پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

عمل صالح کا محدود تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔ 
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم 
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ 
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔ 
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔ 
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی  کیوں؟

عظمی عنبرین/ اقصی ارشد

اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو  تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین  حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی  آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ  میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔

بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین  کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک  دولت مند شخص  ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔

ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے  پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون  حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ  منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے  ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔

ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات  ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق  کے مطابق  ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ  کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲  ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12   کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی  انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر  دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان  میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن  کی کمی  کا شکا  ر  ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

اگر آپ مندرجہ  ذیل  علاما ت  سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ  کے  جسم  میں وٹامن 12 –B کی  شدید  کمی کا عندیہ ہے :

1.احساسات  و جذبات  کا  غیر معمولی  اتا ر چڑھاؤ۔

2.روزمرہ  کے  کاموں  میں بے رغبتی  ،خواہ  وہ  اپنی  مرضی و منشا  کے پسندیدہ  مشاغل  ہی  کیوں  نہ ہوں 3.دماغ  کا چکرانا ۔

4.سونے  کے  اوقات  کی بے  اعتدالی ۔

5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن

6.معمولی  سی  باتوں پر  بدمزاجی  اور جھلاہٹ

7.دیگر معاشرتی دباؤ یا   پسپائی والی  علامات

اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار  میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج  ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس  کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام خوراک میں وٹامن  کی دستیابی  کا  بڑا  ذریعہ بچھڑے  کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا   جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر  چکن  دستیاب ہے جس میں  اس  وٹامن  کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس  کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد  ایک  دن کا وقفہ اور پھر  اگلا  انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال  میں  ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر  ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔

 


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


قصص القرآن۔ ایک دلچسپ کتاب از پروفیسر عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

اس کتاب کی خصوصیات
قرآنی قصائص پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ یہ کتاب کئی پہلووں سے ان سے مختلف ہے۔ پہلا پہلو تو یہ ہے کہ اس میں چھ گروپ بنا کر قرآنی قصائص کو بیان کیا گیا ہے جس سے قاری کا ذہن ایک ہی موضوع سے متعلق رہتا ہے اور معاملے کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں اکثر قصائص سے متعلق تذکیری، اخلاقی یا سبق آموز پہلو پر روشنی ڈال کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ قصہ کن پہلووں سے ہماری عملی زندگی سے متعلق ہے اور ہم اس سے سبق حاصل کرکے کیا عمل کرسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس میں بنیاد قرآن کو بنایا گیا ہے اور واقعے سے قبل جہاں ممکن ہو وہاں قرآن کی آیت سے بات شروع کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ کوئی غیر مستند بات بیان نہ ہو ۔ چوتھا یہ کہ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اس واقعے کے تاریخی اور دیگر پہلووں پر تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچواں یہ اس کتاب میں مختصر سوالات کے ذریعے قاری کے مطالعہ اور تفہیم کی صلاحیت کو جانچنے اور ساتھ ہی اسے پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اس کتاب کا استعمال
یہ کتاب یوں تو ہر طبقے کے لئے مفید ہے لیکن بالخصوص ایک عام پڑھے لکھے شخص، خواتین ، بڑی عمر کے بچوں ، طلبا اور اساتذہ کے لئے مفید ہے۔ ایک عام قاری کے لئے اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے وہ ہر روز اس کا تھوڑا تھوڑا حصہ پڑھے اور پھر اس میں دی گئی مشقیں حل کرے۔نیز جو تذکیر وہ حاصل کرے اسے اپنی عملی زندگی میں اپلائی کرنے کی پوری کوشش کرے۔
اس کتاب کے مطالعے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اسے گھر کے سربراہ جن میں شوہر، خواتین یا بڑے بھائی بہن شامل ہیں اپنے دیگر خاندا ن کے دیگر افرادمیں اورخاص طور پر بچوں میں اسے پڑھ کر سنائیں اور ساتھ ساتھ اس کی وضاحت بھی کرتے جائیں۔ جو تاریخی تفصیل غیر ضروری لگے یا جو بات مخاطب کی سطح کے لئے نامناسب ہو اسے حذف کردیں تاکہ دلچسپی برقرار رہے۔ اس کے بعد ان سے کچھ سوالات پوچھ لیں تاکہ انہیں سننے کی ترغیب حاصل ہو۔
کتاب کے ابواب
یہ کتاب چھ ابواب میں منقسم ہے۔ پہلا با ب انبیاء علیہم السلام کے واقعات پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب قوموں کے قصون کو بیان کرتا، تیسرا نیک ہستیوں کی داستانیں بتاتا، چوتھا برے کرداروں پر روشنی ڈالتا ، پانچواں قرآن کے انکشافات کی تفصیل بیان کرتا اور چھٹا باب متفرق قصائص کی تفصیل کرتا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں کسی بھی کسی کی غلطی ہو تو ضرور مطلع کریں۔ نیز میرے لئے اور میرے ادارے کے ٖلئے خاص طور پر دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنے لئے خاص کرلیں۔
پروفیسر محمد عقیل
کتاب داؤن لوڈ کرنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tazBxOTNROV9GWnc


چلو اس اور چلتے ہیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Nov 14, 2015

چلو اس اور چلتے ہیں
(جنت کے طلب گاروں کے نام)
پروفیسر محمد عقیل

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پھولوں کی وادی میں پرند ے بات کرتے ہیں
جہاں آوارہ بھنورے شام کو اٹھکھیلیاں کرتے، مچلتے ہیں
جہاں بادل پہاڑوں پہ ٹہرتے اور چلتے ہیں
جہاں ہر زیرو بم کے ساتھ ہی موسم بدلتے ہیں

چلو اس اورچلتے ہیں
جہاں سوچیں حقیقت بن کے خود ہی گنگناتی ہیں
جہاں قوس قزح کی سب لکیریں مسکراتی ہیں
جہاں سورج کی کرنیں سرد ہوکے بول اٹھتی ہیں
جہاں تاروں کی کرنیں کہکشاں سی جگمگاتی ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پربت کی چوٹی سرنگوں ہوتی سی لگتی ہے
جہاں تاریکیوں میں چاندنی خود رقص کرتی ہے
جہاں باد صبا کی سرسراہٹ گدگداتی ہے
جہاں برسات رنگ و نورکی محفل سجاتی ہے

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ پیرہن سونے کے اور چاندی کے بندھن ہیں
حسیں قالین، تخت و تاج و ریشم ،اطلس و دیبا
شرابیں پاک، نغمے صاف اور چمکے ہوئے من ہیں
سبھی مسرور وشاداں ہیں سبھی مہکے ہوئے تن ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ سبزہ ، ڈالی، ٹہنی ، پھل اور پھول اپنا ہے
جہاں کانٹا نہیں کوئی، جہاں سوکھا نہیں آتا
جہاں رنج والم، مشکل، ستم ، غم نہیں آتا
جہاں پہ خوف کے مارے یہ جی بیٹھا نہیں جاتا

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں چشمے ابلتے ہیں
جہاں اشجار ہر لمحے نئے منظر بدلتے ہیں
جہاں راتیں بھی روشن ہیں جہاں کی محفلیں نوری
جہاں پہ حسن بے پروا کے جلوے بھی نکلتے ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
چلو اس رب سے ملتے ہیں
جہاں سجدے مچلتے ہیں،جہاں یہ دل پگھلتے ہیں
جہاں پہ رب کے قدموں میں جبیں بس جم سی جاتی ہے
جہاں پہ ساعتیں مدھم ، خوشی کے دیپ جلتے ہیں

چلواس اور چلتے ہیں
چلو پھر سے سنبھلتے ہیں
چلو خود کو بدلتے ہیں
چلو بس آج سب کچھ چھوڑ کے ہم بھی نکلتے ہیں
چلو اس اور چلتے ہیں


میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Nov 9, 2015

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
(اپنے خدا کے نام )
پروفیسر محمد عقیل

میں نے سوچا نہ تھا میں نے جانا نہ تھا
تیری دنیا میں کیا کیا ہے رنگیں سماں
یاں پہ چندا بھی ہے یاں پہ سورج بھی ہے
یاں پہ جھلمل ستاروں کا جھرمٹ بھی ہے
پڑھنا جاری رکھیں »


سب سے اچھا موبائل کس کا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Oct 23, 2015

سب سے اچھا موبائل کس کا
موبائل سیٹ آج کل کی دنیا میں سب سے زیادہ پرکشش شے بن چکا ہے۔ہر شخص گردن جھکائے اسکرین پر انگلیاں پھیرتا نظر آتا ہے ۔ سیل فون کی خواہش اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ بچے اپنا گردہ بیچ کر بھی اس نایاب نعمت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
سیل فون کے استعمال میں وہ کیا بات ہے کہ دنیا پاگل ہوچکی ہے؟ دراصل دنیا کی آسائشوں کا خلاصہ سیل فون میں موجود ہے۔اس میں کمیونکیشن، انٹرٹینمنٹ ، خودنمائی، ستائش کاحصول اور مذہبی تعلیمات، سائنسی معلومات سمیت وہ سب کچھ ہے جو انسان تصور کی دنیا میں دیکھنا ، سننا اور پڑھنا چاہتا ہے۔ اس چھوٹی سے ڈبیا میں ایک پوری دنیا موجود ہے جس کی سیر کرنے سے آنکھیں تو تھک سکتی ہیں لیکن اس دنیا کی رنگینیاں ختم نہیں ہوتیں۔
ہر نیا آنے والا دن سمارٹ فون میں نت نئی تبدیلیاں لارہا ہے۔ یہ ڈبیا جس کا سفر بٹن والے ایک فٹ لمبے بھدے سیٹ سے ہوا تھا، آج گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہوا ٹچ اسکرین تک پہنچ گیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب ٹچ کی بجائے آواز کے ذریعے اسے کمانڈ دی جائے گی اور عین ممکن ہے کہ ادھر انسان سوچے ادھر موبائل سیٹ ایک سگھڑ بیوی کی طرح بات سمجھ جائے اور حکم کی تعمیل کردے۔
سیل فون کے استعمال کی بنا پر جہاں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں وہیں کئی سماجی اور اخلاقی مسائل نے بھی جنم لیاہے۔ اس میں ایک اہم مسئلہ اسراف، دکھاوے اور غیر ضروری مقابلے کے رحجان کا ہے۔ ہر دوسرا شخص مہنگا اور نیا سیٹ لینا چاہتا ہے خواہ اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اکثر لوگ موبائل خریدنے کے بعد اس کے سارے فنکشز کے بارے میں جانتے تک نہیں لیکن پیسہ پانی کی طرح بہانے پر مصر ہیں۔ کچھ لوگ محض دوسروں کی دیکھا دیکھی موبائل سیٹ بدلنے کے عادی ہیں کہ چند ماہ بعد ان کے پاس ایک نیا سیٹ ہوتا ہے۔ اس مقابلے میں صرف امیرہی نہیں بلکہ مڈل کلاس اور غریب لوگ بھی حصہ بقدر جثہ کی مصداق مصروف عمل ہیں۔
جن لوگوں نے اپنی زندگی کا مقصد کھیل تماشا، انٹرٹینمنٹ، دکھاوا اور ہلہ گلہ بنایا ہوا ہے ان سے تو بات کرنا لایعنی ہے۔ البتہ سنجیدہ اور بردباد لوگوں کو اس دکھاوے کی مسابقت میں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔سنجیدہ لوگوں کا سیل فون کے معاملے میں مقابلہ کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو بھیڑ چال کو تقلید ہے ۔ حالانکہ ہمیں جان لینا چاہئے کہ عوام کی اکثریت سوچےسمجھے بغیر معاملہ کرتی ہے ۔ اکثریت کی بنا سوچے سمجھے پیروی گمراہی کی جانب لے جانے والا عمل ہے۔ دوسری وجہ لوگوں کے طعنوں سے بچنا ہے کہ اتنا پرانا سیٹ رکھا ہو ا ہے۔ حالانکہ لوگو ں کا کام تو نکتہ چینی ہی کرنا ہے خواہ ہم کچھ بھی کرلیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کونسا موبائل سیٹ لیا جائے؟ اس کا جواب اگر دو اور دو چار کی طرح ہوتا تو بات بہت آسان تھی۔ لیکن ہر شخص کی ضروریات مختلف ہیں۔سب سے پہلے تو ہم اپنی ضروریات کا تعین کریں کہ وہ کونسا موبائل سیٹ ہے جو ہماری انٹرٹینمنٹ، آفس، گھر داری اور سوشلائزیشن کی جائز ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس کے بعد ہم ان ضروریات کے مطابق ایک فون خرید لیں اور اس وقت تک نہ بدلیں جب تک کہ ہمارے پاس اس تبدیلی کی کوئی واضح وجہ ہو۔

سب سے بہترین موبائل سیٹ وہ ہے جو ہماری ضروریات پوری کرتا ہو۔ باقی سارے سیٹ اسراف ، نمائش، دکھاوا اور دھوکا ہیں۔اسراف کا معاملہ یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ہمارے اطراف پھیلے ہوئے غریب لوگوں کی حق تلفی ہے۔ قرآن میں بیان ہوتا ہے:
اور رشتہ داروں کو (بھی) ان کا حق ادا کرو اور مسکین و مسافر کو (بھی ان کا حق دو) اور فضول خرچی نہ کرو۔فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔(بنی اسرائیل ۱۷: ۲۶-۲۷)

اسراف کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتے اور جس کو اللہ ناپسند کریں تو اس کی دنیا و آخرت برباد ہے:
اے بنی آدم، ہر نماز کے وقت (لباس سے) اپنے تئیں آراستہ کر لیا کرو، اور کھاؤ پیو اور بےجا خرچ نہ کرو۔ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(الاعراف ۳۱:۷)

اسراف پر ناپسندیدگی اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی تمہاری تین باتوں سے راضی ہوتا ہے اور تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے جن باتوں سے راضی ہوتا ہے وہ یہ ہیں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور اللہ کی رسی کو مل کر تھامے رہو اور متفرق نہ ہو اور تم سے جن باتوں کو ناپسند کرتا ہے وہ فضول اور بیہودہ گفتگو اور سوال کی کثرت اور مال کو ضائع کرنا ہیں۔( صحیح مسلم جلد 2 ، حدیث نمبر 1987)

ایک اور حدیث مال کے تلف کرنے کو گناہ کا عمل بتاتی ہے:

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آدمی کو گناہ گار بنا دینے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ اپنی یا اپنے متعلقین کی روزی کو ضائع کر دے۔( سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1679)
اللہ تعالی ہم سب کو صحیح طرز عمل اختیار کرنے اور اس پر ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین
پروفیسر محمد عقیل


مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی
کسی بھی نارمل انسان کی زندگی میں یہ ممکن نہیں کہ کسی سی اس کا تنازعہ نہ ہو۔ ہر انسان کی طبیعت ، ، پسند نا پسند اور فطرت مختلف ہو نے کی وجہ سے زندگی میں ایسے بے شمار مرحلے آتے ہیں جب اس کا کسی نا کسی سے اختلافِ رائے ہو جاتا ہے۔ خواہ یہ اختلافِ رائے سیاسی اکھاڑے میں ہو، مذہبی مناظرے میں ہو، دوستوں کی محفل میں ہو یا خانگی زندگی میں ہو۔
جب کبھی تنازعہ پیش آئے تو ہمیشہ لوگ کہتے ہیں کہ “اُس نے میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی” دونوں فریقین یہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس نے دوسرے کی بات سمجھنے کی کتنی کوشش کی۔ ہماری ساری زندگی اپنی بات منوانے کے چکر میں گذر جاتی ہے۔ ہم کسی اور کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ذرا سو چیے اللہ نے ہمیں دو کان اور ایک زبان کیوں دی ہے۔زیادہ سننے اور کم بولنے کے لیے۔کسی کی بات نا سننے اور نا ماننے کے حوالے سےہمارے رویے کے کئی عوامل ہو سکتے ہیں مثلاً :
1. ذاتی عناد
2. انا
3. کم علمی
ذاتی عناد جب کسی جھگڑے کی بنیاد بنتا ہے تو ہم اپنی دشمنی کی وجہ سے کسی کی کوئی بات ماننے کے لیے اس لیے تیار نہیں ہوتے کیوں کہ وہ “ہمارے دشمن” نے کی ہو تی ہے۔یہاں ایک نفسیاتی رکاوٹ حائل ہو جاتی ہے جو ہمیں عقلیت پر مبنی فیصلے نہیں کرنے دیتی۔ تنازعہ کے حل میں حائل ایک اور رکاوٹ ہماری انا ہوتی ہے۔ہمارا نفس ہمیں اکساتا ہے کہ کسی کی بات مان لینے میں ہماری سبکی ہو گی ۔ لوگ کیا کہیں گے کہ میں نے ان کی بات مان لی۔ میرا سر جھک جائے گا۔اور ہماری انا خود ہماری راہ میں آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسی مسٔلے کے حل میں رکاوٹ کی ایک تیسری بڑی وجہ کم علمی ہے۔ ہمیں اکثر بات پوری طرح پتہ نہیں ہوتی اور ہم اپنی کم معلومات پر ہی کسی چیز، واقعہ یا شخص کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں ؛ اور یہ رائے کم معلومات کی بنا پر صحیح نہیں ہوتی مگر ہم اُسے درست سمجھ کر اس کے دِفع میں اپنی ساری توانائی صرف کرتے ہیں۔
ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ہماری بات مانیں، ہماری بات سنیں، ہمارے طریقے پر چلیں اور اس طرح ایک سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ میرا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس فریقِ ثانی کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے اور ایک دوسری سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ اس کا طریقہ ہے۔ اور ہر ایک اپنے طریقے کو منوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین پر جذبات غالب رہتے ہیں۔اور جذبات کی اس آگ کو ہمارا نفس ہوا دیتا رہتا ہے۔ اپنی دشمنی کی وجہ سے، اپنی انا کے ہاتھوں سے مجبور اور اپنی کم علمی کی بنا پر ہم کسی تنازعہ کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔
ایسے میں ہمیں ایک ایسے طریقے کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ تو اس کا طریقہ ہوتا ہے نہ میرا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ طریقہ جو ہمیں مسائل کے حل کی طرف لے کر جاتا ہو وہ نہ تو کسی کی خواہشات پر مبنی ہوتا ہو نہ جذبات پر۔ ایسے طریقہ کی بنیاد اصولوں پر ہوتی ہے۔اصول بھی وہ جو time tested ہوں اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں جن اصولوں کی پاسداری کرنے کے لیے کہتا ہے ان کو اگر زمان ومکان کی کسوٹی پر پرکھیں تو یہ اصول کھرے ثابت ہوتے ہیں۔کسی بھی زمانے میں کسی بھی جگہ ، آج سے ایک ہزار سال پہلے مغرب میں یا مشرق میں۔ ان اصولوں میں ایک universality ہے۔ان اصولوں پر مبنی طریقہ ایک بہتر طریقہ ہے۔

مصنف: شمیم مرتضی


ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

اسلامی عبادات میں نماز کی ایک منفرد اہمیت ہے۔ ایمانیات اور دیگر عبادات کی اہمیت بھی مسلّم مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ایک عام مسلمان ا یک دن میں شعوری یا لاشعوری طور پر کتنی مرتبہ کلمہ پڑھتا ہے۔ یا یہ کہ فرشتوں کو، رسولوں کو یا آخر ت کو کتنی مرتبہ یاد کرتا ہے۔ اسی طرح عبادات کی مثال لے لیں۔

روزہ سال میں ایک مرتبہ ایک مہینہ کے لیے فرض ہے۔ زکوٰۃ صاحبِ نصاب پر فرض ہے ہر ایک مسلمان پر نہیں۔ حج کی فرضیت بھی صاحبِ استطاعت کے لیے ہے۔ یوں دین کا ایک بڑا حصہ ہماری روز مرّہ زندگی سے نکل جاتا ہے۔ اس طرح یہ تمام دینی فرائض عام مسلمان کے شعور کا با قاعدہ حصہ نہیں بن پاتے ما سوائے ان لوگوں کے جو ان باتوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔

اس کے بر عکس نماز ایک ایسی عبادت ہے جو ایک مسلمان کو اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہو نے دیتی۔ ایک دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز، محلہ اور گلی کوچوں میں مسجد کا وجود، اور نماز کے مقررہ اوقات میں لوگوں کا مسجد کا رُخ کرنا ، ایسے مناظر ہیں جو اسلامی معاشرے میں اللہ کی موجودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ مناظر ایک عام بے نمازی کو بھی یہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔ اور یوں اللہ کے وجود کا احساس ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔ نماز سے تعلق کی بنیاد پر معاشرہ میں لوگوں کے کئی گروپ بن جاتے ہیں۔

اوّل تو وہ لوگ ہیں جن کے دل مسجد میں ا َٹکے ہوتے ہیں۔ اللہ کی یاد ایسے لوگوں کے رَگ و پَے میں دوڑتی ہے۔ بڑی سعادت ہے ایسے لوگوں کے لیے۔ یہ اُٹھتے بیٹھتے، جُھکے ہوئے اور کروٹوں کے بَل اللہ کو یاد رکھتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو فقط روٹین میں نماز ادا کرتے ہیں مگر اِن کا بھی ایک تعلق اللہ سے جُڑا ہوا تو ہوتا ہی ہے۔ پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو نماز تو نہیں ادا کرتے مگر اذان کی آواز ان کی سماعت کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتی ہے۔

اگر نماز نہیں ہو تی تو شائد ہم اللہ کو بھول جاتےاور اُسے اپنے حافظہ سے محو کر دیتے، اور اگر اللہ اس کے بدلے میں ہمیں اپنے حا فظہ سے نکال دے تو؟
مصنف: شمیم مرتضی


اے بادلو یہ کہنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Mar 29, 2015

اے بادلو! یہ کہنا ،یہ زندگی حسیں تھی جب تو تھا اس میں شامل ۔ ہر رات ملاقات تھی، ہر دن میں تری یاد تھی، پھر دھوپ میں برسات تھی، ہر شام ہی کیا بات تھی۔ وہ بے خودی میں رقص کرنا،وہ کانٹوں پہ چل کے ہنسنا، لذت سے دم اٹکنا، ہر چاپ پہ کھٹکنا۔ وہ چلتے چلتے رکنا، وہ رک کے پھر سے
چلنا۔
پڑھنا جاری رکھیں »