پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

ڈاکٹر اور عالم سے علمی اختلاف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Monday Aug 22, 2016

سوال۔ کیا ڈاکٹر اور عالم سے ایک عام انسان علمی اختلاف کرسکتا ہے جبکہ اس کے پاس خود علم نہیں؟
جواب: آج سے بیس سال قبل پاکستان میں میڈیکل ڈاکٹروں کا رویہ یہ ہوتا تھا کہ وہ مریض کو بہت کم باتیں بتاتے تھے اور خاموشی سے اسے دوائیں تجویز کردیتے۔وہ مرض کے بارے میں تفصیل سے مریض کو نہیں سمجھاتے تھے اور نہ ہی اپنی تشخیص کے دلائل دیتے تھے۔ چنانچہ ان کی اندھی تقلید کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ آج صورت حال مختلف ہےاب مریض ڈاکٹروں سے اس مرض کی تفصیل جاننا چاہتا اور اپنے مرض کی تشخیص پر اطمینان بخش جواب چاہتا ہے۔ چنانچہ آج مریض کو اچھے ڈاکٹر مرض کے بارے میں بھی بتاتے اور اس کے ٹیسٹ کی رپورٹ ثبوت کے طور پر اسے دیتے اور اسے مطمئین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مریض مطمئین نہ ہو تو کسی بھی دوسرے داکٹر کے پاس جاسکتا ہے ۔
علمائے دین کا معاملہ بھی یہی ہونا چاہیے۔ جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے تووہ پوچھنےوالے کو اپنی رائے بھی بیان کرے اور اس کے ساتھ ساتھ آسان الفاظ میں اس کے دلائل بھی پیش کرے۔ سوال پوچھنے والا اگر مطمئین نہ ہو تو اسے سمجھائے کہ اس نے یہ رائے کیوں اختیار کی۔ اگر سوال پوچھنے والا مطمئین نہ ہو تو وہ کسی دوسرے عالم دین کی جانب رجوع کرسکتا ہے۔
تو حتمی جواب یہ ہے کہ عالم دین سے ٹیکنکل معاملے میں اختلاف کرنے کے لیےتو عالم ہونا ضروری ہے لیکن عالم کی بات سمجھنے کے لیے اور اس کی پیش کردہ دلیل سے مطمئین ہونے کے لیے عالم ہونا لازمی نہیں۔ ایک عام پڑھا لکھا شخص یہ کام کرسکتا ہے۔ دلیل سے مطمئین کرنا عالم کا کام ہے اور اس کا بنیادی فرض ہے۔
پروفیسر محمد عقیل

تبصرہ کریں

تبصرہ :