پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Friday Jun 23, 2017

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن کا نزول اس رات میں ہوا ہے جس میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے اور خدا کے منصوبوں کو

زمین پر نافذ کرنے کے عملی اقدامات خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔دوسرا مضمون شب قدر یعنی تقدیر یا منصوبہ بندی والی رات کی اہمیت کو بیان کرتا ہے اور تیسرا مضمون ان تدابیر کی جانب اشارہ کرتا ہے جو خدا کی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے اس رات میں نافذ کی جاتی ہیں۔
سورہ کی تفصیل کیا ہے؟
اس سورہ میں پانچ آیات ہیں۔ دوسری جانب انہی پانچ آیات کے مضمون کو سورہ دخان کی پانچ آیات میں دوہرایا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ قدر کی تفہیم کے لیے سورہ دخان کی پانچ آیات کو سامنے رکھنا بھی بڑا ضروری ہے۔ سورہ دخان کی پانچ آیات یہ ہیں۔
اس کتاب مبین کی قسم ۔ بیشک ہم نے اسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کردینے والے تھے ۔ اس رات میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے ۔ ہر حکم ہماری جانب سے صادر ہوتا ہے ہم ہی (فرشتوں کو )بھیجنے والے ہیں ۔(سورہ الدخان آیات ۲ تا ۶)
غور کریں تو ان پانچ آیات میں بھی سورہ قدر کی تفصیل ہے۔ چنانچہ ان آیات کو سامنے رکھا جائے تو سورہ قدر کی تفہیم اور آسان اور واضح ہوجاتی ہے۔
شب قدر کا قرآن سے کیا تعلق ہے؟
اس سورہ میں سب سے پہلے تو قرآن کا شب قدر سے گہرا تعلق بیان ہوا ہے۔ جب اللہ تعالی نے اس دنیا سے آخری بار آفیشل سطح پر خطاب کرنے کا فیصلہ کیا تو اس خطاب کی ابتدا اسی رات کو ہوئی۔ یعنی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی تو وہ رات شب قدر ہی تھی ۔خداوند عالم کا قیامت سے قبل یہ آخری آفیشل خطاب ایک عظیم خدائی منصوبے کی ابتدا ہے اسی لیے اس خطاب کی ابتدا عظیم منصوبوں اور تنظیم والی رات میں ہوئی ۔ اس عظیم بابرکت رات کو جب خدا کے فرشتے اپنے ہیڈ جبریل امین کی نگرانی میں نازل ہورہے ہوتے ہیں۔ اس عظیم اہتمام کے بعد کسی شیطان مردود کی مجال نہیں کہ پر بھی مار سکے اور خدا کی اس عظیم تدبیر کے نفاذ میں کوئی رخنہ اندازی کرسکے۔
قدر کا کیا مطلب ہے؟
اسے لیلۃ القدر بھی کہا گیا اور لیلۃ المبارکہ بھی۔ قدر کے معنی عزت و منزلت کے بھی ہیں اور تقدیر کے بھی۔ جبکہ تقدیر کے تخمینہ لگانا، منصوبہ بندی کرنا، تنظیم کرنا یا ساخت بنانے کے ہیں۔ تو یہاں شب قدر سے مراد دونوں ہی مفہوم ہیں ۔ یعنی ایک تو یہ رات بہت مبارک ، قدر و منزلت والی رات ہے ۔ دوسرا یہ کہ یہ رات ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ کی جانب سے تمام معاملات کا حکمت کے ساتھ حکم دیا جاتا، ان کی منصوبہ بندی کی جاتی، ان کی تنظیم (Organization) کی جاتی اور تمام امور کے بارے میں اصولی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔یہ مفہوم اس سورہ کے نام ” قدر” سے بھی واضح ہے جس کا مطلب ہی تقدیر یعنی منصوبہ اور تنظیم کے ہیں ۔ اس مفہوم کی وضاحت سورہ الدخان کی آیت سے بھی ہوجاتی ہے جس میں لکھا ہے کہ اس میں ہر اہم کام کا فیصلہ حکمت سے کردیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تقدیر سے مراد منصوبہ بندی یا تنظیم کیوں لیا گیا جبکہ ہماری مروجہ فکر میں تو تقدیر سے مراد وہ علم الٰہی ہے جو اس نے پہلے سے لکھ رکھا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے جب بھی تقدیر کا لفظ استعمال کیا ہے تو اسے منصوبہ بندی یا تنظیم کے طور پر ہی لیا ہے۔ اس کے دلائل ان آیات میں ہیں:
’’وہی برآمدکرنے والا ہے صبح کا اوراس نے رات سکون کی چیزبنائی اورسورج اورچانداس نے ایک حساب سے رکھے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ ، (انعام6: 96)
’’اورسورج اپنے ایک معین مدارمیں گردش کرتا ہے ۔یہ خدائے عزیز وعلیم کی(تقدیر ) تنظیم ہے۔‘‘ (یس36: 38)
’’ہم نے ہرچیزایک(تقدیر ) معین حساب (Precise Calculation) کے ساتھ پیداکی۔‘‘ ، (قمر54: 49)
جہاں تک کچھ چیزوں کے تقدیر میں پہلے سے لکھے ہونے کا تعلق ہے تو یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر کبھی بعد میں بات کی جاسکتی ہے۔ البتہ قرآن میں تقدیر سے مراد کسی کے لیے منصوبہ بندی کرنا اور اس کا ایک معین حساب مقرر کرنا یا تنظیم کرناہے ۔
انگلش کے تراجم میں بہت عمدہ طریقے سے ” تقدیر ” کا ترجمہ کیا گیا ہے جو یہ ہے۔
1. Reckoning-the action or process of calculating or estimating something.
2. Measure or Measuring
3. An arrangement of the Mighty
4. Determination
5. Calculation
6. Structure, arrangement, scheme, plan, pattern, order, form, format, framework, system, composition, constitution, shape, make-up, configuration; systematization, methodization, categorization, classification, codification
ان تمام الفاظ کو دیکھیں تو یہ منصوبہ بندی، تنظیم ، تخمینے یا پیمانہ مقرر کرنےیا حساب معین کرنے کے معنی ہی میں آتے ہیں اور انگریزی کے مترجموں نے بالعموم تقدیر کا مفہوم” لکھی ہوئی تقدیر لینے سے گریز” کیا ہے ۔اردو مترجمین نے تقدیر کے لفظ کا ترجمہ کرنے کی بجائے اسے تقدیر ہی لکھ دیا جس سے عام ذہن میں کنفوژن پیدا ہوتی ہے۔
شب قدر میں کس قسم کے کاموں کے فیصلے ہوتے ہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ اس رات میں کس قسم کے کاموں کے احکامات نازل ہوتے ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم کے پہلو کو جاننا ہوگا۔یوں تو اللہ تعالی اپنی مخلوق کے معاملات کو ہر وقت ہر لمحہ جانتے ہیں لیکن اللہ نے اپنی ایڈمنسٹریشن کے کارندوں یعنی فرشتوں سے رپورٹ طلب کرنے کے لیے کچھ ٹائم لائن مقرر کررکھی ہیں ۔ اس آیت میں بیان ہوتا ہے:
اور اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں۔ (سورہ آل عمران ۱۰۹)
اس طرح کی کئی آیات ہیں جس میں یہ واضح ہے کہ فرشتے اللہ کے حضور معاملات پیش کرتے ہیں۔ یہ معاملات یوں تو ظاہر ہے کہ کسی مخصوص وقفے ہی سے پیش ہونگے جیسے اس آیت میں بیان ہوتا ہے۔
ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔( المعارج آیت ۴)
گویا فرشتے مخصوص اوقات یعنی صبح و شام، روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ ، ہزار سال یا پچاس ہزار سال بعد اللہ کے سامنے اجتماعی یا انفرادی معاملات کمپائل کرکے رپورٹ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان پر اپنے احکامات صادر کرتے اور مستقبل کی ہدایات دیتے ہیں۔ یہ بات ایک روایت میں بھی بیان ہوئی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کر لیں۔( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2045)
بہرحال اللہ کے حضور مخصوص وقفوں میں مخلوق اور کائنات کے معاملات پیش کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالی ان پر اپنا فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔سورہ قدر اور دخان میں جن تدابیر اور منصوبوں کا ذکر ہے وہ سالانہ نوعیت کے ہیں۔ جس طرح کمپنیاں اپنی سالانہ انکم اسٹیٹمنٹ اور بیلنس شیٹ بناتی ہیں اسی طرح فرشتے بھی دنیا کے تمام معاملات کی ایک سالانہ رپورٹ اللہ کے حضور اس رات سے قبل پیش کرچکے ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ ظاہر ہے کائنات کے چیف ایگزیکٹو یعنی رب العالمین کو پیش کی جارہی ہے تو اس میں انفرادی، اجتماعی ہر ہرپہلو سے چیزوں کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔
یہاں ایک اشکال ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اللہ تو عالم الغیب ہیں تو انہیں اس رپورٹ کیا ضرورت؟ تو یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ رپورٹ لکھوانے کا عمل اللہ تعالی خود اپنے لیے نہیں بلکہ اپنی ایڈمنسٹریشن یعنی فرشتوں کی تفہیم کے لیے اور ان کی آپس میں کمیونکیشن اور کوآرڈنیشن کو آسان بنانے کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔
یوں معلوم ہوتا ہے اس سالانہ رپورٹ میں فرشتے کائنات میں پیش آنے والے ایک سال کے معاملات کو کمپائل کرتے اور آئیندہ سال کے لیے اپنی تجاویز یا بجٹ پیش کردیتے ہیں۔اس رات ان تجاویز اور تدابیر کو اللہ کے حکم سے حتمی شکل اور منطوری دے دی جاتی ہے۔ اسی کو ہم تقدیر یعنی منصوبہ بندی اور تنظیم (Planning and Organizing)کہہ سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اجتماعی طور پر یہ طے کردیا جاتا ہے کہ بارشیں کتنی ہونگیں، زلزلے ، سیلاب کتنے آئیں گے، کہاں آئیں گے، فصل کتنی اگے گی، کہاں اگے گی، خوشحالی ہوگی یا تنگدستی، زمین پر کوئی نئی شے ایجاد ہوگی یا نہیں ، کوئی بڑی وبا آئے گی یا نہیں، نئے ستاروں کی تخلیق ہوگی یا پرانے ستاروں کی موت واقع ہوگی، کائنات بگ بینگ کے اثر سے مزید کتنا پھیلے گی، موسم میں کیا تغیرات ہونگے، قوموں کے عروج و زوال کا کیا معاملہ ہوگاوغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح فرد کی ماضی کی کاکردگی کی بنیاد پر یا امتحان کے اصول پر بھی کچھ منصوبے ہوسکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی رزق کی کشادگی، تنگی، صحت، بیماری، موت، تعلیم وغیرہ کے بارے میں منصوبے ہوسکتے ہیں۔ یہ ساری پلاننگ الل ٹپ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے کائنات کے بادشاہ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ کہیں پر تباہی کا فیصلہ قوموں کے اعمال کی بنا پر ہوتا ہے، کہیں آزمائش و تربیت کے اصول پر ، کہیں طبعی قوانین کو مد نطر رکھ کر ہوتا ہے تو کہیں کچھ اور حکمت ہوتی ہے۔
لیکن یہاں تقدیر کے لفظ سے غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ پیمانہ یا تدبیر ہے جو کائنات کا نظم و نسق چلانے اور زندگی کو کائنات میں ممکن بنانے کے لیے ضروری ہے۔ البتہ انسان اخلاقی معاملات میں آزاد ہے اور اخلاقی دائرے میں اس آزادانہ اختیار (Free will) یعنی اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگتی ہے اور یہی وہ دائرہ ہے جہاں آخرت میں پوچھ گچھ ہونی ہے۔
شب قدر میں تقدیر معین کرنے کو ہم محدود طور پر ایک اور طرح بیان کرسکتے ہیں۔ دنیاوی ریاستیں سالانہ بجٹ بناتی ہیں جس میں خرچوں یعنی اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا اور آمدنی کے ذرائع بیان کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کی منصوبہ بندی میں یہ بیان ہوتا ہے کتنے خرچے ہونگے، کہاں کہاں ہونگے، کب ہونگے ۔اسی طرح یہ بھی بیان ہوتا ہے وسائل کہاں سے آئیں گے، کتنے وسائل ہونگے وغیرہ۔ بجٹ ایک طرح کی منصوبہ بندی ہے اور اسے ہم محدود معنوں میں اس ملک کی تقدیر یا پیمانہ یا تخمینہ کہہ سکتے ہیں یعنی تمام اخراجات اور آمدنی انہی دائروں میں رہے گی۔ اس را ت میں بھی اس سے بہت اعلی درجے کی منصوبہ بندی پیش کی جاتی ہے جو قوم، ملک، فرد، گروہ ،ادارے، زمین، آسمان، سیاروں اور ستاروں کے امور سے متعلق ہوتی ہے۔ اسی منصوبہ بندی اور تنظیم کو تقدیر کہا جاتا ہے۔
بہر حال ، خدا کے امور تو خدا ہی جانتا ہے ۔ ہمارا اندازہ اور قرآن کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ یہ معاملات کی چند مثالیں ہیں جن میں پلاننگ کی جاتی اور تقدیر یعنی پیمانہ مقرر کردیا جاتا ہے۔ اسی کو سورہ دخان میں کہا گیا کہ اس رات میں ہر کام کے لیے حکیمانہ فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے۔
فرشتے کون ہیں؟
شب قدر میں اللہ کے حکم سے روح الامین اور دیگر فرشتے زمین پر نازل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کی آسمانی حکومت کی ایڈمنسٹریشن کا کام اللہ تعالی فرشتوں سے لیتے ہیں۔ اللہ کی حیثیت اس ایڈمنسریشن کے چیف ایگزیکٹو یا حاکم اعلی یا بادشاہ کی ہے ۔ اللہ تعالی نے جس طرح یہ کائنات ایک منظم (Systematic/ Organized)اور سائنٹفک(Scientific) انداز میں بنائی اور چلائی ہے، اسی طرح منظم انداز میں اللہ نے اپنی آسمانی حکومت کو قائم کیا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ عزرائیل علیہ السلام موت کے فرشتے ہیں، اسرافیل سور پھونکنے کا کام کریں گے، میکائل نیچر یعنی قدرت کی قوتوں کا نطام خدا کے حکم سے چلاتے ہیں۔جبریل امین ان تمام فرشتوں کے ہیڈ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب اگر ہم صرف حضرت عزرائل علیہ السلام کی مثال لے لیں تو ہم جانتے ہیں دنیا میں ایک وقت میں کئی لوگ مررہے ہوتے ہیں۔ یعنی اس وقت رات کے دو بجے فرض کریں ایک شخص آسٹریلیا میں مررہا ہے تو کسی کا امریکہ میں دم نکل رہا ہے اور کوئی افریقہ میں زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ حضرت عزرائل علیہ السلام رات کے دو بجے ان تینوں مقامات پر موجود ہوں۔ اس سے ایک نتیجہ آپ سے آپ نکلتا ہے کہ دراصل عزرائل ایک ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں جس میں ان کے ماتحت بے شمار فرشتے ہیں جو اللہ کے اذن سے جان نکالنے کا کام کرتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کی آسمانی حکومت کے ماتحت اللہ نے مختلف ڈیپارٹمنٹ قائم کررکھے ہیں جن کو سمجھنے کے لیے ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان میں موت دینے، رزق فراہم کرنے ، بارش برسانے وغیرہ جیسے کئی ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں اور ان سب کے ہیڈ کی حیثیت حضرت جبریل علیہ السلام کو ہے۔اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے:
جو بڑی قوت والا ہے اور عرش والے کے ہاں بہت بلند مرتبہ ہے ۔اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ نہایت امین بھی ہے (التکویر۲۰، ۲۱)
اس کے علاوہ فرشتے مختلف طاقتوں کے ہوتے ہیں جس کا ذکر سورہ فاطر میں موجود ہے۔
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے۔ جن کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں وہ اپنی مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔(فاطر ۱:۳۵ )
اس آیت میں دو ، تین ، چار اور زیادہ پروں سے مراد فرشتوں کی طاقت ، مرتبہ اور قوت پرواز ہے۔ یہ فرشتے اپنے رتبے اور صلاحیتوں کے لحاظ سے اللہ کے حکم کے مطابق مختلف ڈیپارٹمنٹس میں کام کرتے ہیں۔
فرشتے کہاں ہوتے ہیں؟
قرآن کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ فرشتے تین درجات میں اپنا کام کررہے ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس دنیا اور کائنات کا سسٹم سمجھنا ہوگا۔ ہماری یہ زمین ایک سیارہ ہے جہاں ارادہ و اختیار والی مخلوق انسان آباد ہے۔ یہ زمین ایک سیارہ ہے اور یہ سیارہ سورج کے گرد گردش کررہا ہے۔ سورج اپنی کہکشاں میں گردش کررہا ہے جس میں اربوں ستارے ہیں اور اس طرح کی اربوں کہکشائیں ہیں۔ ان تمام مادی کہکشاؤں کا اگر ملا کر دیکھا جائے تو یہ ایک آسمان ہے جسے سما ء الدنیا یعنی قریب کا آسمان کہا جاتا ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
اس آسمان سے اوپر تہہ بر تہہ چھ اور آسمان ہیں اور ان کی اپنی اپنی زمینیں ہیں اور عین ممکن ہے وہاں زندگی بھی موجود ہو۔اس کا ذکر سورہ طلاق میں موجود ہے:
اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمین بھی اتنی ہی۔ ان کے درمیان (اللہ کا) امر نازل ہوتا ہے ‘ ’ تاکہ تم یقین رکھو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے “ اور یہ کہ اللہ نے اپنے علم سے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ‘(سورہ الطلاق ۱۲:۶۵)
گویا زمین کے اوپر سب سے پہلے اس دنیا کا آسمان ہے اور پھر اس کے اوپر مزید چھ آسمان۔ ان کے اوپر ایک اور دنیا ہے جسے ہم غیبی دنیا یا ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس یا ہائیر اسمبلی کہہ سکتے ہیں۔ قرآن میں اس کا ذکر آتا ہے:
مجھے ملائے اعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی کچھ خبر نہ تھی، جب وہ جھگڑ رہے تھے ۔( ص ۶۹:۳۸)
وہ ملااعلیٰ (فرشتوں کی اوپر کی مجلس )کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے دھتکارے جاتے ہیں ۔( الصافات ۸:۳۷)
یہ ملائے اعلی دراصل فرشتوں کی مجلس ہے جس میں غیر متعلقہ افرادکا داخلہ ممنوع ہے۔ اس فرشتوں سے اوپر ایک اور مقام ہے جہاں عرش الٰہی قائم ہے۔
وہی کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے چھ دنوں میں ‘ پھر وہ متمکن ہوگیا عرش پر وہ رحمن ہے ! تو پوچھ لو اس کے بارے میں کسی خبر رکھنے والے سے ۔( الفرقان ۵۹:۲۵)
یہ عرش ہر وقت فرشتوں سے گھرا رہتا ہے جو اللہ کی حمد و ثنا کرتے رہتے ہیں۔
جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کی پیروی کی ہے، اور ان کو عذاب جہنم سے بچا (غافر ۲۴:۴۰)
اب معاملہ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ سب سے نیچے ہماری زمین اور اس کے اوپر آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے۔ اس کے اوپر مزید چھ آسمان ۔ کل ملا کر سات آسمان اور یہ مادی دنیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک غیبی دنیا ہے جس میں فرشتے ، جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوق موجود ہیں۔ اس غیبی دنیا کے نچلے حصے[ ملاء اسفل] میں جنات کا بسیرا ہے اور اوپر کے حصے میں فرشتوں کا۔ فرشتوں کی سب سے اعلی مجلس یا اسمبلی کو ملائے اعلی یعنی اوپر کی مجلس سے قرآن نے تعبیر کیا ہے۔ گویا یہ ایک ہائیر اسمبلی ہے اسی کو ملا ء اعلی بھی کہتے ہیں۔ اس میں ہر بڑے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ یا سربراہ موجود ہوتا ہے۔جیسے کائنات کی میکانی قوتوں کے سربراہ میکائل، دنیا میں وسائل و رزق کی نگرانی کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اسرافیل، موت و زندگی سے متعلق نبٹنے والے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ عزرائل وغیرہ۔ واضح رہے کہ یہ سب چونکہ خدا کے حکم اور اذن ہی سے کام کرتے ہیں اس لیے ان کی شمولیت کو شرک سمجھنا قرآن کے خلاف ہوگا۔
ملائے اعلی کے نیچے ایک زیریں اسمبلی بھی ہے جس کا مقام معلوم ہوتا ہے ہماری زمین کے آسمان سے اوپر ہے۔
’ اور ہم نے سب سے قریبی آسمان (آسمان دنیا )کو سجا دیا ہے چراغوں سے ‘ ” اور ان کو بنا دیا ہے ہم نے شیاطین کو نشانہ بنانے کا ذریعہ “ ’ اور ان کے لیے ہم نے تیار کر رکھا ہے جلا دینے والا عذاب۔ “( سورہ الملک ۵:۶۷)
یہاں بھی فرشتے پہرہ لگائے موجود ہوتے ہیں۔ جونہی کوئی جن اوپر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے دھتکاردیتے ہیں۔ اس کا ذکر سورہ جن میں بھی موجود ہے:
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اسے پایا کہ وہ سخت پہرہ داروں اور شہابوں (انگاروں) سے بھر دیا گیا ہے ۔ اور یہ کہ ہم بعض ٹھکانوں میں کچھ سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے، پس اب جو سننے کے لیے بیٹھے گا وہ ایک شہاب کو اپنی گھات میں پائے گا ۔ اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے لیے بھلائی چاہی ہے ۔(سورہ جن ۷۲ آیات ۷ تا ۱۰)
ان آیات پر غور رکریں تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ فرشتے ملائے اعلی اور ملائےاسفل کی درمیانی سرحدوں پر پہرہ داروں کا کام کرتے ہیں ۔ان فرشتوں کی ہم سمجھنے کے لیے ملائے زیریں یعنی درمیانے لیول کی مجلس کہہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ فرشتے ملائے اعلی کے فرشتوں سے پیغام وصول کرکے نیچے زمین پر مامور فرشتوں تک پیغام پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالی اور فرشتوں کے درمیان ٹاپ ڈاؤن (Top- Down)یا ڈاؤن اپ (Down-up)کمیونکیشن ہوتی رہتی ہے ۔ جب اللہ فرشتوں کو ہدایات دیتے ہیں تو اس کی ترتیب یوں بنتی ہے۔
خدا کا حکم = ملائے اعلی کے فرشتوں نے سنا= انہوں نے یہ آرڈر اپنے ماتحت فرشتوں کو لوئیر اسمبلی میں دیا = انہوں نے یہ حکم زمینی فرشتوں کو دیا ۔
اسی طرح جب نیچے سے معاملہ چلتا ہے تو یہی ترتیب ہوتی ہے یعنی زمین کے فرشتے، پھر ملائے زیریں ، پھر ملائےاعلی اور پھر عرش عظیم یعنی اللہ تعالی جن کی حیثیت اور پوری ایڈمنسٹریشن یا آسمانی حکومت میں چیف ایگزیکٹو کی ہے اور تنہااللہ کو ہی ہر قسم کا اختیار اور ویٹو پاور حاصل ہے ۔
چنانچہ جب آسمان سے زمین میں یہ آرڈر دا جارہا ہوتا ہے یا فرشتوں کی مجلس میں کوئی بات ڈسکس ہورہی ہوتی ہے تو جنات کونے کھدروں میں گھس کر گھات لگاکر سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ بات کی سن گن لے کر اپنی موکلوں کو بتادیتے ہیں۔ اسی پر ایک شہاب ثاقب کا گرز ان پر آکر پڑتا ہے اور یہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتوں کے نزول سے کیا مراد ہے؟
عام طور پر جب کوئی حکم اوپر سے نیچے آتا ہے تو اسی ہائی رارکی (Hierarchy)یا ترتیب سے آتا ہے ۔ اللہ حکم صادکرتے ہیں تووہ ملائے اعلی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو یہ حکم دیتے ہیں وہاں سے درمیانی مقام یا ملا ئے زیریں کے فرشتوں کو یہ حکم ملتا ہے اور آخر میں زمین پر موجود فرشتے اسے جب وقت آتا ہے تو نافذ (Execute)کردیتے ہیں۔
یعنی اب شب قدر کا معاملہ یوں ہے کہ :
۱۔ سالانہ کارکردگی کی رپورٹ اس رات سے قبل اللہ کے حضور پیش کی جاچکی ہوتی ہے۔اس رپورٹ میں اگلے سال کی پلاننگ کے لیے تجاویز اور سفارشات بھی ہوتی ہیں جو اللہ ہی کے اذن سے ہوتی ہیں۔
۲۔ اللہ تعالی اپنے لامحدود علم و حکمت کی بنیاد پر اس منصوبہ بندی کی تجاویز کو منظور کرتے اور ان احکامات کو آگے بتانے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔
۳۔ یہ منصوبہ بندی کے احکامات لے کر ملائے اعلی کے متعلقہ فرشتے ملائے زیریں یا قریب کے آسمان کے فرشتوں کے پاس آتے اور ان کو یہ منصوبے سونپتے اور سمجھاتے ہیں۔
۴۔ ملائے زیریں کہ فرشتے ان منصوبوں کو اپنے پاس محفوظ کرلیتے ہیں۔ اور جب ان منصوبوں پر عملدآمد کا وقت ہوتا ہے اس وقت زمینی کارکنان کے سپرد کرتے رہتے ہیں۔
شب قدر میں فرشتے کیوں نازل ہوتے ہیں؟
شب قدر میں تمام بڑے بڑے فیصلوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کا وقت ہوتا ہے اس لیے فرشتوں کا نزول ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرشتے کہاں اترتے ہیں؟ عمومی رائے یہی ہے کہ یہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ ایک اور شاذرائے یہ ہے کہ یہ فرشتے آسمان دنیا یعنی زمین کے آسمان پر جمع ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ملائے اعلی اور ملائے زیریں کے تمام فرشتوں کی ایک بڑی مجلس یا میٹنگ منعقد ہوتی ہے۔ سمجھنے کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ پوری بیوروکریسی یا ایڈمنسٹریشن کی تمام منسٹریز اور ڈیپارٹمنٹس کی میٹنگ ہوتی ہے جس میں تمام اہم اور متعلقہ فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ اس میں جبریل امین اور ان کا ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہوتا ہے جو کوآرڈنیشن کا کام کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس رات تمام متعلقہ فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ فجر تک موجود رہتے ہیں۔چونکہ ہر ملک میں ان کا منصوبوں کا تعلق اپنے علاقوں کے حساب سے ہوتا ہے اسی لیے شب قدر اگر مختلف جگہوں پر مختلف اوقات یا دنوں میں آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نیز شب قدر کی تاریخ کو اسی لیے متعین طور پر نہیں بتایا گیا کیونکہ یہ متعین ہوتی ہی نہیں۔ یعنی عین ممکن ہے کسی سال اللہ کی مشیت ہو کہ یہ فیصلہ سازی اور تنظیم رمضان کی اکیسویں شب میں ہو تو کبھی یہ تئیسیوں شب تو کبھی پچیس یا ستائس یا انتیسویں شب۔
ایک عام مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟
اس رات چونکہ ساری اہم بیوروکریسی زمین کے قریب موجود ہوتی ہےا ور اللہ کی خصوصی توجہ دنیا والوں پر ہوتی ہے تو یہ رات بہت اہم ہے۔ یہ ایک اصول ہے کہ اللہ تعالی جب بھی اپنا رسول کسی فرشتے یا انسان کی شکل میں دنیا پر بھیجتے ہیں تو جزا و سزا کے معاملات بہت تیز ہوجاتے ہیں۔ کسی حاضر رسول کے انکار کی صورت میں تباہی لازمی ہوجاتی اور اس پر ایمان لاکر اس کا اتباع کرنے کی صورت میں دنیا ہی میں کامرانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
یہی معاملہ شب قدر کا بھی ہے۔فرشتے خدا کے رسول یعنی بھیجے ہوئے ہی ہوتے ہیں ۔ اب سب کچھ بہت تیزی کے ساتھ روبہ عمل ہوتا ہے کیونکہ ساریاہم ایڈمنسٹریشن قریب کے آسمان پر موجود ہوتی ہے اور فیصلہ پر اطلاق فوری طور پر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس رات مانگی گئی دعاؤں کی خصوصی اہمیت ہے۔ اسی لیے اس رات کو ہزار مہینے سے بہتر رات کہا گیا ہے۔
اس رات میں بندے کو بھی اپنی گذشتہ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا کھویا ، پایا، کیا گناہ کیا، کہاں شخصیت میں آلودگی کی اور آئیندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ یہ وہ کام ہے جو خدا کے فرشتے کررہے ہوتے ہیں چنانچہ یہی وہ کام ہے جسے مغفرت مانگنا اور توبہ کرنا کہتے ہیں۔
اس رات کی مناسبت سے نوافل کے علاوہ جو کام اہم ہیں وہ یہ ہیں:
۱۔ ماضی کا جائزہ لیا جائے کہ ہماری شخصیت نے ماضی میں خاص طور پر ایک سال میں کیا کیا کام کیے۔
۲۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ کون سے اچھے کام تو جو کرنا لازم تھے اور نہیں کیے۔
۳۔ یہ دیکھا جائے کہ کون سے برے کام تھے جن سے بچنا لازم تھا اور ہم نہ بچ پائے۔
۴۔ ان کوتاہیوں کی وجہ تلاش کی جائے۔
۵۔ ان سے بچنے کا ایک لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
۶۔ اللہ سے ان کی معافی مانگی جائے اور تلافی ممکن ہو تو اس کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
۷۔ یہی احتساب ، غور فکر، تدبر سب سے بڑی عبادت ہے جو فرض عین ہے۔
۸۔ اس رات میں نوافل کے درمیانی وقفے میں بیٹھ کر یہی کام کرنا چاہیے۔
۹۔ عین ممکن ہے کہ اس اخلاص کے ساتھ احتساب کی بنا پر اس تقدیروں والی رات میں ہمارے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی لکھ دی جائے۔

تبصرہ کریں

تبصرہ :