پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

عورتوں کو دیکھنا!… ایک مرد دوست کا مشورہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Apr 13, 2014


کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے ناتجربہ کاردوست سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی بے باک بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی خواہش کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے

دوست سے یہ باتیں کرناہی ہوں گی۔
***********
میرے دوست ! یہاں آؤ بات سنو۔ دیکھو میرا مقصد تمھاری اہانت ہے نہ میں ہر وقت تم پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ تم کن نظروں سے اس لڑکی کو دیکھ رہے ہو۔مجھے یہ بھی پتا ہے تم نے ایسا کیوں کیا ۔ لیکن دیکھو کسی عورت کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے۔
اے دوست! بہت سے لوگ تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ عورت کو اپنے لباس کا دھیان رکھنا چاہئے اور ایسا لباس نہیں پہننا چاہئے کہ تم اُسے غلط نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہو جاؤ۔ لیکن پتا ہے میں تمھیں کیا کہوں گا؟
” یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ صبح کیسا لباس پہن کر نکلتی ہے لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُسے انسان سمجھیں چاہے وہ جیسا بھی لباس پہن کر نکلی ہو”۔
تمہارا دل چاہے گا کہ اپنی نگاہوں کے گناہ کا الزام تم اس پر دھر دو کہ اُس نے کیا پہنا ہوا ہے یا نہیں پہنا ہوا۔ لیکن ایسا مت کرنا۔ مظلوم بننے کی کوشش مت کرنا۔ یہ آنکھیں تمہاری ہیں ، تم ان کے معاملے میں مجبور اور بے بس نہیں ہو۔ تمہیں اپنی آنکھوں پر پورا اختیار ہے۔ اس اختیار کو استعمال کرو۔ اپنی آنکھوں کی تربیت کرو ،خودتہذیبی کا ثبوت پیش کرو اور خواتین کی اصل شخصیت کو دیکھنا سیکھو نا کہ اُس کے لباس یا جسم کو۔ یاد رکھو جس لمحے تم نے اس معاملے میں خود کو مجبور اور بے بس تسلیم کر لیا تو تم اس خود فریبی میں مبتلا ہو جاؤ گے کہ تمہارا یہ فعل محض ایک خارجی تحریک کا فطری رد عمل ہے جس پر تمہارا کوئی قابو نہیں۔
دیکھو، یہ ایک مضحکہ خیز جھوٹ ہے۔ تم اتنے بےاختیار نہیں ہو اور جس لڑکی کو تم دیکھ رہے ہو وہ اپنے ظاہری وجود کےعلاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ اصل مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم مردلوگ جس چیز سے محبت کرتے ہیں اسے اپنی ملکیت بنانا چاہتے ہیں۔ اگر تم سچ مچ کسی انسان سے محبت کرتے ہو تو پھر اُسے ’چیز‘ کی حیثیت سےمت سمجھو۔ جس لمحے تم کسی عورت کو “چیز “سمجھنا شروع کر دیتے ہو تو انسانیت کے مقام سے گر جاتے ہو۔
ایک عورت کو کیا پہننا چاہیے یا کیوں پہنتی ہےاس بارے میں تمھیں دو طرح کی رائے ملے گی۔ ایک یہ کہ وہ لباس اس لئے پہنتی ہے تاکہ مرد کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ دوسرا خیال یہ ہےکہ عورت اپنا آپ اس لئے ڈھانپے تاکہ مرداُس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ میرے دوست ، تم ان دونوں سے بہتر سوچ اپناؤ۔ کسی عورت کو بلکہ کسی بھی انسان کو تمھاری توجہ کیلئے لباس کا سہارا کیوں لینا پڑے۔ تم سب انسانوں کو اپنے ساتھی سمجھو اور لباس سے قطع نظر ان کو وہ توجہ دو جس کے وہ مستحق ہیں۔
ہمیں پڑھایا گیا ہے کہ عورت کا ظاہری وجود مرد کو گناہ پر اکساتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر عورت اپنے جسم کی نمائش کرے گی تو مرد بیہودہ حرکتیں کرنے پر مجبور ہو گا۔ ایک بات واضح طور پر سمجھ لو۔ ۔ ۔ ۔ عورت کا جسم بالکل بھی خطرہ نہیں ہے۔ عورت کا جسم تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اگر تم گھٹیا حرکتیں کرتے ہو تو اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ تم گھٹیا حرکتیں کرنا چاہتے ہو۔ سو عورتوں اور مردوں کے درمیان موجود اس خوف کو تقویت نہ دو۔
میرے ہمدم ! عورتوں کے آس پاس مت منڈلاؤ، اُن کے ساتھ رہو۔کیونکہ بہر حال وہ تمہارے ساتھ بلا خوف و خطر رہنا چاہتی ہیں۔ بغیر اس خوف کے کہ اُن کے کردار پر تم انگلی اُٹھاؤ گے، بغیر اس خوف کے کہ تم انہیں شرمندہ کرو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کی تذلیل کرو گے، بغیر اس خوف کہ تم انہیں ’چیز‘ سمجھو گے، بغیر اس خوف کے کہ تم ان کو کوئی دوسری صنف سمجھو گے۔ اور یہ صرف عورتیں ہی نہیں چاہتیں، یہ سب انسان چاہتے ہیں۔ بلکہ تم خود بھی دوسروں سے یہی کچھ چاہتےہو۔
ترمیم و اضافے کے ساتھ بشکریہ:

http://thelalajie.wordpress.com/2013/09/18/seeing-a-woman/

3 تبصرے کیے گئے ہیں »

احمر:

بہت شکریہ جناب

کہ اس معاملے میں آپ نے عورت کو قصووار ٹہرانے کے بجاے، مرد کو احساس دلایا ہے

April 14th, 2014 | 12:51 pm

بہت خوب صورتی سے لکھا گیا ہے اس اہم موضوع پر

April 14th, 2014 | 3:54 pm

پروفیسر صاحب ۔ کبھی میں بھی لڑکا تھا پھر نوجوان تھا پھر جوان تھا ۔ اس سارے عرصہ میں مجھے سمجھ نہ آئی کہ لڑکے اور مرد کسی لڑکی یا عورت کو کیوں گھورتے ہیں

April 14th, 2014 | 6:32 pm
تبصرہ کریں

تبصرہ :