پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

فراق اور وصال

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Wednesday Dec 3, 2014

سردیوں کی شام ہے۔ باغ میں پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے ہیں۔آسمان پر عجب رنگوں کی مصوری پھیلی ہوئی ہے، اردگرد سبز پتے اپنے حسن کی رنگینی بکھیر رہے ہیں، سرد ہوا کی سرسراہٹ بدن میں عجب سی سنسنی پیدا کررہی ہے۔لیکن وہ ماحول سے لاتعلق ہوکر چپ چاپ کھڑا ہے گم سم ، مایوس ، افسردہ۔ اس کی آنکھیں کسی کی تلاش میں ہیں۔ وہ کبھی ہاتھ ملتا ہے تو کبھی بے چینی سے ٹہلنے لگ جاتا ہے۔ اس کے چہرے کا اضطراب بتارہا ہے وہ کسی کے فراق میں کھویا ہوا ہے، کسی کی یاد اسے ستا رہی ہے، کسی کا وجود وہ چھونے کے لئے بے تاب ہے۔
اسی اضطراب میں وہ خود سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ ” آخر وہ کب مجھے ملے گا، وہ کب تک مجھ سے دور رہے گا۔ اب بہت ہوچکا ، میں اور فراق برداشت نہیں کرسکتا، میر ے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، میری آنکھیں اس کے انتظا ر میں پتھرا گئیں، میرے پاؤں چلتے چلتے شل ہوگئے، میرے اعصاب درد سے چٹخنے لگے لیکن وہ مجھے نہیں مل رہا، نہ وہ خود میرے پاس آتا ہے اور نہ ہی مجھے بلاتا ہے۔ آہ ! یہ ہجر اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، یہ راتیں اب سانپ بن کر ڈستی ہیں، یہ دن اب کٹتا نہیں، ہر لمحہ صدیو ں پر محیط ہے۔ ”
وہ یہ کہتا رہا کہتا رہا ۔ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ اب رات ہوچلی ہے اور باغ سے سب لوگ جاچکے۔ وہ یونہی کھڑا رہا کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ دور اسے کچھ عجیب و غریب آوازیں آنے لگیں ۔ اسے تجسس ہوا کہ یہ کون ہے جو اس ویرانے میں موجود ہے۔ وہ آگے بڑھا تو دیکھا کہ چوکیدار بیٹھا ہے اور اس کے قدموں میں اس کا پالتو کتا لوٹیاں لگا رہا ہے۔کتا جب بھی مالک کے قدموں میں بیٹھنے کی کوشش کرتا ، مالک اسے لکڑی مار کر دور بھگا دیتا۔ کتا کچھ دیر کے لئے دور چلا جاتا اور بعد میں پھر اس کے قدموں میں جگہ پانے کی کوشش کرتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ بہت دیر تک اس کتے کی وفاداری دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ مالک نے اس کتے کو بلایا اور گود میں بٹھا کر اسے پیار کرنے لگا۔
اس نے آسمان کی جانب نگاہ ڈالی۔ وہاں رات کے اندھیرے کا راج تھا لیکن اس کے من میں سورج طلوع ہوچکا تھا۔ اس کا اضطراب ختم ہوگیا اور اس کے سوالوں کا جواب مل گیا۔ اسے بھی اپنے مالک کے قدموں میں لوٹتے رہنا تھا ، ناک رگڑتے رہنی تھی، اپنا وجود فنا کردینا تھا، اپنی میں کو ختم کرنا تھا، اس کی پرحکمت لاٹھیاں جھیلنی تھیں۔اسے یہ سبق سمجھ آگیا تھا کہ مالک کا قرب اس کی چاہت پر نہیں بلکہ رب کی چاہت پر منحصر ہے۔ اس کام کام صرف تسلیم و رضا ہے، مطالبہ و احتجاج نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل

تبصرہ کریں

تبصرہ :