پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

دعا یا اللہ کو پکارنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Jan 8, 2017

دعا پر مقالات کا مجموعہ
ڈاکٹر محمد عقیل
 مضمون نمبر ا: دعا یا اللہ کو پکارنا
دعا کے لغوی معنی پکارنے کے ہیں۔ توحید کا خلاصہ ہے کہ اللہ ہی کو تنہا پکارا جائے اور جب اسے تنہا نہیں پکارا جاتا تو شرک جنم لیتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اللہ کو پکارنے کا حکم ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنے کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے شرک سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔
پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور معبودکو نہ پکارو، ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔(الشعرا ۲۶:۲۱۳)
اللہ کو پکارنے کا مفہوم
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو پکارنے سے کیا مراد ہے اور اللہ کو تنہاپکارنے سے کیا مراد ہے؟ ہم دن رات ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ، پکارتے ہیں اور ان سے مدد لیتے ہیں ۔ تو کیا یہ شرک ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہاں اللہ کو ہی پکارنے کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی کو مدد کے لیے پکارا ہی نہ جائے۔ کسی بھی زندہ شخص سے مدد مانگنا چونکہ اسباب کے قانون کے تحت ہے اس لیے یہ پُکارنا ان معنوں میں نہیں جن میں ہم خدا کو پکارتے ہیں۔
یہاں جس پکار کی ممانعت کی جارہی ہے وہ اسباب سے ماورا پکار ہے۔ چنانچہ مشرکین مکہ چند فرشتوں ، دیویوں اور دیوتاؤ ں کو خدا کا مقرب سمجھ کر انہیں پکارتے، ان سے مانگتے اور ان سے سفار ش کرتے تھے۔ چونکہ یہ تمام ہستیاں نہ اسباب کی دنیا کے تحت نہ تو موجود ہوتی ہیں، نہ ان سے بات کی جاسکتی ہے اور نہ ہی یہ اس کا جواب دے سکتی ہیں۔ اسی لیے ان سے مدد مانگنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ان کو خدا کی طرح حاضر، ناظر، سمیع، بصیر، حکیم ، علیم ، قدیر ، خالق اور زندہ سمجھ ان سے مدد کی درخواست کی جائے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس ہستی کو خدا کے برابر نہ سہی بلکہ اس کے مقربین کا درجہ دے کر ہی کلام کیا جائے۔ لہٰذا وہ مخلوق جو اس وقت اسباب کی دنیا میں موجود نہیں اس سے کسی بھی قسم کی مدد کی درخواست کرنا شرک ہے۔ اس مخلوق میں جنات ، فرشتے اور وہ تمام انسان آجاتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔

تبصرہ کریں

تبصرہ :