پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

الجبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Apr 16, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارحمنا یا جبار
اللہ کی صفت “جبار” کا شمار طاقت و غلبے کی صفات میں ہوتا ہے۔”الجبار ” کے معنی قوت و شوکت کی مالک، زورآور، قوی اور قاہر ہستی کے ہیں۔ عرب جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہتے تھے جس کے کھجوروں یا پھل کو حاصل کرنے کے لیے کسی

سہارے یا سیڑھی کی ضرورت ہوتی تھی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ تصور سے زیادہ طاقتور، گمان سے زیادہ قوی اور شان و شوکت کے مالک ہیں اور کسی سرکش، بڑے سے بڑے طاقتور اور باجبروت بادشاہ کا ناپاک ہاتھ اللہ کی عظمت اور طاقت کی بلندی کو چھو بھی نہیں سکتا۔ خدا کے جبار ہونے کا لازمی نتیجہ ہے کہ وہ سرکش اور فساد پھیلانے والوں کو تنبیہ کرے اور نہ ماننے کی صورت میں اپنی لامتا ہی طاقت کے ذریعے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں فنا کردے ۔
بالعموم جبا ر کا لفظ پڑھ کر ایک ظالم اور جابر ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے ۔ اللہ تعالی چونکہ تمام عیوب سے پاک ہیں اس لیے ان کی صفات بھی ہر قسم کے عیب سے پاک ہوتی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ ایک بے انتہا شفیق ، بربار، نرمی برتنے والے اور مہربانی کرنے والے ہیں۔ ہم انسانوں میں جب رحمت کی صفات دیکھتے ہیں تو ایسا انسان عام طورپر افراط کا شکار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ وہ کسی بدترین مجرم کو بھی اپنے مزاج کی نرمی کی بنا پر چھوڑنے کی سفارش کرتا، کسی قاتل کو بیخ کنی کے لیے پیش نہیں کرتا اور کسی ظالم کے خلاف سختی کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ یہ اس کے مزاج کا ایک عیب ہے جو صفت رحمت کے بے جا افراط سے پیدا ہوا ہے۔
اللہ تعالی کا معاملہ یوں نہیں ۔ اللہ کی صفت رحمت انہیں انصاف کے تقاضے پورا کرنے سے نہیں روک سکتی۔ بلکہ یہ اللہ کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ مظلوم کو اس کا حق دلوایا جائے اورمقتول کی داد رسی کی جائے ۔ اس رحمت کی صفت کے ساتھ ساتھ صفت جبار کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر فرعون ، نمرو د و شداد کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ پھر ابو جہل کا سر بچوں سے کٹوادیا جاتا ہے، پھر ابو لہب کو مٹی میں ملادیا جاتا ہے۔ پھر عادو ثمود کے عالیشان محلات زمیں بوس ہوجاتے ہیں، پھر نوح کی بستی پانی میں ڈبودی جاتی ہے، پھر قوم لوط پر سنگریزے برسائے جاتے ہیں اور خدا کی رحمت صفت جبار کے ساتھ اپنا اظہار کردیتی ہے۔
لیکن یہ کام ماضی میں ہوا تو کیا آج ممکن نہیں؟ کیا آج کے نمرود و شداد تک خدا کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا؟ کیا آج خدا کی فوجیں کم پڑ چکی ہیں؟ کیا آج اس کے ہاتھ سے تندو تیز ہوا کی باگیں چھوٹ چکیں؟ کیا آج زمین نے اس کا حکم ماننے سے انکار کردیا ہے؟ کیا آج بادلوں نے اس کے خلاف بغاوت کردی ہے؟ کیا آج سائنس نے اس خدا، تنہا خدا ، کی صفت جباریت کو معطل کردیا ہے؟ نہیں ایسا نہیں۔ ہر گز نہیں۔ آج بھی وہ اپنی مخلوق کو اسی طرح دیکھ رہا ہے جیسے پہلے دیکھتا تھا، آج بھی اس کے فرشتے ہتھیار وں سے لیس کھڑے حکم کے منتظر ہیں، آج بھی زمین اس کے حکم پر پلٹنے کو تیار ہے، آج بھی آسماں اس کے حکم کی تعمیل میں گرجانے کو بے چین ہے، آج بھی سورج مغرب سے نکلنے کی تاب رکھتا ہے ، آج بھی تارے ٹوٹ کے گرنے کو بے تاب ہیں۔
ماضی میں بھی لوگوں نے خدا کو فراموش کردیا ۔ وہ اپنے اسباب پر بھروسہ کرتے رہے، وہ غیر خدا کی سفارش پر بھروسہ کرتے رہے ، وہ دنیا کی زندگی میں خدا کو بھول بیٹھے ۔ آج کا انسان بھی اسباب و علل کے فتنے میں پڑ کر یہ بھول رہا ہے کہ ان اسباب کا بھی کوئی سبب ہے، کوئی ہے جس کا اشارہ ساری کائنات تباہ کرسکتا ہے۔ و ہ بھول بیٹھے کہ خدا رحیم و رحمٰن ہے تو جبا ر بھی ہے۔
کیا خبر کہ مشاہدوں کے دفتر لپیٹے جاچکے ہوں، کیا خبر کہ مہلت ختم ہوچکی ہو، کیا خبر وہ وقت آن پہنچا ہو جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑجائیں گے، جب محکوموں کے پاؤں تلے یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی اور اہل حکم کے سر اوپر یہ بجلی کڑ کڑ کڑکے گی۔ کیا خبر وہ گھڑی آن پہنچی ہو جب تاج اچھالے جائیں گے، جب تخت گرائے جائیں گے، جب اہل صفا مردود حرم مسند پہ بٹھائے جائیں گے۔ کِیا خبر ، خدا کی صفت جبار کے ظہور کا وقت آن پہنچا ہو۔
ارحمنا یا جبار
پروفیسر محمد عقیل
۱۵مارچ ۲۰۱۶

تبصرہ کریں

تبصرہ :