پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

چلو اس اور چلتے ہیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Saturday Nov 14, 2015

چلو اس اور چلتے ہیں
(جنت کے طلب گاروں کے نام)
پروفیسر محمد عقیل

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پھولوں کی وادی میں پرند ے بات کرتے ہیں
جہاں آوارہ بھنورے شام کو اٹھکھیلیاں کرتے، مچلتے ہیں
جہاں بادل پہاڑوں پہ ٹہرتے اور چلتے ہیں
جہاں ہر زیرو بم کے ساتھ ہی موسم بدلتے ہیں

چلو اس اورچلتے ہیں
جہاں سوچیں حقیقت بن کے خود ہی گنگناتی ہیں
جہاں قوس قزح کی سب لکیریں مسکراتی ہیں
جہاں سورج کی کرنیں سرد ہوکے بول اٹھتی ہیں
جہاں تاروں کی کرنیں کہکشاں سی جگمگاتی ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پربت کی چوٹی سرنگوں ہوتی سی لگتی ہے
جہاں تاریکیوں میں چاندنی خود رقص کرتی ہے
جہاں باد صبا کی سرسراہٹ گدگداتی ہے
جہاں برسات رنگ و نورکی محفل سجاتی ہے

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ پیرہن سونے کے اور چاندی کے بندھن ہیں
حسیں قالین، تخت و تاج و ریشم ،اطلس و دیبا
شرابیں پاک، نغمے صاف اور چمکے ہوئے من ہیں
سبھی مسرور وشاداں ہیں سبھی مہکے ہوئے تن ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ سبزہ ، ڈالی، ٹہنی ، پھل اور پھول اپنا ہے
جہاں کانٹا نہیں کوئی، جہاں سوکھا نہیں آتا
جہاں رنج والم، مشکل، ستم ، غم نہیں آتا
جہاں پہ خوف کے مارے یہ جی بیٹھا نہیں جاتا

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں چشمے ابلتے ہیں
جہاں اشجار ہر لمحے نئے منظر بدلتے ہیں
جہاں راتیں بھی روشن ہیں جہاں کی محفلیں نوری
جہاں پہ حسن بے پروا کے جلوے بھی نکلتے ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
چلو اس رب سے ملتے ہیں
جہاں سجدے مچلتے ہیں،جہاں یہ دل پگھلتے ہیں
جہاں پہ رب کے قدموں میں جبیں بس جم سی جاتی ہے
جہاں پہ ساعتیں مدھم ، خوشی کے دیپ جلتے ہیں

چلواس اور چلتے ہیں
چلو پھر سے سنبھلتے ہیں
چلو خود کو بدلتے ہیں
چلو بس آج سب کچھ چھوڑ کے ہم بھی نکلتے ہیں
چلو اس اور چلتے ہیں

تبصرہ کریں

تبصرہ :