پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

قدرتی آفات پر غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا تحقیقی مطالعہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Friday Nov 6, 2015

قدرتی آفات پر غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا تحقیقی مطالعہ
پروفیسر محمد عقیل
۲۶ اکتوبر ۲۰۱۵ کے زلزلے کے بعد ملک میں ایک اہم بحث چھڑ گئی ہے کہ یہ زلزلہ عذاب ہے یا تنبیہہ ہے یا محض زمین کی پلیٹوں کی حرکت۔ یوں تو یہ سوال سیلاب، طوفان اور دیگر قدرتی آفات کے لیے بہت اہم ہے لیکن زلزلے کے لیے خاص طور پر اس سوال کی اہمیت ہے۔ قدرتی آفت بالخصوص زلزلہ

عذاب ہے یا تنبیہہ ، یہ جاننا آج کے پڑھے لکھے مسلمان کے لیے بہت ضروری ہے۔
قدرتی آفات کے حوالے سے روایتی نقطہ نظر تو یہی ہے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے اور اس کا بنیادی سبب انسان کے گنا ہ ہیں۔ چنانچہ ہم سب کو توبہ کرکے اللہ کو راضی کرنا چاہیے۔ اس مکتبہ فکر کی بنیاد قرآن میں بیان کردہ عذاب کی متعدد آیات ہیں جن میں کفر ، شرک اور دیگر گناہ کرنے والوں کو عذاب کی نہ صرف دھمکی دی گئی بلکہ ان اقوام کو مختلف آسمانی عذاب کے ذریعے تباہ برباد بھی کردیا گیا ہے۔
قدرتی آفات پر ایک غیر روایتی نقطہ نظر جناب جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے تلامذہ و مقلدین کا ہے۔ ان کے نزدیک قدرتی آفت انسانی گناہوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ محض ایک تنبیہہ ہے۔ ان کے نزدیک گناہوں کی پاداش میں دیے جانے والے عذاب رسولوں کے ساتھ خاص تھے اور نبوت کے خاتمے کے بعد ختم ہوگئے۔ چنانچہ سیلاب، زلزلے ، طوفان اور دیگر آفات کا تعلق گناہوں سے نہیں اوراس قسم کی آفات کو ایک عمومی تنبیہ کے طور پر لینا چاہیے۔
جہاں تک ہماری تحقیق کا تعلق ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنوں نکتہ ہائے نظر دو انتہاؤں پر کھڑے ہیں۔ ایک جانب روایتی نقطہ نظر ہر قدرتی آفت کو خدا کے عذاب سے گردانتا اور اس کا شکار ہونے والے لوگوں کو متعین طور پر گناہ گار ٹہراتا ہے۔ جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ ۲۰۰۵ میں کشمیر میں آنے والے زلزلے کے بعد کشمیریوں کی نام نہاد بدکرداری اور گناہوں کی داستانیں عام کردی گئی تھیں۔ حالانکہ اگر ایسا کچھ تھا بھی تو یہ زلزلے سے پہلے شائع ہونا چاہیے تھا۔ روایتی مذہبی لوگوں کی اس توجیہہ کو جدید تعلیم یافتہ طبقہ آڑے ہاتھو ں لیتا ہے اور اس پر کئی عقلی سوالات وارد کرتا ہے کہ اگر یہ کشمیریوں پر یہ عذاب کا نزول تھا تو اس سے زیادہ بدکرداری تو مغربی ممالک میں ہورہی ہے ، وہاں کیوں عذاب نہیں آتا ۔ اگر سیلاب ایک عذاب تھا تو کیوں اس کا شکار غریب کسان ہوئے اور اس کا اصل سبب یعنی وڈیرے اور جاگیردار محفوظ رہے وغیرہ۔ روایتی مذہبی طبقہ بالعموم اس قسم کے سوالات کا تشفی بخش جواب نہیں دے پاتا۔
روایتی مذہبی طبقے کی غیر تسلی بخش کاکردگی کے نتیجے میں کئی جدت پسند لوگوں نے قدرتی آفات کی مذہبی طور پر توجیہہ کرنے کی کوشش کی ۔ اس میں سب سے زیاد ہ مقبولیت جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے مکتبہ فکر کو ملی۔ اس فکر میں جاوید صاحب نے جہاں اصولی باتیں نقل کیں تو وہیں ان کے شاگردوں نے اس اصول کی مختلف انداز میں وضاحت کی ۔
ہماری تحقیق کے مطابق جہاں ایک جانب روایتی مکتبہ فکر قدرتی آفت کو پیغمبروں کی قوم جیسے عذاب کے طور پر پیش کرتا ہے تو وہیں مکتبہ غامدی اس کے انکار میں ہرقسم گناہ کے عوض سزا کےدروازےبند کردیتا ہے۔ یوں وہ قدرتی آفات جن میں انسان کے لیے کئی تذکیری پہلو نمایاں تھے وہ سب پس پشت چلے جاتے اور ہر آفت کے پیچھے ظاہری اسباب و علل کا وجود ہی نظر آتا اور خدائی مداخلت کا امکان کم و بیش معدوم ہوجاتا ہے۔
یہ کہنا علمی بددیانتی ہوگی کہ مکتبہ غامدی کے کسی فرد نے خدا کو خارج کرنے اور تمام آفات کا بنیادی سبب محض مادی علتوں کو قرار دینے کی کوشش کی ہو۔ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ اس فکر کے کچھ اسکالرز تو بالخصوص اس بات کا اہتمام کرتے ہیں کہ ان آفتوں میں تذکیری پہلو نمایاں ہو اور لوگ خدا کی جانب راغب ہوں۔ لیکن ان کے پڑھنے والے اس احتیاط کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور معاملات اسباب و علل ہی کے تناظر میں دیکھتے او ر الٹے سیدھے نیتجے اخذ کرتے ہیں۔
ذیل میں ہم مکتبہ غامدی کے ان پہلووں کا جائز ہ لے رہے ہیں جن پر ہمارے کچھ اشکالات ہیں۔
1. قدرتی آفات کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب یا ان کے رفقا کا کیا نقطہ نظر ہے؟
غامدی صاحب فرماتے ہیں:
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک)نامور مذہبی سکالر جاوید احمد غامدی نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے عذاب نازل ہونے کا سلسلہ نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تھا ۔ دنیا نیوز کے پراگرام نقطہ نظر میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زلزلے اللہ کی طرف سے گناہوں کا عذاب ہیں ان کی بات قرآن پاک کی رو سے غلط ہے یہ تو اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے۔ اللہ لوگوں کو خواب غفلت سے جگانے کیلئے ایسا کرتا ہے۔موت تو ہرروز آتی ہے لیکن یہ ایک تنبییہ ہوتی ہے ایسی باتوں کا عذاب یا گناہوں سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی چیزیں اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ خود کو اللہ کی ہدایت کے مطابق بنایاجائے اورآنے والے وقت کیلئے اپنی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔زندہ دل قومیں ایسا اہتمام کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سارا انتظام فرشتوں نے نہیں کرنا۔کچھ چیزیں انسانوں کو بھی کرنا ہوتی ہیں۔دنیامیں ہر جگہ آفات آتی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔
ان کے نزدیک خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ایک تنبیہ اور یاددہانی ہے۔ اس کا تعلق انسان کے گناہوں سے نہیں ہے۔
2. کیا قدرتی آفات یا دیگر ذرائع سے عذاب صرف رسولوں کے ساتھ خاص تھا اور اس کا دروازہ بند ہوگیا ہے؟
اس پر مکتبہ غامدی کے اسکالرز کا کم و بیش اجماع ہے کہ عذاب کا سلسلہ رسالت کے ساتھ ہی بند ہوگیا ہے۔ غامدی صاحب بیان کرتے ہیں:
اللہ تعالی کی طرف سے عذاب نازل ہونے کا سلسلہ نبوت ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تھا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ رسالت و نبوت کا سلسلہ بند ہوگیا ۔ چنانچہ جو عذاب پیغمبر وں کی اقوام کے ساتھ خاص تھا وہ بھی ظاہر ہے اب بند ہوگیا ہے۔ البتہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہر قسم کی سزا کا سلسلہ بند ہوچکا ہے اور اب اس دنیا میں انسانوں کو ان کے گناہوں کی سزا دینے کے لیے کوئی تنبیہ نہیں دی جائے گی؟ کیا اب سارے معاملات اسباب و علل کے سپرد کردیے گئے ہیں یا اللہ رسولوں کے بعد بھی انسا نوں کی راہنمائی کرتا اور انہیں اپنی نشانیوں کے ذریعے اپنی جانب راغب کرتا ہے؟ اب ہمیں یہ جائز لینا ہے کہ آیا واقعی ایسا ہے یا نہیں؟
استنباط سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسولوں کی قوم کو ہر لحاظ سے سمجھانے کے بعد انکار کی صورت میں فنا کردیا جاتا تھا۔ نیز ایک جگہ قرآن صراحت کے ساتھ یہ بیان کرتا ہے کہ
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى يَبْعَثَ فِيْٓ اُمِّهَا رَسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِــكِي الْقُرٰٓى اِلَّا وَاَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ 59؀
اور آپ کا پروردگار کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا تاآنکہ کسی مرکزی بستی میں رسول نہ بھیج لے، جو انھیں ہماری آیات پڑھ کر سناتے نیز ہم صرف ایسی بستی کو ہی ہلاک کرتے ہیں جس کے رہنے والے ظالم ہوں ۔( القصص ۵۹:۲۸)
چنانچہ یہاں سے مکتبہ غامدی یہ اخذ کرتا ہے کہ رسول کے بنا عذاب نہیں آسکتا۔ اس کے علاوہ ان کے کچھ عقلی دلائل بھی ہیں جنہیں ان کی سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا قرآن صرف ایک ہی قسم کے عذاب کا ذکر کرتا ہے جس میں رسولوں کی قوم کو مخاطب کیا گیا ہو یا اس کے علاوہ بھی دیگر سزاؤں کا ذکر کرتا ہے؟ کیا قرآن میں یہ بیان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس کے گناہوں پر دنیا میں بھی سزا دے سکتے ہیں ؟ کیا قرآن میں کسی ایسی قوم پر عذاب کا ذکر ہے جس میں کوئی رسول نہ بھیجا گیا ہو اور ا سکا سبب ان کے گناہوں کو بتایا گیا ہو۔یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کا تحقیقی جائزہ لینا بڑا ضروری ہے۔
جب ہم قرآن کا جائز ہ لیتے ہیں تو قرآن جگہ جگہ عذاب کی بات کرتا ہے۔ چونکہ قرآن براہ راست بنی اسماعیل کو مخاطب کرتا ہے اس لیے جونہی عذاب کا ذکر آتا ہے ، اس کا سیاق و سباق اسے کسی نہ کسی اعتبار سے رسولوں کے اتمام حجت والے عذاب سے جوڑ دیتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی تعمیم کے ساتھ عذاب کا ذکر کرنے والی آیات کے ساتھ بھی یہی توجیہ باآسانی کیا جاسکتی ہے کہ عذاب کا سزا کا تعلق بنی اسماعیل یا ماضی قدیم کی کسی اور قوم سے ہے جس میں رسولوں کی بعثت ہوئی ہے۔ البتہ دقت نظر سے دیکھا جائے تو قرآن واضح طور پر چند مقامات پر قوم کی خطاکاریوں کے باعث سزا یا عذاب کا ذکر کرتا ہے ۔ یہ وہ مقامات ہیں جن میں ہماری تحقیق کے مطابق رسولوں کی موجودگی کا دو ر دور تک شائبہ بھی نہیں۔وہ مقامات یہ ہیں:
۱۔ وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨا اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ ١٦٤؁ فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖٓ اَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْۗءِ وَاَخَذْنَا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۢ بَىِٕيْــسٍۢ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ١٦٥؁فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕـيْنَ ١٦٦؁
اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ان میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا : ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ ہم تمہارے پروردگار کے ہاں معذرت کرسکیں اور اس لئے بھی کہ شاید وہ نافرمانی سے پرہیز کریں۔پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو (بالکل ہی) فراموش کر دیا جو انہیں کی جارہی تھی تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور ان لوگوں کو جو ظالم تھے، ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بہت برے عذاب میں پکڑ لیا۔پھر جب وہ سرکشی کرتے ہوئے وہی کام کرتے رہے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے انہیں حکم دیا کہ: ”ذلیل و خوار بندر بن جاؤ”۔ (الاعراف ۷)
یہ بنی اسرائل کی ایک بستی کا ذکر ہے جس میں یہود کو ہفتے والے دن شکار کرنے سے منع کیا گیا تھا ۔ لیکن انہوں نے مچھلیاں پکڑنے کا ایک چور راستہ اختیار کیا۔ اس پر اللہ تعالی نے کسی پیغمبر نہیں بلکہ داعیوں کے ذریعے ان کو پیغام پہنچایا۔ ان کی سرکشی کی صورت میں واضح طور پر فرمایا کہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بہت برے عذاب میں پکڑ لیا۔
یہاں دیکھیں تو کوئی پیغمبر نہیں پھر بھی عذاب کا لفظ قرآن مجید استعمال کررہا ہے اور اس کی وجہ مجرد نافرمانی، فسق یا گناہوں کو قرار دے رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسانی گناہوں کی بنیاد پر کسی قوم کو اسی دنیا میں سزا دی جاسکتی ہے۔ ہاں اس کی نوعیت وہ نہیں ہوتی جو اتمام حجت والے عذاب جیسی ہوتی ہے۔
۲۔ ۔ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّقَدَّرْنَا فِيْهَا السَّيْرَ سِيْرُوْا فِيْهَا لَيَالِيَ وَاَيَّامًا اٰمِنِيْنَ 18؀فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ وَمَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَــزَّقٍ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 19؀
ہم نے ان کی بستی اور اس بستی کے درمیان جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، کھلے راستہ پر کئی بستیاں آباد کردی تھیں اور ان میں چلنے کی منزلیں مقرر کردی تھیں کہ ان میں رات دن بلاخوف و خطر امن سے سفر کرو ۔مگر وہ کہنے لگے: ”اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر کی مسافتیں دور دور کردے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ چنانچہ ہم نے انھیں افسانے بنا دیا اور تتر بتر کر ڈالا۔ اس میں یقینا ہر صابر و شاکر کے لئے کئی نشانیاں ہیں ۔(سبا)
یہ بستی قوم سبا کی بستی ہے۔ ان آیات کو پڑھ لیں اور اس کے سیاق و سباق کو پڑھ لیں یہاں کہیں بھی کسی رسول کا ذکر نہیں اس کے باوجود اس قوم کی تباہی کا ذکر ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے البتہ ان آیات کو سورہ نحل کی آیات سے جوڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قوم سبا میں جو رسول بھیجا گیا تھا اس کا ذکر سوہ نحل میں ہے۔ لیکن وہاں نہ قوم سبا کا کوئی ذکر موجود ہے نہ کسی ایسے رسول کا جو قوم سبا کی جانب بھجا گیا ہو۔ اور نہ ہی اس سورۃ کے سیاق و سباق سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔اس کی تفصیل ان آیات کی ذیل میں ان کی تفسیر تدبر قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ چنانچہ قوم سبا کی تباہی قرآن میں کسی رسول کی بعثت کے بغیر ہی بیان ہوئی ہے۔
۳۔ سورہ القلم میں واضح طور پر باغ والو ں کا قصہ بیان ہوا ہے:
ہم نے ان لوگوں کی اسی طرح آزمائش کی ہے جس طرح باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔ جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ صبح ہوتے ہوتے ہم اس کا میوہ توڑ لیں گے (۱۷)اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔ (۱۸) سو وہ ابھی سو ہی رہے تھے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے (راتوں رات) اس پر ایک آفت پھر گئی (۱۹) تو وہ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی (۲۰) جب صبح ہوئی تو وہ لوگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے (۲۱) اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو (۲۲) تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے (۲۳) آج یہاں تمہارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے (۲۴) اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جا پہنچے (گویا کھیتی پر) قادر ہیں (۲۵) جب باغ کو دیکھا تو (ویران) کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول گئے ہیں (۲۶) نہیں بلکہ ہم (برگشتہ نصیب) بے نصیب ہیں (۲۷) ایک جو اُن میں فرزانہ تھا بولا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ (۲۸) (تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بے شک ہم ہی قصوروار تھے (۲۹) پھر لگے ایک دوسرے کو رو در رو ملامت کرنے (۳۰) کہنے لگے ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے (۳۱) امید ہے کہ ہمارا پروردگار اس کے بدلے میں ہمیں اس سے بہتر باغ عنایت کرے ہم اپنے پروردگار کی طرف سے رجوع لاتے ہیں (۳۲) (دیکھو) عذاب یوں ہوتا ہے۔ اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کاش! یہ لوگ جانتے ہوتے (۳۳) (سورہ القلم)
یہاں واضح طور پر اللہ نے گناہوں کی پاداش میں ان لوگوں کے باغ کو ایک آفت کے ذریعے تباہ کرنے کی تمثیل بیان کی ہے اور اسے سزا یا عذاب سے گردانا ہے۔
۴۔ سورہ روم کی یہ آیت ہے:
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 41؀
بحر و بر میں فساد پھیل گیا ہے جس کی وجہ لوگوں کے اپنے کمائے ہوئے اعمال ہیں ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کچھ اعمال کا مزا چکھا دے۔ شاید وہ ایسے کاموں سے باز آجائیں۔ (الروم ۴۱:۳۰)
اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودی لکھتے ہیں:
یہ پھر اس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ “لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی” سے مراد وہ فسق و فجور اور ظلم و جور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کردینے سے لازما انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے۔ “شاید کہ وہ باز آئیں” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی آخرت کی سزا سے پہلے اس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں، بلکہ بعض اعمال کا برا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اس عقیدہ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء علیہم السلام ہمیشہ سے انسان کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، جس کو اختیار کرنے کے سوا انسانی اعمال کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے ۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، التوبہ، آیت 126۔ الرعد آیت 31۔ السجدہ 21۔ الطور 47۔(تفہیم القرآن ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 64)
بہرحال ، یہ وہ واضح مقامات ہیں جہاں قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ اللہ چاہیں تو رسول کے بغیر بھی سزا نازل کرسکتے اور کسی قوم کو جزوی یا کلی طور پر تباہ کرسکتے ہیں۔ یہ کہنا کہ سزا کا دروازہ نبوت کے خاتمے کے ساتھ ہی بند ہوگیا مناسب نہیں بلکہ ایک غلط تصور ہے۔ البتہ یہ سزا مکمل طور پر گناہوں کی پاداش میں نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے پوری قوم تباہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ بلکہ اس میں بے شمار حکمتوں میں سے ایک حکمت متنبہ کرنا بھی ہوتا ہے۔

3. غامدی صاحب کے اس نقطہ نظر کی کیا بنیا دہے اور اس کی کیا وجوہات ہیں؟
غامدی صاحب اور ان ہم خیال مفکرین کی اس نقطہ نظر کو اپنانے کی دو تین بڑی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ قرآن میں رسولوں کے مخاطبین کو ہر لحاظ سے سمجھانے کے بعد اللہ تعالی خود یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ اب ان تلوں میں تیل نہیں۔ چنانچہ رسول جب عذاب کی دھمکی دیتے اور اس کے نزول کا عندیہ دیتے ہیں تو اس وقت ان کے کلام کے پیچھے خدا کا علم اور خدا کی وحی موجود ہوتی ہے۔اس عذاب پر جیسے یہ آیت موجود ہے:
فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا ۚوَمِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ 40؀
ان میں سے ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی پاداش میں دھر لیا۔ پھر ان ہلاک ہونے والوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جن پر ہم نے پتھراؤ کیا اور کچھ ایسے جنہیں زبردست چیخ نے آ لیا اور کچھ ایسے جنہیں ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کچھ ایسے جنہیں ہم نے غرق کردیا۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ یہ لوگ خود ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے۔ (العنکبوت ۲۹ :۴۰)۔
ان آیات کا جب غلط اطلاق زلزلہ و سیلاب سے متاثرین لوگوں پر کیا جاتا ہے تو ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک صاحب اس اطلاق پر یہ احتجاج کرتے اور اس پر عقلی اعتراضات پیش کرتے ہیں:
میں پاکستان کے ان دو کروڑ سیلاب زدگان کے ایک نمائندے کی حیثیت میں آپ کو مخاطب کرکے یہ خط لکھ رہا ہوں۔اللہ کے واسطے میرے اس خط کو شائع کردیں۔ میں ان مظلوموں کا نمائندہ ہوں جن پر ایک طرف قدرتی آفت ٹوٹی جس سے ان کے گھر، فصلیں اور زندگیاں اجڑ گئیں اور دوسری طرف بعض نفسیاتی مریض ان کے زخموں پر یہ کہہ کر نمک پاشی کررہے ہیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔یہ نفسیاتی مریض اپنی بیمار ذہنیت میں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس سیلاب سے بیشتر نقصان غریبوں کا ہوا ہے۔ کاش اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگوں کا گھر اجڑے، ان کے پیارے مارے جائیں، ان کا مال برباد ہوجائے اور پھر ہم بھی ان سے یہ کہیں کہ یہ تم پر خدا کا عذاب نازل ہوا ہے۔اگر یہ عذاب ہے تو کمزوروں پر کیوں آرہا ہے، وڈیروں اور جاگیرداروں، بے حس حکمرانوں، خود کش حملہ آوروں اوران کے حمایتیوں، امریکہ اور یہودیوں پر کیوں نہیں آرہا۔ معصوم لوگ اس کی زد میں کیوں ہیں؟اللہ ہمیں ان ظالم لوگوں سے بھی نجات دے اور ان نفسیاتی مریضوں سے بھی نجات عطا کرے اور ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔عبدالستار ۔
اس قسم کے عقلی اعتراضات اور بھی اٹھائے جاتے ہیں ۔ جس کی بنا پر مذہبی اسکالرز اس کا جواب اپنے اپنے فہم کے تحت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ مکتبہ غامدی میں عذاب کو رسولوں کے مخاطبین تک محدود رکھا جاتا اور قدرتی آفات کو فتنہ، آزمائش، چیلنج یا تنبیہہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
4. غامدی صاحب کے اس نقطہ نظر کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے؟
غامدی صاحب کا یہ کہنا کہ قرآن میں جس عذاب کا ذکر ہے وہ رسولوں کے مخاطبین تک خاص ہے بہت حد تک درست ہے ۔ لیکن ان کا یہ کہنا کہ اس قسم کی قدرتی آفات کا گناہوں سے کوئی تعلق نہیں یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا کہ اللہ تعالی نے یوم سبت والوں کو ان کے گناہوں کی پاداش میں تباہ کیا، قوم سبا کا بھی ایسا ہی ذکر ہے ۔
ایسا کرنے کی صورت میں لوگ ہر چیز کو اسباب و علل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالی محض ایک ایسی ہستی بن کر رہ جاتے ہیں جنہوں نے دنیا بنادی اور اب اس میں مداخلت نہیں کرسکتے۔
پھر خدا میں اور ہندووں کے برہما میں کوئی فرق نہیں رہتا۔پھر پرویز صاحب کا تصور خدا سامنے آتا ہے جس میں خدا دنیا بنانے کے بعد معاملات اسباب و علل کے حوالے کرکے الگ ہوگیا ہے۔ ہمیں علم ہے کہ غامدی صاحب کا تصور خدا یہ نہیں ہے لیکن جب وہ قدرتی آفت کے اسباب میں گناہوں کو ایک سبب کے طور پر لینے سے انکار کردیتے ہیں تو کچھ ایسے ہی خدا کی تصویر سامنے آتی ہے جو انسانوں کو گناہ کے باوجود کچھ نہیں کہتا یا کہہ نہیں سکتا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ قدرتی آفت محض گناہوں کی بنا پر آتی ہے لیکن بہرحال گناہوں کے سبب کو خارج از کم امکان نہیں کیا جاسکتا۔
غامدی صاحب اور ان کے نقطہ نظر کے حامی اس قسم کی آفات کو تنبیہہ ، فتنہ ، آزمائش یا اسی طرح کی کسی اصطلاح سے تو موسوم کرتے ہیں تاکہ ان عقلی اعتراضات کا جواب دیا جاسکے جو عذاب کے تصور پر وارد ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس حکمت پر کوئی اعتراض نہیں لیکن تنبیہہ ، آزمائش یا چیلنج وغیرہ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے کم و بیش وہ سارے عقلی اعتراضات وارد ہوتے ہیں جو عذاب پر ہوسکتے ہیں۔عقلی اعتراض کرنے والے یہی اعتراض آزمائش کے تصور پر بھی کرتے ہیں کہ یہ کیسی آزمائش ہے کہ اجڑے ہوئے غریب کو مزید اجاڑ دیا جائے، اس کے کچے گھر کو تباہ کردیا جائے اور وڈیروں کے محلات کو محفوظ رکھا جائے۔اوپر عبدالستار صاحب کے بیان کردہ اعتراضات جو انہوں نے عذاب پر کیے تھے وہ سارے کے سارے آزمائش یا فتنہ کے تصور پر بھی وارد ہوجاتے ہیں۔ ان کا اقتباس بریکٹ میں ترامیم کے ساتھ حاضر خدمت ہے:
یہ نفسیاتی مریض اپنی بیمار ذہنیت میں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس سیلاب سے بیشتر نقصان غریبوں کا ہوا ہے۔ کاش اس طرح کی باتیں کرنے والے لوگوں کا گھر اجڑے، ان کے پیارے مارے جائیں، ان کا مال برباد ہوجائے اور پھر ہم بھی ان سے یہ کہیں کہ یہ تم پر خدا کی آزمائش ہے۔اگر یہ فتنہ ہے تو کمزوروں پر کیوں آرہا ہے، وڈیروں اور جاگیرداروں، بے حس حکمرانوں، خود کش حملہ آوروں اوران کے حمایتیوں، امریکہ اور یہودیوں پر کیوں نہیں آرہا۔ معصوم لوگ اس کی زد میں کیوں ہیں؟اللہ ہمیں ان ظالم لوگوں سے بھی نجات دے اور ان نفسیاتی مریضوں سے بھی نجات عطا کرے اور ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مکتبہ غامدی کا یہ کہنا کہ قدرتی آفات کا سبب انسانی گناہ نہیں ہوتے درست معلوم نہیں ہوتا۔
5. قدرتی آفات کی حقیقی توجیہہ کیا ہے؟
غامدی صاحب کا یہ نتیجہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ قوم کو فنا کردیتے والے عذاب کے لیے رسولوں کی بعثت لازمی ہے۔ ان کی بات بھی تسلیم کی جاسکتی ہے کہ قدرتی آفات کو خدا کا عذاب نہیں بلکہ تنبیہہ یا آزمائش کے طور پیش کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ قدرتی آفات محض اسباب و علل کے تحت وقوع پذیر ہوتیں اور ان کے اسباب میں انسانی گناہوں کی شمولیت کا امکان خارج از امکان ہے۔
اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ قدرتی آفات اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں۔ چنانچہ زلزلے زیر زمین پلیٹوں کی حرکت کی بنا پر پیدا ہوتے، سیلاب کی کثرت جنگلات کی رکاوٹ نہ ہونے اور گلوبل وارمنگ کی بنیاد پر پیدا ہوتی، سمندری طوفان ہوا کے پریشر میں عدم توازن کی بنا پر وجود میں آتے اور بارشوں کی کثرت موسموں کے تغیر سے پیدا ہوتی ہے۔
عام طور پر اللہ تعالی اسباب و علل کے تحت ہی معاملہ کرتے ہیں لیکن ہم جس خدا کو جانتے اور جس رب کو مانتے ہیں وہ ان اسباب کا پابند نہیں۔ وہ جب چاہے بغیر سبب زلزلوں کو پیدا کرسکتا اور جب چاہے خطرنا ک فالٹ لائن پر بھی زلزلے کو وقوع پذیر ہونے سے روک سکتا ہے۔ وہ جب چاہیں سمندری طوفان کو چند ساعتوں میں پیدا کرسکتےاور جب چاہیں ہولناک طوفان کو چشم زدن میں معمولی موجوں میں تبدیل کرسکتے ہیں ۔
بہرحال کوئی بھی قدرتی آفت خواہ وہ اسباب وعلل کے تحت آئے یا اللہ کی براہ راست مداخلت کے ذریعے وجود میں آئے، دونوں صورتوں میں اسے خدا کی اجازت کی ضرورت ہے جسے قرآن اذن الٰہی سے تعبیر کرتا ہے۔ اللہ کی اجازت کا مطلب ہے کہ ہر قسم کی آفت اللہ کی مشیت کے تحت اسی کے حکم سے وجود میں آئی ہے۔اس سے یہ علم ہوا کہ کسی بھی آفت کے پیچھے قدرت کے اندھے قوانین نہیں بلکہ اللہ کی حکمت اور اذن کارفرما ہے۔
اللہ کو ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن اس کی صفات کے اظہار کو ضرور دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہریالی، بارش اور اچھا موسم خدا کی رحمت کا اظہار ہیں تو قدرتی آفات خدا کی قدرت کا مظہر ہیں۔کسی قدرتی آفت کو تنبیہہ کہا جائے یا فتنہ و آزمائش یا چیلنج، تمام صورتوں میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس قسم کے واقعات اللہ کی قدرت کا اظہار ہیں۔ ہر آفت میں کئی امکانات پوشید ہ ہیں۔ ایک امکان تو یہ ہے کہ اللہ اس قوم پر کوئ مصیبت نازل کرکے اس کی آزمائش کرنا چاہتے، اسے ایک چیلنج دے کر ارتقا کا موقع فراہم کرنا چاہتے اور اسے سے بچ جانے والوں کے شکر کا امتحان کرنا چاہتے ہیں۔ایک امکان اس بات کا بھی ہے ان آفات میں اللہ کی ناراضگی پوشیدہ ہو۔ یہی وجہ ہےکہ روایات میں قحط، بارش کا نہ ہونا اور قدرتی آفات کو اللہ کی ناراضگی سے بھی منسوب کیا گیا ہے۔ اس ناراضگی کا مقصد قوم کو متبنہ کرنا ، وارننگ دینا اور ہوشیار کرنا بھی مقصود ہوتا ہے۔یہ وارننگ ایک پوری قوم کے لیے ہوتی ہے اور اس کا اظہار کسی ایک حصے میں اس آفت کے ظہور سے کردیا جاتا ہے۔
6. اگر قدرتی آفات گناہوں کی وجہ سے بھی آسکتی ہیں تو کیا قدرتی آفات میں مرنے والے یا متاثر ہونے والے لوگ گناہ گار ہوتے ہیں؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگ جو اس آفت سے متاثر ہوئے ہوں وہ گناہ گار ہیں اور جو بچ گئے وہ بے قصور۔ اگر ایسا ہوتا تو قدرتی آفات کے نتیجے میں مرنے والوں کی نماز جنازہ نہ ہوتی اور ان کے لیے دعائے مغفرت ممنوع ہوتی۔اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آفتوں سے متاثرہ لوگ منحوس تھے۔ جیسے اگر کوئی پہاڑ کسی زلزلے کی بنا پر تباہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ منحوس ہو۔
گناہوں کا تعلق بھی عمومی ہوتا ہے تخصیص کے ساتھ نہیں ہوتا۔ چونکہ پیغمبر موجود نہیں ہوتا اس لیے متعین طور پر معلوم نہیں ہوسکتا کہ تباہی کا سبب کیا تھا۔جو لوگ اس میں مارے جاتے ہیں ان کے گناہ گار ہونے یا بے گناہ ہونے کا کوئی حتمی علم کسی انسان کے پاس نہیں ہوتا ۔ ہاں ایک عمومی جائزہ لے کر پوری قوم یہ دیکھ سکتی ہے کہ ہماری کوتاہیوں کی کیا نوعیت ہے۔
7. قدرتی آفت کے سلسلے میں تو بے گناہ لوگ بھی مرجاتے ہیں؟ اس کا کیا جواب ہے؟
قدرتی آفت کے تحت گناہ گار اور بے قصور کوئی بھی مرسکتا ہے ۔ یہ تصور واضح کرلینا چاہیے کہ اس آفت کا سبب گناہ تو ہوسکتا ہے لیکن اس کا نشانہ متعین طور پر گناہ گار نہیں بلکہ پوری قوم ہوتی ہے۔یہ بھی عین ممکن ہے کہ گناہ تو پوری قوم کے مختلف علاقوں میں ہورہے ہوں لیکن اس کا اظہار کسی مخصوص علاقے میں اجتماعی اموات کے ذریعے کیا گیا ہو۔
آفت یا عذاب کے نتیجے میں بے قصوروں کا مرنا تو اتمام حجت والے عذاب میں بھی ممکن ہے۔ مثال کے طور پر جب قوم عاد ، ھود، لوط، نوح یا دیگر اقوام پر اگر عذاب آیا تو اہل ایمان کو بچالیا گیا لیکن انہیں کم ازکم اپنے گھر بار اور مالی نقصان سے تو دوچار ہونا ہی پڑا۔ اسی طرح اس قوم کے بچے اور جانور بھی مرگئے ہونگے جو بالکل بے قصور تھے۔ یعنی ایسا تو نہیں ہوا ہوگا کہ عذاب سے قبل اس قوم میں بچوں کی پیدائش ختم ہوگئی ہوگی اور جس وقت عذاب آیا تو کوئی بچہ موجود ہی نہ تھا۔ تو عذاب کا سو فی صد گناہ گاروں پر نازل ہونا تو اتمام حجت والے عذاب میں بھی نہیں ہوتا۔ اس کی بنیادی وجہ دنیا کا آزمائش کے اصولوں پر بننا ہے۔
آفت کے نتیجے میں جو لوگ بھی معصوم لوگ ہلاک ہوتے ہیں وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوجاتے ہیں اور ان کے درجات بلند کردیے جاتے ہیں۔ اس میں اللہ کی اور کیا کیا حکمتیں پوشید ہیں اس کا ہمیں علم نہیں۔
8. کیا قدرتی آفت کے نزول کا سبب گناہ ہی ہوتےہے؟
نہیں۔ یہی ایک غلط فہمی ہے۔ قدرتی آفت کے نزول کا حقیقی سبب تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس کے اسباب میں مادی اسباب، قوم کی نااہلی، گلوبل وارمنگ کے قوانین کا خیال نہ رکھنا وغیرہ شامل ہیں۔لیکن اس میں خدا کی ناراضگی ، گناہوں کا ہونا، وارننگ بھی شامل ہوسکتی ہے۔ جس طرح یہ کہنا انتہائی غلط ہے کہ ہر قدرتی آفت محض گناہوں کی بنا پر آئی اسی طرح یہ کہنا بھی انہتائی نامناسب ہے کہ قدرتی آفت میں گناہوں کا سبب بالکل ناپید ہے۔ دونوں باتوں کو حتمی طور پر بیان کرنے کے لیے خدا کی توثیق ضرور ی ہے جو وحی کے خاتمے کے بعد ختم ہوگئی۔
9. تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ ماحول آلودہ کرنے کی غلطی کوئی کرے اور بھرے کوئی؟
یہ دنیا آزمائش کے اصول پر بنی ہے۔ انفرادی زندگی میں کار چلاتے وقت غلطی کوئی کرتا ہے اور بھگتتا کوئی اور ہے۔ یہی معاملہ اجتماعی زندگی کا بھی ہے۔ کرتا کوئی اور ہے ، بھرتا کوئی اور ہے۔ یہاں قصور وار انسانیت یا قوم کو بحیثیت مجموعی ٹہرایا جاتا ہے ناکہ صرف متاثرہ شخص کو۔ نیز انسان اس وقت اس گناہ یا انحراف کا مکلف بنتا ہے جب وہ اس کا علم رکھتا ہو۔
یہی معاملہ مثبت امور میں بھی ہے۔ یعنی جب ایک قوم ترقی کرتی ہے تو سارے لوگ اچھے نہیں ہوتے بلکہ چند لوگ ہی محنت کرتے ہیں لیکن اس کا پھل سب کھاتے ہیں۔ یہی معاملہ آزمائشوں اور مصیبتوں کا بھی ہے۔
10. سیلاب ، زلزلے میں وہ کونسے گناہ ہیں جو اس کا سبب بن سکتے ہیں؟
تین اقسام کے گناہ یا انحرافات اہم ہیں۔ ایک تو وہ جو براہ راست یا بالواسطہ آفت لانے کا سبب بن سکتے ہیں جیسے ماحولیات کی تباہی، جنگلات کا کاٹنا وغیرہ۔اس سے ماحول متحرک ہوتا اور وہ مادی اسباب پیدا ہوتے جو اس آفت کو لانے کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری قسم کے گناہ وہ ہیں جو براہ راست اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر شرک، خدا سے بدعہدی، تکبر، ظلم و عدوان، جنسی بے راوہ وی، قول و فعل میں تضاد ۔ تیسری قسم کے گناہ یا انحرافات بدنظمی اور اجتماعی ناکامی کے ذمہ دار ہیں جیسے قومی سطح پر پلاننگ نہ کرنا، ان آفات کے لیے تیاری نہ کرنا، کرپشن، اداروں کی تباہ حالی، کام چوری وغیرہ۔
11. پاکستان میں کس قسم کے گناہوں کا معاملہ ہے؟
پاکستان کا معاملہ تینوں طرح کے انحرافات یا گناہوں کا مرقع ہے۔ پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے لیے بنائے گئے انٹرنیشنل قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ خدا کے ساتھ معاملے میں پاکستانی قوم دوہری حیثیت سے ذمہ دار ہے۔ ایک تو اس یہ قوم خدا سے عہد میں بندھی ہوئی ہے کہ دین کو اپنائے گی لیکن اس پر جو کارکردگی ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم خدا کی کتاب کو اپنی زندگی میں اپنا نا تو کجا اسے پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ خدا نے ہم سے کیا کلام کیا۔ دوسرا عہد خدا کے پیغام کا دنیا میں اپنے گفتارو کردار سے پھیلانا جس میں ہم بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔
پاکستانیوں کا تیسرا معاملہ بدنظمی کے گناہ کا بھی ارتکاب ہے۔ ہماری پارلینٹی اور ادارے اس قسم کے واقعات سے نبٹنے کے لیے مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں اور اس کی ذمہ دار قوم بھی ہے کیونکہ قوم ان لوگوں کی نااہلی پر خاموش تماشائی بھی ہے اور بار بار عصبیت ، مفادات یا کسی اور بنا پر انہی لوگوں کو ایوانوں میں منتخب کرکے بھیجتی اور مزید تباہی کو دعوت دیتی ہے۔
12. امریکہ ، برطانیہ اور ہندوستان پر اس قسم کا عذاب کیوں نہیں آتا؟
اللہ کے معاملات ہر قوم کے علم اور حالات کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں ۔ یہ فرق اللہ نے ہمیشہ روا رکھا ہے۔ چنانچہ وہ قوم جس کے پاس اللہ کی کتاب ہو اس کے ساتھ معاملہ مختلف ہوتا اور جو اس وحی کی روشنی سے محروم ہو اس کےساتھ معاملہ دوسرا ہوتا ہے۔غیر مسلم اقوام کے پاس قرآن جیسی کتاب نہیں چنانچہ ان کے معاملات زیادہ تر اسباب و علل اور فطرت کے قوانین کے تحت ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اقوام جو ترقی یافتہ ہیں ان پر بھی اس قسم کی تباہی آتی ہے لیکن اچھے انتظام اور تیاری کی بنا پر اس کے اثرات کو محدود کرلیتے ہیں۔ نیز ان کے گناوہ ثواب کو قرآن کی روشنی میں نہیں بلکہ فطرت کے قوانین کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے۔یعنی انہیں اس بات پر نہیں پکڑا جاتا کہ وہ نماز نہیں ادا کرتے، زکوٰۃنہیں دیتے، شراب نہیں چھوڑتے ، سور کا استعمال ترک نہیں کرتے، شرک ترک نہیں کرتے۔ بلکہ ان کا معاملہ اخلاقی قوانین کی روشنی میں ہوتا ہے جس میں دیانت داری، سچ، باہمی تعاون، بھائی چارگی وغیرہ شامل ہیں۔ ان امور میں مغربی اقوام ہم سے کہیں آگے ہیں۔
دوسری جانب مسلمان جو حاملین کتاب ہیں اور خدا کی تعلیمات سے بخوبی واقف ہیں وہ فطرت کے تحت عطا کردہ اخلاقیات کے ساتھ ساتھ وحی کی تعلیمات پر بھی عمل کرنے کے مکلف ہیں۔ نیز دونوں کے جرائم میں فرق ہے۔ یعنی اگر ایک ہندو شرک کرے اور ایک مسلمان شرک کرے تو عقل یہی کہتی ہے کہ مسلمان زیادہ سزا کا مستحق ہے کیونکہ اس نے جانتے بوجھتے یہ کام کیا۔ جبکہ ہندو کو ممکن ہے لاعلمی کی بنا پر کچھ چھوٹ مل جائے۔یہ اصول قرآن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ ان میں سے کو کوئی اچھائی کا کام کرے گا اس کو دہرا اجر ملے گا اور جو کوئی برائی کا مرتکب ہوگا اس کو دوہر اعذاب ملے گا۔ یہی معاملہ مسلمانوں کےساتھ بھی ہے۔ مسلمان فطرت و وحی تعلیمات کو مان کر دہرا اجر بھی کماسکتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر دہر عذاب۔
13. ا س بحث کا خلاصہ کیا ہے؟
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
۱۔ قدرتی آفات اسباب و علل کے تحت ہوں یا اللہ کی براہ راست مداخلت سے ، یہ اللہ کے اذن یعنی اجازت ہی سے آتی ہیں اور اس میں اللہ کی حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جن کا مکمل احاطہ ہم نہیں کرسکتے۔
۲۔ کسی بھی قوم کی تباہی و موت کو حتمی طور پر خدا کا عذاب قرار دینے کے لیے کسی رسول کا ہونا لازمی ہے۔
۳۔ قدرتی آفات کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جن میں کچھ مادی اور کچھ غیر مادی اسباب ہوسکتے ہیں۔ لیکن حتمی طور پر اس کا اصل سبب اللہ ہی کو معلوم ہے۔
۴۔ قدرتی آفات کا ایک سبب قو م کے عمومی انحرافات یا گناہ ہوسکتے ہیں۔یہ گناہ ماحولیات، بدانتظامی یا خدا کی وحی سے انحراف پر مبنی ہوسکتے ہیں۔
۵۔ ان قدرتی آفات کو خدا کے عذاب سے تعبیر کرنے کی بجائے تنبیہہ یا آزمائش سے تعبیر کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن اس کی توجیہہ مجرد اسباب علل سے کرنا خدا کی قدرت کاملہ کی توہین ہے۔
۵۔ قدرتی آفات کا سبق رجوع الی اللہ ہے ناکہ اسباب و علل کو اصل سبب قرار دے کر بے خوف ہوجانا۔
وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67؀
ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ ان باتوں سے پاک اور بالاتر ہے جو یہ لوگ اس کے شریک ٹھہراتے ہیں۔
نوٹ: زلزلے اور آسمانی آفتوں پر مصنف ایک اور تحریر اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں
زلزلے پر کچھ سوالات از پروفیسر محمد عقیل

http://aqilkhan.org/2015/10/%D8%B2%D9%84%D8%B2%D9%84%DB%81-%D9%BE%D8%B1-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA

تبصرہ کریں

تبصرہ :