پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

کیا میں دنیا میں مرضی سے آیا ہوں؟(ایک دلچسپ افسانہ)

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Tuesday Oct 11, 2011


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ انور اپنے ٹین کی چھت والے مکان میں دبکا بیٹھا تھا۔ اسکی گود میں چھ ما ہ بچہ اور برابر میں بخار میں تپتی ہوئی اس کی بیوی صفیہ۔
“بارش کب بند ہوگی؟’
صفیہ نے کراہتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
“مجھے نہیں پتا، پر میں باہر جاکر دیکھتا ہوں”۔
یہ کہہ کر انور باہر نکلا تو چار سو اندھیرا تھا ۔ نیچے گھٹنوں کے برابر پانی تھا اور اوپر آسمان بادلوں سے پٹا پڑا تھا۔ بارش کی رم جھم دوبارہ موسلا دھار بادو باراں کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ چونکہ اسکا مکان قصبے کے نشیبی علاقے میں واقع تھا لہٰذا اس بات قوی امکان تھا کہ مکان میں پانی کی سطح بلند ہوجائے۔مکان کے اندر بھی پانی کی سطح ٹخنوں تک پہنچ چکی تھی۔ اس صورت حال کو دیکھ کر وہ تشویش ناک انداز میں خود سے بات کرنے لگا۔
” اگر ٹین کی بوسیدہ چھت بارش کا پانی روکنے میں مدد نہ کی تو آج بچنا مشکل ہے۔ ارد گرد کوئی مدد کو نہیں ہے کیونکہ سب ہی بستی والے اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ البتہ آدھے کلو میٹر دور وڈیرہ سچل سائیں کی کوٹھی ہے وہاں شاید کچھ مدد مل جائے ۔ کچھ نہیں تو سچل سائیں اپنے دالان کی چھت تلے ہی یہ اماوس کی رات گذارنے دیں”۔
یہ سوچ کر اس نے بچے کو صفیہ کے برابر لٹایا اور کمر کس کے سیلابی پانی میں اترنے کی ٹھانی۔ جونہی اس نے قدم رکھا تو پانی کے ایک ریلے نے اسے گویا گرا ہی دیا ۔ بدقت تمام وہ کھڑا ہوا اور توازن بحال کیا۔ پانی کی طاقت بہت زوردار تھی لیکن وہ سیلابی ریلے سے لڑتا ہوا کوٹھی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔
اس نے دیوہیکل دروازے پر نظر ڈالی اور مکینوں کی سکون کو حسرت کی نگاہ سے دیکھا۔
“دروازہ کھولو!”۔
اس نے دروازہ پیٹا لیکن اندر سے جواب ندارد۔متعدد بار کوشش کے بعد آنکھیں ملتا ہوا ایک ملازم باہر آیا اور اس سے درشت لہجے میں مخاطب ہوا۔
“کون ہو ؟، کیا چاہئے؟”
بھائی میرا بچہ اور بیوی مکان میں بیمار ہیں اگر وڈیرا سچل سائیں آج کی رات چھت تلے گذارنے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی”۔ انور نے لجاجت سے کہا۔
ملازم نے انور کے بھیگے ہوئے سراپے پر نظر ڈالی اور اسے اندر لے گیا۔ بدقت تمام وہ وڈیرے کو نیند سے بیدار کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ وڈیرا باہر آیا اور تلخی سے بولا۔
“کیا ہوا بھئی؟ کیوں رات میں پریشان کرتے پھر رہے ہو؟”
انور نے اسے اپنی بپتا سنانی شرو ع کی۔ وہ آنسوؤں سے اپنی داستان غم رقم کررہا تھا اور وڈیرہ اسے بیزاری سے دیکھ رہا تھا۔ جب وہ چپ ہوا تو وڈیرہ بولا۔
” دیکھ ! مجھے تیرے بچے اور بیوی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ پر اگر تو خود رکنا چاہے تو رک جا”۔ وڈیرا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اس کے فیصلے کا اندازہ لگانے کی کوشش کرنے لگا۔
انور اتنا خود غرض تو نہ تھا ، اسکے مذہبی اور تعلیمی پس منظر نے ہمیشہ خود غرضی سے بچنے کی تلقین کی تھی چنانچہ اس نازک موقع پر وہ اپنے بچے اور بیوی کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ کافی دیر کی حیل و حجت کے بعدوڈیرےنے نوکر کو حکم دیا کہ اسے دھکے دے کر باہر نکال دے۔
انور دوبارہ اسی منجھدھار میں پھنس گیا جس سے نجات کے لئے وہ نکلا تھا۔ اوپر آسمانی طوفان تھا تو نیچے پانی کا ریلا امیدیں ڈبورہاتھا۔ وہ اس بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے رب سے شکایت کرنے لگا۔
“اے اللہ یہ کیسا انصاف ہے؟ کیا تونے غریبوں کو یونہی بارش میں بہنے، بھوک سے تڑپنے اور بیماری میں مرنے کے لئے پیدا کیا ہے؟ یہ تیرا کیسا انصاف ہے کہ امیروں کے تو کتے بھی بادام پستے کھائیں اور ہمارے بچے بھوک سے مریں۔ امیر پکے مکانوں میں سکون سے سوئیں اور ہم تنکے کے گھروندے سمیٹتے پھریں۔ امیروں کے صفائی کے پوچے بھی ہمارے لباس سے بہتر ہوں۔کیسا انصاف ہے یہ؟۔ تو بولتا کیوں نہیں، کیا میں تیرا بندہ نہیں ؟ کیا میرا بچہ تونے پیدا نہیں کیا ؟ کی میری بیوی انسان نہیں ؟ پھر یہ تقسیم کیسی؟ یہ تفریق کیوں؟ یہ مصیبتیں کیوں ہیں؟ ہم نے کونسا گناہ کیا ہے؟”
ابھی وہ یہ سب کچھ بول ہی رہاتھا کہ اچانک پانی کا ایک زور دار ریلا آیا اور اس کا توازن بگڑ گیا۔ وہ تنکے کی مانند پانی میں غوطے کھانے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ دم نکل رہا ہو اور اسکی روح پرواز کر رہی ہو۔اس کے بعد اس دماغ تاریکیوں میں دوبتا چلا گیا اور اسے کچھ ہوش نہ رہا ۔
———-
جب آنکھ کھلی تو ارد گرد کا ماحول اجنبی لگا۔ ارد گرد زرد رنگ کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ جب آنکھیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوئیں تو علم ہوا کہ یہ ایک جھونپڑی ہے۔ اور وہ ایک چارپائی پر لیٹا ہوا ہے۔
“بیٹا کیسی طبیعیت ہے؟”
ایک شفقت سے بھرپور آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ اس نے دیکھا تو سامنے ایک باریش نورانی چہرے والے بزرگ کھڑے تھے ۔وہ ابھی اسی شش و پنج میں تھاکہ جواب دے یا سوال کرے کہ بزرگ دوبارہ مخاطب ہوئے۔
“گھبراؤ مت! میں نے تمہیں اپنی جھونپڑی کے سامنے بے ہوش پایا تو یہاں لے آیا ۔ کیا ماجرا ہے؟ تم کون ہو اور اس سیلابی رات میں کہاں گھوم رہے تھے؟”
انور نے بزرگ کو غور سے دیکھا تو اسے کوئی ایسی بات نہ ملی جس کی بنا پر وہ ان کے بیان پر شبہ کرتا۔ چنانچہ اس نے پوری روداد ان کو سنا دی۔ اپنی بپتا سنانے کے بعد وہ اٹھتے ہوئے بولا ۔
” اچھا میں اب چلتا ہوں ، میری بیوی اور بچہ بے چین ہونگے”۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو زور کا چکر آیا اور وہ دوبار ہ چارپائی پر گرگیا۔
“بیٹا تمہارے سر سے خون کافی مقدار میں بہہ چکا ہے۔ اس نقاہت اور سیلابی رات میں باہر نکلنا تمہارے لئے ممکن نہیں۔ رات یہاں گذار لو پھر صبح کو جانے کا سوچنا۔ خدا کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں بچالیا”۔
بزرگ نے مشورہ دیا۔
“خدا کا شکر ؟ خدا کا شکر کیوں ادا کروں اس نے ہی تو مجھے اس حال تک پہنچایا۔ اس نے ہمیں غریب بنایا، اور پھر بارش و سیلاب کی آفات بھی ہم پر مسلط کردی۔ اگر یہ عذاب ہے تو وڈیروں ، چودھریوں اور امیروں پر کیوں نہیں آتا؟ کیا ہم ہی اس کے عذاب کا نشانہ بننے کے لئے رہ گئے ہیں؟”۔
انور نے غصے سے جواب دیا۔
” نہ بیٹا نہ! خدا کو برا بھلا نہیں کہتے؟” بزرگ نے اسے سمجھایا۔
” کیوں نہیں کہہ سکتے؟ کیا ہماری مصیبتیں اور پریشانیاں ہمیں ورثے میں نہیں ملیں؟ کیا یہ غربت ، کسمپرسی اور مسکینی ہمیں خدا نے عنایت نہیں کی؟ کیا اس کا ذمہ دار کوئی اور ہے؟” انور ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ گیا۔
بزرگ نے اسے غصے میں دیکھا تو موضوع بدلنے کے لئے کہا۔
“بیٹا ! تم باتوں سے تو پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو۔ تم کون ہو اور تمہارا پس منظر کیا ہے؟”
” میں سندھ کے ایک قصبے ڈیرو مراد کا رہنے والا ہوں ۔ میں نے فلسفے میں ماسٹر ز کیاہے۔میری تعلیم کراچی میں مکمل ہوئی ہے البتہ چند گھریلو مجبوریوں کی بنا پر اس قصبے میں آنا پڑا “۔ انور نے جواب دیا
” اب تم کیا چاہتے ہو! اگر ابھی اپنے گھر واپس جانا چاہتے ہو تو یہ ممکن نہیں بلکہ اس سے تمہاری جان کو خطرہ ہے۔ رات یہاں گذار لو “۔ بزرگ نے دوبارہ مشورہ دیا۔
انور نے سوچا کہ اس مشورے پر عمل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ وہ آنکھیں بند کرکے لیٹ گیا۔باہر بادل یونہی گرج رہے تھے۔ لالٹین کی ٹمٹماتی ہوئی پیلی روشنی اندھیرے سے دست و گریباں تھی۔ بجلی کی چمک سے جھگی کچھ لمحوں کے لئے منور ہوجاتی اور پھر وہی تاریکی۔ اس ماحول میں انور نے سونے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگیا۔ کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ بزرگ نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ انہیں دیکھ رہا تھا اور اس کے ذہن میں خدا سے متعلق وہی پرانے سوالات گردش کررہے تھے۔ جب بزرگ نے سلام پھیرکر اس کی جانب دیکھا تو انور سے رہا نہ گیا اور ان کو مخاطب کرکے بولا۔
” میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔آپ کون ہیں؟”
“میں ایک مذہبی اسکالر ہوں ، میرا نام معز احمدہے۔میرا گھر توشہر میں ہے لیکن یہاں جھگی میں کچھ دن سکون کے گذارنے آتا ہوں تاکہ اللہ کی قربت اور معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرسکوں”۔ بزرگ نے جواب دیا ۔
جب کافی دیر تک کوئی کچھ نہ بولا تو بزرگ دوبارہ مخاطب ہوئے۔
“تم نے اپنے رب سےشکوہ کیا تھا ۔اگر مناسب سمجھو تو مجھ سے ڈسکس کرسکتے ہو۔ “۔
انور نے موقع غنیمت جانا سوال پوچھا۔
“خدا نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟”
“بیٹا اللہ نے ہمیں اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ ہمیں آزمائے کہ ہم میں سے کون اچھا ہے اور کون برا۔ اچھوں کو وہ اپنے انعام اور اکرام سے نوازے اور بروں کے ساتھ سختی کا رویہ اختیا ر کرے”۔ بزرگ نے جواب دیا۔
“لیکن مجھ سے تو اس آزمائش سے قبل نہیں پوچھا گیا تو اس نے کیوں زبردستی اس امتحان میں ڈال دیا؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ اتنے خطرناک آزمائش میں ڈال دیا؟” انور نے دریافت کیا
“نہ بیٹا ! اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہیں تو وہ ظلم کیسے کرسکتے ہیں۔ تم سوچو کہ تم نے جتنے بھی انٹر اور بی اے کے امتحانات دئیے ہیں ان کا تم نے خود انتخاب کیا، سبجیکٹ منتخب کئے، رجسٹریشن کروائی، اور اپنی مرضی سے امتحان گاہ میں خوشی خوشی داخل ہوکر پرچے میں درج سوالات حل کئے۔ ایسا ہی ہو ا تھا نا؟”۔ بزرگ نے استفسار کیا
“ہاں”۔ انور بولا
“لیکن تمہارا اختیار پرچہ شروع ہونے سے پہلے کے لوازمات کی حد تک تھا البتہ پرچے میں کیا سوالات پوچھے جائیں گے اس پر تمہارا کوئی بس نہ تھا۔” بزرگ نے اپنی بات جاری رکھی۔
“بیٹا! اگر کوئی شخص تمہیں زبردستی امتحان گاہ میں دھکیل دے اور پرچہ حل کرنے پر مجبور کرے تو وہ شخص یقینی طور پر ظالم ہے یا احمق۔ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہیں ۔ وہ کبھی اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتے۔ چنانچہ یہ ناممکن ہے کہ انہوں نے تمہیں یا مجھے اس امتحان میں زبردستی دھکیل دیا اور ہم سے ہمارا ارادہ نہ پوچھا۔قرآن میں سورہ احزاب کی آیت نمبر ۷۲ میں بیان ہوتا ہے۔
“بے شک ہم نے امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا”۔
یہ امانت کیا تھی ؟ یہ درحقیقت اسی آزمائش اور امتحان کی دعوت تھی۔ اللہ نے آسمانوں، زمین اور انسان کو یہ آفر کی کہ آیا وہ اس امتحان میں اترنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انسان کے پاس آپشن تھا کہ وہ بھی زمین و آسمان کی طرح منع کردیتا لیکن اس نے اس چیلنج کو اپنے اختیار سے قبول کرلیا “۔ بزرگ نے اپنا طویل خطاب ختم کیا
“لیکن مجھے تو یاد نہیں کہ میں نے کوئی ایسا اقرار کیا ہو، مجھ سے تو نہیں پوچھا گیا”۔ انور نے اعتراض وارد کیا
“بیٹا! یاد نہ ہونا کسی واقعے کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ مثال کے طور پر ہم میں سے کسی کو بھی یہ یاد نہیں کہ ہم نے ماں کے پیٹ میں نو ماہ گذارے، کس طرح ہماری ولادت ہوئی وغیرہ۔ اس کے باوجود یہ سب واقعات ایک حقیقت ہیں”۔ بزرگ نے اعتراض رفع کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے دیکھا کہ انور کی آنکھوں میں شکو ک و شبہات کے سائے لہرارہے تھے۔ کچھ دیر کے لئےخاموشی طاری ہوگئی۔بادلوں کو گڑگڑاہٹ ختم ہوچکی تھی اور لگتا تھا کہ بارش رک چکی ہے۔رات کا آخری پہر شروع ہوچکا تھا لیکن بادلوں کی وجہ سے تاریکی اسی طرح منہ کھول کر ہر اجالے کو نگلنے کی کوشش میں مصروف تھی۔کچھ دیر بعد انور گویا ہوا۔
“چلیں اگر مجھ سے پوچھا گیا تھا تو مجھے غربت و افلاس کا پرچہ کیوں دیا گیا؟کیا یہ پرچہ بھی میرا انتخاب ہے؟”
بزرگ نے یہ سن کر ایک طویل آہ لی اور بولے۔
“اب مجھے تفصیل سے بتانا ہوگا کہ اللہ نے کس طرح انسان کو اس کی پیدائش سے قبل اپنی اسکیم سے آگا ہ کیا اور اسے اس امتحان کے بارے میں مکمل تفصیلات بتائیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس چیلیج کو قبول کرسکے۔ یہ سمجھنے کے لئے اس بیان کو غور سےسنو”۔
“یہ کائینات ایک گیند کی مانند تھی ۔ پھر ایک بگ بینگ یعنی عظیم دھماکہ ہوا اور یہ گیند پھٹ کر مختلف اجزا ء میں تقسیم ہوگئی(سورہ الانبیاء)۔یہی اجزا مختلف ستارے اور سیارے بن گئے۔ خالق کائینات نے سات آسمان بنائےاور انکی الگ الگ سات زمینیں(سورہ الطلاق)۔ ساتویں آسمان کی زمین پر اس نے انسان کو بسانے کا فیصلہ کیا۔ یہ زمین ابتدا میں ایک آگ کے گولے کی مانند تھی۔ آہستہ آہستہ یہ ٹھنڈی ہونے لگی اور شدید بارشیں ہوئیں جس سے اس کا سارا حصہ پانی میں ڈوبا معلوم ہونے لگا۔ اسی بحر میں خشکی نمودار ہوئی اور سبزہ گاہ، پھر آہستہ آہستہ چرند پرند، درخت اور کیڑے مکوڑے وجود میں آئے۔ اس کے بعد اللہ نے انسان کو تخلیق کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس سے قبل فرشتے اور جنات کو وہ پیدا کرچکا تھا۔
اللہ تعالیٰ چاہتا تو زبردستی بھی انسان کو اس آزمائش میں دھکیل دیتا اور کوئی اس سے پوچھنے والا نہ ہوتا لیکن انہوں نے انسان کو انتخاب کا حق دینے کے لئے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے تمام انسانوں کی ارواح کو نکالا، ہر روح کو دیکھنے ، سننے ، سو چنے اور بولنے کی طاقت دی ۔ گویا یہ ایک جسم کے قالب کے بغیر ایک وجود تھا جو رابطے اور شعور کے تمام لوازمات سے بھرپور تھا۔ “۔
“تمام ارواح کو مستقبل کے امتحان سے آگاہ کرنے کے لئے اللہ نے اپنے فرشتوں کے ذریعے بتادیا کہ وہ انسان کو اپنی جنت کا وارث بنانا چاہتے اور ابدی بادشاہی کا تاج پہنانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ایک امتحان سے گذرنا ہوگا” بزرگ نے اپنا بیان جاری رکھا۔انور دلچسپی سے انکی باتیں سن رہا تھا کیونکہ اس گفتگو میں اس کے ان گنت سوالات کا جواب پوشیدہ تھے۔
“اس کے بعد انسانوں کی ارواح کو اگلا منظر دکھایا گیا جس میں دنیا کی زندگی کا نقشہ تھا ۔ یہ منظر انتہائی اہم اور فیصلہ کن تھا کیونکہ اسی میں ان ارواح کو اپنے کسی کردار اور زمانے کا انتخاب کرنا تھا۔ان کرداروں میں امیرو غریب، بیمار و صحت مند، خوبصورت و بد شکل، ذہین و کند ذہن، مرد و عورت طاقتور و کمزوراور دیگر بنیادوں پر مشتمل آپشنز موجود تھے۔ ہر کردار کے اپنے فائدے اور نقصانات بھی بتائے گئے۔ مثال کے طور پر غریبی اختیار کرنے والوں کو جسمانی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔وہ بھوک ، پیاس ، افلاس اور کچے مکانوں کی زندگی گذاریں گے، انہیں بیماری ، آفات اور اموات کا زیادہ سامنا کرنا پڑے گا۔ یعنی وہ صبر کے امتحان میں ہونگے ۔ لیکن اس کردار کا فائدہ یہ ہوگا کہ انکی اس مشکل حالات میں کی گئی نیکی، صبر اور اچھائیوں کا اجر کئی گنا بڑھ کر ملے گا۔ نیز وہ اپنی ان مصیبتوں اور پریشانیوں کے باعث بہت کم اپنے رب کو بھلاپائیں گے”۔
“جب فرشتوں نے دیکھا کہ انسان کو ارادہ و اختیار کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا جارہا ہے تو انہوں نے اپنے خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انسان کو دنیا میں بھیجا گیا تو یہ بہت خون خرابہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ پھر اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ان تمام انسانوں کے نام سکھائے جو دنیا میں انبیاء، صدیقین، صالحین اور خدا پرستانہ شخصیت کے حامل بننے والے تھے۔ جب حضرت آدم نے ان ناموں کو فرشتوں کو بتایا تو فرشتوں نے اپنی کم علمی کا اظہار کیا (ماخوذ سورہ بقرہ آیات ۳۰ تا ۳۳)”۔
“یہ تو آپ بڑی عجیب باتیں بتا رہے ہیں میں تو یہ باتیں کبھی کسی مولوی سے نہیں سنیں۔ان باتوں کی قرآن سے کیا دلیل ہے؟” ۔ انور نے سوال کیا
بزرگ اس کی جانب مسکرا کر بولے
“مجھے خوشی ہے کہ تم نے اس کی دلیل دریافت کی ۔ قرآن میں سورہ اعراف کی آیت نمبر ۱۷۲ اور ۱۷۳میں مختصر طور پر عہد الست کا واقعہ بیان کیا ہے۔
“جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسلوں کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بنایا (اور ان سے پوچھا تھا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں ہم (اس بات کے) گواہ ہیں۔ (یہ ہم نے اس لئے کیا کہ) قیامت کے دن کہیں تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس بات سے بےخبر تھے یا یہ کہنے لگو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا پہلے ہی سے کرتے آئے تھے اور ہم تو ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے (اور جیسا بڑوں کو کرتے دیکھا ہم بھی ویسا ہی کرنے لگے) تو (اے اللہ ،) کیا ان غلط راہ (نکالنے) والوں کے فعل پر تو ہمیں ہلاک کر دے گا؟”
اب اگر اس آیت کو غور سے پڑھو تو علم ہوگا کہ اللہ نے جب اس اہتمام سے آدم کی پشت سے ارواح کو نکالا تو محض توحید کا اقرا ر نہیں کروایا بلکہ آئندہ کی زندگی کا نقشہ بھی پیش کیا ہوگا جبھی تو اللہ نے کہا کہ قیامت کے دن تم توحید کے منکر نہ ہوجانا ۔ قیامت کا ذکر جب روحوں کے سامنے کیا گیاتو یہ لازم تھا کہ آزمائش کا پورا نقشہ پیش کیا جائے ورنہ مجرد قیامت کا ذکر کرنا ارواح کے لئے ناقابل فہم ہوتا۔اسی طرح ارواح کو یہ بھی بتایا گیا کہ اگر انہوں نے شرک کیا اور عذر ہی پیش کیا کہ ان آباء اجدا د بھی ایسے ہی تھے تو یہ عذر ناقابل قبول ہوگا۔ یہ ساری تفصیلات ارواح کی سمجھ میں اسی وقت آسکتی تھیں جب دنیا میں پیش آنے والی زندگی کا خاکہ پیش کیا جائے۔
اسی طرح سور ہ احزاب کی آیت میں بھی یہی بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے انسان ، زمین اور آسمانوں کو یہ اختیار کی امانت دی اور انسان نے اسے قبول کرلی. بالکل ایسے ہی سورہ بقرہ کی مندرجہ بالا آیات بھی اسی حقیقت کو بیان کرتی ہیں “۔
یہ سن کر انور نے ایک اور سوال کیا
“لیکن اس آیت میں تو مختصر طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے۔ اس بات کی کیا دلیل ہے ہر انسان کومختلف کردار میں سے اپنی مرضی کا کردار منتخب کرنے کا اختیار دیا گیا؟”
” یقیناََ یہ بات قرآن میں بیان نہیں ہوئی ہے۔ عہد الست پر کئی احادیث بھی موجود ہیں لیکن چونکہ وہ سند کے لحاظ سے نا قابل اعتبار ہیں لحاظہ میں انہیں دلیل کے طور پر پیش نہیں کرونگا۔البتہ میں اتنا ضرور کہونگا کہ یہ سب کچھ کامن سنس بتاتا ہے کہ جب دنیا میں ایک شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ڈاکٹری کا امتحان دے یا یا کامرس کا تو اللہ نے بھی یہ اختیار انسان کو دیا ہوگا کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق کوئی کردار منتخب کرلے۔البتہ یہ میری ذاتی رائے ہے ۔ تمہیں اس سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ بات تو قرآن سے ثابت ہے کہ امتحان کا نقشہ بھی انسان کو دکھایا گیا اور ساتھ ہی اسے اختیار بھی دیا گیا۔ اب یہ اختیار کس حد تک تھا اس کی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں”۔
بزرگ نے تفصیل بیان کی۔
“اگر میں ایک حسین و جمیل لڑکا بننا چاہتا اور اس کے ساتھ ساتھ دولت کے انبار کا بھی مطالبہ کرتا تو کیا یہ ممکن تھا اور اس انتخاب کے کیا فائدے اور نقصانات ہوتے؟” انور بولا
” یہ دیکھنے میں تو ایک خوبصورت اور پرکشش امتحان کا آپشن ہے لیکن اس کی کئی آفات تھیں۔ پہلی آفت تو یہ کہ اس میں جسمانی مشقت کی بجائے نفسیاتی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس امتحان میں ڈپریشن ، تکبر ، خدا فراموشی کا امکان تھا، ان تمام دشواریوں کے باوجود اس شکر کے امتحان میں کامیابی کا امکان توموجود تھا لیکن کافی دشواریوں کے بعد”۔
بزرگ نے ناصحانہ انداز میں جواب دیا۔
” اس کا مطلب ہے کہ میں نے اپنی مرضی سے اس غربت و افلاس کے کردار کو قبول کیا “۔
انور گویااپنے آپ سے بولا
“لیکن اگر میں نے غربت کا انتخاب کیا تو میں ہمیشہ غریب ہی رہوں گا؟۔ ” انور نے اپنے خلجان کو دور کرنے کی سعی کی۔
“نہیں ایسا نہیں۔ اس امتحانی پرچے میں کچھ معاملات خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت طے کررکھے ہیں جبکہ کچھ امور انسان کے اختیار میں ہیں چنانچہ ایک غریب آدمی چاہے تو اپنی محنت کے بل بوتے پر امارت کے پرچے کا انتخاب کرسکتا ہے لیکن اس کے لئے خدا کا اذن ہونا لازم ہے”۔ بزرگ نے وضاحت کی۔
“اور اگر کسی روح اس آزمائش میں اترنے سے منع کر دیا تو اس کا کیا ہوا؟”انور نے پوچھا
“اس دستبرداری کا مطلب ہے کہ مقابلے سے پیچھے ہٹ جانا۔چونکہ ان تمام ارواح کو دنیا میں بھیجنےکا تو فیصلہ اللہ نے کرہی لیا تھا چنانچہ ایسے لوگوں کو دنیا میں تو بھیج دیاجائے گا لیکن انہیں بچپن ہی میں موت دے دی جائے گی۔ چونکہ ان لوگوں نے امتحان قبول کرنے سے انکار کردیا چنانچہ انہیں جنت میں ایک بے شعور خدام کے طور پر داخل کردیا جائے گا جیسے ایک روبوٹ ہوتا ہے۔ یہاں ان کا کام صرف خدمت کرنا ہوگا، لیکن یہ بھی میری ذاتی رائے ہے اور تمہیں اس سے اختلاف ہوسکتا ہے “۔
یہ جواب دینے کے بعد بزرگ نے اپنی بات جاری رکھی۔
“جب انسان کو تمام اسکیم سے آگاہ کردیا گیا تو پھر ان سے عہد لیا گیا جو عہد الست کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں اللہ کی وحدانیت پر قائم رہنے اور اپنے واحد خداہی کی عبادت و اطاعت پر حلف لیا گیا اور تمام ارواح نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا ۔
اس کے بعد ارواح کو دوبارہ ایک مقام پر مقید کردیا گیا جہاں سے انہیں انکے مقررہ وقت پر دنیا میں بھیجا جانا تھا”۔ انور سوال کرنے کے لئے بے چین تھا کہ بزرگ نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک کر کہا۔
“اب ذرا اس طویل بحث کا خلاصہ سن لو اس کے بعد کوئی سوال کرنا۔
۱۔ہر انسا ن کو اس کی مرضی سے اس دنیا میں ایک مخصوص مدت کے لئے بھیجا گیا ہے ۔
۲۔خدا انسان کو نظر نہیں آتا تاکہ آزمائش ہوسکے،البتہ اس کی انفس و آفاق کا نشانیاں اس کے وجود پر دلیل ہیں۔ انسان کو بن دیکھے خدا پر ایمان لانا پڑے گا اور ساتھ ہی اسکے ان تما م احکامات کو مانناہوگا جو آپ کے علم میں ہوں۔
۳۔اس آزمائشی عرصے میں عہد الست کی ملاقات کو انسان کی یادداشت سے محو کر دیا گیا ہے۔ البتہ اس کا ایک ہلکا سا تاثر انسان کی فطرت میں ہمیشہ پیوست رہتا ہے ۔
۴۔خدا کی مرضی بتانے کے لئےہر انسان کی فطرت میں خیر و شر کا شعور رکھ دیا گیا ہے۔ جو ہر لمحے اسے بتاتا ہےکہ وہ درست راہ پر ہے یا نہیں۔
۵۔ اسی کے ساتھ ساتھ خدا کے پیغمبر وحی کے ذریعے سیدھے راستے کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں ۔
۶۔ پھر جس نے خدا کی بندگی اختیار کی اور اس کے احکامات کو مانا تو وہ کامیاب اور جس نے نفس اور شیطان کی راہ کو چنا تو ناکام۔
۷۔ کامیابی کا نتیجہ جنت ہوگی اور ناکامی کا انجام دوزخ کی ابدی زندگی۔
انور کے پاس مزید کچھ پوچھنے کے لئے نہیں تھا ۔ اس ساری گفتگو کے دوران وہ بھول چکا تھا کہ اسکی بیوی اور بچہ اس کا انتظار کررہے ہیں۔ بارش بند ہوچکی تھی، فجر کی اذانیں ہورہی تھیں۔ وہ اٹھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اب خاصی توانائی آچکی ہے۔ اس نے اٹھ کر بزرگ کے ساتھ فجر ادا کی اور شکریہ ادا کرتے ہوئےواپسی کی اجازت طلب کی۔
————-
وہ جب اپنے گھر پہنچادیکھا کہ تمام رشتے دار گھر کے باہر جمع تھے۔ انور نے ایک آہ بھر کر اپنے بچے کی جانب دیکھا جو اس دنیا سے رخصت ہوگیا تھا۔ پھر صبر سے اپنی آہ وبکا ضبط کرنے لگا کیونکہ یہی اس کا امتحان تھا ۔ پھر اس نے حسرت سے اپنے بوسیدہ مکان تو دیکھا لیکن اسے بزرگ کی بات یاد آئی کہ یہ غربت اس کا اپنا انتخاب تھی۔ وہ باہر نکلا تو تازہ ہوا کے جھونے نے اس کا استقبال کیا۔ حبس ختم ہوچکا تھا ، مطلع صاف تھا اور پانی بھی اتر چکا تھا۔ اس نے آسمان کی جانب دیکھا اور مسکر ا کراپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کا عزم کیا ۔ وہ خود کلامی کے انداز میں کہنے لگا
” بس چند آزمائش کے یہ لمحات اچھی طرح گذارنے ہیں۔ اس کے بعد خدا کی رضا، فرشتوں کی مرحبا اور ابدی آسائش، جنت کی پرسکون زندگی اور آرام۔”۔
پروفیسر محمد عقیل

http://aqilkhans.wordpress.com

aqilkhans@gmail.com

18 تبصرے کیے گئے ہیں »

اس مضمون کا جواب بہیں۔۔۔۔ انسان کے اس اختیار کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا۔ جزاک اللہ

October 11th, 2011 | 8:19 pm
WaqarKhan:

shabbash professor sahib,you unfolded what was hidden and mysterious.you answered many unanswered questions.may allah bless you!!!

October 12th, 2011 | 4:13 pm

نوازش

October 12th, 2011 | 9:09 pm
طصھددٹپتبجحح][مورنلہل ل ہ اک ی ؛ ق ف ے س ش لل:

Salam, afsana likhna aur in haalaat se guzarna do buhat mukhtalif cheezain hain, kia aap k khayaal main yeh afsana Haaliah Saliaabi Baarish ka shikaar koi Insaan(Musalmaan) parh sakta haiy.
Shayad Nahin, kiunke PC ya Laptop aur phir Internet tak rasaai he na ho sakay gi….!
se Mazmoon buhat achcha haiy, kuch amali iqdaam ya aise logon ki mada

October 12th, 2011 | 10:34 pm
Dr. Asim:


AOA.

Sir … this was indeed an interesting piece. However, I am a bit unsure of the vracity of premise on which u have built the logic for this short story.

U have quoted an Aayat from Surah Ahzab to speculate how things might have happened at that particular time. As we see today, there are more that 6.5 billion humans that dwell on this planet. Out of these more that 70% live in abject poverty, the world over. As per ur ligic, these are the people who chose poverty in this world over prosperity in order to earn a jackpot reward in the hereafter.

Now Sir … U wud agree that only the most visionary can opt for such a deal. Then why did Rabbul Aalameen called human race essentially Zaloomun Jahoola ? Don’t u think a little unfair remark for a species an overwhelming majority of which made such a wise decision… ?

But we know Allah SWT cannot be unfair, come what may. So … Is there a chance that we understood a different meaning than what actually was meant here …

Last part of the surah further elaborates that our coming to this world and our position here was not a matter of choice but divine will, to give a chance to a species with immense but raw potential to groom its capabilities by its own conduct and by virtue of choices that it wud make. IT is upto it now whether to end up as munafiqeen and Kuffaar or become siddiqeen, shuhada and saliheen. From an initial state of Zaloomun Jahoola to the finished product – one way or the other.

B. Rgds

Asim Allah Bakhsh.

October 13th, 2011 | 4:36 pm


Walykumussalam
The answer to ur questions are as follows
u said : Out of these more that 70% live in abject poverty, the world over. As per ur ligic, these are the people who chose poverty in this world over prosperity in order to earn a jackpot reward in the hereafter.

Me: Yes, they chose this option as it contained high rewards on low performance.

U Said: Then why did Rabbul Aalameen called human race essentially Zaloomun Jahoola ?

Me: Infact, the explanation of this “Zaloomun Jahoola ” is different from what u explained. It does not mean that the human beings were Zaloomun Jahoola initially. It means that man has taken up such a big reposibilty of Aazmaish and despite that fact, he seems to be ignorant (Zaloomun Jahoola ) seek the short term benefit of this world and leaves hereafter.

U said: Last part of the surah further elaborates that our coming to this world and our position here was not a matter of choice but divine will, to give a chance to a species with immense but raw potential to groom its capabilities by its own conduct and by virtue of choices that it wud make.

Me: If it were divine will, then what chance u are talking about? If someone says I do not want to be a part of this exam and I want to withdraw myself from both Jannat and Jahannum, do u think he is unjustified?

Regard

October 13th, 2011 | 4:37 pm


Dear Brother Rizwan
Assalamualaykum
Thanx for ur detailed and constructive criticism on the article. I would say there are very few people in our society who give the feedback. I reaaly appreciate ur cricism again.
Foloowing are the answers to the question u raised.
U. Said:
I read this article… although its an effort to justify the poverty of people in the world and a lesson for them to have patience… but I really question on all the personal opinions professor sb had…
Me: It is not an effort to justify the poverty. What i said is that every type of character in this world has pros and cons . Since most of the people question about poverty, the charater in the short story is from a poor class as the upper class does not generally have such complaints against God.
U Said:My understanding is to never apply common sense or logic in the matter of believes, while these common sense and logics are fully applicable on our normal social life, we call it Fiqah.
Me: Quran states that
۱اللہ کے نزدیک وہ لوگ بدترین جانور ہیں وہ لوگ جو گونگے ہیں ، بہرے ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے۔(الانفال ۲۲:۸)
اسی طرح سورہ یوسف کی آیت نمبر ۲ میں بیان ہوتا ہے
بے شک ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں اتارا تاکہ تم (عقل سے) اسے سمجھو
اس طرح کی بیسیوں آیات قرآن میں موجود ہیں جو انسان کو تعقل اور غور و فکر پر آمادہ کرتی ہیں۔ ان آیات میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ اسلام کی تعلیمات یا قرآن کو سمجھتے وقت کامن سنس یا عقل کا استعمال ممنوع ہے۔ یا یہ بی نہیں لکھا کہ عقل کا استعمال صرف فقہ تک محدود ہے۔
U said: Its clear that Man is not made for examination…man is made for ibadat….

Aur nahi peda kia hum ne jinon aur insanon ko siwaye apni ibadat k liye.
(az zariyaat)

Me: Yes, the pupose of the creation of human being is Ebadat but the pupose of the first phase of life that takes place in this world is examination as Quran states in the 2nd Ayat of Sura Al-Mulk

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے
seocond sorae ehzab ki ayat # 72 clearly states about Amanat …. which Prof saheb considered as invitation for examination. to me it doesnt fall under the definition of Amanat in any perspective… suppose if it is, then why Jinnat is also not included in there? who are also supposed to be equal candidate of this test…why the ayah only speak about insan… only insan accepted that…. I belive the amanat is the khilafat of man (to maintain Allah’s orders in the universe) in all the creations of Allah… Humans are the caliph of allah on the earth which is definelty a great responsibility… thats why the ayah completes on إِنَّهُ ۥ كَانَ ظَلُومً۬ا جَهُولاً۬
means Beshak woh bara zalim or nadan tha….( nadan is liay k usey pata nai k kia zimmedari us ney li and zalim k woh zimmedari poori nai karey ga to khud per zulm karey ga)

یہ امانت کیا تھی اس پر اکثر مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ اطاعت اور اختیار کی امانت تھی۔ درج ذیل تفاسیر ملاخطہ فرمائیں

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ امانت سے مراد یہاں اطاعت ہے۔ اسے حضرت آدم علیہ السلام پر پیش کرنے سے پہلے زمین و آسمان اور پہاڑوں پر پیش کیا گیا لیکن وہ بار امانت نہ اٹھا سکے اور اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کیا۔ جناب باری عزاسمہ نے اسے اب حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام پر پیش کیا کہ یہ سب تو انکار کر رہے ہیں۔ تم کہو آپ نے پوچھا اللہ اس میں بات کیا ہے؟ فرمایا اگر بجا لاؤ گے ثواب پاؤ گے اور برائی کی سزا پاؤ گے۔ آپ نے فرمایا میں تیار ہوں۔(تفسیر ابن کثیر)

تفسیر مکہ میں بیان ہوتا ہے

امانت سے وہ احکام شرعیہ اور فرائض و واجبات مراد ہیں جن کی ادائیگی پر ثواب اور ان سے اعراض و انکار پر عذاب ہوگا۔ جب یہ تکالیف شرعیہ آسمان اور زمین پر پیش کی گئیں تو وہ ان کے اٹھانے سےڈر گئے۔ لیکن جب انسان پر یہ چیز پیش کی گئی تو وہ اطاعت الٰہی (امانت) کے اجر و ثواب اور اس کی فضیلت کو دیکھ کر اس بار گراں کو اٹھانے پر آمادہ ہوگیا۔ احکام شریعہ کو امانت سے تعبیر کر کے اشارہ فرما دیا کہ ان کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پیش کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اور آسمان اور زمین اور پہاڑوں نے کس طرح اس کا جواب دیا؟ اور انسان نے کس طرح قبول کیا؟ اس کی پوری کیفیت نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ اسے بیان کر سکتے ہیں۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اپنی ہر مخلوق کیلئے ایک خاص قسم کا احساس و شعور رکھا ہے، گو ہم اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں، لیکن اللہ تعالٰی تو ان کی بات سمجھنے پر قادر ہے، اس نے ضرور اس امانت کو ان پر پیش کیا ہوگا جسے قبول کرنے سے انہوں نے انکار کر دیا۔ اور یہ انکار انہوں نے سرکشی و بغاوت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس میں یہ خوف کار فرما تھا کہ اگر ہم اس امانت کے تقاضے پورے نہ کر سکے تو اس کی سزا ہمیں بھگتنی ہوگی۔

تفسیر الکتاب میں بیان ہوتا ہے

[٦٣] امانت سے مراد اطاعت و فرائض ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم انہیں اچھی طرح ادا کرو گے تو تمہیں اس کا صلہ دیا جائے گا اور اگر نافرمانی کرو گے تو عذاب دیا جائے گا۔ اگر قبول نہیں کرتے تو اس کے مکلف نہ بنائے جاؤ گے مگر اس صورت میں ثواب و عذاب کے بھی مستحق نہ ہو گے۔ انہوں نے عذاب کے سبب احتمال ثواب سے بھی دست برداری کی اور بار امانت اٹھانے سے انکار کر دیا۔ یہی بات جب انسان سے پوچھی گئی تو اس نے اسے قبول کر لیا۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ آسمان، زمین اور پہاڑ جو غیر ذی روح اور بظاہر بےعلم و شعور ہیں ان کے سامنے پیش کرنے اور ان کے جواب دینے کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوقات سے جو تعلق ہے اس کو نہ ہم جان سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں۔ زمین، آسمان، پہاڑ وغیرہ ہمارے لئے بےجان، گونگے اور بہرے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی وہ ایسے ہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ہر مخلوق سے بات کر سکتا ہے اور وہ اسے جواب دے سکتی ہے۔ اس کیفیت کا سمجھنا ہمارے فہم و عقل سے بالاتر ہے۔

[٦٤] ”ظلوم و جہول” ظالم و جاہل کا مبالغہ ہے۔ ظالم و جاہل وہ کہلاتا ہے جو عدل اور علم سے خالی ہو مگر استعداد و صلاحیت ان صفات کے حصول کی رکھتا ہو۔ انسان کو ”ظلوم و جہول” کہنے سے مراد یہ ہے کہ نوع انسانی کی اکثریت ظلوم و جہول ثابت ہوئی جس نے اس امانت کا حق ادا نہ کیا اور خسارے میں پڑی۔ مراد اس سے کفار و منافقین اور فساق و فجار اور گنہگار مسلمان ہیں۔ یعنی انسان کے اس بار امانت کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک طبقہ مشرکین و منافقین کا قرار پایا اور ایک دوسرا طبقہ اہل ایمان کا۔ یعنی ایک اہل جہنم کا اور ایک اہل جنت کا۔

U said:

the phantasy of prof about the offers and choosing of which sort of life style i prefered is given to me…. is totally wrong …. Allah is the owner of the all creation. He never asked any one wht he needs to do, he created man, jinn and angles according to his own desire… and gave birth to us also according to his own desire… no one can question it and no one can change it… but what ever is here…. its all with pure “justice”…. we all belive the one who suffer more will be rewarded more… the theroy about the early death of those who doesnt accept the examination is also unjust… as not all child die at early age some die in later ages, some die in sickness, some die in accidents and some die by murder….

Me: In this regard I mentioned that it is based upon the common sense. However, ur common may be different and I do not insist on it. This point I have already mentioned in the Asfsana.
U Said: I totally disagree with the prof sb rather object on the wrong tashreeh of the said ayah….It my point of view, your comments are welcome for healthy debate.

U still have to right to disagree, However , I need ur precious reply

October 13th, 2011 | 5:41 pm

May Allah Almighty bless u 4 an excellent n informative article. As we Muslims of Pakistan in particular n the world in general r not used to reading n understanding of the Quran-e-Hakim the coming in this world has been forgotten that it was by our choice.

October 17th, 2011 | 4:55 am
Tahir Abdullah Siddiqui:

Dear Aqil Sahab…………AOA,
I have read thoroughly and downloded the Afsan. I Shall get the print out of the same and underlined the selected sentences or phrases than raise my points and inform will send you accordingly. ISA
Shall revert soon

October 23rd, 2011 | 1:49 pm

W.Salam
Thanx Mufti Sahab for giving ur precious time. I shall be very grateful to u for ur comments

October 23rd, 2011 | 2:31 pm
Osama Hashmi:

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ
افسانہ بہترین ہے پشند آیا ماشااللہ

October 26th, 2011 | 7:23 am
Hammad:

محترم عقیل صاحب !
آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مرے ایک ماضی میں کے گئے سوال کے جواب میں ، کمال محبت سے مجھے یہ افسانہ ای میل کیا. اور آج کافی دنوں کے بعد میں نے اسے چیک کیا .
“”
“بیٹا اللہ نے ہمیں اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ ہمیں آزمائے کہ ہم میں سے کون اچھا ہے اور کون برا۔ اچھوں کو وہ اپنے انعام اور اکرام سے نوازے اور بروں کے ساتھ سختی کا رویہ اختیا ر کرے”۔

سوال یہ ہے کہ کیا خدا کو بھی اپنی تخلیق کے ٹیسٹ کی ضرورت ہے کہ اسکی تخلیق اچھی ہے یا بری ؟
سوال تو اب بھی یہی ہے کہ آخر اس آزمائش کی ضرورت کیا تھی ؟
کیا خدا اپنے تعارف کیلئے خود اپنی تخلیق کا محتاج ہے ؟
“بیٹا! اگر کوئی شخص تمہیں زبردستی امتحان گاہ میں دھکیل دے اور پرچہ حل کرنے پر مجبور کرے تو وہ شخص یقینی طور پر ظالم ہے یا احمق۔ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہیں ۔ وہ کبھی اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتے۔ ”

اس بات کا تعلق کہ ایمان اور عقیدے سے ہے . لاجک سے نہیں .

“بے شک ہم نے امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا”۔
.
ہر انسان مختلف الراے اور مختلف الخیال ہوتا ہے . سب انسانو کا ایک بات پر متفق ہو جانا بعید از قیاس اور بعید از عقل ہے . صاف ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ آزادانہ راے پر نہیں بلکہ سکیم کے مطابق منظور کروایا گیا .

“بیٹا! یاد نہ ہونا کسی واقعے کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ مثال کے طور پر ہم میں سے کسی کو بھی یہ یاد نہیں کہ ہم نے ماں کے پیٹ میں نو ماہ گذارے، کس طرح ہماری ولادت ہوئی وغیرہ۔ اس کے باوجود یہ سب واقعات ایک حقیقت ہیں”

ایسے وعدے یا فیصلے جو ہوش و حواس میں نہ کۓ جایں ، اہمیت نہں رکھتے . مثال کۓ طور پر ایک لڑکی کو بے ہوش کر کۓ نکاح نامے پر انگوٹھا لگوا لیا جائے تو کیا نکاح ہو جائے گا ؟


“اور اگر کسی روح اس آزمائش میں اترنے سے منع کر دیا تو اس کا کیا ہوا؟”انور نے پوچھا
“اس دستبرداری کا مطلب ہے کہ مقابلے سے پیچھے ہٹ جانا۔چونکہ ان تمام ارواح کو دنیا میں بھیجنےکا تو فیصلہ اللہ نے کرہی لیا تھا چنانچہ ایسے لوگوں کو دنیا میں تو بھیج دیاجائے گا لیکن انہیں بچپن ہی میں موت دے دی جائے گی۔ چونکہ ان لوگوں نے امتحان قبول کرنے سے انکار کردیا چنانچہ انہیں جنت میں ایک بے شعور خدام کے طور پر داخل کردیا جائے گا ”
مرے ذہن میں بچپن ہی سے جہنم اور عذاب کی تفصیلات سن سن کر آزمائش کی لاجک کۓ بارے میں سوالات ذہن میں آیا کرتے تھے . میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ دس، گیارہ سال کی عمر میں موت اور عذاب کا مجھ پر اتنا خوف طاری رہتا تھا کہ میں نہ ہی کھانا ٹھیک سے کھا پاتا تھا اور راتوں کو خواب میں اپنے آپ کو مرا پاتا اور خواب میں ہی جہنم دیکھتا اور وہاں جانے کا حکم سن کر لرز جایا کرتا تھا . اس وقت مجھے اس عذاب اور ریوارڈ کۓ کھیل سے جدا رہنا سہل تر لگتا تھا . لیکن مجھے بچپن میں موت نصیب نہیں ہوئی ؟؟؟

November 16th, 2011 | 1:19 pm
Hammad:

ابھی تک جواب کا انتظار ہے

November 27th, 2011 | 8:32 pm

Sorry
I was busy. I will answer u Insha Allah after sometime

November 27th, 2011 | 9:20 pm


سوال: “بیٹا اللہ نے ہمیں اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ ہمیں آزمائے کہ ہم میں سے کون اچھا ہے اور کون برا۔ اچھوں کو وہ اپنے انعام اور اکرام سے نوازے اور بروں کے ساتھ سختی کا رویہ اختیا ر کرے”۔

سوال یہ ہے کہ کیا خدا کو بھی اپنی تخلیق کے ٹیسٹ کی ضرورت ہے کہ اسکی تخلیق اچھی ہے یا بری ؟
سوال تو اب بھی یہی ہے کہ آخر اس آزمائش کی ضرورت کیا تھی ؟
جواب: خدا کو ٹیسٹ کی ضرورت نہیں تھی بلکہ خدا تو علا م الغیوب ہیں وہ جانتے تھے کہ کون نیک ہوگا اور کون بد۔ لیکن اگر وہ اپنے علم کی بنیاد پر جزا و سزا کا فیصلہ کردیتے تو مخلوق کی طرف سے یہ آبجیکسشن آتا کہ آپ نے تو ہمیں عمل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ آخر آزمائش کی ضرورت ہی کیا تھی تو اس کا حتمی جواب تو اللہ ہی دے سکتے ہیں۔

سوال: کیا خدا اپنے تعارف کیلئے خود اپنی تخلیق کا محتاج ہے ؟
جواب: محتاج ہرگز نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق ان ان مقامات پر بھی پوری شان سے جاری ساری ہے جہاں کوئی ذی روح نہیں جاسکتا جیسے کہکشائیں، سمندر کی تہہ، زمین کی پاتال وغیرہ
سوال: “بیٹا! اگر کوئی شخص تمہیں زبردستی امتحان گاہ میں دھکیل دے اور پرچہ حل کرنے پر مجبور کرے تو وہ شخص یقینی طور پر ظالم ہے یا احمق۔ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہیں ۔ وہ کبھی اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتے۔ ”

اس بات کا تعلق کہ ایمان اور عقیدے سے ہے . لاجک سے نہیں .
جواب: یہ عقیدہ عقل کے خلاف نہیں۔ اگر ہے تو پھر خدا کو لاجک سے ظالم ثابت کرنا پڑے گا جو کوئی نہیں کرسکتا
سوال: “بے شک ہم نے امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا”۔
.
ہر انسان مختلف الراے اور مختلف الخیال ہوتا ہے . سب انسانو کا ایک بات پر متفق ہو جانا بعید از قیاس اور بعید از عقل ہے . صاف ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ آزادانہ راے پر نہیں بلکہ سکیم کے مطابق منظور کروایا گیا .
جواب: ایسا نہیں ہے ۔ کچھ انسانوں نے انکار کیا البتہ اکثریت نے اس چیلینج کو قبول کیا۔ اور اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا ہی ہے ورنہ د=سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تو زمین، آسمان اور پہاڑوں سے بھی منظور کروایا جاسکتا تھا۔
سوال: “بیٹا! یاد نہ ہونا کسی واقعے کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ مثال کے طور پر ہم میں سے کسی کو بھی یہ یاد نہیں کہ ہم نے ماں کے پیٹ میں نو ماہ گذارے، کس طرح ہماری ولادت ہوئی وغیرہ۔ اس کے باوجود یہ سب واقعات ایک حقیقت ہیں”
ایسے وعدے یا فیصلے جو ہوش و حواس میں نہ کۓ جایں ، اہمیت نہں رکھتے . مثال کۓ طور پر ایک لڑکی کو بے ہوش کر کۓ نکاح نامے پر انگوٹھا لگوا لیا جائے تو کیا نکاح ہو جائے گا ؟
جواب: وعدہ ارواح سے لیا گیا اور اس وقت انہیں پورا شعور اور اختیار تھا ورنہ عہد کو کوئی سینس نہیں بنتا۔

سوال: “اور اگر کسی روح اس آزمائش میں اترنے سے منع کر دیا تو اس کا کیا ہوا؟”انور نے پوچھا
“اس دستبرداری کا مطلب ہے کہ مقابلے سے پیچھے ہٹ جانا۔چونکہ ان تمام ارواح کو دنیا میں بھیجنےکا تو فیصلہ اللہ نے کرہی لیا تھا چنانچہ ایسے لوگوں کو دنیا میں تو بھیج دیاجائے گا لیکن انہیں بچپن ہی میں موت دے دی جائے گی۔ چونکہ ان لوگوں نے امتحان قبول کرنے سے انکار کردیا چنانچہ انہیں جنت میں ایک بے شعور خدام کے طور پر داخل کردیا جائے گا ”
مرے ذہن میں بچپن ہی سے جہنم اور عذاب کی تفصیلات سن سن کر آزمائش کی لاجک کۓ بارے میں سوالات ذہن میں آیا کرتے تھے . میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ دس، گیارہ سال کی عمر میں موت اور عذاب کا مجھ پر اتنا خوف طاری رہتا تھا کہ میں نہ ہی کھانا ٹھیک سے کھا پاتا تھا اور راتوں کو خواب میں اپنے آپ کو مرا پاتا اور خواب میں ہی جہنم دیکھتا اور وہاں جانے کا حکم سن کر لرز جایا کرتا تھا . اس وقت مجھے اس عذاب اور ریوارڈ کۓ کھیل سے جدا رہنا سہل تر لگتا تھا . لیکن مجھے بچپن میں موت نصیب نہیں ہوئی ؟؟؟
جواب ؛ آپ کی روح نے تو عہد الست میں دنیا کا چیلینج قبول کرلیا لیکن دنیا میں آنے کے بعد آپ نے دنیا کی کلفتوں کی بنا پراپنا فیصلہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جس کا کوئی امکان نہیں۔

November 28th, 2011 | 9:57 am
Hammad:

محترم عقیل صاحب۔ جوابات سے نوازنے کا بہت شکریہ! اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آمین!

December 5th, 2011 | 4:29 pm
Haroon Zafar:

میں نے آپ کی کتاب کیا میں دنا میں اپنی مرضی سے آیا ہوں۔ بہت عمدہ تحریر ہے۔ ایک نئی بات جو لگی وہ یہ تھی کہ انسان نے اپنی غربت،امارت،کالا،گورا،معذور،صحت مند ہونا ہر چیز کا انتخاب خود کیا ہے؟یہ کیا کسی آیت یا حدیث سے ثابت ہے؟

April 13th, 2013 | 11:59 am

اس کا جواب ہے کہ نہیں ایسی بات کسی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔ البتہ قرآن سے صرف یہ بات ثابت ہے کہ انسان اپنی مرضی سے اس دنیا میں آیاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر انسان سے جب مرضی پوچھی گئی ہوگی تو اسے دنیا کا نقشہ بھی بتایا گیا یوگا، یہاں کی طرز زندگی، امتحان کی نوعیت، ہر امتحان کا فائدہ و نقصان بھی بتایا گیا ہوگا۔ ورنہ تو آپشن دینے کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا۔چنانچہ یہ بات کہ انسان نے غربت و امارت وغیرہ کا انتخاب خودکیا ہوگا یہ کامن سینس سے ثابت ہوتی ہے۔ جیسے آج ہم امتحان دینے کے لئے جاتے ہیں تو پری انجینرنگ، پری میڈیکل وغیرہ کا انتخاب خود کرتے ہیں تو میرے خیال میں عہد الست کے موقع پر ہمیں بھی اس قسم کا اختیار دیا گیا ہوگا۔ لیکن یہ میر ناقص رائے ہے جو غلط بھی ہوسکتی ہے۔

April 13th, 2013 | 12:02 pm
تبصرہ کریں

تبصرہ :