پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

المبشر میگزین۔۔دسواں شمارہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Mar 11, 2016

المبشر میگزین کا دسواں شمارہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tSjlteXB4SU1SVUE


قصص القرآن۔ ایک دلچسپ کتاب از پروفیسر عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

اس کتاب کی خصوصیات
قرآنی قصائص پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ یہ کتاب کئی پہلووں سے ان سے مختلف ہے۔ پہلا پہلو تو یہ ہے کہ اس میں چھ گروپ بنا کر قرآنی قصائص کو بیان کیا گیا ہے جس سے قاری کا ذہن ایک ہی موضوع سے متعلق رہتا ہے اور معاملے کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں اکثر قصائص سے متعلق تذکیری، اخلاقی یا سبق آموز پہلو پر روشنی ڈال کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ قصہ کن پہلووں سے ہماری عملی زندگی سے متعلق ہے اور ہم اس سے سبق حاصل کرکے کیا عمل کرسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس میں بنیاد قرآن کو بنایا گیا ہے اور واقعے سے قبل جہاں ممکن ہو وہاں قرآن کی آیت سے بات شروع کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ کوئی غیر مستند بات بیان نہ ہو ۔ چوتھا یہ کہ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اس واقعے کے تاریخی اور دیگر پہلووں پر تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچواں یہ اس کتاب میں مختصر سوالات کے ذریعے قاری کے مطالعہ اور تفہیم کی صلاحیت کو جانچنے اور ساتھ ہی اسے پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اس کتاب کا استعمال
یہ کتاب یوں تو ہر طبقے کے لئے مفید ہے لیکن بالخصوص ایک عام پڑھے لکھے شخص، خواتین ، بڑی عمر کے بچوں ، طلبا اور اساتذہ کے لئے مفید ہے۔ ایک عام قاری کے لئے اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے وہ ہر روز اس کا تھوڑا تھوڑا حصہ پڑھے اور پھر اس میں دی گئی مشقیں حل کرے۔نیز جو تذکیر وہ حاصل کرے اسے اپنی عملی زندگی میں اپلائی کرنے کی پوری کوشش کرے۔
اس کتاب کے مطالعے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اسے گھر کے سربراہ جن میں شوہر، خواتین یا بڑے بھائی بہن شامل ہیں اپنے دیگر خاندا ن کے دیگر افرادمیں اورخاص طور پر بچوں میں اسے پڑھ کر سنائیں اور ساتھ ساتھ اس کی وضاحت بھی کرتے جائیں۔ جو تاریخی تفصیل غیر ضروری لگے یا جو بات مخاطب کی سطح کے لئے نامناسب ہو اسے حذف کردیں تاکہ دلچسپی برقرار رہے۔ اس کے بعد ان سے کچھ سوالات پوچھ لیں تاکہ انہیں سننے کی ترغیب حاصل ہو۔
کتاب کے ابواب
یہ کتاب چھ ابواب میں منقسم ہے۔ پہلا با ب انبیاء علیہم السلام کے واقعات پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب قوموں کے قصون کو بیان کرتا، تیسرا نیک ہستیوں کی داستانیں بتاتا، چوتھا برے کرداروں پر روشنی ڈالتا ، پانچواں قرآن کے انکشافات کی تفصیل بیان کرتا اور چھٹا باب متفرق قصائص کی تفصیل کرتا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں کسی بھی کسی کی غلطی ہو تو ضرور مطلع کریں۔ نیز میرے لئے اور میرے ادارے کے ٖلئے خاص طور پر دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنے لئے خاص کرلیں۔
پروفیسر محمد عقیل
کتاب داؤن لوڈ کرنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tazBxOTNROV9GWnc


بیماری نامہ ۔۔ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

از پروفیسر محمد عقیل

تحریرپڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tYkduRHUzTzFJdHc


شیطان اور مردو زن

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Dec 11, 2014

علامہ ابن جوزی چھٹی صدی ہجری کےایک مشہور عالم ، واعظ اور مصنف ہیں۔ آپ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب تلبیس ابلیس میں شیطان کے پھندوں کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح شیطا ن انسان پر حملہ آور ہوتا اور اسے راہ راست سے ہٹا دیتا ہے۔ اسی کتاب میں انہوں نے ایک واقعہ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی جگہ پر ایک بہت عابد اور زاہد شخص رہا کرتا تھا۔ وہ ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتا اور دنیاوی کاموں سے کوئی رغبت نہ رکھتا تھا۔ ایک دن اس کے محلے کا ایک شخص اس کے پا س آیا اور اس سے کہا کہ و ہ اسکی بہن کھانے پینے کا ذمہ لے لے کیونکہ کچھ دنوں کے لئے وہ شہر سے باہر جارہا ہے۔ اس عابد نے حامی بھرلی۔
اب ہوتا یوں کہ ہر روز وہ لڑکی اس زاہد کے معبد میں کھانے کے وقت آتی اور دروازہ کھٹکھٹاتی۔ عابد دروازے کی اوٹ ہی سے اسے وہ کھانا دے دیتا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن شیطان نے عابد کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ لڑکی اتنی دور سے چل کر آتی ہے ، دس لوگ اسے دیکھتے ہیں ۔ تو اسے تکلیف سے بچانے کے لئے کیوں نہ عابد ہی اس کے گھر پر کھانا پہنچا دیا کرے۔ عابد کو لڑکی سے بڑی ہمدردی محسوس ہوئی اور اس نے یہی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔چنانچہ اب عابد روزانہ اس کے دروازے پر دستک دیتا اور لڑکی اوٹ سے کھانا لے لیتی اور عابد واپس چلا جاتا۔
پھر شیطان نے مزید وسوسہ ڈالا کہ یہ لڑکی اکیلی ہے ، اس کی دلجوئی کے لئے کیوں نہ دروازے پر کھڑے کھڑے اس سے بات کرلی جائے۔ اس طرح اس کا دل بہل جائے گا۔ اس مرتبہ بھی عابد نے عقل کی بجائے وسوسے پر عمل کیا اور وہ لڑکی سے باتیں کرنے لگا۔ جب کچھ دن گذرے تو شیطان نے سجھایا کہ اس طرح باہر کھڑے ہوکر باتیں کرنا تو مناسب نہیں، چار لوگ دیکھتے ہیں۔ بہتر ہے گھر میں بیٹھ کر دلجوئی کرلی جائے، آخر حرج ہی کیا ہے؟ تو عابد اب گھر کے اندر آکر اس لڑکی سے بات چیت میں مشغول ہوگیا۔
پھر شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی اور عابد بالآخر زنا کر بیٹھا جس کے نتیجے میں ایک بچہ بھی پیدا ہوگیا۔اب شیطان نے اسے سجھایا کہ یہ تونے کیا کردیا، تیری ساری عبادت ریاضت کے باوجود لوگ تجھے مار ڈالیں گے، اگر جان پیاری ہے تو یہ کام تو خود کر۔ پھر کیا تھا، عابد نے لڑکی اور بچے دونوں کو قتل کرکے اسی مکان کے نیچے دفن کردیا۔
کچھ عرصے بعد اس لڑکی کا بھائی واپس آیا اور اس لڑکی بارے میں پوچھا۔ عابد نے کہہ دیا کہ وہ ایک بیماری کا شکار ہوگئی تھی اس لئے وہ مرگئی اور اسے قبرستان میں دفنادیا گیا ہے۔ بھائی روپیٹ کر خاموش ہوگیا کیونکہ اسے عابد پر یقن تھا۔ ایک دن شیطان اس بھائی کے خواب میں آیا اور یہ دکھایا کہ اس کی بہن کی لاش اسی مکان کے نیچے دفن ہے اور اس کابچہ بھی ہے اور یہ کام عابد نے کیا ہے۔ بھائی نے جب کھدائی کی تو ساری حقیقت سامنے آگئی۔ اس نے عابد کو قتل کردیا۔ یوں شیطان نے ایک تیر سے کئی شکار کرلئے۔
یہ ایک حکایت ہے۔ اس کا اطلاق اگر ہم آج اپنی سوسائیٹی میں کریں تو شیطان مختلف ہتھیاروں سے لیس ہوکر عورت اور مرد کو ورغلا رہا ہے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی کریں۔مثال کے طور پر وہ تعلیمی اداروں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ورغلاتا ہے وہ ایک دوسرے کو غلط نگاہ دیکھیں اور بہانا یہی کہ اس سے کیا ہوتا ہےصرف دیکھ ہی تو رہے ہیں۔جب اس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایک دوسرے کے دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ ایک نوجوان صنف مخالف کی معمولی تکلیف پر بھی اس سے ہمدردی محسوس کرتا اور اسے دور کرنا اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ حیلہ وہی کہ یہ تو ایک اچھا کام ہے۔
اگلے مرحلے میں بات چیت کا آغاز ہوتا ہے جس کے پیچھے یہی محرک ہے کہ بات چیت میں کیا حرج ہے ، یہ تو ماڈرن دور ہے، زمانے کے ساتھ چلنا چاہئے ورنہ لوگ دقیانوسی سمجھیں گے۔ اس کے بعد فون پر گفتگو، چیٹنگ، ایس ایم ایس کا تبادلہ اور نوبت ملاقاتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ان سب باتوں کے باوجود ضروری نہیں کہ اس کا منطقی انجام زنا ہی ہو۔ ممکن ہے اس اختلاط کا انجام نکاح ہی ہو لیکن بہر حال شیطان ان طلبا کو اچھے کیرئیر، صالح اخلاق، یکسوئی، اور ماں باپ کی فرماںبرداری سے تو بالعموم محروم کر ہی دیتا ہے۔ اس کے برعکس منتشر خیالی، بے مقصدیت، وقت کا ضیاع، اعضاء کا گناہ اور خداکی نافرمانی کے واقعات رونما ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ محفلیں شراب و کباب کی محفلوں تک لے جاتی ہیں تو کبھی رقابتیں قتل وغارت گری کو جنم دیتی ہیں۔
ایک مرتبہ مجھے ایک صاحب نے سوال کیا کہ وہ اپنی کلاس فیلو سے شدید محبت کرتے ہیں اور اسے اظہار کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ یقین دلا یا کہ یہ محبت بالکل سچی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف نکاح کرنا ہے اور کچھ نہیں۔ چنانچہ انہین بات چیت کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ اپنے دل کا حال محترمہ کو بتاسکیں اور کچھ ان کی سن سکیں۔ میں نے انہیں کہا کہ اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے ، اور وہ یہ کہ اپنے بزرگ عزیز و اقارب ذریعے بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو وہ پڑھ رہی ہے اور میرے لئے یہ فی الوقت ممکن نہیں۔ میں نے کہا تو کیا ہوا نکاح کی عمر تو آپ کی بھی ہے اور اس کی بھی، رشتہ طے کرلیں بعد میں شادی ہوجائے گی۔میں انہیں کہتا رہا کہ آپ کسی معتبر واسطے کے ذریعے بات چیت کریں کیونکہ براہ راست بات کرنے میں کئی فساد برپا ہونے کااندیشہ ہے لیکن وہ نہ مانے اور مجھ سے بات چیت منقطع کردی۔

بہر حال شیطان کے نے ہر مزاج کے لوگوں کے لئے پھندے تیار کررکھے ہیں۔ان سب باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان مجبور محض ہے اور شیطان کو کھلی چھٹی ہے۔ قرآن کے مطابق شیطان کا کام صرف ورغلانا اور وسوسے پیدا کرنا ہے اور بس۔ شیطان کسی کو ہاتھ پکڑ کر مجبور نہیں کرسکتا۔ اسی لئے جو بھی شیطان کے جھانسے میں آگیا تو وہ خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہے۔ آخر میں شیطان یہ کہہ کر الگ ہوجاتا ہے کہ میں تمہارے عمل سے بری ہوں ۔

کرنے کا کام یہ ہے کہ شیطان کے وسوسوں کو پہچانیں اور اس کے جھانسے سے بچنے کے لئے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے اس کا تجزیہ کریں اور اپنے رب کی منشا معلوم کریں۔ اگر وہ عمل قرآن و سنت کی روشنی میں درست تو آگے بڑھیں ورنہ اسے شیطان کے منہ پر دے ماریں۔ یہ بلاشبہ ایک مشکل کام ہے لیکن صالح صحبت، قرآن کا فہم ، اچھی کتب کا مطالعہ ، اپنی شخصیت کا ادراک ، اپنے نفس پر قابو پانا اور اپنے رب سے مسلسل دعا شیطان کے حملوں کے سے بچنے کے لئے اکسیر ہے۔ اس جنگ میں ابتدا ہی سے ہتھیار ڈال دینا اپنی زندگی شیطان کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


حضرت موسیٰ علیہ السلام

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 21, 2013


سیدنا یعقوب اور ان کی اولاد جو سیدنا یوسف کے عہد بادشاہی میں مصر میں آ کر آباد ہوئے تھے اب لاکھوں کی تعداد تک پہنچ چکے تھے اور محکومانہ اور مقہورانہ زندگی گزار رہے تھے۔ سیدنا یوسف اور سیدنا موسیٰ علیہما السلام کا درمیانی عرصہ تقریباً چار سو سال ہے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا مشن یہ تھا کہ انہیں فرعون کی غلامی سے آزاد کرا کر واپس اپنے وطن فلسطین میں لے جائیں اور اس علاقہ میں وہ حاکمانہ حیثیت سے آباد ہوں پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت ایوب علیہ السلام

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday May 11, 2013


(الانبیاء -۲۱: ۸۴-۸۳)
ترجمہ
اور یہی نعمت ہم نے ایوب کو بھی دی تھی جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا”:مجھے بیماری لگ گئی ٧ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے”۔چنانچہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور جو بیماری انھیں لگی تھی اسے دور کر دیا۔ اور انھیں ہم نے صرف اس کے اہل و عیال ہی نہ دیئے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے اور یہ ہماری طرف سے خاص رحمت تھی اور (اس میں بھی) عبادت گزاروںکے لئے ایک سبق تھا پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت ابرہیم علیہ السلام

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Apr 29, 2013

پہلا حصہ: حضرت ابراہیم کی اپنے والد کو دعوت (مریم ۔ ۱۹: ۴۸-۴۱)
ترجمہ
اور اس کتاب میں سیدنا ابراہیم کا قصہ بیان کیجئے بلاشبہ وہ راست باز انسان اور ایک نبی تھے۔جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا:”ابا جان! آپ ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں، نہ دیکھتی ہیں اور نہ تمہارے کسی کام آسکتی ہیں۔ابا جان! میرے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ لہذا میرے پیچھے چلئے میں آپ کو سیدھی راہ بتاؤں گا۔ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کیجئے وہ تو اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے۔ابا جان! مجھے خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے آپ کو سزا ملے گی اور پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت مریم علیہا السلام

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Apr 27, 2013


(آل عمران ۳ آیات ۳۵ تا ۳۷)
ترجمہ
(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے ۔جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو خوب معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار! میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لیے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح پڑھنا جاری رکھیں »


حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 12, 2013

(البقرہ ۲ آیات ۳۰ تا ۳۸)
ترجمہ
اور (اے پیغمبر! اس وقت کا تصور کرو) جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا کہ : ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔” تو وہ کہنے لگے۔”کیا تو اس میں ایسے شخص کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد مچائے گا اور (ایک دوسرے کے) خون بہائے گا۔جبکہ ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح وتقدیس بھی کر رہے ہیں۔”اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ ”جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔” (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے اسماء (نام یا صفات و خواص) سکھا دیئے۔ پھر ان اشیاء کو فرشتوں کے روبرو پیش کر کے ان سے کہا کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو”۔ فرشتے کہنے لگے نقص سے پاک تو تیری ہی ذات ہے۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہی پڑھنا جاری رکھیں »


یوم سبت کا واقعہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 7, 2013


(الاعراف ۔ ۷: ۱۶۶-۱۶۳ )
ترجمہ
اور ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ وہ لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ ہفتہ کے دن تو مچھلیاں بلند ہوہو کر پانی پر ظاہر ہوتی تھیں اور ہفتہ کے علاوہ باقی دنوں میں غائب رہتی تھیں۔ اسی طرح ہم نے انہیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے آزمائش میں ڈال رکھا تھا۔ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ان میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا : ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا: اس لیے کہ ہم تمہارے پروردگار کے ہاں معذرت پڑھنا جاری رکھیں »