پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Wednesday Aug 26, 2015

ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

اسلامی عبادات میں نماز کی ایک منفرد اہمیت ہے۔ ایمانیات اور دیگر عبادات کی اہمیت بھی مسلّم مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ایک عام مسلمان ا یک دن میں شعوری یا لاشعوری طور پر کتنی مرتبہ کلمہ پڑھتا ہے۔ یا یہ کہ فرشتوں کو، رسولوں کو یا آخر ت کو کتنی مرتبہ یاد کرتا ہے۔ اسی طرح عبادات کی مثال لے لیں۔

روزہ سال میں ایک مرتبہ ایک مہینہ کے لیے فرض ہے۔ زکوٰۃ صاحبِ نصاب پر فرض ہے ہر ایک مسلمان پر نہیں۔ حج کی فرضیت بھی صاحبِ استطاعت کے لیے ہے۔ یوں دین کا ایک بڑا حصہ ہماری روز مرّہ زندگی سے نکل جاتا ہے۔ اس طرح یہ تمام دینی فرائض عام مسلمان کے شعور کا با قاعدہ حصہ نہیں بن پاتے ما سوائے ان لوگوں کے جو ان باتوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔

اس کے بر عکس نماز ایک ایسی عبادت ہے جو ایک مسلمان کو اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہو نے دیتی۔ ایک دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز، محلہ اور گلی کوچوں میں مسجد کا وجود، اور نماز کے مقررہ اوقات میں لوگوں کا مسجد کا رُخ کرنا ، ایسے مناظر ہیں جو اسلامی معاشرے میں اللہ کی موجودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ مناظر ایک عام بے نمازی کو بھی یہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔ اور یوں اللہ کے وجود کا احساس ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔ نماز سے تعلق کی بنیاد پر معاشرہ میں لوگوں کے کئی گروپ بن جاتے ہیں۔

اوّل تو وہ لوگ ہیں جن کے دل مسجد میں ا َٹکے ہوتے ہیں۔ اللہ کی یاد ایسے لوگوں کے رَگ و پَے میں دوڑتی ہے۔ بڑی سعادت ہے ایسے لوگوں کے لیے۔ یہ اُٹھتے بیٹھتے، جُھکے ہوئے اور کروٹوں کے بَل اللہ کو یاد رکھتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو فقط روٹین میں نماز ادا کرتے ہیں مگر اِن کا بھی ایک تعلق اللہ سے جُڑا ہوا تو ہوتا ہی ہے۔ پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو نماز تو نہیں ادا کرتے مگر اذان کی آواز ان کی سماعت کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتی ہے۔

اگر نماز نہیں ہو تی تو شائد ہم اللہ کو بھول جاتےاور اُسے اپنے حافظہ سے محو کر دیتے، اور اگر اللہ اس کے بدلے میں ہمیں اپنے حا فظہ سے نکال دے تو؟
مصنف: شمیم مرتضی

تبصرہ کریں

تبصرہ :