پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Tuesday Jan 31, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں اکثر شکرگذاری کو محض زبانی معاملہ سمجھتے ہیں کہ صرف الحمدللہ ، یا اللہ تیرا شکر ہے وغیرہ کہہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ شکر ادا

ہوگیا۔ عین ممکن ہے کہ ہم زبان سے خدا کا شکر کررہے ہوں اور خدا کے ہاں ہمارا نام ناشکروں میں لکھا ہوا ہو۔ اگر ایسا ہو تو ہم زندگی کے آدھے امتحان میں ناکام ہوگئے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ شکر گذاری کا اصل مفہوم کیا ہے ، خدا کو کس طرح کی شکر گذاری مطلوب ہے اور شکر گذاری کے درجات کیا کیا ہیں۔
شکر گزاری کا مفہوم
شکر گذاری یا کسی کا شکریہ ادا کرنے کے پیچھے جو محرک یا نفسیات ہوتی ہے اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ جب کوئی شخص ہمارے ساتھ بھلائی کرتا ، ہمیں نفع پہنچاتا اور ہم سے اچھا رویہ اختیار کرتا ہے تو ہم دل میں پیدا ہونے والے احسان مندی کے جذبات کے تحت اس کا شکر یہ ادا کرتے ہیں۔یہ شکریہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک شخص ہمارے قابلیت نہ ہونے کے باوجود ہماری ضرورت پوری کرنے کے لیے ہمیں ملازمت دے دیتا ہے۔ ہم پہلے مرحلے میں دل سے اس کے ممنون اور احسان مند ہوتے ہیں اور اس دلی احساس کی بنا پر زبان سے اس کی تعریف و توصیف میں شکریے کے کلمات ادا کرتے ہیں۔ لیکن یہ تو محض زبانی شکر ہے جسے اپنے عمل سے ثابت نہ کیا جائے یہ شکر ایک جھوٹ اور منافقانہ عمل بن جاتا ہے۔
شکر کی اصل ابتدا ہمارے عمل سے شروع ہوتی ہے جو یہ ہے کہ ہم اس کی ملازمت کے حقوق ادا ا کرتے ہوئے کام ایمانداری سے کریں، اس کے حکم کی تعمیل کریں خواہ ہمارا موڈ ہو یا نہ ہو ، ہم ملازمت میں اپنی پسندو ناپسند کو ا س کی مرضی کے تابع کردیں اور آخر میں اگر کبھی مالک کو ہماری ضرورت ہو تو ہم بھی اس کی اسی طرح مدد کریں جیسے اس نے ہماری مشکل میں مدد کی تھی۔
اگر یہ شخص محض زبانی شکریے کو کافی سمجھے اور اس کے بعد عملی اقدامات نہ کرے تو وہ خود کو کتنا ہے شکر گذار سمجھتا رہے لیکن اصل میں وہ ایک ناشکرا، احسان فراموش اور خود غرض انسان ہے جس نے منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ خدا کے ساتھ شکر گذاری کا معاملہ بھی بالکل یہی ہے۔ خدا کی عنایت کردہ نعمتیں بے شمار ہیں جن میں زندگی کا ملنا، شعور، روٹی ، کپڑا ، مکان، سورج کی روشنی، چاند کی ٹھنڈک، بارش سے ملنے والا پینے کا پانی، آنکھیں، کان ، زبان ، صحت غرض ان گنت چیزیں شامل ہیں۔انسان کو جب جب ان چیزوں کی اہمیت کا ادراک ہوتو اس پر لازم ہے کہ وہ دل سے احسان مندی کے جذبات کے تحت خدا کا شکر زبان اور عمل دونوں سے ادا کرے۔ چنانچہ شکر گذاری کی تعریف کی جائے تو یوں ہے:
شکر گذاری = نعمت کا علم ہونا+دل سے شکر ادا کرنا (جو زبان پر بھی جاری ہوسکتا ہے) + عمل سے شکر ادا کرنا
عمل سے شکر ادا کرنا
ہم دلی طور پر شکر کرنے کو اور اسے زبان سے ادا کرنے کو تو جانتے ہیں لیکن عمل سے شکر ادا کرنے سے کیا مراد ہے؟ عمل سے شکر ادا کرنے کے چار درجات ہیں۔
۱۔ پہلا درجہ یہ کہ ملنے والی نعمت کے تمام حقوق و فرائض ادا کرنا۔یہ لازم ہے
۲۔ دوسرا درجہ یہ کہ حاصل شدہ نعمت کے حقوق ادا کرتے وقت اپنے موڈ، مزاج اور طبیعت کو قابو میں رکھ کر ہر حال میں حقوق ادا کرنا
۳۔ تیسر ا درجہ یہ کہ نعمت سے متعلق حقوق کی ادائیگی میں اپنی پسند و ناپسند کو ختم کرکے صرف نعمت کے مالک کی مرضی کا خیال رکھنا
۴۔ چوتھا مرحلہ یہ کہ حاصل شدہ نعمت کوبلا تفریق مخلوق میں تقسیم کرنا
۱۔ پہلا درجہ- نعمت کے حقوق و فرائض ادا کرنا
یہ عملی شکر گذاری کا پہلا درجہ ہے۔ جو بھی نعمت ملے اس کو اس کے اصل مالک و خالق یعنی خدا کی مرضی کے مطابق ادا کرنا اس کا پہلا حق ہے۔ چنانچہ آنکھوں کی نعمت کی پہلی شکر گزاری یہ ہے کہ اسے ان کاموں میں استعمال کیا جائے جہاں استعمال کرنا جائز ہے۔ فحش مناظر دیکھنے میں آنکھوں کو لگانا اس نعمت کی ناشکری اور اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ زبان کا شکر یہ ہے کہ اسے لوگوں کو دکھ پہنچانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اسی طرح رزق یا دولت اگر ملے تو اس کا شکر یہی ہے کہ اسے اپنے اوپر اور اپنے بیوی بچوں اور متعلقین پر جائز طریقے سے خرچ کیا جائے اور اسراف یا ناجائز مصارف پر خرچ کرنے سے گریز کیا جائے۔
۲۔ دوسرا درجہ ۔ مزاج کو تابع رکھنا
پہلا درجہ تو یہ تھا کہ ان نعمت کو مالک کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جائے۔عام حالات میں تو ایسا کرنا مشکل نہیں ہوتا اور عمومی حالات میں نعمتیں اپنے جائز محل ہی میں استعمال ہورہی ہوتی ہیں۔ لیکن قدم قدم پر ایسے حالات پیش آتے ہیں جب نعمت کا حق ادا کرنا یعنی اس کو جائز طور پر استعمال کرنا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض اوقات ٹی وی اسکرین پر ایسے مناظر بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جن کا دیکھنا جائز نہیں۔ یا بعض اوقات چیزوں کی چمک دمک اسراف پر مجبور کردیتی ہے۔ ایسی صورت میں اپنی طبیعت ، مزاج، موڈ یا نفس کو قابو کرکے نعمت کا حق ادا کرنا یعنی اسے مالک کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا شکر گذاری کا دوسرا درجہ ہے۔
یعنی اس مرحلے میں معاملہ یہ ہے کہ حالات کے دباؤ اور لالچ کے باوجود اپنے نفس اور موڈ پر قابو رکھا جائے۔ نگاہوں کو اس وقت بھی قابو رکھا جائے جب فحش منظر پوری آب و تاب کے ساتھ سامنےہو، مال اس وقت بھی حلال کمایا جائے جب بیوی بچوں کے تقاضے عروج پر ہوں وغیرہ۔
۳۔ تیسرا درجہ ۔ اپنی پسند و ناپسند کو ختم کردینا
اوپر کے دو درجات تو شکر گذاری کے لیے لازمی ہیں ۔ البتہ نعمت کے استعمال میں ایک درجہ یہ بھی ہے کہ انسان مکمل طور پر اپنی پسند و ناپسند سے دست بردار ہوجائے اور اس نعمت کو کامل طور پر مالک کی پسند کے تحت استعمال کرے۔ یہ درجہ لازم نہیں بلکہ عزیمت کا درجہ ہے۔اس درجے میں بعض اوقات انسان نعمتوں کے جائز استعمال کو بھی خدا کے حکم کے تحت خود کو دور کرلیتا ہے۔
مثال کے طور ابراہیم علیہ السلام کو اولاد کی نعمت ملتی ہے لیکن وہ خدا کے حکم کی تعمیل میں اسے قربان کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ انہیں ایک خاندان کی نعمت ملتی ہے لیکن وہ حضرت حاجرہ اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں بسا کر چلے جاتےہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پرآسائش زندگی میسر تھی لیکن آپ خدا کے حکم کی تعمیل میں دولت اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر دعوت حق بلند کرتے ہیں ، گالیاں سنتے ، تشدد برداشت کرتے ، طعنوں تشنیع کا سامنا کرتے او ر بالآخر اپنا گھر بار چھوڑ کر مدینہ ہجرت کرجاتے ہیں۔
عام انسانوں کے لیے یہ مرحلہ اس وقت آتا ہے جب خدا کا حکم پورا کرنے میں کوئی بہت بڑی نعمت کی قربانی دینی پڑ رہی ہو۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ والدین کی رضامندی اور خوشی کے لیے اپنی محبت کی قربانی دے دیتے ہیں، کچھ بہنوں کی شادی کرانے میں ساری عمر کی کمائی داؤ پر لگادیتے ہیں، کچھ دوسروں کو بچانے میں اپنی جان قربان کردیتے ہیں وغیرہ۔
۴۔ چوتھا درجہ ۔ حاصل شدہ نعمت سے فیض پہنچانا
عملی شکر گذاری کا آخری درجہ یہ ہے کہ جو نعمت حاصل ہے اس کو صرف بیوی بچوں ، ماں باپ اور قریبی لوگوں تک ہی محدود نہ رکھے بلکہ اس کا فیض دیگر لوگوں تک بھی پہنچائے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کو اگر مال کی نعمت ملی ہے تو وہ ضرورت سے زائد مال کو خدا کے بندوں میں تقسیم کرے، علم کی نعمت سے لوگوں کو بہر مند کرے، صحت ہے تو بیماروں کی مدد کرے، آسانی ہے تو مشکل میں گھرے لوگوں کو آسانیاں فراہم کرے ، آنکھیں ہیں تو نابینا کی مدد کرے۔ یہ فیض ہر شخص کے لیے ہوگا جو اس کے رابطے میں آجائے یا مدد کی درخواست کرے۔
چنانچہ اس مرحلے پر ایک شخص سخاوت کے دروازے کھول دیتا اور اپنی ضرورت سے زائد ہر شے کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیتا ہے۔ ایک شخص علم کے فروغ کے لیے اپنی جان کھپادیتا ہے ، ایک شخص لوگوں کی مدد کے لیے دن اور رات کی پروا نہیں کرتا۔
درجہ بندی کی اہمیت
عام طور پر کچھ لوگ درجہ بندی کی اس ترتیب کو مد نظر نہیں رکھتے اور وہ آخری درجے میں چھلانگ لگانا چاہتے ہیں ۔ یعنی ایک شخص کو مال ملے تو وہ اپنے بیوی بچوں کا حق بھی بعض اوقات غربا میں تقسیم کردیتا، تبلیغ کے نام پر بیوی بچوں کو چھوڑ کر بیابانوں میں دعوت دیتا رہتا ہے۔ یہ عمل شکر گذاری نہیں بلکہ ناشکری ہی ہے کیونکہ اس طرح ہم ملنے والی نعمت کا بنیادی حق تو ادا نہیں کر پاتے اور ثانوی حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شکر گذاری اور ناشکری کی چند مثالیں
۱۔ علم کی ناشکری یہ ہے کہ تکبرکیا جائے، اس سے دوسروں کو نقصان پہنچایا جائے، اس سے لوگوں کو حقیرثابت کیا جائے، اس سے لوگوں پر اپنی دھونس جمائی جائے، اس کو بلاوجہ اپنی ذات تک محدود کرلیا جائے۔
۲۔ مال کی ناشکری یہ ہے کہ تکبر کیا جائے، اسراف کیا جائے ، کنجوسی کی جائے، اسے ناجائز کاموں میں استعمال کیا جائے، اسے بالکل ہی استعمال نہ کیا جائے، اسے بے دریغ استعمال کیا جائے، اسے صرف اپنی ذات یا اپنے بیوی بچوں تک ی محدود رکھا جائے۔
خلاصہ
شکر گذاری اگر صرف زبان سے ہو اور عمل میں اس کا اظہار نہ ہو تو یہ منافقت ہے۔ شکر گذاری کا پہلا درجہ یہ ہے کہ نعمت کو خدا کے بیان کردہ جائزو ناجائز حدود میں استعمال کیا جائے، دوسرا درجہ یہ ہے کہ حق اداکرنے میں نفس اور طبیعت کو قابو میں رکھا جائے، تیسرا درجہ یہ ہے کہ نعمت سے دوسروں کو بھی فیض پہنچایا جائے اور آخری درجہ یہ ہے کہ اپنی پسند و ناپسند کو ختم کرکے صرف خدا کی پسند ہی کا خیال رکھا جائے۔

تبصرہ کریں

تبصرہ :