پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

امتحان میں دعا کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Tuesday Feb 18, 2014


اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جب ہم نے محنت کرلی تو پھر اللہ سے دعا کی کیا ضرورت ہے ۔ جب ہم نے دن رات جاگ کر محنت کی ، سبجیکٹ پر عبور حاصل کرلیا، اس کے ہر ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لے لیا تو پھر دعا نے کیا کرنا ہے۔ دوسری جانب ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم تو دعاؤں سے کامیاب ہوجائیں گے۔ اور جب ایسا ہونا ہے تو پھر محنت کی کیا ضرورت ہے۔یہ دراصل دو انتہائیں ہیں۔ حقیقت ان دونوں کے بیچ میں ہے۔
اللہ نے یہ دنیا جس اصول پر بنائی ہے اس میں کچھ کام انسان کے ذمے ہے تو کچھ کام اللہ نے اپنے ذمے لیا ہوا ہے۔ اگر ایک کسان بیج بوئے بغیر فصل کی دعا کرے تو وہ بے وقوف ہے کیونکہ اس نے اپنے حصے کا کام ہی نہیں کیا ۔ اللہ کا مدد کا اظہار جو اس کی محنت سے مشروط تھا وہ نظر نہیں آئے گا۔ دوسری جانب ایک کسان جب بیج بولیتا ہے تو اب بھی دعا کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے اپنے حصے کا کام تو کرلیا لیکن بے شمار منفی عوامل اس سے کنٹرول سے باہر ہیں۔مثال کے طور پر بارش ہی نہ ہو تو فصل نہیں ہوگی، کوئی وبا پھیل جائے تو فصل تباہ ہوجائے گی۔ کوئی سیلاب آجائے تو سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔
اسی طرح وہ طلبا ء جو محنت کئے بغیر دعا پر ہی اکتفا کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ انہوں نے اپنے حصے کا کام پورا نہ کرکے کوتاہی کی ہے اور اس شرط کو پورا ہی نہیں کیا جو دعا کے کئے ضروری تھی۔ چنانچہ ان کی دعا ایسی ہی ہے جیسے گاڑی میں فیول ڈالے بغیر اس کو چلانے کی کوشش کرنا یا کسان کا بیج بوئے بنا فصل کی توقع کرنا۔
دوسری جانب وہ طلباء جو محنت کرچکے ہیں ، انہوں نے ابھی کامیابی کی ایک شرط پوری کی ہے۔ اس محنت کے علاوہ بے شمار ناقابل کنٹرول عوامل انکی محنت کو اکارت کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک طالبہ نے بہت اچھی تیاری کرلی ، سب کچھ پریکٹس کرلیا لیکن اس کے باوجود کئی عوامل اس کی محنت پر حاوی آکر اسے ناکامی کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ عین امتحان کے وقت اس کی طبعیت خراب ہوسکتی ہے، اس کے ذہن سے بات نکل سکتی ہے، پرچہ خلاف توقع آسکتا ہے، مارکنگ میں غلطی ہوسکتی ہے، کوئی حادثہ ہوسکتا ہے وغیرہ۔ چنانچہ اللہ سے استدعا کی جاتی ہے کہ اے میرے رب جو میرے بس میں تھا وہ میں نے کرلیا ، اب آپ کا کام ہے کہ مجھے ناقابل کنٹرول عوامل کے اثر سے محفوظ رکھ کر نتیجہ میرے حق میں برآمد کردیجے۔ اسی لئے جب کامیابی ملتی ہے تو ایک بندہ مومن سارا کریڈٹ اللہ کو دےدیتا ہے اور اسکا شکر گذار ہوتا ہے کیونکہ ہماری محنت کا پھل دینے والا وہی ہے مجرد ہماری محنت نہیں۔
اپنے حصے کا کام کئے بنا دعا پر بھروسہ کرنا حماقت ہے اور اپنی محنت پر بھروسہ کرکے دعا سے گریز کرنا تکبر۔
پروفیسر محمد عقیل

۱ تبصرہ کیا گیا ہے »

اُستاذ مکرم ۔ میں دو باتیں کہنے کی جسارت کروں گا ۔ پہلی واقعہ ہے اور دوسری میرا خیال
1 ۔ کوئی 55 سال قبل جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ۔ ہماری جماعت کا ایک لڑکا جو پچھلے سال اول آیا تھا ۔ کمرہ امتحان میں جب پرچہ اُسے ملا تو پہلا سوال بہت آسان تھا ۔ اُس نے اُسے حل کرنا شروع کر دیا . کچھ غلط سمجھ آنے کی وجہ سے وہ اس سوال میں پھنس گیا اور اُس کا ایک گھنٹہ ضائع ہو گیا ۔ باقی 5 سوال 2 گھنٹے میں کرنا تھے جو ناممکن تھا ۔ وہ اتنا پریشان ہوا کہ اسے پسینہ آنے لگا ۔ امتحان کے سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اُسے تسلی دی اور تازہ ہوا کیئے اُس کی سیٹ کھڑکی سامنے لگوا دی مگر وہ پریشانی کے باعث صرف 2 مزید سوال کر سکا اور فیل ہو گیا
2 ۔ اگر محنت کے برابر ملتا تو ایک دانا بونے سے ایک پھلی ایک دانے والی حاصل ہوتی ۔ جتنی محنت کرتے اور جب تک کرتے رہتے تو کچھ ملتا رہتا جو کافی نہ ہوتا کیونکہ ہر شخص صرف اپنی محنت کا حاصل پاتا اور اس کے گھر والے بھوکے رہتے ۔ اس طرح یہ دنیا تو چند برسوں میں ہی ختم ہو گئی ہوتی
http://www.theajmals.com

February 18th, 2014 | 11:34 am
تبصرہ کریں

تبصرہ :