پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Wednesday Aug 26, 2015

مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی
کسی بھی نارمل انسان کی زندگی میں یہ ممکن نہیں کہ کسی سی اس کا تنازعہ نہ ہو۔ ہر انسان کی طبیعت ، ، پسند نا پسند اور فطرت مختلف ہو نے کی وجہ سے زندگی میں ایسے بے شمار مرحلے آتے ہیں جب اس کا کسی نا کسی سے اختلافِ رائے ہو جاتا ہے۔ خواہ یہ اختلافِ رائے سیاسی اکھاڑے میں ہو، مذہبی مناظرے میں ہو، دوستوں کی محفل میں ہو یا خانگی زندگی میں ہو۔
جب کبھی تنازعہ پیش آئے تو ہمیشہ لوگ کہتے ہیں کہ “اُس نے میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی” دونوں فریقین یہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس نے دوسرے کی بات سمجھنے کی کتنی کوشش کی۔ ہماری ساری زندگی اپنی بات منوانے کے چکر میں گذر جاتی ہے۔ ہم کسی اور کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ذرا سو چیے اللہ نے ہمیں دو کان اور ایک زبان کیوں دی ہے۔زیادہ سننے اور کم بولنے کے لیے۔کسی کی بات نا سننے اور نا ماننے کے حوالے سےہمارے رویے کے کئی عوامل ہو سکتے ہیں مثلاً :
1. ذاتی عناد
2. انا
3. کم علمی
ذاتی عناد جب کسی جھگڑے کی بنیاد بنتا ہے تو ہم اپنی دشمنی کی وجہ سے کسی کی کوئی بات ماننے کے لیے اس لیے تیار نہیں ہوتے کیوں کہ وہ “ہمارے دشمن” نے کی ہو تی ہے۔یہاں ایک نفسیاتی رکاوٹ حائل ہو جاتی ہے جو ہمیں عقلیت پر مبنی فیصلے نہیں کرنے دیتی۔ تنازعہ کے حل میں حائل ایک اور رکاوٹ ہماری انا ہوتی ہے۔ہمارا نفس ہمیں اکساتا ہے کہ کسی کی بات مان لینے میں ہماری سبکی ہو گی ۔ لوگ کیا کہیں گے کہ میں نے ان کی بات مان لی۔ میرا سر جھک جائے گا۔اور ہماری انا خود ہماری راہ میں آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسی مسٔلے کے حل میں رکاوٹ کی ایک تیسری بڑی وجہ کم علمی ہے۔ ہمیں اکثر بات پوری طرح پتہ نہیں ہوتی اور ہم اپنی کم معلومات پر ہی کسی چیز، واقعہ یا شخص کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں ؛ اور یہ رائے کم معلومات کی بنا پر صحیح نہیں ہوتی مگر ہم اُسے درست سمجھ کر اس کے دِفع میں اپنی ساری توانائی صرف کرتے ہیں۔
ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ہماری بات مانیں، ہماری بات سنیں، ہمارے طریقے پر چلیں اور اس طرح ایک سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ میرا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس فریقِ ثانی کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے اور ایک دوسری سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ اس کا طریقہ ہے۔ اور ہر ایک اپنے طریقے کو منوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین پر جذبات غالب رہتے ہیں۔اور جذبات کی اس آگ کو ہمارا نفس ہوا دیتا رہتا ہے۔ اپنی دشمنی کی وجہ سے، اپنی انا کے ہاتھوں سے مجبور اور اپنی کم علمی کی بنا پر ہم کسی تنازعہ کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔
ایسے میں ہمیں ایک ایسے طریقے کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ تو اس کا طریقہ ہوتا ہے نہ میرا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ طریقہ جو ہمیں مسائل کے حل کی طرف لے کر جاتا ہو وہ نہ تو کسی کی خواہشات پر مبنی ہوتا ہو نہ جذبات پر۔ ایسے طریقہ کی بنیاد اصولوں پر ہوتی ہے۔اصول بھی وہ جو time tested ہوں اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں جن اصولوں کی پاسداری کرنے کے لیے کہتا ہے ان کو اگر زمان ومکان کی کسوٹی پر پرکھیں تو یہ اصول کھرے ثابت ہوتے ہیں۔کسی بھی زمانے میں کسی بھی جگہ ، آج سے ایک ہزار سال پہلے مغرب میں یا مشرق میں۔ ان اصولوں میں ایک universality ہے۔ان اصولوں پر مبنی طریقہ ایک بہتر طریقہ ہے۔

مصنف: شمیم مرتضی

تبصرہ کریں

تبصرہ :