پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

شیطان کا طریقہ واردات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Nov 29, 2015

شیطان کا طریقہ واردات
ہمارے مذہبی لٹریچر میں شیطان پر کافی بحثیں کی گئی ہیں کہ وہ ازلی ہے یا ابدی، فرشتہ ہے یا جن،شکل و صورت کیسی ہے، رہتا کہاں ہے، کھاتا پیتا کیا ہے وغیرہ۔ لیکن قرآن نے شیطان کے ان پہلووں کی بجائے اس بات پر فوکس کیا ہے کہ وہ کس طرح انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ شیطان نے اس کا سب سے بڑا ہتھیار وسوسہ انگیزی ہی کو قراردیا ہے۔
یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی زور نہیں اور وہ صرف وسوسہ انگیزی کے ذریعے ہی انسان کو اکسا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح انسان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، اسے کس طرح ہمارے خِیالات کا علم ہوتا ہے، اسے کیسے پتا چلتا ہے کہ ہمارا کمزور پہلو کیا ہے اور ہم کس طرح اس کی وسوسہ انگیزی کے فریب میں آجاتے ہیں؟
شیطان کی وسوسہ انگیزی کو ہم کسی حد تک ٹیلی پیتھی سے مماثلت دے سکتے ہیں۔ گوکہ یہ علم ابھی باقاعدہ سائنس تو نہیں بن پایا لیکن شیطان کی وسوسہ انگیز ی کو سمجھنے کے لئے بہترین مثال ہے۔ ٹیلی پیتھی میں ایک شخص بغیر کسی ٹیلی فون، موبائل ، ای میل یا کسی اور بات چیت کےذریعے کے کسی دوسرے شخص کے ذہن کے خیالات جان سکتا اور اپنے خیالات اس کے ذہن میں ڈال سکتا ہے۔
مثال کے طورپر احمد جو ٹیلی پیتھی کا ماہر ہے وہ اکرم کے خیالات پڑھنا چاہتا ہے۔ احمد کراچی اور اکرم حیدرآبا د میں ہے۔ احمد اپنے ذہن میں اکرم کا تصور لاتا اور اکرم کے دماغ میں گھس کر اس کے خیالات پڑھ لیتا ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے۔ احمد چاہے تو اکرم کے خیالات میں اپنے خیالات بھی ملا سکتا اور اسےکسی کام کرنے پر اکساسکتا ہے۔

مثال کے طور پر اکرم اس وقت کوئی فلم کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ احمد اس کے دماغ میں جاکر اس کے خیالات کو پڑھتا ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ وہ اس وقت ہیرو ہیروئین کے متعلق سوچ رہا ہے کہ کس طر ح دنوں نے غریب کی مدد کرکے اسے مشکل سے نکالا۔ ادھراحمد نے ان خیالات میں اپنا وسوسہ بھی ڈال دیا کہ ہیروئین کو دیکھو کتنی خوبصورت ہے۔ اب دماغ کی رو ایک نیک خیال سے بھٹک گئی۔ یہ پہلا مرحلہ ہے ۔ اگر اکرم اس خیال کو جھٹک دے اور اپنے پرانے تصور پر چلاجائے تو احمد ناکام ہوجائے گا۔ لیکن اگر وہ ہیروئین کےخوبصورت چہرے کا تصور کرے گا تو احمد مزید تصورات پیدا کرکے اسے جنسی اشتعال دلا سکتا اور کسی گناہ کی جانب راغب کرسکتا ہے۔
ٹیلی پیتھی ایک مستند علم ہے یا نہیں ، اس سے قطع نظر شیطان کا طریقہ واردات کم و بیش یہی ہوتا ہے۔ وہ اسی طرح دور یا قریب بیٹھ کر انسان کے خیالات کو پڑھتا ہے۔ وہ بار بار جب انسان کے خیالات سے آگاہی حاصل کرتا رہتا ہے تو اسے اس کی شخصیت کے کمزور پہلووں کا علم ہونے لگتا ہے۔ وہ انہیں کمزرو پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے وسوسہ انگیزی کرتا ہے۔جیسے ایک شخص کے خیالات سے علم ہوتا ہے کہ وہ خود کو بہت بڑا عالم سمجھتا ہے ۔ اس شخص کو شیطان اپنی نظر میں بڑا بنانے کے وسوسے ڈالتا ہے۔ نوجوانوں کے ذہن کو جنسی بے راہ روی کا شکار بناتا ہے وغیرہ۔

وسوسے انسانی شیاطین کی جانب سے آئیں یا جناتی شیطانوں کی طرف سے۔ ایک انسان ان کو مکمل طور پر رد کرنے پر قادر ہے۔ ان سے بچنے کا طریقہ بہت آسان ہے۔جونہی ہمیں یہ محسوس ہو کہ شیطان نے وسوسہ انگیزی کی ہے تو ہمیں اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہئے۔ اس پناہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر کی قوتیں یعنی فرشتے ہماری حفاظت پر مامور کردیتے ہیں۔ چنانچہ جب شیطان وسوسے ڈالتا ہے تواللہ سے پناہ مانگنے پر فرشتے شیطان کی چالوں کو ہم پر واضح کردیتے اور ہمارےاندر مزاحمت پیدا کردیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس طرح ان چالوں کو سمجھ کر جواب دیں۔ اس کے علاوہ فرشتے شیطان کی جانب سے پیدا کی گئی منفی سوچوں کے جواب میں سکینت نازل کرتے اور مثبت سوچیں پیدا کرکے ہماری معاونت کرتے ہیں۔ لیکن فرشتوں کا یہ ساتھ انہی کو ملتا ہے جو شیطان کو دھتکار کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ ہم علم حاصل کریں۔ اگر ہمیں صحیح و غلط کی تمیز ہوگی تب ہی ہم شیطانی وسوسوں اور چالوں کو پہچان سکتے ہیں۔ تیسرا قدم یہ کہ ہم عمل بہتر بنائیں۔ ایک شخص جو گناہوں کی زندگی میں ملوث ہو، شیطان کا باآسانی شکار بن جاتا ہے۔ آخری قدم یہ کہ ہم اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے نقش قدم پر چلیں کیونکہ اللہ کے چنے ہوئے بندوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا ۔ اور جب ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو عین ممکن ہے کہ ہم بھی شیطان کی دراندازیوں سے محفوظ رہیں۔
وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ 97؀ۙوَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ 98؀
نیز یہ دعا کرتے رہئے کہ: پروردگار! میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ (سورہ المومنون)

Professor Muhammad Aqil

تبصرہ کریں

تبصرہ :