پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

قصہ ہاروت و ماروت اور ہماری سوسائٹی میں جادو

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jan 3, 2013

ترجمہ
اور (وہ یہودی )ان (خرافات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہد سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے، اور سلیمان نے ہرگز کفر کی بات نہیں کی بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور اس علم کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اترا تھا۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو آزمائش ( کاذریعہ)ہیں چنانچہ تم نافرمانی میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے ایسا (علم ) سیکھتے جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ پڑھنا جاری رکھیں »


جنگ جمل ۔حضرت عائشہ اور حضرت علی کے درمیان جنگ کی حقیقت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Dec 26, 2012


تحریر:محمد مبشر نذیر
طبری اور بلاذری نے جنگ جمل کے جو واقعات بیان کیے ہیں، ان کا بڑا حصہ ابو مخنف، ہشام کلبی، سیف بن عمر اور محمد بن عمر الواقدی کا بیان کردہ ہے۔ خاص کر جن روایات میں سیدہ عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم سے متعلق کوئی منفی بات پائی جاتی ہے، ان کا راوی یا تو ابو مخنف ہے یا پھر ہشام کلبی۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان مشہور کذابین نے ان واقعات میں اپنی جانب سے کچھ نہ کچھ ملا دیا ہے اور ان صحابہ کی کردار کشی کی کوشش کی ہے۔ تاہم بہت سی باتیں درست بھی معلوم ہوتی ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ گھڑی ہوئی باتوں کو الگ کر کے قابل پڑھنا جاری رکھیں »


ہابیل و قابیل کی داستان

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Dec 17, 2012


تحریر: پروفیسر محمد عقیل
ہابیل و قابیل کی دااستان قرآن میں سورہ مائدہ میں بیان ہوئی ہے۔ یہ قصہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا ہے ۔ ان میں سے ایک کا نام ہابیل اور دوسرے کا قابیل تھا۔ قابیل عمر میں بڑا تھا اور کھیتی باڑی کیا کرتا تھا۔ یہ مزاج کے اعتبار سے تیز اور فطرتا برائی کی جانب راغب تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی ہابیل اس کے برعکس تھا۔وہ نیک سرشت ، متقی اور منکسر المزاج پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت علی کی خلافت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Dec 6, 2012


(تحریر: محمد مبشر نذیر)
اس سیکشن میں ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے پہلے ایک سوال ہر شخص کے ذہن میں آتا ہے کہ شہادت عثمانی کے بعد صحابہ نے باغو ں پر حملہ کو ں نہ کاا؟ چونکہ یہ سوال حضرت علی کی بیعت سے متعلق ہے، اس وجہ سے اسی سے ہم اس بحث کا آغاز کرتے ہیں۔
شہادت عثمانی کے بعد صحابہ نے باغیوں پر حملہ کیوں نہ کیا؟
یہاں پر تاریخ کے طالب علموں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پڑھنا جاری رکھیں »


یزید تاریخ کی روشنی میں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Dec 2, 2012


(نوٹ: یہ تحریر میرے عزیز دوست محمد مبشر نذیر کی ہے )
یزید کی نامزدگی
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو بڑا اعتراض کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کر دیا۔ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت حسین، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ کے لائق بیٹوں کے ہوتے ہوئے اپنے نالائق بیٹے کو خلافت کے لیے نامزد کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر خانہ جنگی کی آگ بھڑک اٹھی اور پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت علی کے دیگر خلفاء سے تعلقات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Nov 23, 2012


تحریرو تحقیق : محمد مبشر نذیر
۱۔کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت نہیں کی؟
اس معاملے میں جو تاریخی روایات بیان ہوئی ہیں اور یہ تین طرح کی ہیں:
• پہلی قسم کی روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری رضا و رغبت کے ساتھ اگلے دن ہی بیعت کر لی تھی۔
• دوسری قسم کی روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے کچھ پس و پیش کیا تھا لیکن دیگر صحابہ کے سمجھانے پر کچھ ہی عرصہ بعد بیعت کر لی تھی۔
• تیسری قسم کی روایات مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ خود خلیفہ بننا چاہتے تھے۔ اس وجہ سے انہوں نے بیعت سے انکار کر دیا تھا اور حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے گھر پر حملہ پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت معاویہ کے حضرات حسن و حسین سے تعلقات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Nov 20, 2012


تحریر و تحقیق: محمد مبشر نذیر
حضرت حسن او رحضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کا اتحاد
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے باہمی مشورے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا۔ حضرت علی سے ان کی شہادت سے پہلے پوچھا گیا: ” کیا آپ کے بعد ہم حسن کی بیعت کر لیں؟” آپ نے فرمایا: “میں نہ تو اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں۔”( طبری۔ 40H/3/2-354)۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے چھ ماہ کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد کر لیا اور خلافت کو ان کے سپرد کر دیا پڑھنا جاری رکھیں »


سانحہ کربلا اور تاریخی حقائق

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Nov 16, 2012


تحریر و تحقیق: محمد مبشر نذیر
سانحہ کربلا، مسلمانوں کی تاریخ کا ایک نہایت ہی سنگین واقعہ ہے۔ اس واقعے میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو مظلومانہ انداز میں شہید کیا گیا اور اس کے بعد امت مسلمہ میں افتراق و انتشار پیدا ہوا۔ اس واقعے سے متعلق بہت سے سوالات ہیں جو تاریخ کے ایک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس سیکشن میں ہم مختلف سوالات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے: حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کی اصل نوعیت کیا تھی؟ سانحہ کربلا کیسے وقوع پذیر ہوا؟ سانحہ کربلا کا ذمہ دار کون تھا؟ سانحہ کربلاکے کیا نتائج امت مسلمہ کی تاریخ پر مرتب ہوئے؟ دیگر صحابہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ شمولیت اختیار کیوں نہ کی؟ یزید نے قاتلین حسین کو سزا کیوں نہ دی؟ شہادت عثمان کی نسبت شہادت حسین پر زور کیوں دیا گیا؟ پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Nov 13, 2012

حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے چھ سال چھوٹے تھے۔ عام فیل کے چھ برس بعد۵۷۶ء میں مکہ میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام عفان،دادا کا ابو العاص ، اورپڑدادا کا امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف تھا۔پانچویں پشت عبدمناف پر ان کا نسب آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے شجرے سے جا ملتا ہے۔آپ کا شجرۂ مبارکہ یہ ہے،محمد بن عبد اﷲ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ۔حضرت عثمان کی والدہ اروی بنت کریز کو قبول اسلام کی سعادت حاصل ہوئی، نانی ام حکم بیضا بنت عبدالمطلب آنحضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی تھیں۔ زمانۂ جاہلیت کی جنگوں میں پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Oct 8, 2012

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تاریخ پیدایش معلوم نہیں، البتہ ہجرت کے وقت ان کی عمر چالیس سال سے کچھ کم تھی۔ اس حساب سے وہ عام الفیل کے۱۳سال بعداور حرب فجارکے ۴ سال بعد پید ا ہوئے ہوں گے ۔ عیسوی حساب سے ان کا سن پیدایش قریباً ۵۸۱ء بنتا ہے۔ وہ قریش کے قبیلہ بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے عدوی کہلاتے تھے۔یہ قبیلہ بنو ہاشم اور بنو امیہ جیسا مرتبہ نہ رکھتا تھا، البتہ بنو عبد شمس سے ان کا مقابلہ رہتا تھا۔ بنوعدی میں علم و حکمت کا چرچا ہوا تو قبائل میں اٹھنے والے جنگ وامن یا قبائلی مفاخرت کے تنازعات نمٹانے کی ذمہ داری (سفارت مفاخرت)اسے سونپی گئی۔اس موروثی وزارت پر عمر بھی فائز ہوئے۔ پڑھنا جاری رکھیں »