پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

الحلیم۔ بردبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Friday Feb 17, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحلیم۔ بردبار
ڈاکٹر محمد عقیل
الحلیم اللہ کی صفات میں ایک اہم صفت ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں بردباری کرنے والا، تحمل کرنے والا۔ حلم کا مطلب ہے جوش غضب سے اپنے نفس کو روکنا۔ اس کے معنی کو مزید کھولا جائے تو حلیم سے مراد وہ شخصیت ہوتی ہے جس میں جلد بازی نہ ہو، جو تحمل اور عزم کے ساتھ کسی بھی عمل کے مقابلے میں فوری رد عمل کا اظہار نہ کرے، وہ شخصیت جو جلد بازی سے کام خراب نہ کردے، وہ جسے اپنے اعصاب پر پورا قابو ہو، وہ جو اپنے آپ کو اچانک رد عمل سے روک کر رکھے اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرے، وہ جو جذبات سے مغلوب نہ ہو۔
اللہ کی صفت الحلیم سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی مخلوق پر ظاہری اور پوشیدہ انداز میں اپنی رحمت نازل کرتا رہتا اور ان کی نافرمانیوں اور مخالفت کے باوجود ان شفقت کرتا اور ان کی کوتاہیوں سے درگذر کرتا ہے ۔ اللہ کی اسی صفت حلم انسان کے لیے ایک نعمت ہے۔ اگر اللہ تعالی میں حلم نہ ہوتا تو اللہ ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں کب کا ہلاک کرچکے ہوتے، اللہ کے غضب سے زمین و آسمان پھٹ چکے ہوتے اور وہ قیامت جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے کب کی آ لگی ہوتی۔ لیکن اللہ کی یہی بردباری اور تحمل ہے وہ انسان کو مہلت دیتے ہیں حتی کہ برا بھلا کہنے والوں کو بھی فوری طور پر ہلاک نہیں کرتے اور انہیں موقع دیتے ہیں کہ وہ اصلاح کرلیں۔ نہ صرف اللہ موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ توبہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کو لغزشوں سے پاک ہونے کے لیے اپنی جانب سے خصوصی گائیڈلائن فراہم کرتے ہیں۔
صفت حلیم اللہ کی صفت الوہاب اور الغنی کے تحت آتی ہے۔ صفت غنی یا وہابیت وہ صفت ہے جسے دیگر صفات کی مدد کی ضرورت نہیں۔ باقی صفات تخلیق، علم، فنا، بقا وغیرہ کو کسی حقیقت میں ظاہر ہونے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہابیت کے مطابق اللہ تعالی انسان کو وسائل عطا کرتے اور انہیں برتنے کا موقع دیتے ہیں۔ ان وسائل کو انسان خدا کے طے کردہ قوانین کے مطابق بھی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ان قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے۔ لیکن اللہ کی صفت حلم آزمائش کی وجہ سے انسان کو اس کی نافرمانی کی دوری سزا نہیں دیتی بلکہ تحمل و بردباری کی بنا پر اس کے نتیجے کو مؤخر کردیتی ہے۔
انسان کے لیے صفت حلم
قرآن میں یہ صفت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خاص طور پر استعمال ہوئی ہے۔ان کے ساتھ ہی حضرت شعیب اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ انسان کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ اپنے اندر حلم پیداکرے ۔ صفت حلم و بردباری کو بیدار کیے بنا کوئی شخص حقیقت میں کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ اس صفت کے بنا جو بھی حاصل ہوتا ہے وہ مختصر مدت کے لیے ہوتا ہے یا محض ایک فریب ہوتا ہے۔ الحلیم ہی وہ بنیادی صفت ہے جس کے تحت دیگر صفات سے دیرپا استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب اللہ تعالی کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی شخصیت میں صفت حلم بیدار کردیتے ہیں۔ تاکہ اسے زندگی میں جو کچھ بھی ملے وہ دیرپا ہو۔
مثال کے طور پر ایک شخص کو اگر دولت مل جائے لیکن اس میں حلم و بردباری نہ ہو تو وہ بہت جلد فضول خرچی میں دولت کو ختم کرکے فقیر بن سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بڑا عالم اگر غیر متحمل مزاج ہو تو اپنے علم کو جلد بازی میں استعمال کرکے نادانی کا رویہ اختیار کرسکتا ہے۔ ایک مینجر جلد بازی میں غلط فیصلے کرسکتا، سیاست دان ریاست کو داؤ پر لگاسکتا اور ایک بزنس مین عارضی ناکامیوں کی بنا پر جلد ہمت ہارسکتا ہے۔
یہ صفت حلم کی کمی ہی ہوتی ہے کہ ایک عام شخص جلد غصے، چڑچڑاہٹ، بدمزاجی، عدم برداشت، ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی کی بنا پر شادیاں ناکام ہوجاتیں، گھر اجڑ جاتے، خاندان فساد کا شکار ہوجاتے، ریاست انتشار کا شکار

ہوجاتی اورمعاشرے باہمی فسادات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
حلم کے درجات
حلم یعنی بردباری کے درجات ہوتے ہیں۔ ایک درجہ تو وہ ہے جو ہر شخص کے لیے لازم ہے۔ یہ لازمی درجہ نہ ہو تو انسان کے لیے زندگی پریشانیوں کی آماجگاہ بن جائے گی اور وہ جلد بازی، ٹینشن یا بے صبر ی کی بنا پراپنا ہرکام بگاڑ دے گا۔ دوسرا درجہ عزیمت کا درجہ ہے۔ یعنی جہاں پر طبعی حالات ناموافق ہوں اور ہر بڑے سے بڑا انسان بوکھلاہٹ کا شکار ہوجائے، وہاں بھی انتہائی برداشت، بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ایک عزیمت کا درجہ ہے۔
تحمل کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں ۔ایک چھوٹے سے تالاب میں اگر ایک بڑا پتھر پھینکا جائے تو اس میں بھونچال آجاتا ہے اور اس تالاب کا سارا سکون درہم برہم ہوجاتا ہے، اس کی لہروں میں تلاطم برپا ہوتا ہے اور پانی کی ساری ترتیب تتر بتر ہوجاتی ہے اور اگر تالاب بہت کم گہرا ہو تو اس پتھر کی بنا پر اس کا وجود ہی بگڑ جاتا اور بعض اوقات ختم ہوجاتا ہے۔ دوسری جانب وہی پتھر سمندر کے بیچوں بیچ پھینکا جائے تو اس سمندر اپنی گہرائی کی بنا پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور و ہ اسی سکون و اطمیان کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم و دائم رہتا ہے۔
انسان کا وجود بھی اسی کی طرح ہے۔ اس کو ملنے والی مصیبت یا ناموافق حالات کا ٹکراؤ پتھر ہیں۔ جس انسان میں بردباری کی گہرائی زیادہ ہوگی تو وہ سمندر کی مانند اپنی جگہ قائم و دائم بھی رہے گا اور پرسکون ر ہ کر اس مصیبتوں کے پہاڑ کوبھی اپنے متحمل وجود میں سمولے گا۔ دوسری جانب جس انسان کا ظرف چھوٹا ہوگا تو مصیبتوں کے پتھر پڑنے پر بے سکون ہوجائے گا، اس کا وجود تتر بتر ہوگا، وہ ابتری ، بوکھلاہٹ اور پریشانی میں اس مصیبت کے پتھر کو اپنے اوپر حاوی کرلے گا اور ایک وقت آئے گا کہ وہ پتھر اس کی پوری شخصیت کو نگل لے گا۔
صفت حلم کا تقاضا
ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے ساتھ بے انتہا بردباری اور تحمل سے پیش آتے ہیں، وہ اپنی نافرمانی کرنے والوں کو فوری سزا نہیں دیتے، وہ ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتے حتی کے اپنے خلاف جانے والوں سے بھی شفقت کا معاملہ کرتے اور ان کے واپس لوٹ آنے کی حوصلہ افزائی کرتے اور پلٹ آنے والوں کی لغزشیں اپنے قانون کے تحت معاف کردیتے ہیں۔ یہی معاملہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ صفت حلم کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے مخالفین کے ساتھ فوری بدلہ لینے سے گریز کرے، و ہ انہیں معاف کرے، ان سے درگذر کرے، انہیں پلٹنے کا نہ صرف موقع دے بلکہ اس واپس پلٹنے میں وہ ان کی مدد بھی کرے۔ اس کے باوجود وہ اگر اپنا رویہ درست نہ کریں تو وہ بھی انہیں اللہ کی رضا کے لیے انہیں معاف کرنے کی کوشش کرے کیونکہ وہ بھی خدا سے یہی چاہتا ہے کہ اللہ اس کے گناہوں کے باوجوداسے معاف کردے۔

صفت حلم ظاہر ہونےکا وقت
اللہ کی صفت حلم اتنی زیادہ ضروری ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ تمام انسان خود بخود سکون کے عالم میں چلے جاتے ہیں۔ اس وقت کو ہم نیند کا وقت کہتے ہیں۔ یہ ہر شخص کے لیے چوبیس میں سے آٹھویں حصے میں آتی ہے۔
صبر اور حلم میں فرق
عام طور پر صبر اور تحمل کو مترادف کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت صبر اور حلم میں فرق ہے۔ حلم ایک صفت ہے جو کسی شخص میں ایک پوشیدہ قوت کی طرح موجود ہوتی ہے۔ صبر ایک فعل یا کام ہے جو مخصوص انجام دینا ہوتا ہے۔ کسی شخص میں تحمل کی بنیادی قوت موجود نہ ہو تو اس کے لیے صبر کرنا یعنی مخصوص حالات میں خود پر قابو رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
اللہ تعالی نے اپنے لیے صفت حلم بیان کی ہے لیکن کہیں یہ نہیں آیا کہ اللہ تعالی صابر بھی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر ناموافق اور ناقابل کنٹرول حالات میں خود پر قابو رکھنے کا نام ہے۔ اللہ تعالی کے لیے تو کوئی بھی حالات ناموافق نہیں کیونکہ آپ تو مسبب الاسبا ب ہیں۔ اسی لیے اللہ کے لیے صابر کی صفت بیان نہیں ہوئی ہے۔
تحمل و بردباری پیدا کرنے کا طریقہ
اگر ہم یہ جان لیں کہ دین و دنیا کی بھلائی تحمل و بردباری کی طاقت میں ہے تو شاید اس طاقت کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ساری دولت داؤ پر لگادیں۔ ایک شخص جس میں تحمل ، بردباری اور خود پر قابو کی صلاحیت نہ ہو وہ نہ تو دین پر چلنے میں خود کو قابو رکھ سکتا ہے اور نہ ہی دنیا میں کوئی مقام لے سکتا ہے۔
تحمل کے حصول کے لیے مضبوط نفسیات کا حامل ہونا ضروری ہے۔ اعصاب کو مضبوط بنانا اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ ۱۔تحمل پیدا کرنے کے لیے پہلا مرحلہ اپنی سوچوں پر قابو کرنا ہے۔ منشتر خیالی اعصابی کمزوری کو جنم دیتی ہے۔ یکسوئی کے حصول کے لیے مراقبے ، یوگا یا دیگر ذہنی مشقوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
۲۔ تحمل ایک طاقت ہے اور طاقت کا حصول بیلنس غذا پر منحصر ہے۔ چنانچہ غذا متوازن لینا بھی اس سلسلے کا ایک اہم مرحلہ ہے۔
۳۔ عملی مشق کرنا بھی بہت اہم ہے۔ جب کبھی ناموافق حالات کا سامنا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تربیت کا بہت اہم ذریعہ ہے۔ اس موقع پر کسی بھی قسم کے منفی رد عمل کا اظہار کرنا جائز نہیں۔بلکہ اپنا ظرف کو بڑا کرکے مردانہ وار مشکل صورت حال کو جھیلنا چاہیے۔
۴۔ تحمل و بردباری کے لیے اللہ پر توکل و بھروسہ بہت اہم ہے۔ اپنا کام کرلینے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا اور پھر تمام معاملات اسے سونپ کر اس کے فیصلے پر راضی ہوجانا بھی تحمل کی عادت بیدار کرنے کے لیے لازمی ہے۔
۵۔ حلم پیدا کرنے کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔ چونکہ یہ صفت وہاب یا غنی کے تحت آتی ہے اس لیے حروف مقعطات میں المص کے اسم اعظم کو پکار کر اللہ سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہوکر کعبے کی جانب رخ کرکے آنکھیں بند کی جائیں اور تصور میں اللہ کی صفت حلم کو ذہن میں رکھ کر ہلکی آواز میں المص قرات کے انداز میں دس مرتبہ پڑھیں۔ ۲۱ دن تک یہ عمل کرنے اور اوپر بیان کیے گئے اقدامات کرنے سے انشاءاللہ صفت حلم بیدار ہوگی اور طبیعت میں ٹہراؤ آئے گا۔
ڈاکٹر محمد عقیل

تبصرہ کریں

تبصرہ :