پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

شیطان اور مردو زن

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Thursday Dec 11, 2014

علامہ ابن جوزی چھٹی صدی ہجری کےایک مشہور عالم ، واعظ اور مصنف ہیں۔ آپ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب تلبیس ابلیس میں شیطان کے پھندوں کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح شیطا ن انسان پر حملہ آور ہوتا اور اسے راہ راست سے ہٹا دیتا ہے۔ اسی کتاب میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی جگہ پر ایک بہت عابد اور زاہد شخص رہا کرتا تھا۔ وہ ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتا اور دنیاوی کاموں سے کوئی رغبت نہ رکھتا تھا۔ ایک دن اس کے محلے کا ایک شخص اس کے پا س آیا اور اس سے کہا کہ و ہ اسکی بہن کھانے پینے کا ذمہ لے لے کیونکہ کچھ دنوں کے لئے وہ شہر سے باہر جارہا ہے۔ اس عابد نے حامی بھرلی۔
اب ہوتا یوں کہ ہر روز وہ لڑکی اس زاہد کے معبد میں کھانے کے وقت آتی اور دروازہ کھٹکھٹاتی۔ عابد دروازے کی اوٹ ہی سے اسے وہ کھانا دے دیتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن شیطان نے عابد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ لڑکی اتنی دور سے چل کر آتی ہے ، دس لوگ اسے دیکھتے ہیں ۔ تو اسے تکلیف سے بچانے کے لئے کیوں نہ عابد ہی اس کے گھر پر کھانا پہنچا دیا کرے۔ عابد کو لڑکی سے بڑی ہمدردی محسوس ہوئی اور اس نے یہی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔چنانچہ اب عابد روزانہ اس کے دروازے پر دستک دیتا اور لڑکی اوٹ سے کھانا لے لیتی اور عابد واپس چلا جاتا۔
پھر شیطان نے مزید وسوسہ ڈالا کہ یہ لڑکی اکیلی ہے ، اس کی دلجوئی کے لئے کیوں نہ دروازے پر کھڑے کھڑے اس سے بات کرلی جائے۔ اس طرح اس کا دل بہل جائے گا۔ اس مرتبہ بھی عابد نے عقل کی بجائے وسوسے پر عمل کیا اور وہ لڑکی سے باتیں کرنے لگا۔ جب کچھ دن گذرے تو شیطان نے سجھایا کہ اس طرح باہر کھڑے ہوکر باتیں کرنا تو مناسب نہیں، چار لوگ دیکھتے ہیں۔ بہتر ہے گھر میں بیٹھ کر دلجوئی کرلی جائے، آخر حرج ہی کیا ہے؟ تو عابد اب گھر کے اندر آکر اس لڑکی سے بات چیت میں مشغول ہوگیا۔
پھر شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور عابد بالآخر زنا کر بیٹھا جس کے نتیجے میں ایک بچہ بھی پیدا ہوگیا۔اب شیطان نے اسے سجھایا کہ یہ تونے کیا کردیا، تیری ساری عبادت ریاضت کے باوجود لوگ تجھے مار ڈالیں گے، اگر جان پیاری ہے تو یہ کام تو خود کر۔ پھر کیا تھا، عابد نے لڑکی اور بچے دونوں کو قتل کرکے اسی مکان کے نیچے دفن کردیا۔
کچھ عرصے بعد اس لڑکی کا بھائی واپس آیا اور اس لڑکی بارے میں پوچھا۔ عابد نے کہہ دیا کہ وہ ایک بیماری کا شکار ہوگئی تھی اس لئے وہ مرگئی اور اسے قبرستان میں دفنادیا گیا ہے۔ بھائی روپیٹ کر خاموش ہوگیا کیونکہ اسے عابد پر یقن تھا۔ ایک دن شیطان اس بھائی کے خواب میں آیا اور یہ دکھایا کہ اس کی بہن کی لاش اسی مکان کے نیچے دفن ہے اور اس کابچہ بھی ہے اور یہ کام عابد نے کیا ہے۔ بھائی نے جب کھدائی کی تو ساری حقیقت سامنے آگئی۔ اس نے عابد کو قتل کردیا۔ یوں شیطان نے ایک تیر سے کئی شکار کرلئے۔
یہ ایک حکایت ہے۔ اس کا اطلاق اگر ہم آج اپنی سوسائیٹی میں کریں تو شیطان مختلف ہتھیاروں سے لیس ہوکر عورت اور مرد کو ورغلا رہا ہے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی کریں۔مثال کے طور پر وہ تعلیمی اداروں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ورغلاتا ہے وہ ایک دوسرے کو غلط نگاہ دیکھیں اور بہانا یہی کہ اس سے کیا ہوتا ہےصرف دیکھ ہی تو رہے ہیں۔جب اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایک دوسرے کے دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ ایک نوجوان صنف مخالف کی معمولی تکلیف پر بھی اس سے ہمدردی محسوس کرتا اور اسے دور کرنا اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ حیلہ وہی کہ یہ تو ایک اچھا کام ہے۔
اگلے مرحلے میں بات چیت کا آغاز ہوتا ہے جس کے پیچھے یہی محرک ہے کہ بات چیت میں کیا حرج ہے ، یہ تو ماڈرن دور ہے، زمانے کے ساتھ چلنا چاہئے ورنہ لوگ دقیانوسی سمجھیں گے۔ اس کے بعد فون پر گفتگو، چیٹنگ، ایس ایم ایس کا تبادلہ اور نوبت ملاقاتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ان سب باتوں کے باوجود ضروری نہیں کہ اس کا منطقی انجام زنا ہی ہو۔ ممکن ہے اس اختلاط کا انجام نکاح ہی ہو لیکن بہر حال شیطان ان طلبا کو اچھے کیرئیر، صالح اخلاق، یکسوئی، اور ماں باپ کی فرماںبرداری سے تو بالعموم محروم کر ہی دیتا ہے۔ اس کے برعکس منتشر خیالی، بے مقصدیت، وقت کا ضیاع، اعضاء کا گناہ اور خداکی نافرمانی کے واقعات رونما ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ محفلیں شراب و کباب کی محفلوں تک لے جاتی ہیں تو کبھی رقابتیں قتل وغارت گری کو جنم دیتی ہیں۔
ایک مرتبہ مجھے ایک صاحب نے سوال کیا کہ وہ اپنی کلاس فیلو سے شدید محبت کرتے ہیں اور اسے اظہار کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ یقین دلا یا کہ یہ محبت بالکل سچی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف نکاح کرنا ہے اور کچھ نہیں۔ چنانچہ انہین بات چیت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اپنے دل کا حال محترمہ کو بتاسکیں اور کچھ ان کی سن سکیں۔ میں نے انہیں کہا کہ اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے ، اور وہ یہ کہ اپنے بزرگ عزیز و اقارب ذریعے بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو وہ پڑھ رہی ہے اور میرے لئے یہ فی الوقت ممکن نہیں۔ میں نے کہا تو کیا ہوا نکاح کی عمر تو آپ کی بھی ہے اور اس کی بھی، رشتہ طے کرلیں بعد میں شادی ہوجائے گی۔میں انہیں کہتا رہا کہ آپ کسی معتبر واسطے کے ذریعے بات چیت کریں کیونکہ براہ راست بات کرنے میں کئی فساد برپا ہونے کااندیشہ ہے لیکن وہ نہ مانے اور مجھ سے بات چیت منقطع کردی۔

بہر حال شیطان کے نے ہر مزاج کے لوگوں کے لئے پھندے تیار کررکھے ہیں۔ان سب باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان مجبور محض ہے اور شیطان کو کھلی چھٹی ہے۔ قرآن کے مطابق شیطان کا کام صرف ورغلانا اور وسوسے پیدا کرنا ہے اور بس۔ شیطان کسی کو ہاتھ پکڑ کر مجبور نہیں کرسکتا۔ اسی لئے جو بھی شیطان کے جھانسے میں آگیا تو وہ خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے۔ آخر میں شیطان یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ میں تمہارے عمل سے بری ہوں ۔

کرنے کا کام یہ ہے کہ شیطان کے وسوسوں کو پہچانیں اور اس کے جھانسے سے بچنے کے لئے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کریں اور اپنے رب کی منشا معلوم کریں۔ اگر وہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں درست تو آگے بڑھیں ورنہ اسے شیطان کے منہ پر دے ماریں۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے لیکن صالح صحبت، قرآن کا فہم ، اچھی کتب کا مطالعہ ، اپنی شخصیت کا ادراک ، اپنے نفس پر قابو پانا اور اپنے رب سے مسلسل دعا شیطان کے حملوں کے سے بچنے کے لئے اکسیر ہے۔ اس جنگ میں ابتدا ہی سے ہتھیار ڈال دینا اپنی زندگی شیطان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

۱ تبصرہ کیا گیا ہے »

Maham:

Asalamualiakum!
I liked that you wrote how Satan is in working to allure young men and women into grave sins but I’m afraid to say that the way you approached this topic was not how its supposed to guide us but rather make the reader feel offensive if his or her interaction with opposite gender is sinful or not.
Another thing that I want to mention is, you can’t simply write an article on the 6th AH Riwayat which is technically flawed. As the narration goes: A brother left his sister for few days not for an entire year (and if that was the thing then he should have gave her hand in marriage to someone), in which she interacted with that man and then that interaction grew into attraction and the attraction led to Zina and that Zina led to the birth of the child (7 -9 month period) and that eventually led to the murder of both mother and child. Secondly, applying obselete logics to new era won’t be helpful.
Finally, Islam and its rulings comes from Al Quran NOT from narrations of past or the tales of our times.
Say, “Come, I will recite what your Lord has prohibited to you. [He commands] that you not associate anything with Him, and to parents, good treatment, and do not kill your children out of poverty; We will provide for you and them. And do not approach immoralities – what is apparent of them and what is concealed. And do not kill the soul which Allah has forbidden [to be killed] except by [legal] right. This has He instructed you that you may use reason.”
-Al Quran 6:151
Anyone who is the true follower of Islam will NEVER come near any decency whether it is apparent or concealed. And if the believer is not going near indecency then Zina is out of question!
Secondly, those who say that they fell in love with opposite gender (especially my generation due to their teenage drama) are HUGELY mistaken because what’s before marriage can either be attraction or strong respect for the significant other, that may either lead to Zina or maybe Nikah respectively.
Love is only between well-defined relationships such as the love of our parents or siblings or love between spouses.
“And among His signs is that He created mates for you from yourselves that you may find comfort and repose in them, and He put between you love and compassion; most surely there are signs in this for a people who reflect.”
-Al Quran 30:21
The above ayat is very important one to mention to our generation because they literally don’t reflect upon this sign of Allah! And anyone who is going through hormonal changes (saying they fell in love with the person of opposite gender) should be taught and explained these ayat rather those commonly used riwayat because Words of Allah are most important!
In conclusion, the believers know that:
“And the believers, men and women, are protecting friends one of another; they enjoin the right and forbid the wrong, and they establish worship and they pay the poor-due, and they obey Allah and His messenger. As for these, Allah will have mercy on them. Lo! Allah is Mighty, Wise.”
-Al Quran 9:71
Allah Himself called believers men and women as protecting friends for goodness and then how come even the thought of having Zina can come to their mind? And if it does then they need Tazkiyah of their Nafs and only after cleaning themselves of the filth of this world, they should interact with opposite gender with lowered gaze (by that I mean purified vision).

Apologies if in any way you find my opinion flawed :)
I’m just a student of Al Quran with very limited knowledge!
Allah Hafiz!

January 3rd, 2015 | 3:07 pm
تبصرہ کریں

تبصرہ :