پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

مرد کی نگاہیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday May 12, 2013


قرآن مجید پر گہری نظر رکھنے والے یہ حقیقت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ﷲ تعالیٰ نے جن برائیوں میں مبتلا ہونے سے لوگوں کوشدت کے ساتھ روکا اور ان کی مذمت کی ہے ان میں ایک نمایاں نام بدکاری اور زنا کا ہے۔ زنا ﷲ تعالیٰ کے نزدیک اتنی سخت برائی ہے کہ اس پر ابدی جہنم کی وعید ہے، (فرقان 68:25) اوراسی لیے اس کے قریب پھٹکنے سے بھی منع کیا گیا ہے، (بنی اسرائیل 32:17)۔ تاہم بدکاری اور زنا سے معاشرے کو بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ مرد و زن کے اختلاط پر پابندی لگا دی۔ ایسے غیر فطری ذرائع اختیار کرنا ﷲ تعالیٰ کا طریقہ نہیں۔ اس کے برعکس ﷲ تعالیٰ نے ہمیں تفصیل کے ساتھ وہ آداب اور احکام سکھائے ہیں جو ایسے مواقع پر ہمارے نفس میں پاکیزگی پیدا کرتے اور زنا کی گندگی میں پڑنے سے ہمیں بچاتے ہیں۔

ہمارے ہاں عام طور پر ان احکام کو پردے کے احکام کہا جاتا ہے۔ یہ نام ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا دیا ہوا نہیں۔ عنوان قائم کرکے احکام بیان کرنا قرآن مجید کا طریقہ نہیں۔ تفہیم مدعا کے لیے اہل علم یہ طریقہ اختیار کرلیتے ہیں۔ تاہم ان احکام کو ’’پردے کا حکم‘‘ کے عنوان سے بیان کرنے کے نتیجے میں ایک ایسی غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے جو بڑے فساد کا سبب بن رہی ہے۔

پردے کے لفظ سے جو تصور ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان احکام کا تعلق صرف خواتین سے ہے۔ بلاشبہ ان احکام میں خواتین کو مخاطب کرکے کئی ہدایات دی گئی ہیں، مگر قرآن مجید بالکل واضح ہے کہ یہ احکام عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی دیے گئے ہیں۔ بلکہ یہ احکام شروع ہی مردوں کے ذکر سے ہوتے ہیں اور انہیں پہلا حکم یہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، (النور 30:24)۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں پردے کے حوالے سے ہمیشہ خواتین زیر بحث آتی ہیں۔ کبھی مردوں کو مخاطب کرکے انہیں نہیں بتایا جاتا کہ ﷲ تعالیٰ ان سے کیا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ آیت وہ بنیادی مطالبہ سامنے لے آتی ہے جو مردوں سے کیا گیا ہے اور آج کے معروضی حالات میں اس مطالبے کو مردوں کے سامنے لانے اور اس پر عمل کرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

آج ہم جس دور میں زندہ ہیں اس میں زنا کی طرف لانے والی خواتین وہ مسلمان خواتین نہیں ہیں جو ہمارے ارد گرد پائی جاتی ہیں۔ الحمد للّٰہ آج کے گئے گزرے دور میں بھی جب بہت سی خواتین ﷲ تعالیٰ کے دیے ہوئے احکام کی پابندی نہیں کرتیں تب بھی عام پاکستانی خواتین کا لباس بہت مہذب ہوتا ہے۔ آج کے دور کا اصل فتنہ میڈیا اور انٹرنیٹ پر موجود خواتین کے وہ جلوے ہیں جو مذہب تو کیا تہذیب، اخلاق اور شائستگی کے کسی معیار پر بھی پورے نہیں اترتے۔

ظاہر ہے ان خواتین کو دین کے احکام سنانا ممکن ہے نہ اس کا کوئی فائدہ ہے۔ ان حالات میں مردوں کی یہ عادت کے وہ نگاہیں جھکا کر نہیں رکھتے بیشتر فساد کا سبب بن رہی ہے۔ ایسے میں مردوں کو یہ بتانا لازمی ہے کہ ’’پردے ‘‘ کے احکام کا پہلا حکم انہیں دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ مرد اپنی نگاہیں جھکاکر رکھیں۔ وہ کسی عریاں یا نیم عریاں خاتون، غیر شائستہ منظر، جنسی جذبات بھڑکا دینے والے نظارے کو دیکھ کر لطف اندوز ہونے سے بچیں۔ اگر اتفاقیہ نظر پڑجائے تو فوراً نظر پھیرلیں۔ یہ عادت جب ایک دفعہ پڑجائے گی تو اردگرد موجود کسی خاتون کا غیر شائستہ لباس یا رویہ بھی ایسے انسان کو متاثر نہیں کرسکتا۔ مغرب میں رہنے والے صالح مسلمان اسی طریقے سے برائی سے بچتے ہیں۔ یہ حکم اتنا اہم ہے کہ سب سے پہلے مردوں کو مخاطب کرکے یہ حکم انہیں دیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے زنا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مردوں کی جھکی ہوئی نگاہیں ہیں۔ جب تک یہ نگاہیں اٹھی رہیں گی خواتین کا کوئی پردہ معاشرے سے زنا ختم نہیں کرسکتا۔
By Abu Yahya

2 تبصرے کیے گئے ہیں »

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَنْ تَعْدِلُوا ۚ وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا.

اےاہل ایمان! اللہ کے لیے عدل کے ساتھ گواہی دینے کے لیے تیار ہو جائیے، اگرچہ یہ آپ کے اپنے، یا والدین یا رشتے داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔(جس کے خلاف آپ گواہی دے رہے ہیں) وہ خواہ امیر ہو یا غریب، اللہ ان کی نسبت فوقیت رکھتا ہے۔ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے عدل سے نہ ہٹ جائیے۔ اگر آپ حق کو چھپائیں گےیا منہ موڑیں گے تو پھر یاد رکھیے کہ جو آپ کر رہے ہیں، اللہ اس سے واقف ہے۔ (النسا

May 14th, 2013 | 1:36 pm

Very realistic approach sir,

May 24th, 2013 | 1:13 pm
تبصرہ کریں

تبصرہ :