پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

اے بادلو یہ کہنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Mar 29, 2015

اے بادلو! یہ کہنا ،یہ زندگی حسیں تھی جب تو تھا اس میں شامل ۔ ہر رات ملاقات تھی، ہر دن میں تری یاد تھی، پھر دھوپ میں برسات تھی، ہر شام ہی کیا بات تھی۔ وہ بے خودی میں رقص کرنا،وہ کانٹوں پہ چل کے ہنسنا، لذت سے دم اٹکنا، ہر چاپ پہ کھٹکنا۔ وہ چلتے چلتے رکنا، وہ رک کے پھر سے
چلنا۔

اے بادلو! یہ کہنا نہ جانے کیا ہوا ہے اب، تو نے مجھے چھوڑدیا۔ اپنی محفل سے نکال دیا ۔ آج میں اپنے ہی گھر میں بھٹک رہا ہوں کہ میرا ہادی ہی روٹھ گیا۔ آج میں بھیڑ میں تنہا ہوں کہ میرا ساتھی ہی چھوٹ گیا۔آج میرے دن بھی تاریک کہ میرا نور اب نہیں ہے،آج میں چاہتوں میں پیاسا کہ مرے پاس رب نہیں ہے۔
اے بادلو! اس سے کہنا دل بہت اداس ہے،اندر نہ کوئی آس ہے۔ ان محفلوں میں اب جی نہیں لگتا، یہ پیاس اب نہیں بجھتی،ہے جینا بہت مشکل اب ، یہ ہچکیاں اب نہیں رکتیں۔
اے بادلو یہ اکہنا! مری معصیت کا دریا، مرے جرم کا سمندر، مری لغزشوں کے جھرنے ، ہیں بہت ہی زیادہ لیکن، تری شفقتوں کے بادل، وہ نرمی و محبت، وہ مہربان الفت، وہ پیار اور محبت ، بے انتہا ہیں اے رب۔
اے بادلو!یہ کہنا دل منتظر ہے تیرا ، اب کچھ نہیں ہے میرا، اب ڈھل چکا سویرا۔بس سانس چل رہی ہے جیسے ہو آخری دم ۔ یہ آنکھ کھل رہی ہے کہ پھریہ کھل نہ پائے، یہ پاؤں اٹھ رہے ہیں کہ اب کبھی نہ اٹھیں۔ یہ ہونٹ ہل رہے ہیں کہ اب خموش ہولیں۔

پروفیسر محمد عقیل

تبصرہ کریں

تبصرہ :