پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

سورہ الحدید آیت ۲۰ تا ۲۴ کا خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Friday Jun 9, 2017

سورہ الحدید آیت ۲۰ تا ۲۴ کا خلاصہ
دنیا جہان کی باتیں سمجھنے والو، ذرا یہ بھی جان لو کہ دنیا اور آخرت میں سے کونسی زندگی بہتر ہے؟ دنیا کی زندگی تو بچپن کے کِھیل تماشے، جوانی کی زینت و مقابلہ اور ادھیڑ عمر کی مال و اوالاد میں ایک دوسرے سے

آگے نکل جانے اور پھر مرجانے کا نام ہے۔ یہ ظاہری زندگی تو ایک حقیر پودے کی مانند ہے۔ جب بارش ہونے سے کونپل پھوٹتی ہے تو یہ وہی تمہار ا بچپن ہے جسے آخرت کے انکاری دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں ۔ پھر یہ فصل جوبن اور جوانی کو پہنچتی ہے پھر یہ زرد ہوکر ادھیڑ پن کو پہنچ جاتی ہے اور آخر میں یہ تمہاری طرح فنا ہوجاتی ہے۔ کھیتی تو فنا ہوجاتی ہے لیکن مرنے کے بعد تم فنا نہیں ہوگے۔ اگر تم نے خود کو حیوانی سطح سے اوپر نہ کیا تو آخرت میں اس بے پروائی کا انجام شدید عذاب ہے ۔ اور اگر تم نے خود کو اس دھوکے کی پرکشش مادی دنیا سے بلند کرلیا تو اللہ کی مغفرت اور رضا تمہاری منتظر ہے۔
تو اس پرفریب حیوانی سطح سے دو ر بھاگو اور دوڑو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی جانب جو اس دنیا وی زندگی کی طرح محدود نہیں بلکہ اس کی وسعت زمین و آسمان کے برابر ہے۔ یہ جنت اللہ اور اس کے رسول پر حقیقی یقین رکھنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس دنیا کی چکاچوند حقیقت نہیں ، اللہ کا ابدی فضل تو یہی جنت کی زندگی ہے جسے وہ اپنی چاہت اور حکمت سے میرٹ پر جس کو چاہے عطا کرتا ہے ۔اس کے فضل کا تم اندازہ نہیں کرسکتے کہ وہ کتنا بڑا فضل کرنے والا ہے۔
البتہ جب تم اس پرفریب حیوانی زندگی سے اوپر اٹھو گے تو مشکلات پیش آئیں گی اور مصیبتیں بھی آپڑیں گی۔ تو جب بھی کوئی مصیبت آسمان سے طوفان یا تباہی کی شکل میں نازل ہو ، زمین میں زلزلے، سیلاب، قحط، شدید گرمی یا سردی کی شکل میں آئے یا تمہاری اپنی ذات میں کسی بیماری یا دکھ کی شکل میں نمودار ہو تو سمجھ لینا کہ امتحان کا وقت شروع ہوچکا ۔ یہ وہ امتحان ہے جو خدا نے اس کے نازل ہونے سے پہلے ہی مقرر کردیا اور لکھ دیا تھا اور یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

اور اللہ نے تمہیں یہ سب اس لیے بتایا تم جان لو امتحان کے لیے دی گئی مصیبتیں اور نعمتیں اللہ کی جانب سے ہوتی ہیں۔ پس تم آفتوں کے آپڑنے پر مایوس ہوکر نہ بیٹھ جانا اور نہ ہی نعمتوں کے ملنے پر اترانے لگ جانا ۔ جس طرح مصبیتیں آزمائش کے لیے ہوتی ہیں تو نعمتیں بھی آزمائش ہی کے یے ہوتی ہیں۔ بس نعمتوں کا سبب محض اپنا فضل اور قابلیت نہ سمجھ لینا۔ اور اگر تم نے خود کو بڑا سمجھ لیا تو جنت کی منزل سے دور ہوجاوّ گے کیونکہ اللہ کسی متکبر کو پسند نہیں کرتا۔
اور جو کوئی اپنے مال، اولاد، علم ، جائداد یا حسن کا سبب محض اپنی قابلیت سمجھتا ہے تو وہ بخیل ور کنجوس بن کر خدا کے دیے گئے خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے قول و فعل سے باقی لوگوں کو بھی اکساتا ہے کہ وہ بھی بخل کریں اور اللہ کی نعمتیں لوگوں میں تقسیم کرنے سے گریز کریں۔ درحقیقت وہ دوبارہ اسی حیوانی زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے جس سے اوپر اٹھنے کا اس نے فیصلہ کیا تھا۔ تو جو کوئی بھی حق کی راہ سے پلٹ گیا اور اللہ سے منہ موڑ لیا تو اللہ بھی اس سے بے نیاز ہے کیونکہ اللہ تو پہلے ہی اپنی صفات میں ایک مکمل اور لائق تعریف ہستی ہے۔

آیات کا ترجمہ ہے:
خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کردیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھُس بن جاتی ہے۔ جبکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
تم اپنے پروردگار کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کےلئے ایک دوسرے سے آگے نکل جاؤ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کے برابر ہے۔ وہ ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
کوئی بھی مصیبت جو زمین میں آتی ہے یا خود تمہارے نفوس کو پہنچتی ہے، وہ ہمارے پیدا کرنے سے پہلے ہی ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے (اور) یہ بات بلاشبہ اللہ کے لئے آسان کام ہے
یہ اس لئے کہ جو کچھ تمہیں نہ مل سکے اس پر تم غم نہ کیا کرو اور جو کچھ اللہ تمہیں دے دے اس پر اترایا نہ کرو اور اللہ کسی بھی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو منہ موڑے تو اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اور وہ اپنی ذات میں محمود ہے۔
اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِيْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ۭ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا ۭوَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ 20؀
سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ 21؀
مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا ۭ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ 22۝ښ
لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِۨ 23۝ۙ
الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ 24؀

تبصرہ کریں

تبصرہ :