پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

کہیں یہ مسجد ضرار تو نہیں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Sunday Apr 16, 2017

کہیں یہ مسجد ضرار تو نہیں؟
ڈاکٹر محمد عقیل
مسجد کو خد ا کا گھر کہا جاتا ہے یعنی ایک ایسی جگہ جہاں فرشتے خاص طور پر رحمتیں کی بارش کے لیے جمع ہوتے ، جہاں خدا کی خصوصی برکتیں عبادت گذاروں پر ناز ل ہوتیں اور جہاں خدا کی قربت کا غیر معمولی احساس ہوتا ہے۔مسجد کی پاکیزہ فضا اردگرد کے علاقے والوں کے لیے بھی باعث رحمت ہوتی ہے

۔
چونکہ مسجد کو اللہ سے ایک خاص نسبت ہے اس لیےاس جگہ کی نہ صرف ظاہری پاکی کا اہتمام ہونا چاہیے بلکہ اس کے منتظمین کی نیت میں اخلاص کا ہونا ضروری ہے۔ اگر مسجد میں ظاہری پاکی کا اہتمام تو کیا جائے لیکن اس کی انتظامیہ کا ایجنڈاخالص نہ ہو،یہاں شرک و بدعات کو علمی طور پر ثابت کیا جائے، یہاں فرقہ پرستی کی تعلیم دی جائے، یہاں نفرتوں کے بیج بوئے جائیں،یہاں کے ممبر ومحراب کو تشدد کے لیے استعمال کیا جائے، یہاں لاوڈ اسپیکر سے صبح و شام لوگوں کا جینا حرام کردیا جائے یا یہاں خدا کے نام کو استعمال کرکے اپنے معاشی مقاصد کی تکمیل کی جائے تو یہی مسجد باعث رحمت کی بجائے باعث زحمت بن جاتی ہے ۔اب یہاں رحمت کے فرشتوں کی بجائے عذاب کے فرشتے ڈیرہ ڈال لیتے ہیں، اب یہاں خدا کی شفقت کی جگہ خدا کا غضب چھانے لگتا ہے۔ بالآخر یہی مسجد اپنے علاقے والوں کے لیے اصلاح کی بجائے فساد کا باعث بن جاتی ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے سیرت نبوی سے رجوع کرتے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد ہوئی تو سب سے پہلی مسجد جس کی بنیاد رکھی وہ مسجد قبا تھی ۔یہ مدینے کے مضافات میں تھی جبکہ مسجد نبوی مدینہ شہر میں تھی۔ غزوہ تبوک سے قبل کچھ منافقین نے مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانے کے لیے ایک سازش یہ بہانہ کیا کہ مسجد قبا ان کے لیے دور پڑتی ہے اس لیے وہ ایک اور مسجد بنارہے ہیں ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرکے انہیں لڑوایا جائے اور بالآخر رسالت کے ادارے پر حملہ کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے درخواست کی کہ نبی کریم وہاں آکر نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہونے والے تھے اس لیے آپ نے فرمایا کہ واپسی پر اگر اللہ نے چاہا تو نماز پڑھا لوں گا۔
تبوک سے واپسی پر اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی بھیجی اور واشگاف الفاظ میں سورہ توبہ میں یہ فرمایا:

“کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور رسولؐ کے خلاف بر سر پیکار ہو چکا ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔
تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عباد ت کے لیے) کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔
پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات بنیاد پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی (جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہو جائیں اللہ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے۔ سورہ توبہ آیات ۱۰۷ تا ۱۱۰ ۔”

ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ کسی عمارت کا مسجد کے نام سے منسوب ہوجانا اسے تقدس فراہم نہیں کرتا ۔ خدا کا گھر تو وہی مسجد ہوتی ہے جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہو ، جس کا مقصد خدا کی رضا کا حصول ہو اور جہاں لوگ فرقہ بندی اور سازشوں سے خود بھی پاک رہنا چاہیں اور دوسروں کے تزکیے کا سبب بنیں۔ فرقہ بندی والی مسجد تو مسجد ضرار ہے یعنی نقصان اور فساد برپا کرنے والی مسجد۔
اس تناظر میں اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو بے شمار مساجد خدا کے نام پر بنی ہوئی ہیں لیکن افسوس کہ ان میں سے اکثر کی بنیاد نفرت، تفرقہ بازی اور باہم لڑائیاں کروانا ہے۔ ایسی مساجد محض عمارتیں ہیں جن کا اسلام، خدا ، رسول اور اس کی تعلیمات سے دور دور کا واسطہ نہیں۔ لیکن اس کے منتظمین اس کےتقدس کا دعوی کرتے، اسے خدا کے نام سے منسوب کرتے اور اپنے خلاف بات کرنے والے کو خدا اور رسول کا منکر مشہور کرکے اس کے خلاف کاروائیاں شروع کردیتے ہیں۔ اوپر کی آیات کو دوبارہ پڑھ لیں تو علم ہوگا کہ آیات کس خوبصورتی سے اکثرفساد برپا کرنے والی مساجد پر منطبق ہورہی ہیں۔
لیکن یہاں ہمیں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے حق بات کہنی چاہیے۔ حق یہی ہے کہ ساری مساجد اس زمرے میں نہیں آتیں۔ بعض مساجد ایسی بھی ہیں جو واقعی تقوی پرست لوگوں کے ہاتھ میں ہیں ۔ یہ مساجد کسی خاص مسلک کی نہیں بلکہ ہر مسلک میں موجود اچھے لوگوں کی ہیں۔
کچھ لوگ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ آیا ان مساجد کو ڈھادیا جائے جو شر پھیلانے کا سبب ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو ایک فساد کو ختم کرنے کے لیے ایک اور فساد جنم لے گا۔ آج نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود ہیں اور نہ ہم میں سے کسی پر وحی آسکتی ہے ۔ اسی لیے ہم متعین طور پر کسی مسجد کو مسجد ضرار نہیں کہہ سکتے اور نہ کہنا چاہیے۔ البتہ کچھ اقدامات ضرور کرنے چاہئیں تاکہ اپنے محلے ، شہر اور ملک کے کو اس عذاب ، شدت پسندی اور دہشت گردی سے محفوظ رکھ سکیں جو اس وقت پورے ملک میں برپا ہے۔
۱۔ ہم میں سے ہر فرد ان خطیبوں اور مدارس سے دور رہے جو نفرت، فرقہ بازی اور تشدد کی باتیں کرتے ہیں۔
۲۔ ریاست کی سطح پر قانون سازی کی جائے اور قانون کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔
۳۔ مساجد ومدارس کو فرد، مسلک، جماعت یا ادارے کی بجائے ریاست کے کنٹرول میں ہونا چاہیے جیسے سعودی عرب اور مڈل ایسٹ ممالک میں ہوتا ہے۔
۴۔ خطیب کوریاست کی جانب سے لکھا ہو ا خطبہ آئے جس میں زیادہ تر غیر متنازعہ اور تزکیہ نفس کی باتیں ہوں ۔
۵۔ مساجد کو ایک تربیت گاہ کے طور پر استعمال کیا جائے جہاں ملٹی میڈیا، انٹرنیٹ، وڈیو اور آڈیو کے ذریعے ایک اچھا مسلمان بنانے اور تزکیہ نفس کی تعلیم دی جائے اور مسجد جیسی جگہ کو ایک درس گاہ کے طور پر استعمال کیا جائے۔
۶۔ ضروری نہیں کہ تمام تربیت ایک مولوی صاحب یا درس نظامی کے فاضل مدرس ہی دیں۔ گیسٹ اسپیکر کے طور پر ایک نفسیات دان، پروفیسر، سائنسدان، ڈاکٹر ، سماجی علوم کے ماہر وغیرہ سب کو بلایا جاسکتا اور ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
۷۔ اگر ممکن ہو تو خواتین کو بھی مسجد میں نماز ادا کرنے اور مسجد کے ٹریننگ سیشن سے استفادہ کرنے کی اجازت دی جائےا ور اہتمام کیا جائے۔
۸۔ مستقبل میں کچھ تربیت کے بعد مسجد ومدارس میں مختلف مسالک کے لوگوں کو دعوت دی جائے جہاں وہ شائستہ اسلوب میں اپنا نقطہ نظر بیان کریں۔
۹۔ مسجد ومدارس میں تعلیم کی بنیاد صرف قرآن اور معلوم سنت پر رکھی جائے۔
۱۰۔ حکومتی مدارس کے نصاب کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں پڑھانے والے مدرسین کی ٹریننگ کو لازمی قرار دیا جائے اور ان کے لیے این ٹی ایس ، بی ایڈ، ایم ایڈ یا اسی نوعیت کے کسی اور سرٹفکیٹ کو لازم قرار دیا جائے۔
۱۱۔ امام احمد بن حنبل کے قول کو اچھی طر ح تمام مساجد و مدارس کا موٹو بنادیا جائے کہ ” ہم اپنی رائے کو درست سمجھتے ہیں اس احتمال کے ساتھ کہ مخالف کی رائے بھی درست ہوسکتی ہے۔

تبصرہ کریں

تبصرہ :