پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Jan 29, 2017

حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: آج کے دور میں وہ جماعت یا مسلک کس طرح تلاش کیا جائے جو حق پر ہو؟
جواب: بالعموم ہم جب حق کی تلاش کی بات کرتے ہیں توا سے محدود

معنوں میں لیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حق کی تلاش سے مراد کسی ایسے مخصوص فرقے ، مسلک یا جماعت سے وابستگی اختیار کرنا ہے جو سرتاسر حق پر ہو۔ یہ بات پیغمبروں کی موجودگی کی حد تک تو درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر خدا کے نمائیندے ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی میں انہی کی جماعت حق پر ہوتی ہے اور اس کی تائید خدا کی وحی بھی کرتی ہے۔ پیغمبر کی موجودگی میں حق پیغمبر ہی کے ساتھ ہوتا ہے اور حق کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب پیغمبر کی کی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی جائے۔ جب پیغمبر یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ حق ہے تو اس اعلان کے پیچھے خدا کا حکم موجود ہوتا ہے۔
پیغمبروں کے بعد ان ماننے والے تعداد میں بالعموم بڑھ بھی جاتے ہیں اور ان میں دین کے فہم کے حوالے اختلاف رائے بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی فرقے یا مسلک کے لیے یہ کہنا ممکن نہیں کہ تمام حق ان کے پاس ہے اور باقی جماعتیں یا مسالک مکمل طور پر کفر یا باطل پر کھڑے ہیں۔ چنانچہ عین ممکن ہے کہ حق مختلف مسالک میں بکھرا ہوا ہو۔ ایسی صورت میں اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ حق بات اور حق نظریے کو مانا جائے اور کسی شخصیت یا جماعت یا مسلک کو پیغمبر یا سراپا حق نہ سمجھا جائے ۔ اس تناظر میں یہ رویہ درست نہیں کہ حق کو تلاش کرنے سے مراد ایک ایسی جماعت لی جائے جو سراپا حق ہو۔البتہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک جماعت بحیثیت مجموعی حق کے قریب تر ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر کی موجودگی میں جماعت میں شمولیت اختیار کرنا لازم ہوتا ہے کیونکہ حق ا س جماعت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ پیغمبر کے بعد پیغمبر کی تعلیمات کی صورت میں حق موجو د ہوتا ہے جو ضروری نہیں صرف ایک ہی جماعت یا مسلک کے پاس ہو۔ ایسی صورت میں حق پر عمل کرنے کے لیے کسی جماعت یا عالم کی اندھی پیروی کی بجائے ان تعلیمات کو جاننا اور ماننا لازمی ہوتا ہے جو پیغمبر کی اصل ہدایات ہوں۔
سوال یہ ہے کہ کسی کو اگر کوئی جماعت یا مسلک یا عالم یا فکر کو منتخب کرنا ہے تو کس طرح کرے؟اس کا جواب بہت سادہ ہے:
۱۔ سب سے پہلے تو ایک شخص جس جماعت میں ہے اسی جماعت میں رہے اور ہر وقت اپنے کان ، آنکھ اور ذہن کھلا رکھے۔
۲۔ اپنی جماعت کے علما کی رائے کو عقل و فطرت اور قرآن و سنت کی روشنی پر جانچے اور اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں تحقیق کرے۔
۳۔جونہی اسے اپنی جماعت اور مسلک کے بارے میں کوئی سوال یا اعتراض پیدا ہو تو اس پر تحقیق کرے اور یہ تحقیق صرف اپنی جماعت کے علما اور اپنے مسلک ہی کی کتابیں پڑھ کر نہ کرے بلکہ دوسرے مسلک کی رائے کو بھی بلاتعصب جانے۔
۴۔ اگر اس پر واضح ہوجائے کہ اس کی جماعت یا مسلک کا نقطہ نظر درست نہیں تو وہ حق پر مبنی نقطہ نظر ہی اختیار کرے۔
۵۔ اپنی جماعت یا مسلک کے علماء اور انتظامیہ کی اخلاقی حالت اور کردار پر ہمیشہ نظر رکھے۔ اگر اس میں کوئی خرابی دیکھے تو برملا ادب کے ساتھ بتادے۔ اور اگر وہ علما ء رجوع نہ کریں تو وہ ان سے کنارہ کشی اختیار کرلے۔
۶۔ اگر اپنی جماعت یا مسلک کے نظریات اور علما ء سے مجموعی طور پر علمی اطمینان نہ ہو تو اس جماعت سے کنارہ کش ہوجائے۔
۷۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھے کہ حق خدا اور اس کے پیغمبر کی تعلیمات کا نام ہے، کسی جماعت، فرقے ، مسلک یا علما اور اسکالرز کا نام نہیں۔

تبصرہ کریں

تبصرہ :