پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday May 29, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
” تم لوگوں کو پتا ہے دنیا کا سب مشکل کام کیا ہے؟” ابلیس نے سوال کیا
” ابلیس اعظم ہی بہتر جانتے ہیں ۔” چوبدار کی آواز سناٹے میں گونجی۔
” غور سے سنو، کیا ایک ما ں کو اس کے بچے سے دور کرنا، اسے ناراض کرنا اور بچے پر غضب ڈھانے پر مجبور کرنا کوئی آسان کام ہے؟ بچے کی برسوں پڑھنا جاری رکھیں »


علم – شیطان کا ایک ہتھیار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday May 29, 2017

علم – شیطان کا ایک ہتھیار
ڈاکٹر محمد عقیل
” حضرت! میں بہت زیادہ علم حاصل کرنا چاہتا ہوں، بہت زیادہ” میں نے کہا۔
“تو حاصل کرلو، کس نے روکا ہے؟” حضرت نے جواب دیا
“جناب مسئلہ یہ ہے کہ علم بعض اوقات تکبر پیدا کرتا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہی سب کچھ نہ ہو جو شیطان کے ساتھ ہوا کہ وہ اپنے علم کے زعم میں خدا کے پڑھنا جاری رکھیں »


بیماری نامہ ۔۔ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

از پروفیسر محمد عقیل

تحریرپڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tYkduRHUzTzFJdHc


فراق اور وصال

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Dec 3, 2014

سردیوں کی شام ہے۔ باغ میں پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے ہیں۔آسمان پر عجب رنگوں کی مصوری پھیلی ہوئی ہے، اردگرد سبز پتے اپنے حسن کی رنگینی بکھیر رہے ہیں، سرد ہوا کی سرسراہٹ بدن میں عجب سی سنسنی پیدا کررہی ہے۔لیکن وہ ماحول سے لاتعلق ہوکر چپ چاپ کھڑا ہے گم سم ، مایوس ، افسردہ۔ اس کی آنکھیں کسی کی تلاش میں ہیں۔ وہ کبھی ہاتھ ملتا ہے تو کبھی بے چینی سے ٹہلنے لگ جاتا ہے۔ اس کے چہرے کا اضطراب بتارہا ہے وہ کسی کے فراق میں کھویا ہوا ہے، کسی کی یاد اسے ستا رہی ہے، کسی کا وجود وہ چھونے کے لئے بے تاب ہے۔
اسی اضطراب میں وہ خود سے باتیں کرنے لگتا ہے۔ ” آخر وہ کب مجھے ملے گا، وہ کب تک مجھ سے دور رہے گا۔ اب بہت ہوچکا ، میں اور فراق برداشت نہیں کرسکتا، میر ے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، میری آنکھیں اس کے انتظا ر میں پتھرا گئیں، میرے پاؤں چلتے چلتے شل ہوگئے، میرے اعصاب درد سے چٹخنے لگے لیکن وہ مجھے نہیں مل رہا، نہ وہ خود میرے پاس آتا ہے اور نہ ہی مجھے بلاتا ہے۔ آہ ! یہ ہجر اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، یہ راتیں اب سانپ بن کر ڈستی ہیں، یہ دن اب کٹتا نہیں، ہر لمحہ صدیو ں پر محیط ہے۔ ”
وہ یہ کہتا رہا کہتا رہا ۔ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ اب رات ہوچلی ہے اور باغ سے سب لوگ جاچکے۔ وہ یونہی کھڑا رہا کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ دور اسے کچھ عجیب و غریب آوازیں آنے لگیں ۔ اسے تجسس ہوا کہ یہ کون ہے جو اس ویرانے میں موجود ہے۔ وہ آگے بڑھا تو دیکھا کہ چوکیدار بیٹھا ہے اور اس کے قدموں میں اس کا پالتو کتا لوٹیاں لگا رہا ہے۔کتا جب بھی مالک کے قدموں میں بیٹھنے کی کوشش کرتا ، مالک اسے لکڑی مار کر دور بھگا دیتا۔ کتا کچھ دیر کے لئے دور چلا جاتا اور بعد میں پھر اس کے قدموں میں جگہ پانے کی کوشش کرتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ بہت دیر تک اس کتے کی وفاداری دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ مالک نے اس کتے کو بلایا اور گود میں بٹھا کر اسے پیار کرنے لگا۔
اس نے آسمان کی جانب نگاہ ڈالی۔ وہاں رات کے اندھیرے کا راج تھا لیکن اس کے من میں سورج طلوع ہوچکا تھا۔ اس کا اضطراب ختم ہوگیا اور اس کے سوالوں کا جواب مل گیا۔ اسے بھی اپنے مالک کے قدموں میں لوٹتے رہنا تھا ، ناک رگڑتے رہنی تھی، اپنا وجود فنا کردینا تھا، اپنی میں کو ختم کرنا تھا، اس کی پرحکمت لاٹھیاں جھیلنی تھیں۔اسے یہ سبق سمجھ آگیا تھا کہ مالک کا قرب اس کی چاہت پر نہیں بلکہ رب کی چاہت پر منحصر ہے۔ اس کام کام صرف تسلیم و رضا ہے، مطالبہ و احتجاج نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل


گرمی بہت شدیدہے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Jun 3, 2013


وہ پسینے میں شرابور تیز تیز قدموں سے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ دھوپ کی شدت اس کی جلد جھلسائے دے رہی تھی ۔ نمی کا یہ عالم تھا کہ اس کے جوتے تک تر ہوچکے تھے۔ مسجد کچھ ہی دور تھی لیکن یہ چند ساعتوں کا فاصلہ صدیوں پر محیط لگ رہا تھا۔ وہ چلتا جارہا تھا اور گرمی کو برا بھلا کہہ رہا تھا ۔اس دوران اس نے بے شمار مغلظات سورج کی شان میں بکیں۔ ان سب اقدامات کے باوجود حالات جوں کے توں تھے۔آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا تھا نہ زمین پر کوئی سائے کی پناہ۔ اس کے ذہن میں وسوسے آنے لگے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوگا تو لوڈ شیڈنگ کی بنا پر بجلی نہیں ہوگی۔ گرمی اور حبس کا عالم میں مولانا صاحب نہ جانے کتنا لمبا خطبہ دیں اور کتنی طویل نماز پڑھائیں پڑھنا جاری رکھیں »


قصہ آدم و ابلیس(ایک افسانہ)

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Nov 22, 2011


اچانک کار نصیر صاحب کے جسم سے ٹکرائی اور وہ کئی فٹ دور اچھل کر گرے۔ اس کے بعد ان کا دماغ تاریکی میں ڈوبتا گیا۔ ارد گرد بھیڑ اکھٹی ہوتی چلی گئی ۔ انکے سر سے خون کافی مقدار میں بہہ چکا تھا اور بچنے کے امکانات کم تھے۔ بہر حال کار والے نے رحم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے لوگوں کی مدد سے گاڑی میں ڈالا اور اسپتال پہنچادیا۔ کچھ دیر بعد نصیر صاحب کے گھر والے بھی جمع ہوگئے ۔
“سر کی چوٹ گہری ہے، آپریشن کرنا پڑے گا۔” ڈاکٹر نے نصیر صاحب کی بیوی سے کہا
“ڈاکٹر صاحب! نصیر بچ تو جائیں گے نا؟” بیوی نے گھگیائی ہوئی آواز میں پوچھ پڑھنا جاری رکھیں »


کیا میں دنیا میں مرضی سے آیا ہوں؟(ایک دلچسپ افسانہ)

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Oct 11, 2011


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ انور اپنے ٹین کی چھت والے مکان میں دبکا بیٹھا تھا۔ اسکی گود میں چھ ما ہ بچہ اور برابر میں بخار میں تپتی ہوئی اس کی بیوی صفیہ۔
“بارش کب بند ہوگی؟’
صفیہ نے کراہتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
“مجھے نہیں پتا، پر میں باہر جاکر دیکھتا ہوں”۔ پڑھنا جاری رکھیں »