پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

حق کی پیروی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Tuesday Nov 3, 2015

حق کی پیروی

ہم سب سے حق کی پیروی مطلوب ہے اور بس۔ آج ہم تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے جسمانی جہاد کے مواقع تو معدوم ہی ہیں لیکن اپنی رائے سے رجوع کرنا اور غلطی واضح ہوجانے پر اسے ترک کرنا جہاد سے کم نہیں۔
ہم سب الحمدللہ حق کے پیروکار ہیں کسی شخصیت کے نہیں۔ امام مالک مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے سامنے بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے۔ وہ نبی کریم کی قبر مبارک کی جانب اشارہ کرتے کہتے ” انسانوں میں صرف ان صاحب (نبی کریم) سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ، باقی سب لوگ خطاکار انسان ہیں اور ہم بھی ان جیسے انسا ن ( یعنی سب سے اختلاف ممکن ہے)۔
رجوع کرنے کا معاملہ امام ابو حنیفہ کا بھی یہی تھا جو کہتے تھے کہ میرے قول کے مقابلے میں اگر صحیح حدیث مل جائے تو اسے ترک کردواور حدیث اپنالو۔ اہل علم ہمیشہ سے اپنے علم کا آپریشن کرتے رہے اور حق کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ یہ ان کے مقلدین ہوتے ہیں جو عقیدت کو عقیدہ بناکر اسے عین دین سمجھ لیتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اس تحریر کے قارئین میں سے ہر شخص نے اپنا عقید ہ آباو اجداد کی اندھی تقلید کی بنا پر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اپنا یا ہوگا۔ میں خود ایک بریلوی گھرانے میں پیدا ہوا۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر ہی میں یہ بات واضح ہونے لگ گئی کہ اس عقیدے میں گڑ بڑ ہے۔ پھر اس عقیدے کو جب چھوڑا تو شدید مخالفت کا سامنا تھا لیکن اللہ نے توفیق دی اور استقامت عطا فرمائی۔ اس کے بعد جماعت المسلمین، غامدی صاحب، مولانا وحید الدین ، اہل حدیث، مولانا مودودی ، اشرف علی تھانوی اور دیگر سے استفادہ ضرور کیا لیکن کسی فرد یا جماعت کو سراپا حق نہ سمجھا ۔ ہمیشہ اللہ نے اما م مالک کا یہ جملہ ذہن میں رکھا:
” صرف نبی کریم سے اختلاف ممکن نہیں ( کیونکہ آپ معصوم عن الخطا ہیں) باقی ھم رجالون ونحن رجال۔
ہم سب سے جو مطلوب ہے وہ فکر فراہی، دیوبندیت، بریلویت ، تصوف اور بزرگان دین کا دفاع مقصود نہیں۔ ہم سب سے اس حق کا دفاع مقصود ہے جسے ہم نیک نیتی سے حق سمجھتے ہیں۔ اسی پر ہم قیامت کے دن مسئول ہونگے۔ چنانچہ ہمیں لوگوں اور مکاتب فکر کے دفاع کی بجائے حق کا دفاع کرنا چاہیے خواہ وہ کسی بھی شکل میں اور کسی کی بھی طرف سے ہو۔
اپنے نظریے کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد اسے ترک کرنا ایسا ہی ہے جیسے اپنے جسم سے کسی کینسر زدہ حصے کو الگ کرنا۔ جس طرح اس متاثرہ حصے کو الگ نہ کیا جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے، ایسے ہی اگر غلط عقائد کو غلطی واضح ہوجانے کے بعد تعصب ، تنگ نظری، ضد ، ہٹ دھرمی، مفاد پرستی یا انا کی باعث الگ نہ کرنے پر روحانی موت ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد بندہ کتنا ہی علامہ کیوں نہ بن جائے ، اندر سے اس کا روحانی وجود سڑنے کے عمل سے گذررہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ خداکی نظر میں مرجاتا ہے لیکن اسے اس کا پتا تک نہیں چلتا۔
پروفیسر محمد عقیل

تبصرہ کریں

تبصرہ :