پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Jan 15, 2017

مضمون نمبر ۲: دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو
ڈاکٹر محمد عقیل
ہم دیکھتے ہیں کہ دن رات لوگ لاکھوں کروڑوں دعائیں مانگتے ہیں لیکن ان میں سے چند ہی قبول ہوتی ہیں۔ دوسری جانب قرآن میں اللہ نے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ بلکہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ نمازیا صلوٰۃ کے لغوی معنی ہی دعا کے ہیں۔ اسی طرح تمام عبادات میں اصل فوکس دعا یعنی اللہ کو پکارنے اور اس

سے مدد مانگنے پر ہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو کس طرح پکارا جائے اور اس سے مدد طلب کی جائے کہ دعا قبول ہوجائے۔ دعا کی قبولیت پر کئی نظریات موجود ہیں۔ ایک نظریے کے مطابق دعا مخصوص اوقات (جیسے روزہ افطار کرتے وقت )میں زیادہ قبول ہوتی ہے، دوسری کے مطابق دعا مخصوص مقامات( جیسے کعبہ ) میں زیادہ قبول ہوتی ہے۔ کچھ کے نزدیک مخصوص ہستیوں کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔
یہ تمام نظریات اپنے اپنے محل میں درست ہوسکتے ہیں۔ البتہ دعا پر کئی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر انسان اپنے حصے کا کام کرلے اور اس کے بعد دعا مانگے تو دعا مانگنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ اکثر دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟ تیسرا یہ کہ دعا مانگنے کے لیے کسی وظیفہ وغیرہ کا استعمال ضروری ہے؟
دعا کی قبولیت کا قانون
لیکن اگر ہم قرآن و سنت کا جائزہ لیں تو دعا کی قبولیت کا ایک چھوٹا سا فارمولابن جاتا ہے۔
دعا کی قبولیت = (انسان کا مطلوبہ عمل + تکوینی نظام کی تطہیر)+اللہ کا فیصلہ
۱۔ انسان کا مطلوبہ عمل
اس سے مراد یہی ہے کہ جس مسئلے پر دعا مانگی جارہی ہو اس پر جو اللہ کے عالم اسباب کے قوانین ہیں ان کو پورا کردیا گیا ہو۔ مثال کے طور ایک شخص کو اولاد کی خواہش ہے تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ کسی عورت سے نکاح کرکے مطلوبہ جنسی عمل کے طریقہ کا ر کو پورا کرے۔ کسی کا( نکاح کے ذریعے) کوئی جنسی تعلق ہی قائم نہ ہو اور وہ اولاد کی خواہش کرے تو یہ پاگل پن ہے۔ یہی معاملہ امتحان میں کامیابی ، کھیتی باڑی ، رزق کمانے اور دیگر معاملات کا ہے۔
لیکن دعا کی قبولیت کے لیے صرف اسباب و علل پورا کرنا کافی نہیں۔انسان نہ تو تمام اسباب کو پورا کرسکتا ہے اور نہ یہ اس کے بس کی بات ہے۔ چنانچہ وہ اللہ سے مدد مانگ کر اپنی محنت اس کے سامنے رکھ دیتا ہے تاکہ جو کمی بیشی اس کے اسباب پورا کرنے میں رہ گئی یا جو بات اس کے بس کی نہیں وہ اللہ اپنی قدرت کاملہ سے پورا کردیں۔
یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں نے جب اپنے حصے کا کام مکمل کرلیا تو وہ اسباب کی کمی کے باوجود مایوس نہیں ہوئے ۔ جیسے حضرت ذکریا بڑھاپے کے عالم میں بھی اولاد کی دعا کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۳۱۳ افراد کے ساتھ ہی بدر میں فتح کی درخواست کرتے ہیں وغیرہ۔
تو دعا کی قبولیت کے لیے انسانی عمل لازمی ہے اور انسانی عمل سے مراد اسباب مہیا کرنا اور پھر اللہ سے مدد کے لیے درخواست کرنا ہے۔
۲۔ اللہ کے تکوینی نظام کی تطہیر
اللہ کے تکوینی نظام سے مراد وہ سسٹم ہے جو اللہ کے کن کہنے سے وجود میں آیا۔ کن دراصل ایک خدائی حکم ہے کہ ہوجا تو وہ کام یا شے ہوجاتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ کام یا وہ چیز فورا ہی بن جاتی ہے۔ گوکہ اللہ اس پر قادر تھے کہ اسے فورا ہی بنادیں۔ لیکن اللہ کی سنت اس معاملے میں تدریج اور حکمت ہی ہے”کن” یعنی “ہوجا “کی ادائیگی کے فورا بعد اصول اور قانون پیدا ہوتا ہے اور پھر چیزیں اسی قانون کے تحت ہونے لگ جاتی ہیں۔مثال کے طور پر پانی پیدا کرنے سے قبل اللہ نے اس کا فارمولے تخلیق کرکے اس کا قانون بنایا کہ یہ H2O ہوگا۔ یعنی اس میں ہائیڈروجن کے دو ایٹم اور آکسیجن کا ایک اِیٹم ہوگا۔ اسی طرح آکسیجن اور ہائیڈروجن کی خصوصیات طے کیں۔
یہی تدریج کا معاملہ انسان کے ساتھ بھی خاص کردیا گیا ۔ جس نے اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہونے والے قوانین کو دریافت کرلیا ، وہ بھی تخلیق کے قانون سے آگاہ ہوگیا۔ چنانچہ جب کھیتی باڑی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب انسان نے زمین کو نرم کرکے اس میں بیج بوتا، اسے پانی دیتا اور وقت آنے پر فصل کی کٹائی کرتا ہے۔ بچے کی تخلیق اس وقت ممکن ہوتی ہے جب عورت و مرد کا ملاپ ہوتا ہے۔ جہاز اس وقت تک نہیں اڑا جب تک کہ نیوٹن کے دریافت کردہ تیسر ے قانون کے مطابق عمل نہ کیا گیا۔
چنانچہ تکوینی نظام کی تطہیر سے مراد یہ ہے کہ جب انسان اپنا کوئی عمل کرکے اس کے لیے دعا کرتا اور اسے قبولیت کے لیے خدا کے حضور پیش کرتا ہے تو یہ تکوینی نظام اس درخواست کو چیک کرتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا انسان نے اسباب کا درست استعال کیا یا نہیں، اس نے خدا کو کس خلوص سے پکارا، اس نے کوئی غلط طریقہ تو استعمال نہیں کیا۔ جب یہ ساراچیک کرنے یا اسکروٹنی کا عمل ہوجاتا ہے تو بات خدا کے حضور فیصلے کے لیے پہنچ جاتی ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص ملازمت کے لیے ایک کمپنی میں درخواست دیتا ہے تو وہ کمپنی یہ دیکھتی ہے کہ آیا اس شخص کی تعلیم اس جاب کے مطابق ہے یا نہیں، اسے کام کا تجربہ ہے یا نہیں، اس کا کردار عمومی طور پر درست ہے یا نہیں۔ اس اسکروٹنی کے بعد ہی اس کی درخواست اگلے مرحلے میں منقتل کی جاتی ہے۔
یہ تکوینی نظام نیک مخلوق یعنی فرشتوں پر مبنی ہوتا ہے ۔ فرشتے اللہ کے حکم سے اور اللہ ہدایات کے تحت اسکروٹنی کا یہ عمل کرتے ہیں۔ ان فرشتوں کا کام دعا یا پکار کو سننا یا قبول کرنا یا رد کرنا ہرگز نہیں ہوتا۔ یہ تو بس اپنے اندر فیڈ کردہ قانون کے تحت قبول ہونے والی دعا کو آمین کہہ کر آگے بڑھا دیتے اور رد ہونے والی دعا کو اعتراضات لگا کر پیش کردیتے ہیں اور فیصلہ کا تنہا اختیار اللہ ہی کا ہوتا ہے۔ چونکہ اس تکوینی نظام کے خالق اللہ تعالی ہی ہیں اسی لیے اس نظام میں ہونے والا تمام کام اللہ ہی سے منسوب ہوتا ہے۔
اس بات کی کئی دلیلیں احادیث میں بیان ہوتی ہیں۔
حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے مسلمان مرد کی اپنے بھائی کے لئے پس پشت دعا قبول ہوتی ہے اس کے سر کے پاس موکل فرشتہ موجود ہے جب یہ اپنے بھائی کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو موکل فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2428)
ایک اور روایت ہے کہ
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے گی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 910)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور صف میں داخل ہوگیا اور اس کا سانس پھول رہا تھا اس نے کہا الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا کَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَکًا فِيهِ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم میں سے نماز میں یہ کلمات کہنے والا کون ہے لوگ خاموش رہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ تم میں سے یہ کلمات کہنے والا کون ہے اس نے کوئی غلط بات نہیں کہی تو ایک آدمی نے عرض کیا کہ میں آیا تو میرا سانس پھول رہا تھا تب میں نے یہ کلمات کہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ جو ان کلمات کو اوپر لے جانے کے لئے جھپٹ رہے تھے۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1352)
یہاں دراصل اسی تکوینی نظام کی جانب اشارہ ہے۔ یعنی اس نظام میں فرشتے انسانوں کی دعاؤں پر آمین کہتے یا بعض اوقات ان پر آمین نہیں کہتے ہیں۔ چونکہ فرشتے اللہ کے حکم اور قانون کے تحت کام کرتے اور اللہ کے بنائے گئے اصول و ضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔ اس لیے فرشتوں کا آمین کہنا یا دعا کو اوپر لے کر جانا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کے تکوینی نظام کے تحت یہ دعا اللہ کی بارگاہ میں پیش کیے جانے کے قابل ہے یا نہیں۔ بعض اوقات اس دعا پر اعتراضات لگا کر دعا کو واپس کردیا جاتا یا موخر کردیا جاتا ہے ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2045)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک آدمی کسی گناہ یا قطع رحمی اور قبولیت میں جلدی نہ کرے اس وقت تک بندہ کی دعا قبول کی جاتی رہتی ہے۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2435)
یہ فلٹریشن ظاہر ہے کہ صرف انہی امور تک محدود نہیں۔ ممکن ہے کسی کی دعا عمل میں کمی، اخلاص میں نقص، اسباب کو نظر انداز کردینے، حرام غذا کھانے یا کسی اور سبب سے رد کردی جائے۔ چنانچہ دعا کی قبولیت کا دوسرا مرحلہ اللہ کے تکوینی نظام کی فلٹریشن ہے۔ یہ دراصل اللہ ہی کی فلٹریشن ہے البتہ اسے تکوینی قوانین کے تحت بیان کردیا گیا ہے۔
۳۔ اللہ کا فیصلہ
دعا کی قبولیت کا آخری مرحلہ یا اصل مرحلہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر ہم اللہ کی سنتوں کو مد نظر رکھیں تو علم ہوگا کہ اللہ تعالی بالعموم اپنے بنائے ہوئے قوانین کی روشنی ہی میں کام کررہے ہوتے ہیں ۔ اور ان قوانین کے تحت کیا فیصلہ اللہ ہی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ چنانچہ عمومی طور پر دعا کی قبولیت یا رد کا فیصلہ اللہ تعالی انہی دو اصولوں کی روشنی میں کرتے ہیں۔ یعنی بندے نے کیا عمل کیا اور اس عمل کو تکوینی نظام نے کس حیثیت سے فلٹر کیا۔ تکوینی نظام نے اگر اس درخواست کو فلٹریشن کے بعد درست گردانا تو اللہ تعالی کی جانب سے بھی دعا قبول ہوجاتی ہے اور اگر اس دعا پر کچھ اعتراضات کرکے واپس کردیا تو خدا کا فیصلہ بھی رد ہی کا ہوتا ہے۔
لیکن ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی اسباب و علل کے پابند نہیں۔ اللہ جب چاہیں تو اسباب سے ماورا کسی کو جو چاہیں عطا کردیں اور جس کو چاہیں دینے سے منع کردیں۔ اسی طرح اللہ تعالی تکوینی نظام میں موجود فلٹریشن کے طریقہ کار کو بائی پاس کرنے بھی قادر ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی جب مناسب سمجھتے ہیں کسی کی دعا اسباب و علل سے ماورا بھی قبول کرلیتے اور فلٹریشن کے طریقہ کو بھی بائی پاس کردیتے ہیں۔
اس کی اہم وجہ اللہ کی حکمت اور قدرت کاملہ ہوتی ہے۔ یعنی اللہ اپنی حکمت کے تحت یہ سمجھتے ہیں کہ اسباب میں جو کمی رہ گئی ہے اسے کسی اور طریقے سے پورا کردیا جائے۔مثال کے طور پر حضرت ذکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں اولاد کی جو دعا مانگی اسے اللہ نے قبول کیا اور اس بڑھاپے میں انہیں اولاد عطا کی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا جو آپ نے بدر کے میدا ن جنگ میں مانگی اسے اللہ نے قبولیت بخشی ۔
اسباب سے ماورا دعائیں قبول کرنے کا مقصد بہت واضح ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالی یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسباب ان کے تحت ہیں وہ اسباب کے تحت نہیں۔ چنانچہ جب چاہیں وہ اسباب کو نظر انداز کرکے کسی بھی کام کو کرنے پر قادر ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سبق بھی بہت اہم ہے کہ اللہ تعالی جب چاہیں ، اسباب سے ماورا ہوکر دعا قبول کرسکتے ہیں لیکن ہم چاہیں تو نہیں کرسکتے۔ یعنی یہ اللہ کی حکمت ہے جس کے مطابق اللہ فیصلہ کرتے ہیں ، یہ ہماری خواہش نہیں۔
اسی طرح اسباب سے ماورا دعائیں قبول کرنے کا تناسب بہت ہی کم ہے۔ یعنی ہزار میں سے کوئی ایک معاملہ ایسا نظر آتا ہے جس میں یہ ہوا ہو۔ اس سے بھی یہ بات پتا لگتی ہے اللہ تعالی ہم سے یہی چاہتے ہیں کہ ہم طے کردہ طریقہ کے تحت ہی کام کریں اور دعا کریں۔خوامخواہ اپنا کام کیے بنا خدا کو اپنے ذمے کا کام سونپنے سے گریز کریں۔
دعا کی قبولیت کے بارے میں ایک اور اہم بات ہم یہ جانتے ہیں کہ بہت سی دعائیں تو گناہ گاروں اورمشرکوں حتی کے غیراللہ سے مانگنے والوں کی بھی پوری ہوجاتی ہیں تو کیا یہ فلٹریشن کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں کہ دعا کی قبولیت میں اصل حکم اللہ کے فیصلے کا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات جب گناہ گارو یا مشرکین کی دعائیں اللہ کے حضور رکھی جاتی ہیں تو اللہ اسے بھی اپنی حکمت کے مطابق قبول کرتے ہیں۔
ایک حکمت یہ پوشید ہ ہوتی ہے کہ یہ دنیا آزمائش وامتحان کے اصول پر بنی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی غیراللہ کو پکار کر محروم رہتا ہے اور صرف خدا پرست ہی دنیا میں فیض یاب ہوتے تو غیب کا پردہ فاش ہوجاتا۔ خدا کو یہ مطلوب ہے کہ انسان ظاہری معاملات دیکھ کر حقیقت تک پہنچے نہ کہ غیب کا پردہ فاش کرکے حق پرست بنے۔ایک اور حکمت یہ ہے کہ اگر کوئی گناہ گار یا خدا کا منکر اسباب و علل کی دنیا میں وہ شرائط پوری کردیتا ہے تو اسے اسباب کے تحت ضرور نوازا جاتا ہے تاکہ دنیا میں اس کو اسے عمل کا بدلہ مل جائے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شخص دعا مانگنے کی تمام شرائط پوری کردیتا ہے۔ یعنی وہ اسباب کی دنیا میں بھی بالکل ٹھیک کام کرتا ہے اور خدا کو اخلاص کے ساتھ پکارتا ہے اور فلٹریشن میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ کا فیصلہ اس کی دعا کو رد کرنے یا موخر کرنے کا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جو شے وہ مانگ رہا ہے وہ اس کے لیے دنیاوی یا دینی پہلو سے موزوں نہیں۔ یا پھر خدا اس کو آزمانا چاہتا ہے کہ وہ خدا پر کتنا اعتماد رکھتا ہے۔
خلاصہ
خلاصہ یہ ہےکہ دعا کی قبولیت کی بنیادی شرط یہ ہے انسان اپنے حصے کا ممکنہ کام کرے خواہ یہ کام بہت تھوڑا کیوں نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ اللہ کا تکوینی نظا م اس درخواست کو آگے بنا اعتراضات کے فارورڈ کردے اور آخر میں اللہ تعالی اس پر فیصلہ صادر فرمادیں۔ یہ کام چند سیکنڈ میں بھی ہوسکتا ہے اور اس کو ہونے میں برسوں بھی لگ سکتے ہیں۔
www.iisra.net
aqilkhans@gmail.com

https://www.facebook.com/aqil.muhammad.338

تبصرہ کریں

تبصرہ :