پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ Friday Jun 2, 2017

نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
نفاق کا مرض اتنا اہم ہے کہ قرآن نے اسے خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔ سورہ بقرہ جو قرآن کی دوسری ہی سورہ ہے اس کے دوسرے رکوع میں ہی منافقین کا ذکر ہے اور ان کی کچھ خصوصیات بتائی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن نے جگہ جگہ منافقین کی جانب اشارہ کرکے ان کی نفاق کی علامات، اس کی وجوہات اور اس کا علاج بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ توبہ، الحجرات ، سورہ احزاب اور

سورہ حدید میں خاص طور پر منافقین کو خطاب کیا گیا ہے۔ آخر میں سورہ المنافقون میں تو سورہ کا نام ہی منفافقون رکھ کر اس اہم نفسیاتی مرض کی چند علامات، اسباب اور ان تدارک بیان کردیا جس کی تفصیل پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں نفاق کو مدینے کے منافقین کے ساتھ خاص کرکے اسے ایک ماضی کا قصہ سمجھا جاتا ہے ۔ حالانکہ نفاق کا ہماری سوسائٹی سے کفر اور شرک سے بھی زیادہ تعلق ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارے ہاں اس بات کا امکان تو بہت ہی کم پایا جاتا ہے کہ ہم میں سے کوئِی علی الاعلان شرک کا کفر کا اظہار کرے۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ کلمہ پڑھ کر خدا کی توحید کی گواہی دے اور توحید کے تقاضوں پر عمل نہ کرے، وہ رسول کو مانے تو صحیح لیکن اس کے حکم سے روگردانی کرے، وہ قرآن کو خدا کی کتاب تو مانے لیکن کتاب میں جو لکھا ہے وہ پورا کا پورا نہ مانے ۔اپنے اندر کے ممکنہ نفاق کو جاننا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔
دوسری جانب نفاق خدا کو شدید ناپسند ہے یہاں تک کہ منافقین کے بارے میں قرآن میں بتادیا کہ یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے(سورہ النسا ء آیت ۱۴۵)۔ اس تناظر میں ہمیں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیےکہ کیا نفاق کیا ہے، اس کی کیا علامات ہیں، اس کے اسباب کیا ہیں اور اس مرض سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے؟ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم یہ سب اس لیے نہیں سیکھیں کہ ہمیں دوسروں کو منافق ثابت کرنا یا ان پر ان کے نفاق کو واضح کرنا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم سب سے پہلے اپنے اندر اس مرض کا جائزہ لیں اور بار بار لیتے رہیں ۔ کسی دوسرے کے نفاق بارے میں ہم صرف اسی وقت بات کریں جب وہ ہم سے دریافت کرے اور یا کوئی انتظامی یا معاشرتی مسئلہ درپیش ہو۔ اس تمہید کے بعد اب ہم نفاق پر کچھ گذارشات پیش کررہے ہیں جو سوال جواب کی صورت میں مختصرا بیان کی جارہی ہیں۔
سوال ۱۔ نفاق کیا ہے؟
جواب۔ نفاق قول اور فعل میں تضاد کو کہتے ہیں۔ یعنی ایک شخص جو بات زبان سے کہے یا دوسروں سے جس بات کی توقع کرے اس پر استطاعت کے باوجودعمل نہ کرے۔ اس کی مثال مذہبی تناظر میں تو واضح ہے کہ ایک شخص کلمہ پڑھ لے لیکن خدا کو معبود کہنے کے باوجود اس کی اطاعت نہ کرے اور مسلسل نماز، روزہ حج، زکوٰۃ، زنا، شراب، جھوٹ جیسے گناہوں میں ملوث رہے۔ دوسری مثال سماجی ہے کہ ایک شخص لوگوں کو اچھی باتوں کی تلقین کرے اور خود ان باتوں پر عمل نہ کرے۔ وہ فیس بک پر اچھی پوسٹیں لگائے لیکن اس کا عمل اس کے برخلاف ہو، وہ لمبے لمبے آرٹیکلز لکھے لیکن خود ان کی تعلیمات پر عمل نہ کرے ، وہ لوگوں کو سادگی کی تعلیمات دے لیکن خود پرتعیش زندگی گذارے ، دنیا بھر پر تنقید کرے اور خود کو ان معاملات میں کھلی چھوٹ دے دے وغیرہ۔
سوال نمبر ۲: کیا ہر قسم کی بے عملی نفاق ہے؟
جواب۔ نہیں ایسا نہیں۔ بعض اوقات ایک شخص کسی بات کو دل و جان سے مانتا اور اس پر عمل کرنا چاہتا ہے لیکن قوت ارادی کی کمی کی بنا پر وہ عمل نہیں کرپاتا لیکن وہ دل سے ضرور براجانتا اور اسے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کو ہم نفاق تو نہیں کہہ سکتے لیکن یہ رویہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو نفاق بن سکتا ہے۔ مثال کے طور ایک شخص فجر کی نماز پڑھنا چاہتا ہے لیکن نیند کی زیادتی کی بنا پر اٹھ نہیں پاتا تو ایسا کبھی کبھی تو گوارا ہے لیکن اگر کسی نے اپنا معمول ہی بنالیا ہو تو یہ رویہ نفاق کی جانب لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
سوال نمبر ۳: کیا منافقت صرف مذہبی معاملے میں ہی ممکن ہے یا اس کا دائرہ کار وسیع ہے؟
جواب: منافقت ایک نفسیاتی رویہ ہے اور یہ زندگی کے کسی بھی معاملے میں ہوسکتا ہے۔ ایک شخص ضروری نہیں کہ کسی ایک میدان میں نفاق کا شکار ہو تو وہ باقی معاملات میں بھی نفاق کا شکار ہو۔ مثال کے طور پر عین ممکن ہے ایک شخص مذہبی طور پر نفاق کا شکار نہ ہو لیکن سماجی معاملات میں قول و فعل کے تضاد کا شکار ہو۔ وہ اپنے بچوں کو جھوٹ سے بچنے کی تلقین کرتا ہو اور خود ان کے سامنے جھوٹ بولتا ہو۔ وہ لوگوں کو کرپشن سے بچنے کی تلقین کرتا ہو اور خود ہی کرپشن کا شکار ہو، وہ لوگوں کو والدین سے حسن سلوک کا کہتا ہو اور خود اس کا رویہ اپنے والدین سے برا ہو، وہ دیانت داری کا تقاضا کرتا ہو اور خود دفتری اوقات پورے نہ کرتا ہو ، وہ دوسروں سے توقع کرتا ہو کہ غریبوں کی مدد کریں لیکن خود ایک پائی بھی جیب سے نہ نکالتا ہو۔
سوال نمبر ۴: منافقت کی کیا علامات ہیں؟
منافقت کی علامات ایک نہیں ایک سے زیادہ ہیں۔ سب سے پہلی علامت تو قول و فعل میں تضاد ہے یعنی جو زبان سے کہے یا لوگوں سے توقع کرے خود اس پر استطاعت کے باوجود عمل نہ کرے۔ البتہ چند اور علامات یہ ہیں:
۱۔ جھوٹ بولنا۔ چونکہ انسان قول اور فعل کے تضاد کا شکار ہوتا ہے یعنی جو وہ بولتا ہے تو وہ کرتا نہیں۔یہ ایک قسم کا جھوٹ ہے ۔ تو پہلی علامت یہی ہے کہ قول و فعل کا تضاد ہونا۔جتنا زیادہ نفاق ہوگا اتنا زیادہ جھوٹ کا عنصر گفتگو میں بڑھتا جائے گا ۔
۲۔ وعدہ خلافی کرنا۔ اپنے قول پر عمل نہ کرنا دراصل اپنے ہی ساتھ وعدہ خلافی کرنے کی علامت ہے۔ چنانچہ ایک شخص جس میں نفاق جتنا زیادہ ہوگا وہ اتنا ہی وعدہ خلاف ہوگا۔
۳۔ امانت میں خیانت کرنا۔ چونکہ ایک شخص اپنے قول کی امانت کا پاس نہیں رکھ پاتا اس لیے وہ دوسروں کی امانت کا بوجھ بھی نہیں اٹھاپاتا۔
۴۔ جھگڑالو ہونا۔ ایک منافق شخص کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اصل شخصیت کو لوگوں سے چھپائے۔ چنانچہ جب وہ شخصیت یا اس کا کوئی پہلو سامنے آجاتا ہے اور اس پر تنقید ہوتی ہے تو وہ بات کو گھمانے کی کوشش کرتا ہے اور جب اس میں ناکام ہوجاتا ہے تو آواز بلند کرکے جھگڑا کرتا اور بات کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔
سوال نمبر ۵۔ ہمیں کیسے علم ہو کہ ہم مذہبی نفاق کا شکار ہیں؟
جواب : سب سے پہلے تو یہ جان لینا چاہیے کہ نفاق کا ٹیسٹ دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک عمومی حالات میں اور ایک خصوصی حالات میں۔ عمومی حالات میں ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دین کے جو بنیادی تقاضے جس میں نماز ،روزہ، حج ، زکوٰۃ، اسراف، بخل، نکاح و طلاق اور دیگر احکامات کے بارے میں دین کے احکامات پر عمل پیرا ہیں یا نہیں۔ اگر ہاں تو کس حد تک اور نہیں تو کس حد تک ۔ اگر ہمارا عمل ان تقاضوں پر عمل پیرا ہونے سے قاصر ہو تو جان لینا چاہیے کہ نفاق کے جراثیم موجود ہیں۔
اگلے مرحلے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اخلاقی معاملات میں کیا ہم دین کے تقاضے پورا کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔ کیا ہم ماں باپ، بیوی بچے، رشتے دار اور دوست احباب سے ویسا ہی اچھا رویہ رکھتے ہیں جس طرح کا اچھا رویہ ہم ان سے ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو اخلاقی معاملات میں ہم نفاق کی جانب جارہے ہیں کیونکہ ہم زبان سے اور اپنے ایکشن سے تو کہتے ہیں کہ اچھا سلوک کرنا چاہیے لیکن جب خود ہم پر پڑتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
سوال نمبر۶: خصوصی حالات کے نفاق سے کیا مراد ہے؟
جواب : انسان عمومی حالات میں تو بہت شریف بن کر رہتا اور ایمان و اخلاق کے تقاضوں پر عمل کرتا ہی ہے ۔ چنانچہ اس کے باطن کے کھوٹ کو نمایاں کرنے کے لیے بعض اوقات اللہ تعالی خصوصی حالات پیدا کرتے ہیں جس سے اس کی اصل شخصیت سامنے آجاتی اور اندر کا نفاق ظاہر ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص عام حالات میں بڑا مہذب ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن ٹریفک میں پھنستا ہے تو گالیاں بکنے لگ جاتا ہے۔ کوئی تنقید کرے تو بھڑک اٹھتا ہے وغیرہ۔ یا ایک شخص عام حالات میں تو خدا کی بندگی کا پابند رہتا ہے لیکن کوئی مصیبت آپڑے تو خدا کو دل ہی دل میں برا بھلا کہنا شروع کردیتا ہے۔ ایک شخص عام حالات میں تو ماں باپ سے احسان کرنے کے دعوے کرتا ہے اور جب ماں باپ کی جانب سے کوئی سخت لیکن قابل عمل تقاضا آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہ خصوصی حالات کا نفاق ہے جس سے کامیابی سے گذرنا کافی مشکل کام ہے۔
سوال نمبر ۷۔ نفاق کے کیا اسباب ہیں؟
مختلف نفاق کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔ کم ہمتی ۔ ایک شخص یا گروہ کسی سے شدید اختلاف رکھتا ہے لیکن کم ہمتی کی بنا پر اس اختلاف کو بیان نہیں کرپاتا تو وہ بظاہر ان سے اچھا رویہ رکھتا اور دل میں بغض یا نفرت رکھتا اور نفاق کا شکار ہوجاتا ہے۔
۲۔ حسد، نفرت، بغض۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص یا گروہ کی کی ترقی سے جلتا ہے تو اس کے دل میں شدید حسد پیدا ہوتا ہے۔ اس کی مثال مدینے میں عبداللہ بن ابی کی ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرداری کو دل سے تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ خود بادشاہ بننا چاہتا تھا۔
۳۔ تکبر۔ نفاق کی ایک اور وجہ تکبر ہے۔ جب کوئی گروہ یا شخص آگے بڑھتا ہے تو ایک متکبر شخص اس کو دیکھ کر یہ خیال کرتا ہے کہ یہ ترقی تو مجھے ملنی چاہیے کیوں کہ میں زیادہ قابل ہوں، میرے پاس زیادہ مال، اولاد، بنک بیلنس ، جائداد، علم اور تقوی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے مخالف شخص یا گروہ میں کیڑے نکالتا اور ان کو حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
۴۔ قوت ارادی کی کمزوری۔ نفاق کا ایک اہم سبب قوت ارادی کی کمزوری ہے ۔ ایک انسان بار بار ایک بات کہتا اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ عمل کرنا اور کوشش کرنا ہی ترک کردیتا ہے۔ یہیں سے نفاق کا مرض دل میں آنا شروع ہوجاتا ہے۔
۵۔ مفاد پرستی۔ اس کی بنا پر بھی ایک شخص کسی شخص یا گروہ سے ظاہری طور پر وابستہ ہوجاتا اور باطنی طور پر اختلاف رکھتا ہے تاکہ درپردہ اپنے مادی مفادات پورے کرسکے۔
۶۔ احساس کمتری۔ اس کی بنا پر ایک شخص دنیا کو وہ چہرہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے جو و ہ اصل میں ہوتا نہیں تاکہ اپنے احساس کمتری کو چھاسکے۔
۷۔ تساہل پسندی اور نفس پرستی۔ سستی کاہلی اور نفس پرستی ایک کمزوری ہے جسے چھپانے کے لیے انسان بہانے تراشتا اور اپنی شخصیت کے اس کمزور پہلو کو چھپانے کے لیے نفاق کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔
سوال نمبر ۸۔ نفاق سے کس طرح نجات حاصل کی جائے؟
جواب۔ سب سے پہلے تو ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم میں نفاق موجود ہے یا نہیں۔ اس کے لیے ہم خود سے بعض اوقات سچ نہیں بول رہے ہوتے اور اپنے نفاق کا خود ہی شکار ہوکر اپنے آپ ہی کو دھوکا دینے لگ جاتے ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے ہمیں ایسے مخلص اور قریبی دوستوں کو تلاش کرنا چاہیے جو ہمیں جانتے ہوں اور ہمارے منہ پر ہماری کمزوری بیان کرنے کی جرت بھی رکھتے ہیں۔
جب یہ معلوم ہوجائے کہ ہم میں کسی حد تک نفاق ہے تو یہ جانیں کہ کس میدان میں نفاق کا شکار ہیں؟ یہ مذہبی معاملہ ہے، اخلاقی، سماجی، معاشی، معاشرتی یا کوئی اور۔ اس کے بعد اس کے اسباب اپنی شخصیت میں دیکھیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس کے بعد ان اسباب کو دور کرنے کوشش کریں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں لیکن کچھ توجہ طلب ضرور ہے۔

تبصرہ کریں

تبصرہ :