافت نہیں کی، وہ لوگ وہیں تھے کہ اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، تو انہوں نے پوچھا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے، تو ان لوگوں نے کہا کہ تم نے ہماری مہمان داری نہیں کی اس لئے ہم کچھ نہیں کریں گے، جب تک کہ تم لوگ ہمارے لئے کوئی چیز متعین نہ کروگے، اس پر ان لوگوں نے چند بکریوں کا دینا منظور کیا، انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کی اور تھوک جمع کرکے اس پر ڈال دیا، تو وہ آدمی تندرست ہوگیا، وہ آدمی بکریاں لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں لیتے جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت نہ کرلیں،چنانچہ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ ہنس پڑے، فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ منتر ہے، تم اس کو لے لو اور ایک حصہ میرا بھی اس میں لگادینا۔ )صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 687

September 14th, 2011 | 4:35 pm
Mohammad Umair bin Saleem Hameed ud din:

JazaakALLAAH Khair Sir.

September 15th, 2011 | 5:10 pm

محترم پروفیسر صاحب ،
آپکا معلوماتی لٹریچر پڑھ کے بہت خوشی ہوئی. جو بات بھائی نے پچھلے comments میں کی ہے، میرا بھی ان ہی نظریات کے حامل لوگوں سے واسطہ پڑا ہے. جب انھیں یہ حدیث ( جو مجھے اپ جسے ایک عالم نے بتائی تھی) تو انھوں نے چند سوالات کیے جن کا جواب دینا میرے بس سے باہر تھا. آپ سے مدد کی درخواست ہے.

١. اس حدیث میں جس کو دینی امور پہ اجرت کی دلیل کے طور پے پیش کیا جا رہا ہے، اس میں کون سا دینی کام سر انجام دیا گیا ہے.؟

٢. کیا کسی آدھ مرے ، یا بیہوش شخص، جو موت کی کشمکش میں مبتلا ہو، جس کے حواس اس حدد تک مضحمل ہوں، کے اسکے رشتے دار معالج کی تلاش میں دشمن سے مدد مانگنے پہنچ جائیں. کیا ایسے شخص کے سامنے سورہ فاتحہ کے پڑھنے کو ہم دین کی تبلیغ کہیں گے؟ یا تفسیر یا تراویح پڑھانا ؟ یا با جماعت نماز پڑھانا ؟

٣. کیا سورہ فاتحہ کے دم کرنے پر جو معاوضہ طے پایا وہ مشرکین سے لیا گیا یا مسلمانوں سے؟ کیا کبھی ایسا ہی تاوان کسی صحابی نے کسی مسلمان سے بھی وصول کیا؟

٤. کیا وہ اجرت ، ان چند صحابہ کی تھی، یا تمام مسلمانوں کی یا صرف جناب محمّد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حصّہ تھا؟ اگروہ اجرت صرف دم کرنے والے صحابی ابوسعیدخدری رضی اللہ عن کی تھی، تو باقی صحابہ کا حصّہ کیوں مقرر کیا گیا؟ آج نماز پڑھانے والا مولوی اپنی نیک کمائی کو نمازیوں کی حصے داری سے محروم کیوں رکھتا ہے؟

٥. اگر وہ اجرت ان تمام صحابہ کی تھی ، تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے اپنا حصّہ کیوں مانگا؟

٦. کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں کسی دوسرے کی محنت کمائی میں سے مانگ کر حصّہ( نعوذ باللہ ، بھتہ) لیا تھا ؟

٧. بکریاں وصول کرنے والے صحابہ کو اس وصولی کے مشتبہ کرنے والی کون سی بات نے ، انکی حرمت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت تک موخر کیے رہنے دیا؟

٨. کیا عرب کے اس دور میں ، ریسٹورانٹ تھے ، یا ہوٹل ؟ کے جب مشرکین نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تھا تو صحابہ وہاں سے کھانا کھا کر اور آرام کر کے واپس چلے جاتے ؟

٩. اگر الله کے حکم کے تحت سانپ کی طرف سے سردار کو کٹوانے کی غیبی مدد نہ کی جاتی ، تو عرب کے معروف مہمان نوازی کے اصول سے انحراف ، صحابہ کا صحرا میں قتل کے مترادف نہ تھا؟

١٠. تمام روایت میں موجود ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسے ، کی کیا توجیہ ہے؟ اگر ایک دینی کام ہوا تھا تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، دیگر دینی کاموں کے سر انجام پانے پر بھی ہنسا کرتے تھا ؟

١١. اگر یہ معجزاتی واقعہ نہیں ہے،بلکے ، معمول کی بات تھی، تو پھر سانپ بھی کافی ہیں اور مولوی بھی لا تعداد. کسی مولوی صاحب جو اسکو حجت مانتے ہیں، ہم سانپ سے کتواتے ہیں، وہ فاتحہ پڑھ کر ٹھیک ہو کر اپنے عقیدے کا ثبوت دینے کے لئے تیار ہیں؟

١٢ جان چاہے ایک مشرک کی ہی کیوں نہ ہو، اسے بچانا فرض ہے؟ پھر الله کے یہ سچے والی ، مرنے والے کی مدد کی بجانے معاوضہ کیوں طے کر رہے تھا؟

١٣. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سوال، کے تمہیں کس نےکہ دیا کے سورہ فاتحہ میں دم ہے؟ سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے کوئی ایسا عمل صحابہ کو نہیں بتایا تھا ، اور وہاں پر فاتحہ کا دم کرنا اور تھوک دینا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کا ذاتی عمل تھا ، جو نہ اس سے پہلے کبھی ہوا نہ ہی بعد میں ؟

امید ہے آپ ایک ایک سوال کا علیحدہ علیحدہ جواب دیں گے تا کے سائل کی تشفی ہو سکے .
اس کے بعد میں آپکے سامنے قرآن کی وہ ٣٠ سے ٣٥ آیات لانا چاہوں گا جو دین کے کام پر اجرت کو حرام قرار دیتی ہیں.
وسلام

September 18th, 2011 | 1:09 am
adeem:

پہلی بات تو یہ کہ قرآن سکھا کر کتنی آمدن ھوتی ھے، کم یا زیادہ یہ بات تو ھم تب زیرِ بحث لائیں جب قران کو ذریعہ معاش بنانا خود قران یا صحیح حدیث سے ثابت ھو جائے۔ باقی اگر دیکھا جائے تو اگر کسی امام، حافظ یا موذن کی آمدن قلیل ھوتی ھے تو کچھ کی بہت زیادہ جیسا کے طاھر قادری صاحب یا ان جیسے بہت سے جنہیں ھم دن رات ٹی وی دیکھتے ھیں۔ یہ تو پھر اپنی اپنی پروفیشنل اپروچ ، قسمت یا کی بات ھے جیسے کہ ھم دیکھتے ھیں کے ایک شخص وکالت یا ڈاکٹری پاس کر کے بھی دھکے کھاتا ھے اور دوسرا یہی ڈگریاں لے کر کروڑوں کماتا ھے ۔ لیکن یہ بحث تو ھم تب کریں جب دین کو ذریعہ معاش بنانا انبیاء یا صحابہ سے ثابت ھو- ویسے بھی آج کی امت میں یوں دین کو پیشہ بنانا صرف پاکستان جیسے غریب ملکوں میں نہیں بلکہ دنیا کے ھر ملک میں اور امیر مسلم ممالک میں بھی یہی حال ھے- نتیجہ یہ کہ جیسے دیگر مذاھب میں ھمیں راھب و پنڈت ملتے ھیں ویسے ھی ھمارے ھاں مولوی اور امام ھیں۔ لیکن دین جب معاش کا ذریعہ بن جائے تو اسکا سب سے بڑا نقصان تو یہ ھوتا ھے کہ انسان کے ذاتی مفادات ترجیح بن جاتے ھیں، یہی تمام بڑے مذاھب کے ساتھ ھوا اور یہی آج دین اسلام کا بھی حال ھے۔

آپ نے اھل مغرب کی مثال دی پر وہاں بھی یہی ھوا کہ انکے دینی پیشوائوں نے اپنے لالچ میں لوگوں کو دین سے مکمل طور پر دور کر دیا اور اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان خود ھی خدا بن کر بیٹھ گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ دین سےبھاگ گئے اور پھر انہیں جونہی موقع ملا انہوں نے دین کے ان ٹھیکیداروں کو انکے تمام مال و دولت کے ساتھ انکے کلیسائوں میں بند کر کے اپنے اپنے ملکوں میں سیکولرازم نافذ کر دیا۔ لہذا یہ دوہرا نظام بھی ان دین کے دکانداروں کی اپنی زیادتیوں کی وجہ سے عمل میں آیا۔

سو جب تک دین سیکھنا اور سکھانا صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی طرح ایک رضاکارانہ اور ذاتی کوشش پر مبنی کام رھا اسلامی معاشرہ بالعموم اسلام سے نزدیک رھا اور علم سیکھنے اور دین کو سمجھنے کا رحجان بھی اس میں باقی رھا پر جب یہ کاروبار بن گیا تو لوگ بھی دین سے بھاگ گئے- ویسے بھی جب آپکو پیسوں کے عوض جب اپنی مرضی کا فتوٰی مل جائے جو آپکے ھر قبیح عمل کو جائز کر دے تو آپکو خود دین جاننے کی کیا ضرورت ھے؟ بس مولوی صاحب کو پیسے دیئے اور سود پر گھر بنانے کی اجازت کا فتوٰی لے لیا، ایسی بے شمار مثالیں ھمارے اردگرد بکھری پڑی ھیں۔ لیکن اگر یہی مولوی آپ سے اجرت لینے کی بجائے اگر حقیقی معنوں میں اللہ سے اجر کا طالب ھو تو معاشرے میں اس کی عزت بھی ھو گی اور آخرت میں حصہ بھی ملے گا-

لہذا ھمیں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ھے کہ کیا اسلام میں اس سب کی اجازت بھی ھے یا نہیں یا ایسی کوئی مثال ملتی ھے؟

September 18th, 2011 | 7:36 pm
Waheed Hussain:

Sorry dont know how to type in urdu but the following explains it a lot better

http://emanekhalis.com/din/din.htm

It also explains the hadith mentioned above

September 19th, 2011 | 1:18 am

محترم شیراز بھائی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

اس تحریر میں میں نے شرعی نقطہ نظر سے کوئی بات نہیں کی تھی اور نہ شرعی دلیل پیش کی تھی۔ بلکہ میں نے یہ بیان کیا تھا کہ چونکہ دین دار حضرات مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں، اس وجہ سے انہیں مزید کچھ کرنا چاہیے۔ یہ ایک معاشرتی نوعیت کی تحریر تھی، نہ کہ دینی نوعیت کی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دم پر معاوضہ لینا ایک بالکل ہی الگ معاملہ ہے اور اس کا زیر بحث مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اتفاقا ایسا کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی مذمت نہیں فرمائی، جس سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ ان میں سے کسی نے اسے پیشہ نہیں بنا لیا تھا۔ جن عالم کے سوالات آپ نے پیش کیے ہیں، مجھے ان کے نقطہ نظر سے اتفاق ہے کہ جھاڑ پھونک کو پیشہ بنا کر معاوضہ نہیں لینا چاہیے۔

یہاں زیر بحث مسئلے کی نوعیت مختلف ہے۔ یہاں تو یہ زیر بحث ہے کہ علماء کی کفالت کیسے ہو۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ وہ کل وقتی دینی خدمت انجام دیں اور لوگ انہیں معاشی جدوجہد سے بے نیاز کر دیں۔ میں اس کے جواز کا قائل ہوں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہو رہا، تو انہیں خود آگے بڑھ کر کچھ معاشی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ اس سے انہیں مسئلہ نہ ہو۔ یہ ان ہی کے بھلے کے لیے لکھا تھا نہ کہ کوئی مذہبی بحث چھیڑنے کے لیے۔ مزید تحریریں آپ http://www.mubashirnazir.org پر دیکھ سکتے ہیں۔

والسلام
مبشر

September 24th, 2011 | 5:05 pm
adeem:

جناب اس حدیث کو دینی امور پر اجرت کا جواز کیسے بنا لیا آپ نے؟ یہ حدیث تو حقِ مہمان نوازی کے بارے میں ھے جسکے بارے میں تو نبی ﷺ نے پہلے ھی مندرجہ ذیل حکم دے کر معاملہ صاف کر دیا تھا۔ ملاحضہ فرمائیے صحیح بخاری ھی کی ایک اور حدیث:

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ہم سے لیث بن سعد نے ، ان سے یزید بن ابی حبیب نے ، ان سے ابو الخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر ؓ نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ ہمیں ( تبلیغ وغیرہ کے لئے ) بھیجتے ہیں اور راستے میں ہم بعض قبیلوں کے گاؤںمیں قیام کرتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے ، نبی ﷺ کا اس سلسلے میں کیا اشارہ ہے ؟ نبی ﷺ نے اس پر ہم سے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ جیسا دستور ہے مہمانی کے طور پرتم کو کچھ دیں تو اسے منظور کر لو اگر نہ دیں تو مہمانی کا حق قاعدے کے موافق ان سے وصول کر لو ۔

لہذا یہ معاملہ تو بالکل اور ھے جیسے قران کی ذیل آیت میں ھمیں موسٰی و خضر کا واقعہ ملتا ھے

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں پر گزرے تو ان سے کھانا مانگا انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرنےہی والی تھی تب اسے سیدھا کر دیا کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کوئی اجرت ہی لے لیتے (الکہف 77)

September 25th, 2011 | 6:11 pm
adeem:

جناب اسلام میں چونکہ دیگر مذاھب کی طرح دینی عالم ھونا کوئی پیشہ نہیں لہذا علماء کو اپنی کفالت دیگر مسلانوں کی طرح خود ھی کرنی ھوگی۔ جس طرح دیگر مسلمان اپنی دنیاوی و معاشی مصروفیات سے وقت نکال کر مسجد میں ھر نماز ادا کرنے آتے ھیں ، قران سیکھتے ھیں اور دین کے دیگر معاملات کو سمجھنے کے لئے وقت نکالتے ھیں اور کوشش کرتے ھیں بالکل ویسے ھی علماء کو بھی کرنا ھوگا اور اپنی اس خدمات کا صلہ یا معاوضہ دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں لینا ھوگا۔ یہی انبیاء اور صحابہ کا طریقہ تھا اور یہی ھمارا بھی ھونا چاھیئے-

September 25th, 2011 | 6:30 pm
Mohammad Farooq Khattak:

محترمی و مکرمی مبشر نذیر صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اللہ تعالی جزائے خیر دے نہایت ہی اہم موضوع پر قلم اُٹھایا ہے
پچھلے رمضان میں گاؤں چھٹی پر پاکستان گیا – 15 دن تراویح ایک قاری صاحب کی امامت میں ادا کی – ہمارے گھر کے پیچھے باغ میں سفیدے کا ایک درخت گرا جو بجلی کے تاروں کو چھوتا ہوا ہمارے گھر کے کمرے کی دیوار کو آلگا – میں چھت کے اوپر گیا تو دیکھا کہ بجلی کے تاروں کو(بجلی چوری کرنے کے لیے) کُنڈے لگے ہوئی ہیں – چھوٹے بچے کو بھیجا کہ ذرا جاکر معلوم کریں اس نے کہا کہ یہ تو فلاں قاری صاحب لگاتے ہیں – اور یہ وہی قاری صاحب تھے جن کی امامت میں ہم نے 15 دن تراویح پڑھی تھی –
باقی تراویح والے قاری صاحب کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ بیرون ملک سے ہُنڈی کے زریعےناجائز طریقے سے پیسے والوں کا یہاں کا نمائندہ ہے-
میں کسی کی نتقیص نہیں کررہا لیکن چاہتا ضرور ہوں کہ
1 – آئمہ اور خطیبوں اور دینی تعلیم دینے والوں کو خاطر خواہ اور معقول
معاوضہ ملے – ہمارے ہاں قربانی کی کھالوں کے رقم سے ہر ماہ گاؤں کی
جامع مسجد کے پیش امام کو عرصہ تک 1500 روپے ماہوار دی جاتی رہی
2 – انہیں پنچایتوں اور جرگوں میں بھی نمائندگی ملے تاکہ یہاں غیر شرعی
فیصلے نہ ہو سکیں – جرگے کے ناجائز فیصلوں پر میڈیا اور این جی اوز واویلا مچاتی ہیں تاکہ اسلامی معاشرے کی ایک غلط صورت دنیا کو دکھا سکے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ہمارے تو اسمبلیوں تک میں ان کی اکثریت ہے جنہیںسورۃالفاتحہ وسورۃ اخلاص تک نہیں آتی -
3 – دینی مدارس میں حفظ و قرأت کے ساتھہ ساتھہ حرام حلال اور اخلاقیات
کی تعلیم بھی دی جائے- ایک آدمی حافظ اور قاری بن جاتا ہے لیکن حرام
حلال اور بنیادی اخلاقیات کے بارے میں کورا ہی رہتا ہے اس لیے اسے
نہیں بتایا گیا کہ کُنڈے ڈالنا اور ہُنڈی حرام ہیں –
4 – مساجد و مدارس کے سرپرست پرہیزگار’ دینی و دنیوی علوم و معاملات
سے اگاہ لوگ ہوں تاکہ وہ آئمہ کو ذاتی خادم کی بجائے معاشرے کے اہم
ترین فرد سمجھیں جن کی تعلیم وتربیت پر ہمارے معاشرے اور دین و دنیا
کی فلاح کا انحصار ہے – ہمارے گاؤں میں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر کو جامع مسجد کی کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا ہے – حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ اسلام اور پاکستان اس جماعت کا ایشو ہی نہیں ہے – اینٹی اسلام ’ پرو انڈیا ’ شرخ انقلاب ’ شرخ سلام ’ کھلے عام جلسوں میں ازم ازم نیشنل ازم کے نعرے اور پاکستان کی بجائے افغانستان کے قومی ترانے بجانا ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہ کرنا اور الحاد و بے دینی والا منشور – پاکستان کے اندر دفن ہونا تک پسند نہیں- اب بھلا وہ امام مسجد کی اہمیت کو کیا جانے
جزاکم اللہ خیر
آپ کا بھائی
محمد فاروق خٹک ریاض سعودی عرب

July 23rd, 2015 | 4:28 pm
تبصرہ کریں

تبصرہ :