پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

فتنہ خوارج

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Friday Mar 29, 2013


جنگ صفین کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس جنگ میں جب حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین صلح ہوئی تو باغیوں کو یہ امر سخت ناگوار گزرا۔ ان کے ایک گروہ نے حضرت علی سے علی الاعلان علیحدگی اختیار کر لی اور ان دونوں صحابہ کو معاذ اللہ کافر قرار دے کر ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے انہیں بہت سمجھایا لیکن یہ کسی طرح نہیں مانے۔ انہوں نے مسلم آبادیوں پر حملے شروع کر دیے ۔ اس پر حضرت علی نے ان کے خلاف کاروائی کی جس سے ان کا زور ٹوٹ گیا۔ بعد میں اسی گروہ نے سازش کر کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔
خوارج سے متعلق بھی بعض سوالات تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جو کہ یہ ہیں:
1. خوارج کیسے پیدا ہوئے اور باغی جماعت میں گروپنگ کیسے ہوئی؟
2. خوارج کا نقطہ نظر کیا تھا؟
3. حضرت علی نے خوارج سے کیا معاملہ کیا؟
4. خوارج سے جنگ کے نتائج کیا نکلے؟
اب ہم ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خوارج کسےس پدرا ہوئے اور باغی جماعت مںک گروپنگ کسےن ہوئی؟
خوارج (واحد خارجی) کے بارے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اپنی کوئی کتب موجود نہیں ہیں کیونکہ باقاعدہ کتب لکھے جانے کے زمانے(150/767 کے بعد) تک وہ ختم ہو چکے تھے۔ ان کے آغاز کے بارے میں زیادہ تر تفصیلا ت کا ماخذ وہی ابو مخنف ہے جو تاریخ طبری میں مسلسل ہمارے ساتھ ہے۔ یہ بات بہرحال معلوم و معروف ہے کہ ان کے بہت سے گروپ ہو گئے تھے جن میں سے ایک گروپ جو “اباضیہ” کہلاتا ہے، اب تک موجود ہے۔ اباضی خود کو خوارج سے الگ قرار دیتے ہیں اور یہ عمان، لیبیا اور الجزائر میں موجود ہیں۔ ان کی کتب میں بھی ہمیں خوارج کے ارتقاء سے متعلق کچھ زیادہ تفصیلات نہیں مل سکی ہیں۔ اس وجہ سے اس سلسلے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے۔
خوارج کے بارے میں جو روایات طبری میں بیان ہوئی ہیں، ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی کے زمانے سے باغی تحریک کا حصہ بن گیا تھا۔ یہ لوگ “قراء” کہلاتے تھے۔ قراء کا لفظ ان لوگوں کے بارے میں بولا جاتا ہے جو خاص کر قرآن مجید کی قراءت کا فن سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت عابد و زاہد قسم کے لوگ تھے اور نماز روزہ کے معاملے میں بڑے تشدد سے کام لیتے تھے۔ سجدوں کی کثرت سے ان کی پیشانیوں پر سیاہ نشان بن گئے تھے۔ عام طور پر ایسا ہو جاتا ہے کہ جو لوگ عبادت گزاری میں شدت پسند بن جائیں، وہ عام طور پر ان لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں ، جو دنیاوی کاموں میں مشغول ہوں۔ یہ رویہ جب پختگی اختیار کر جائے تو ایسے لوگ بات بات پر دوسروں کو جھڑکتے ہیں، ان پر کفر، فسق اور گمراہی کے فتوے عائد کرتے ہیں اور اپنے سوا سب کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ انگریزی میں ایسے لوگوں کے لیے self-righteous اور holier-than-thou کے محاورے موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے لوگ اہل مغرب کے ہاں بھی پائے جاتے ہیں۔
خوارج سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث بھی صحیح بخاری و مسلم میں نقل ہو ئی ہیں۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
ابو سلمہ اور عطاء بن یسار ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حروریہ (حرورہ کے خوارج) کے متعلق پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ حروریہ کیا چیز ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: “اس امت میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے (یہ نہیں فرمایا کہ اس امت سے پیدا ہوں گے۔) آپ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں حقیر سمجھیں گے۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے مگر اس طرح کہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آر پار ہو جاتا ہے اور شکاری اپنے تیر اور اس کے پھل کو اور اس کے پروں کو دیکھتا ہے اور شک کرتا ہے کہ اس میں کچھ خون تو لگا ہوا ہے یا نہیں۔”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی آیا اور کہنے لگا: “اے اللہ کے رسول! عدل سے کام لیجیے۔” آپ نے فرمایا: “تمہاری خرابی! اگر میں عدل نہ کروں گا تو اور کون کرے گا؟” حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “مجھے اجازت دیجیے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔” آپ نے فرمایا: “اسے چھوڑ دیجیے۔ اس کے ایسے ساتھی ہیں کہ آپ میں سے کوئی شخص، ان کی نماز کے مقابلے میں اپنی نماز کو حقیر سمجھے گا اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا۔ یہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور اس کے پروں کو دیکھا جائے تو کچھ معلوم نہیں ہوتا ہے۔ پھر اس (تیر کے) پھل کو دیکھا جائے تو معلوم نہیں ہوتا ہے (کہ یہ شکار کے اندر سے گزرا ہے) حالانکہ وہ خون اور گوبر سے ہو کر گزرا ہے۔ ان کی نشانی یہ ہو گی کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کا ایک ہاتھ یا ایک چھاتی، عورت کی چھاتی کی طرح ہو گی۔ یا فرمایا کہ گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گی اور ہلتی ہو گی۔ یہ لوگوں میں خانہ جنگی کے وقت نکلیں گے۔” ابو سعید کہتے ہیں: “میں گواہی دیتا ہوں کہ جب حضرت علی نے ان لوگوں کو قتل کیا تو میں ان کے پاس تھا۔ اس وقت (ان کے سامنے) ایک شخص اسی صورت کا لایا گیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ انہی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : “ان میں سے بعض لوگ وہ ہیں جو آپ پر صدقات کے بارے میں طعنہ زنی کرتے ہیں۔” ) بخاری۔ کتاب استتابۃ المرتدین۔ حدیث 6532 and 6534۔ (
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خوارج کا یہ سیلف رائچس (Self-Righteous) گروپ عہد رسالت میں بھی موجود تھا۔ ان لوگوں کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ بہت زیادہ عبادات کرتے تھے اور اس بنا پر ایک نوعیت کے تکبر کا شکار تھے۔ یہ خود کو اتنا حق پرست سمجھتے تھے کہ اپنے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معاذ اللہ ناانصافی کرنے والا سمجھتے تھے۔ تاہم آپ نے اس وجہ سے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی کہ اب تک انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ محسوس ہوتا ہے کہ ان خوارج کے کچھ ساتھیوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بعض جرائم کی وجہ سے سزائیں دی تھیں، جس کے سبب یہ آپ کے خلاف ہو گئے تھے۔ موجودہ دور کے لیبیا کے اباضی عالم سلیمان البارونی نے عبداللہ بن اباض (خوارج کی ایک پارٹی کے لیڈر، جن کے نام سے اباضی فرقہ موسوم ہے) کا عبدالملک بن مروان ایک خط اپنی کتاب “مختصر تاریخ الاباضیہ” میں نقل کیا ہے۔ اس خط میں ابن اباض نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق لکھا ہے:
پھر انہوں (عثمان) نے ایسے نئے امور ایجاد کیے، جب پر ان کے پہلے دو ساتھیوں (ابو بکر و عمر) نے عمل نہ کیا تھا اور نہ ہی ان لوگوں نے، جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دیکھا تھا۔ جب اہل ایمان (یعنی باغیوں) نے ان نئی باتوں کو دیکھا تو ان (عثمان) کے پاس آئے اور ان سے بات کی اور انہیں کتاب اللہ اور پہلے سے چلی آ رہی سنت کی طرف توجہ دلائی۔ اس پر انہوں نے ان پر سختی کی کہ وہ انہیں اللہ کی آیات کی طرف توجہ کیوں دلاتے ہیں اور انہیں قوت سے پکڑا۔ ان میں سے جسے چاہا، مارا اور جسے چاہا، جیل میں ڈال دیا یا پھر جلا وطن کر دیا۔ ) ابو الربیع سلیمان البارونی، مختصر تاریخ الاباضیہ، ص 24۔ (www.scribd.com (ac. 3 Oct 2011)
ان باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت لگائی کہ آپ نے کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف یاد دہانی کی وجہ سے ان کے خلاف کاروائی کی تھی حالانکہ اگر آپ ایسے ہوتے تو پھر اس وقت زیادہ شدت سے کاروائی کرتے جب ان باغیوں نے مدینہ کے گرد گھیرا ڈالا تھا۔ اس کے برعکس آپ نے ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیے رکھا ، یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں جان دے دی مگر ان کے خلاف کاروائی نہ کی۔ عبداللہ بن اباض کے اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوارج کی بغاوت کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے بعض ساتھیوں کو سزا دی تھی۔ بہرحال یہ گروہ باغیوں کا حصہ بنا رہا اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں ان کے ساتھ شریک رہا۔ اس وقت تک ان کی کوئی علیحدہ شناخت نہیں تھی بلکہ یہ اسی باغی تحریک کا حصہ تھا۔ جنگ صفین میں جب صلح کی گفت و شنید ہونے لگی تو یہ منظر عام پر آئے۔ ظاہر ہے کہ کوئی گروہ ایک دم نہیں بن جاتا۔ یہ گروہ بھی ایک دم ہی نہیں بنا ہو گا بلکہ طویل عرصے سے اس کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہو گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ باغی پارٹی کے اندر ایک پارٹی تھی جو الگ سے موجود تھی لیکن جنگ صفین کے خاتمے پر ظاہر ہو گئی۔ بعض روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ باغیوں کے اندر یہ تقسیم خفیہ طور پر جنگ جمل کے بعد ہی وجود میں آ گئی تھی۔ سیف بن عمر کی روایت کے مطابق جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے بعد بصرہ کے خزانے سے فوجیوں کو تنخواہ دی تو انہی باغیوں کو سخت ناگوار گزرا کیونکہ وہ خود پورے مال پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ایک راوی راشد کا بیان ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اصول تھا کہ وہ کسی بھاگتے ہوئے اور زخمی کو قتل نہ کرتے تھے، نہ کسی کا پردہ فاش کرتے تھے اور نہ کسی کا مال لیتے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا: “یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ ان لوگوں کا خون تو ہمارے لیے حلال ہے اور ان کا مال حرام۔ ” حضرت علی نے یہ سن کر فرمایا: “یہ تمہارے بھائی ہیں۔ جس نے ہم سے تعرض نہ کیا (یعنی غیر جانبدار رہا)، وہ ہمارا حصہ ہے اور ہم اس کا حصہ ہیں۔ جو شخص ہمارے مقابلے میں قتل ہوا، وہ ہماری جانب سے ابتداء کے باعث ہوا، اس لیے ان کے مال کا خمس (1/5) نہیں لیا جا سکتا۔” اسی وقت سے وہ لوگ، جو بعد میں خارجی ہو گئے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ ) طبری۔ 3/2-160 (
مالک الاشتر کی اس تقریر سے پارٹی کے اندر اس پارٹی کی نوعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ تقریر موصوف نے انہی خارجیوں کے سامنے کی تھی:
تم لوگوں کو دھوکہ دیا گیا اور واللہ! تم دھوکے میں مبتلا ہو گئے۔ تمہیں (صفین میں) جنگ بندی کی دعوت دی گئی، تم نے فریب میں آ کر اسے قبول کر لیا۔ اے سیاہ پیشانیوں والو! ہم تو تمہاری نمازیں دیکھ کر یہ سمجھتے تھے کہ تمہیں دنیا سے کوئی غرض نہیں۔ تم جو یہ عبادات کر رہے ہو، اللہ عزوجل کی ملاقات کے شوق میں کر رہے ہو، لیکن اب تمہارے فرار سے یہ ظاہر ہوا کہ تم دنیا کی طلب میں موت سے بھاگنا چاہتے ہو۔ افسوس صد افسوس! اے بڑے بڑے جبے پہننے والو! آج کے بعد تم ہمیشہ دو رایوں پر چلتے رہو ہو گے اور ایک رائے پر کبھی متفق نہ ہو گے۔ تم بھی ہمارے سامنے سے اسی طرح دفع ہو جاؤ جیسے ظالم قوم (یعنی اہل شام) دور ہو گئی ہے۔ ) ایضاً ۔ 3/2-244)
ابو مخنف نے بڑا زور لگایا ہے کہ جنگ صفین میں صلح کے “جرم” کا سارا ملبہ اسی خارجی پارٹی پر ڈال دیا جائے حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اپنی تقاریر اور خطوط سے واضح ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود بھی صلح چاہتے تھے اور آپ کی جنگ صفین میں شرکت کا مقصد ہی یہ تھا کہ ان باغیوں کو کنٹرول کیا جائے۔ابو مخنف کا کہنا یہ ہے کہ خارجیوں کے لیڈر مسعر بن فدکی تمیمی اور زید بن حصین الطائی نے حضرت علی سے بڑی بدتمیزی کی اور کہا:
علی! جب تمہیں کتاب اللہ کی دعوت دی جا رہی ہے، تم اسے قبول کرو ورنہ ہم تمہیں اور تمہارے مخصوص ساتھیوں کو انہی لوگوں کے ہاتھو ں میں دے دیں گے۔ یا پھر جو سلوک ہم نے (عثمان) ابن عفان کے ساتھ کیا، وہی تمہارے ساتھ کریں گے (یعنی تمہیں قتل کر دیں گے۔)( ایضاً ۔ 3/2-243)
اگر یہ روایتیں درست ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ خوارج کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی حیثیت نہ تھی اور وہ اپنے زہد و تقوی کے زعم میں ان جلیل القدر صحابہ کو بھی اپنے سامنے کچھ نہ سمجھتے تھے۔ بہرحال ابو مخنف ان خوارج کے خلاف بھی متعصب ہے کیونکہ باغیوں کے ان دونوں فرقوں میں بعد میں زبردست نفرت پیدا ہوئی۔
خوارج کا نقطہ نظر کیا تھا؟
ابو مخنف کی روایت کے مطابق ان خوارج کی بغاوت کی بنیاد ان کا یہ نقطہ نظر تھا کہ قرآن مجید کے مطابق باغیوں سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لیں یا پھر بالکل ہی ختم نہ ہو جائیں۔ حضرت علی نے چونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے صلح کر لی تھی، اس وجہ سے انہوں نے قرآن کی خلاف ورزی کی۔ قرآن کی خلاف ورزی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور ایسا کرنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ اس طرح سے علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما، معاذ اللہ دونوں ہی کافر ہو گئے۔ ان خوارج نے جس آیت کی بنیاد پر اپنے نقطہ نظر کی بنیاد رکھی تھی، وہ یہ ہے:
وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ.
اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کروا دیا کیجیے۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے خلاف سرکشی کرے تو اس سرکشی کرنے والے سے جنگ کیجیے یہاں تک کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کروا دیجیے۔ اور انصاف کیا کیجیے کیونکہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (الحجرات49:9 )
خوارج اس آیت کا مطلب یہ اخذ کرتے تھے کہ جو گروہ بغاوت کرے، اس سے جنگ کرنا قرآن کی رو سے فرض ہے اور اس کے علاوہ کچھ اور کرنا جائز نہیں ہے بلکہ قرآن کی مخالفت کی وجہ سے کفر ہے۔ چونکہ معاویہ نے بغاوت کی تھی، اس وجہ سے علی پر لازم تھا کہ وہ ان سے جنگ کرتے۔ اب چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ دو فیصلہ کرنے والے حکم مقرر کر دیے ہیں، اس وجہ سے انہوں نے حکم قرآنی کی خلاف ورزی کی ہے جس کے باعث وہ نعوذ باللہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں۔ اس کے برعکس حضرت علی اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کا موقف یہ تھا کہ حکم مقرر کرنا اس آیت کریمہ میں صلح کروانے کے حکم سے متعلق ہے اور حضرت علی نے اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔
خوارج کا نقطہ نظر یہ تھا کہ قرآن کے ایک حکم کی خلاف ورزی بھی گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس عام مسلمانوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا گناہ گار ضرور ہوتا ہے مگر کافر نہیں ہوتا۔ خوارج اسی نقطہ نظر کی بنیاد پر کثرت سے مسلمانوں پر کفر کا فتوی عائد کیا کرتے تھے۔ بہت مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ وہ اپنے کسی لیڈر کو گناہ کبیرہ کے ارتکاب پر کفر کا مرتکب قرار دے دیا
کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ان کی اپنی جماعت فرقوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔
) Fazal ur Rahman. Revival and Reform in Islam. P 36. London: One World Publications (2006) (
اسی وجہ سے آپس میں لڑنے لگے اور بالآخر روئے زمین ان کے وجود سے خالی ہو گئی۔
آیت کریمہ پر غور کیا جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ٹھیک ٹھیک اس آیت پر عمل کیا تھا اور فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا کے تحت اصلاح کی کوشش کی تھی۔ آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو انہیں قائل کرنے کے لیے بھیجا اور پھر خود تشریف لے گئے لیکن خوارج نے آپ کی کسی وضاحت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ یہ حضرات کسی طرح ماننا ہی نہ چاہتے تھے اور ہر صورت میں فتنہ و فساد پھیلانا چاہتے تھے۔
یہ بالکل اس کہانی کا سا معاملہ تھا جس میں ایک بھیڑیے نے پانی پیتے ہوئے ایک بھیڑ کے بچے کو دیکھا تو اسے کھانے کی ٹھانی۔ کہنے لگا: “تم پانی گندا کر کے میری طرف کیوں بھیج رہے ہو؟” اس نے جواب دیا: “جناب! پانی تو آپ کی طرف سے آ رہا ہے۔” بھیڑیا بولا: “تم نے مجھے پچھلے سال گالیاں کیوں دی تھیں؟” اس نے جواب دیا: “جناب! میری عمر تو ابھی چھ ماہ ہے۔” بھیڑیا بولا: “پھر تمہاری ماں ہو گی جس نے مجھے گالیاں دی ہوں گی۔” یہ کہہ کر اس نے بھیڑ کے بچے پر حملہ کر دیا اور اسے چیر پھاڑ کر کھا گیا۔ خوارج کا معاملہ بھی یہی تھا۔ انہوں نے چونکہ فتنہ و فساد کی ٹھان رکھی تھی، اس وجہ سے وہ کسی بھی دلیل سے قائل نہیں ہونے والے تھے اور انہوں نے ہر صورت میں کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جنگ کرنا تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے مقابلے پر کوئی بھیڑ کا بچہ نہیں تھا بلکہ شیر خدا علی رضی اللہ عنہ تھے۔
خوارج دیگر باغیوں سے الگ کیوں ہوئے؟ اس پر ہمیں تاریخ کی کتب میں سے کچھ نہیں مل سکا۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ باغیوں کے مابین مفادات کی جنگ ہو گئی ہو گی، جس کی وجہ سے یہ الگ ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا فلسفہ گھڑ لیا۔ مزاج کے اعتبار سے چونکہ یہ بالکل ہی اکھڑ قسم کے متکبر بدو تھے، اس وجہ سے انہوں نے کسی چالبازی کی بجائے سیدھی سیدھی خود کش جنگ چھیڑی اور اس میں اجتماعی خود کشی کر لی۔
حضرت علی نے خوارج کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
ابو مخنف نے جو واقعات بیان کیے ہیں، ان کے مطابق خوارج کے کچھ سرکردہ لیڈر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ آپ نے معاویہ سے صلح کا معاہدہ کر کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس پر توبہ کیجیے اور جنگ دوبارہ شروع کیجیے۔ ہم آپ کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ حضرت علی نے اس سے انکار کر دیا اور فرمایاکہ ہم معاہدہ کر چکے ہیں، جس کی خلاف ورزی کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ اس پر ان خوارج نے کہا کہ اگر آپ اس معاہدہ کرنے کے گناہ سے توبہ نہ کریں گے تو ہم آپ سے جنگ کریں گے۔ یہ کہہ کر وہ “لا حکم الا اللہ” کا نعرہ لگاتے چلے گئے۔( طبری۔ 3/2-269)
اس وقت تک خوارج عام مسلمانوں میں مل جل کر رہتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو مسجد کے مختلف کونوں سے “لا حکم الا اللہ” کی صدائیں بلند ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں اپنی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
اللہ اکبر! یہ ایک حق کلمہ (لا حکم الا اللہ) ہے جس کے ذریعے باطل کا ارادہ کیا جا رہا ہے۔ جب تک آپ لوگ ہمارے ساتھ ہیں، میری جانب سے آپ کے لیے تین فیصلے ہیں: اول یہ کہ ہم آپ کو اس وقت تک مسجد میں آنے سے نہ روکیں گے، جب تک آپ مسجد میں اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ (دوسرے یہ کہ) جب تک آپ ہمارا ساتھ دیں گے، ہم مال غنیمت کو بھی آپ سے نہ روکیں گے۔ (تیسرے یہ کہ) جب تک آپ ہم سے جنگ کی ابتدا نہ کریں گے، ہم آپ سے جنگ نہیں کریں گے۔( ایضاً ۔ 3/2-270)
یہ روایت طبری نے ابو مخنف کے علاوہ اور ذرائع سے بھی بیان کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پالیسی یہی تھی۔ جب فیصلے کے لیے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے تو خوارج نے باہمی مشورے سے عبداللہ بن وہب الراسبی کو اپنا امیر بنا لیا۔ ان کے نزدیک یہ شخص پانچواں خلیفہ راشد کہلاتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی قوت کو منظم کر کے مدائن کا رخ کیا جو کوفہ کے شمال میں واقع ہے۔ یہاں ان کی مدائن کے گورنر سعد بن مسعود سے جھڑپ بھی ہوئی اور اس کے بعد یہ نہروان کے علاقے میں اکٹھے ہو گئے۔ بصرہ کی خارجی جماعت بھی ان سے آ ملی۔
اس دوران باغی تحریک کے بقیہ عناصر شام پر دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ بقول ابو مخنف کے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کو خطوط بھی لکھے اور انہیں شام پر حملے کی ترغیب دی لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ۔ حضرت علی کا جو کردار ہم اوپر بیان کر چکے ہیں، اس سے یہ بات بہت بعید ہے کہ آپ کے نزدیک اہل شام کا مقابلہ، ان باغیوں کے مقابلے سے زیادہ اہم تھا۔ یقینی طور پر باغی عناصر ہی شام پر حملہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے عزائم میں اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ ابو مخنف ہی کا بیان ہے کہ بہت کم لوگ شام پر حملے کے لیے تیار ہوئے۔ بالآخر غلاموں ، آزاد کردہ غلاموں اور بالکل ہی نوجوان لڑکوں کو ملا کر 57000 کا لشکر تیار ہوا۔ ( ایضاً ۔ 3/2-277)
اس دوران خارجیوں نے جنگی کاروائیاں شروع کر دیں۔ انہوں نے ایک صحابی حضرت عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا اور ان سے حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے بارے میں رائے طلب کی۔ انہوں نے ان سب حضرات کی تعریف کی تو انہیں شہید کر دیا۔ ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی جو حاملہ تھی۔ اسے شہید کر کے اس کا پیٹ چاک کر دیا ۔ ان خوارج کے زہد و تقوی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کا قتل ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا لیکن بقیہ معاملات میں یہ بڑے محتاط تھے۔ ایک جگہ ایک درخت سے کھجور گری تو ایک خارجی نے اسے منہ میں ڈال لیا۔ اس کے ساتھی نے ٹوکا کہ یہ کھجور لینا تمہارے لیے حرام ہے۔ اس نے منہ سے کھجور نکال پھینکی اور اپنا ہاتھ بھی کاٹ دیا۔ ایک جگہ ایک غیر مسلم کا خنزیر چرتا دیکھا تو اسے ایک خارجی نے مار دیا۔ دوسروں نے اسے تنبیہ کی تو اس نے جا کر اس کے مالک سے معافی مانگی۔( ایضاً ۔ 3/2-280) اس کردار کے لوگ اب بھی ہمارے ہاں نظر آتے ہیں جو انسانوں کے قتل کو تو بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے لیکن چھوٹے چھوٹے معاملات میں زہد و تقوی کا بڑا اہتمام کرتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن خباب کی شہادت کا سن کر حضرت علی نے ان خوارج کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آپ نے قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم کی سرکردگی میں ایک فوج خوارج کی طرف بھیجی۔ انہوں نے بھی براہ راست حملہ کرنے کی بجائے پہلے خوارج کو دعوت دی کہ وہ قاتلین کو ان کے حوالے کریں اور توبہ کر کے مسلمانوں سے آ ملیں لیکن خوارج نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے بھی انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن یہ کسی طرح نہ مانے۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک سفید جھنڈا کھڑا کر کے اعلان کیا کہ جو شخص جنگ کیے بغیر اس جھنڈے کے نیچے آ جائے، اسے امان حاصل ہو گی اور جو یہاں سے نکل کر کوفہ یا مدائن چلا جائے، اسے بھی امان حاصل ہو گی۔ متعدد خوارج نے اس آفر سے فائدہ اٹھا کر امان حاصل کی۔ خوارج کی کل تعداد محض چار ہزار تھی جن میں سے اب 2800 آدمی عبداللہ بن وہب الراسبی کے ساتھ رہ گئے تھے۔ انہوں نے جان توڑ کر جنگ کی لیکن بالآخر مارے گئے۔( ایضاً ۔ 3/2-285)
جنگ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کے چار سو زخمیوں کی مرہم پٹی کروائی اور انہیں ان کے قبائل میں بھیج دیا۔ آپ نے ان کا مال و اسباب بھی واپس کر دیا۔ اس سے زیادہ اچھا سلوک شاید ہی کسی نے باغیوں سے کیا ہو گا۔
اس کے بعد مین اسٹریم باغی لیڈروں نے ایک مرتبہ پھر شام پر حملے کا ارادہ کیا اور فوج کو لشکر گاہ میں مقیم رہنے کی ہدایت کی لیکن لوگ اہل شام کا مقابلہ نہ کرنا چاہتے تھے چنانچہ وہ آہستہ آہستہ کھسکنا شروع ہو گئے اور چند سرداروں کے سوا لشکر گاہ خالی ہو گئی۔ ( ایضاً ۔ 3/2-290)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عام لوگ اہل شام کو مسلمان سمجھتے تھے اور ان باغیوں کے لیے شامیوں سے جنگ کو درست نہ سمجھتے تھے۔ ابو مخنف نے اپنے الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے کہلوا کر ان لوگوں کو بڑی لعن طعن کی ہے اور ان کا نوحہ کہا ہے کیونکہ انہی لوگوں کی وجہ سے باغی پارٹی کا مشن ناکام ہو گیا تھا۔
خوارج سے جنگ کے نتائج کیا نکلے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شروع میں خوارج سے جنگ کرنے سے پرہیز کیا تھا ، اس کی وجہ وہی تھی کہ جنگ کے نتیجے میں ان کے قبائل بغاوت نہ کر دیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے خوارج کو آخر تک ڈھیل دی اور جب کسی طرح ان کا معاملہ نہ سلجھا، تو ان سے جنگ کی۔ بہرحال جنگ کا نتیجہ وہی نکلا جس سے آپ بچنا چاہ رہے تھے۔ طبری نے شعبی کا یہ بیان نقل کیا ہے:
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان کو قتل کیا تو ایک بہت بڑی جماعت آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئی اور گرد و نواح میں ہر جانب بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ بنو ناجیہ بھی مخالف بن گئے، اہل اہواز نے بھی بغاوت کر دی، بصرہ میں ابن الحضرمی نے پہنچ کر ریشہ دوانیاں شروع کر دیں اور ذمیوں نے بھی خراج دینے سے انکار کر دیا۔ ایرانیوں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ، جو وہاں کے گورنر تھے، نکال باہر کیا۔ حضرت علی نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ (حضرت معاویہ کے بھائی) زیاد (بن ابی سفیان) کو ایران روانہ کر دو۔ حضرت ابن عباس کوفہ سے بصرہ آئے اور زیاد کو ایک بڑا لشکر دے کر ایران روانہ کیا۔ زیاد نے اہل ایران کو خوب روندا اور انہوں نے بالآخر خراج ادا کیا۔ ( ایضاً ۔ 3/811)
اگر ہم اس قبائلی ماحول کا تصور کریں تو اس سے بات کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ یہ روایت دنیا بھر کے قبائلی معاشروں میں عام ہے کہ ہر قیمت پر اپنے قبیلے کے آدمی کا ساتھ دینا ہے خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر۔ چنانچہ ہم اپنے دور میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ کوئی جرم جیسے قتل، اغوا وغیرہ میں ملوث ہوتے ہیں اور پھر اپنے قبیلے میں جا کر پنا ہ لے لیتے ہیں۔ پولیس اگر ان کے خلاف کوئی اقدام کرنا چاہے تو پورا قبیلہ ہی اس ملزم کی حمایت کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پولیس، عدالت اور دیگر حکومتی اداروں پر دباؤ ڈال کر تفتیش کا رخ کسی اور جانب پھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قبائل تو کیا، موجودہ دور کی سیاسی پارٹیوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جرم کرتے ہیں اور عدالتیں انہیں سزا سناتی ہیں لیکن پارٹی کے کارکن عدالت کا گھیراؤ کر کے اس کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہونے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں باغیوں کے خلاف کاروائی نہ کی تھی کہ کہیں ان کے قبائل ان کی حمایت میں اٹھ نہ کھڑے ہوں۔ پھر ان کے ایک گروہ “خوارج” نے حضرت علی کے خلاف بھی بغاوت کر دی اور لوگوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن گئے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف کاروائی کی تو ان کے قبائل اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد یہ خوارج ہی تھے جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ اس کی تفصیل ہم بعدمیں بیان کریں گے۔
خوارج کی مختلف پارٹیاں بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانوں میں مسلسل بغاوت کرتی رہیں۔ تاریخ میں خوارج کی متعدد بغاوتوں کو ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں متعدد بغاوتیں کیں جن میں 57/677 کی بغاوت کافی بڑی تھی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ان کے ساتھ آ ملے لیکن جلد ہی انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کیا تو ابن زبیر نے ان سے براءت کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد ان خوارج نے مغربی ایران کے مختلف علاقوں کو اپنا مرکز بنا لیا اور پہاڑوں میں چھپ کر گوریلا جنگ جاری رکھی۔ یہاں سے یہ شہروں پر حملہ کر کے لوٹ مار کرتے۔ انہوں نے 65/684 میں انہوں نے پھر بغاوت کی جسے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرو کیا۔ 68/687 میں انہوں نے ایران میں بغاوت برپا کر دی جسے مصعب بن زبیر نے فرو کیا۔72/691 میں انہوں نے عبدالملک بن مروان کے خلاف بغاوت کی۔ ( ایضاً ۔ 4/1-123, 351, 4/2-57, 94)
خوارج کا نقطہ نظر یہ تھا کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے۔ جو شخص بھی ان کے خیال میں گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا، اسے یہ بلاتکلف کافر قرار دے کر اس سے جنگ شروع کرد یا کرتے تھے۔ ان کے نزدیک سوائے ان کے گروپ کے، پورا عالم اسلام کافر تھا۔ یہ اپنے ساتھیوں کو بھی معاف نہ کرتے تھے بلکہ ذرا سی غلطی پر انہیں بھی کافر قرار دے دیا کرتے تھے۔ اس طرح ان کی جماعت مختلف گروپوں میں تقسیم ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے تک ان کے بہت سے فرقے بن چکے تھے جن میں ازارقہ، صفاریہ اور اباضیہ نمایاں تھے۔ اباضیہ کے سوا یہ سب بار بار حکومت کے خلاف بغاوت کرتے رہے، جس کی وجہ سے ان کی قوت کمزور پڑ گئی اور دو صدیوں کے اندر اندر یہ فرقہ ختم ہو گیا۔ اباضیہ نسبتاً اعتدال پسند تھے اور جنگ و جدال سے پرہیز کرتے تھے، اس وجہ سے یہ باقی رہے اور آج تک یہ موجود ہیں۔
اب ہم جنگ جمل، صفین، تحکیم اور خوارج سے متعلق سوالات کے جوابات کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ مناسب ہو گا کہ اب ہم مصر کی باغی پارٹی کی بقیہ تفصیلات سے متعلق سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

تحریر وتحقیق : محمد مبشر نذیر

تبصرہ کریں

تبصرہ :