پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Monday Jan 16, 2017

مضمون نمبر ۳: اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا
ڈاکٹر محمد عقیل
متعدد حسن اور صحیح روایات میں اسم اعظم کے ذریعے اللہ کو پکارنے کا حکم موجود ہے۔ یعنی اللہ کو ایک مخصوص نام سے اگر پکارا جائے تو اللہ تعالی ضرور سنتے ہیں۔ان روایات کی تفصیل یہ

ہے۔
۱۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی وہاں پر کھڑا ہوا نماز میں مشغول تھا جس وقت رکوع اور سجدے اور تشہد سے فراغت ہوئی تو دعا مانگنے لگا اور کہنے لگا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُکَ ۔
پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ کیا تم لوگ اس سے واقف ہو کہ کون سے جملوں سے دعا مانگی جائے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب واقف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس نے اللہ تعالیٰ کو آواز دی۔ اللہ کے اسم اعظم (یعنی بڑے نام) سے جس وقت اللہ تعالیٰ کو اس کے نام سے آواز دی جاتی ہے اور اس کو یاد کیا جاتا ہے اور جس وقت کوئی شخص اس سے مانگتا ہے تو وہ عنایت کرتا ہے۔( سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 1305 حدیث مرفوع۔قال الشيخ الألباني : صحيح)
۲۔ حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس (شخص )نے اللہ سے اسم اعظم کے وسیلے سے دعا کی ہے۔ اگر اس کے وسیلے سے دعا کی جائے تو قبول کی جاتی ہے اور اگر کچھ مانگا جائے تو عطاء کیا جاتا ہے۔( جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1429، قال الشيخ الألباني : صحيح)
۳۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ اس (شخص )نے کن الفاظ سے دعا کی ہے؟ اس نے اسم اعظم (کے وسیلے) سے دعا کی ہے۔ اگر اس (کے وسیلے) سے دعا کی جائے تو دعا قبول کی جاتی ہے اور اگر سوال کیا جاتا ہے تو عطا کیا جاتا ہے۔( جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1499، صحیح حدیث)
اس سے علم ہوتا ہے کہ اسم اعظم کے ذریعے مانگی جانے والی جانے والی دعا کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے اور اس دعا کی قبولیت کے امکانات کو روشن بیان کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسم اعظم سے کیا مراد ہے۔ اسم اعظم سے مراد ظاہر ہے صفات الٰہی ہی ہیں۔ قرآن میں اسمائے حسنی کا مطلب اللہ کے صفاتی نام یا صفات ہیں۔ اسی طرح اسم اعظم سے مراد بھی اللہ کی مخصوص صفات ہیں۔ جیسا کہ اس روایت میں بیان ہوتا ہے:
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے
وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ (البقرہ ۲:۲:۱۶۳)
اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت الم اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
(جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 1430، حسن حدیث)
ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا کہ آیا اسم اعظم کے بارے میں کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین طور پر بتایا۔ تو روایات سے علم ہوتا ہے کہ مختلف آیات کی جانب نشاندہی کرکے اسم اعظم کی جانب اشارہ کیا گیا لیکن کہیں بھی خاص طور پر اسم اعظم کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ کہیں بقرہ ، کہیں ال عمران اور کہیں سورہ طہ میں اسم اعظم کے موجود ہونے کی بابت بیان کیا گیا۔ ایک روایت جو اوپر گذرچکی ہے اس میں ایک صاحب کی دعا جس میں خدا کی صفات تھیں انہی میں اسم اعظم کی موجودگی کو بیان کیا گیا ۔ یہ دعا یہ ہے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ إِنِّي أَسْأَلُكَ
اس سے ثابت ہوتا ہے اسم اعظم سے مراد اللہ کے مخصوص صفاتی نام ہیں ۔ اگر ہم دیکھیں تو اسم اعظم کوئی متعین صفت نہیں بلکہ تمام صفات ہی اسم اعظم ہیں۔ اگر ہم صفات کے نظام کو دیکھیں تو کسی بھی دعا کے موقع پر کسی مخصوص صفاتی نظام کو ضرورت کی مناسبت سے مخاطب کرنا ہی دراصل اسم اعظم کے ذریعے پکارنا ہے۔مثال کے طور پر کسی تخلیقی کام کے لیے اسم اعظم الخالق کی صفت یا اس گروپ کی دیگر صفات ہیں۔علم کے حصول کے لیے اس اعظم علم و حکمت سے متعلق صفات ہیں۔ رزق اور مال میں اضافہ کے لیے اسم اعظم صفت رب اور صفت وہابیت ہیں۔ کسی بیماری یا برائی کو فنا کرنے کے لیے اسم اعظم صفت جبار ہے وغیرہ۔
 سوال یہ ہے کہ اسم اعظم سے اللہ کو پکارنے سے اللہ تعالی زیادہ کیوں متوجہ ہوتے ہیں۔ اس کا حواب اگلے میں ہے ہے جو یہ ہے
مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟

تبصرہ کریں

تبصرہ :