پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Monday Nov 9, 2015

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
(اپنے خدا کے نام )
پروفیسر محمد عقیل

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
تیری دنیا میں کیا کیا ہے رنگیں سماں
یاں پہ چندا بھی ہے یاں پہ سورج بھی ہے
یاں پہ جھلمل ستاروں کا جھرمٹ بھی ہے

یہ تو دیکھا ہی تھا یہ تو پرکھا ہی تھا

میں نے سوچا نہ تھا میں نے سمجھا نہ تھا
ایک دن میں بھی تاروں میں کھو جاؤں گا
میں ترے سبزہ زاروں میں سو جاؤں گا
تیرے نوری گلستاں سے گذروں گا یوں
کہ انہی کی بہاروں کا ہوجاؤں گا

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
ایک دن یوں تو مجھ کو بلائے گا واں
زندگی میں ہی مجھ کو سلائے گا واں
میرے کانوں کو نغمہ سنائے گا یوں
میری وحشت کو مجھ سے ہٹائے گا واں

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
ایک دن ایسا آئے گا مجھ پہ کہ میں
اپنی سانسوں سے بیگانہ ہوجاؤں گا
نوری محفل کا پروانہ ہوجاؤں گا
تیری دنیا میں انجانا ہوجاؤں گا

کیسا مے خانہ یہ کیسی مستی ہےیہ
کیسی بادہ ہے دل میں پھنستی ہے جو
کیسا سیل رواں ہے جو رکتا نہیں
میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
پربتوں سے بھی اونچی بستی ہے یہ

فانی دنیا میں اب دل یہ لگتا نہیں
بے کلی ، بے بسی، بے دلی ، بے کسی
کہکشاؤں میں جو رنگ دیکھے ہیں اب
نیلے امبر کے بادل یہ جچتے نہیں
کیسا رونا یہاں اور کیسی خوشی

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
کہ ترے معبدوں میں یہ رنگینی ہے
وہ تری نوری محفل کا رقص و سرور
اجنبی سجدہ ریزوں کی آہ و بکا
کیسی باتیں ہیں یہ کیسی سنگینی ہے

میں نے جانا نہ تھا میں نے سوچا نہ تھا
ایک دن کوئی آئے گا چپکے سے یوں
مجھ کو جلوے دکھائے گا چپکے سے یوں
بادلوں میں پھرائے گا چپکے سے یوں
نغمے تیرے سنائے گا چپکے سے ہوں

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
میں نے سمجھا نہ تھا میں نے مانا نہ تھا
میں نے دیکھا نہ تھا میں سیانا نہ تھا
میں ترے پاس آؤں گا چپکے سے یوں
میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا

پروفیسر محمد عقیل

تبصرہ کریں

تبصرہ :