پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jun 27, 2017

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا پڑھنا جاری رکھیں »


سورہ المنافقون کا خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 9, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ المنافقون کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
جب یہ دھوکے باز منافق تمہاری محفلوں میں آتے ہیں تو تمہاری ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول پڑھنا جاری رکھیں »


نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 2, 2017

نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
نفاق کا مرض اتنا اہم ہے کہ قرآن نے اسے خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔ سورہ بقرہ جو قرآن کی دوسری ہی سورہ ہے اس کے دوسرے رکوع میں ہی منافقین کا ذکر ہے اور ان کی کچھ خصوصیات بتائی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن نے جگہ جگہ منافقین کی جانب اشارہ کرکے ان کی نفاق کی علامات، اس کی وجوہات اور اس کا علاج بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ توبہ، الحجرات ، سورہ احزاب اور پڑھنا جاری رکھیں »


الجبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 16, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارحمنا یا جبار
اللہ کی صفت “جبار” کا شمار طاقت و غلبے کی صفات میں ہوتا ہے۔”الجبار ” کے معنی قوت و شوکت کی مالک، زورآور، قوی اور قاہر ہستی کے ہیں۔ عرب جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہتے تھے جس کے کھجوروں یا پھل کو حاصل کرنے کے لیے کسی پڑھنا جاری رکھیں »


فیصلہ سازی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 16, 2017

فیصلہ سازی
Decision Making
ایک لطیفہ ہے کہ ایک ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے پچیس لوگوں کو اپنی بس تلے کچل دیا تھا۔ اس سے پولیس آفیسر سے پوچھا:
“آخر تم نے کس طرح پچیس لوگوں پر گاڑی چڑھادی حالانکہ تم دوسری طرف بھی گاڑی کا رخ موڑ سکتے تھے؟”
” سر جی ! میری گاڑی کے بریک فیل ہوچکے تھے میرے دائیں جانب بارات تھی اور بائیں جانب صرف دو افراد ۔ میں نے دو افراد پڑھنا جاری رکھیں »


الحلیم۔ بردبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Feb 17, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحلیم۔ بردبار
ڈاکٹر محمد عقیل
الحلیم اللہ کی صفات میں ایک اہم صفت ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں بردباری کرنے والا، تحمل کرنے والا۔ حلم کا مطلب ہے جوش غضب سے اپنے نفس کو روکنا۔ اس کے معنی کو مزید کھولا جائے تو حلیم سے مراد وہ شخصیت ہوتی ہے جس میں جلد بازی نہ ہو، جو تحمل اور عزم کے ساتھ کسی بھی عمل کے مقابلے میں فوری رد عمل کا اظہار نہ کرے، وہ شخصیت جو جلد بازی سے کام خراب نہ کردے، وہ جسے اپنے اعصاب پر پورا قابو ہو، وہ جو اپنے آپ کو اچانک رد عمل سے روک کر رکھے اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرے، وہ جو جذبات سے مغلوب نہ ہو۔
اللہ کی صفت الحلیم سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی مخلوق پر ظاہری اور پوشیدہ انداز میں اپنی رحمت نازل کرتا رہتا اور ان کی نافرمانیوں اور مخالفت کے باوجود ان شفقت کرتا اور ان کی کوتاہیوں سے درگذر کرتا ہے ۔ اللہ کی اسی صفت حلم انسان کے لیے ایک نعمت ہے۔ اگر اللہ تعالی میں حلم نہ ہوتا تو اللہ ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں کب کا ہلاک کرچکے ہوتے، اللہ کے غضب سے زمین و آسمان پھٹ چکے ہوتے اور وہ قیامت جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے کب کی آ لگی ہوتی۔ لیکن اللہ کی یہی بردباری اور تحمل ہے وہ انسان کو مہلت دیتے ہیں حتی کہ برا بھلا کہنے والوں کو بھی فوری طور پر ہلاک نہیں کرتے اور انہیں موقع دیتے ہیں کہ وہ اصلاح کرلیں۔ نہ صرف اللہ موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ توبہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کو لغزشوں سے پاک ہونے کے لیے اپنی جانب سے خصوصی گائیڈلائن فراہم کرتے ہیں۔
صفت حلیم اللہ کی صفت الوہاب اور الغنی کے تحت آتی ہے۔ صفت غنی یا وہابیت وہ صفت ہے جسے دیگر صفات کی مدد کی ضرورت نہیں۔ باقی صفات تخلیق، علم، فنا، بقا وغیرہ کو کسی حقیقت میں ظاہر ہونے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہابیت کے مطابق اللہ تعالی انسان کو وسائل عطا کرتے اور انہیں برتنے کا موقع دیتے ہیں۔ ان وسائل کو انسان خدا کے طے کردہ قوانین کے مطابق بھی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ان قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے۔ لیکن اللہ کی صفت حلم آزمائش کی وجہ سے انسان کو اس کی نافرمانی کی دوری سزا نہیں دیتی بلکہ تحمل و بردباری کی بنا پر اس کے نتیجے کو مؤخر کردیتی ہے۔
انسان کے لیے صفت حلم
قرآن میں یہ صفت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خاص طور پر استعمال ہوئی ہے۔ان کے ساتھ ہی حضرت شعیب اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ انسان کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ اپنے اندر حلم پیداکرے ۔ صفت حلم و بردباری کو بیدار کیے بنا کوئی شخص حقیقت میں کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ اس صفت کے بنا جو بھی حاصل ہوتا ہے وہ مختصر مدت کے لیے ہوتا ہے یا محض ایک فریب ہوتا ہے۔ الحلیم ہی وہ بنیادی صفت ہے جس کے تحت دیگر صفات سے دیرپا استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب اللہ تعالی کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی شخصیت میں صفت حلم بیدار کردیتے ہیں۔ تاکہ اسے زندگی میں جو کچھ بھی ملے وہ دیرپا ہو۔
مثال کے طور پر ایک شخص کو اگر دولت مل جائے لیکن اس میں حلم و بردباری نہ ہو تو وہ بہت جلد فضول خرچی میں دولت کو ختم کرکے فقیر بن سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بڑا عالم اگر غیر متحمل مزاج ہو تو اپنے علم کو جلد بازی میں استعمال کرکے نادانی کا رویہ اختیار کرسکتا ہے۔ ایک مینجر جلد بازی میں غلط فیصلے کرسکتا، سیاست دان ریاست کو داؤ پر لگاسکتا اور ایک بزنس مین عارضی ناکامیوں کی بنا پر جلد ہمت ہارسکتا ہے۔
یہ صفت حلم کی کمی ہی ہوتی ہے کہ ایک عام شخص جلد غصے، چڑچڑاہٹ، بدمزاجی، عدم برداشت، ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی کی بنا پر شادیاں ناکام ہوجاتیں، گھر اجڑ جاتے، خاندان فساد کا شکار ہوجاتے، ریاست انتشار کا شکار پڑھنا جاری رکھیں »


شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jan 31, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں اکثر شکرگذاری کو محض زبانی معاملہ سمجھتے ہیں کہ صرف الحمدللہ ، یا اللہ تیرا شکر ہے وغیرہ کہہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ شکر ادا پڑھنا جاری رکھیں »


حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 29, 2017

حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: آج کے دور میں وہ جماعت یا مسلک کس طرح تلاش کیا جائے جو حق پر ہو؟
جواب: بالعموم ہم جب حق کی تلاش کی بات کرتے ہیں توا سے محدود پڑھنا جاری رکھیں »


دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jan 19, 2017

مضمون نمبر 5: دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی
ڈاکٹر محمد عقیل
جب اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے ” کن ” کہا یعنی ہوجا۔ تو یہ کائنات وجود میں آگئی ۔ اللہ تعالی اس بات پر قادر تھے کہ وہ بس اشارہ کرتے اور سب کچھ خود بخود ایک سیکنڈ میں بن جاتا۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں »


اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jan 17, 2017

مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح
پکارا جائے ؟
از ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو اسمائے حسنی کے ذریعے پکارو، سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔
“اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں ناموں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے” (سورہ الاعراف پڑھنا جاری رکھیں »