پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

ایک اہم حدیث کی وضاحت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Jul 4, 2016

ایک اہم حدیث کی وضاحت.
پروفیسر محمد عقیل
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم ۔۔۔۔ ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پا سکیں گی جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت(یعنی دور) سے محسوس کی جا سکتی ہے۔”( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1085)
اس حدیث سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ جوڑا باندھنے والی عورتوں کی مذمت میں ہے یااس میں صرف خواتین کی مذمت کی گئی ہے۔
دراصل یہ حدیث اس روئیے کی مذمت میں کی گئی ہے جو جنس مخالف کو زنا کی جانب اکسانے کے لئے اپنایا جائے۔ اس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ اوباش اور آوارہ عورتیں ہیں جو خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں اور دوسروں کو بھی بھٹکانے کا باعث بنتی ہیں۔
یہی رویہ اگر مردوں میں پایا جائے تو قابل مذمت ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آوارہ لڑکا عورتوں کو بہکائے، انہیں اپنے لباس ، چکنی چپڑِ ی باتوں ، اپنی پر کشش شخصیت یا اپنے دولت کے جھانسے میں لے کر ان کو غلط کام پر اکسائے یا و ورغلائے تو ا وہ بھی اس حدیث کی وعید میں آئے گا اور وہ بھی انشاءاللہ نہ جنت میں داخل ہوپائے گا اور نہ ہی اس کی خوشبو پاسکے گا۔


عمل صالح کا محدود تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔ 
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم 
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ 
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔ 
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔ 
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل


نیکی کا درست تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

نیکی کا درست تصور

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی ہے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو نیکی کے تصور کو جاننے اور درست طور پر جاننے میں بہت اہم ہیں۔ اگر ہم قرآن کا جائزہ لیں تو قرآن سب سے پہلے جو بات ہمیں بتاتا ہے وہ یہ کہ اللہ نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ گویا عبادت ہی نیکی ہے اور عبادت سے گریز کرنا گناہ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کون سا عمل نیکی ہے؟ اس کےجواب میں بالعمو م روایتی حلقے ایک فہرست مرتب کردیتے ہیں جس میں اعمال صالح اور گناہوں کو بیان کردیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کے بارے میں ایک اندازہ وہوجاتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہ فہرست کارآمد نہیں رہتی۔ نیز اس فہرست کا دائرہ کار چند مخصوص معاملات تک محدود ہوجاتا ہے۔ اس اپروچ کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ عبادت، گناہ اور نیکی کو متعین کرنے کے لیے کسی مذہبی عالم کی تشریح کا محتاج رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے مذہبی طبقے پر تصوف کا بڑا گہرا اثر ہے اس لیے دنیا سے متعلق اچھے اعمال کو عام طور پر وہ نیکیوں میں شمار نہیں کرپاتے کیوں ان کی دانست میں اس سے دنیا پرستی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نیکی کی ایک جامع تعریف قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کی جائے اور اسی تناظر میں نیک اعمال اور گناہوں کا تعین کرنے کے عمل کو سیکھا جائے ۔ نیکی کی تعریف اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تو کچھ یوں بنتی ہے:
نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔
اس کی تشریح کی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلی بات کہ نیکی سے مراد کوئی بھی عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف دینی امور سے متعلق ہو، یہ دنیا کا بھی کوئی معاملہ ہوسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آگے بیان کردہ شرائط پوری ہورہی ہوں۔جیسا کہ اس آیت کو دیکھیں:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ١٧٧؁
نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو ۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (البقرہ ۱۷۷:۲)
ان آیات کو غور سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔
۲۔کسی عمل کے عمل صالح ہونے کے لیے پہلی شرط خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی قید کا خیال رکھنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا نے حلا ل و حرام کی قیود صرف وحی کے ذریعے ہی نہیں بتائی بلکہ انسان کی فطرت کے اندر بھی جائز و ناجائز کو طے کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھ دی ہے۔ بالخصوص اخلاقیات کے اکر معاملات میں اصل فتوی دل کا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا Ċ۝۽ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا Ď۝۽
اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے۔ پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔(سورہ الشمس ۹۱، آیات ۷-۸)
تو اصل بات یہ ہے کہ کسی عمل کے نیکی ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ وہ خدا کی بیان کردہ حدودو قیود کے اندر ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن وہ ناپاکی کی حالت میں ہے تو اس نے خدا کی حلال و حرام کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ بلاعذر ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ تصور ہوگا۔ ایسے ہی ایک شخص حج اگر حرام کی کمائی سے کررہا ہے تو یہ عمل بظاہر عبادت ہونے کے باوجود حقیقت میں نیکی نہیں۔اسی طرح ایک شخص اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے لیکن وہ اس چوری کے پیسوں سے یہ کام کررہا ہے ۔بچوں کا پیٹ پالنا ایک نیک کام ہے لیکن اس کو پورا کرتے وقت خد کے بیان کردہ حدود کی پاسداری نہیں کی گئی، اس لیے یہ نیکی نہیں۔
۳۔ کسی عمل کے نیکی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نیت کے اخلاص کا ہونا ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر یا لاشعور میں کہیں موجود ہونا چاہیے۔
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹ : ۲)
’’بے شک ، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف مطابق حق اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اطاعت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے۔ سن لو کہ خالص اطاعت کا سزاوار اللہ ہی ہے۔‘‘
مثلا ایک شخص روزہ رکھ رہا ہے لیکن اس کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہے تو یہاں اخلاص کی کمی ہے جس کی بنا پر اس کا روزہ عبادت یا نیکی نہیں۔ ایک شخص میدا ن جنگ میں جہاد کررہا ہے لیکن مقصد مال غنیمت ہے تو یہ نیکی نہیں۔لیکن ایک شخص اخلاص کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی سے کسی کو ایذا پہنچائے بنا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ عبادت یا نیکی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات نیت کا اظہار باقاعدہ زبان سے نہیں کیا جاتا اور یہ لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ جیسے ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس کچھ کہے بنا نیت باندھ لی۔ یہاں اس کا عمل یہ بتارہا ہے کہ وہ شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے نیت باندھی ہے۔
دینی معاملات میں تو بالعموم اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمل اللہ کے لیے کیا جارہا ہے لیکن دنیوی معاملات میں عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی نیت کا اظہار اکثر اوقات نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص روزانہ کمانے کو گھر سے نکلتا ہے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل میں اللہ کو راضی کرنے کی نیت موجود نہیں۔ اسی بنا پر کچھ لوگ کمانے کو عمل کو دنیا داری کہہ کر اسے نیکی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ شخص روزی کماتے وقت اللہ کی حدود و قیود کا خیال رکھ رہا ہے ۔ چنانچہ جس طرح نماز پڑھتے وقت لازم نہیں کہ زبان سے نیت کی جائے اسی طرح دنیاوی نیکیوں میں بھی ممکن نہیں کہ شعوری سطح پر ہر مرتبہ بیان کی جاری کیا جائے۔ بس ایک عمومی ارادہ کافی ہوتا ہے۔
۴۔ عمل صالح ہونے کی تیسر ی شرط اس عمل کو محنت یا مہارت سے یا خوش اسلوبی سے انجام دینا ہے۔
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ
اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے(النجم ۳۹:۵۳)
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کے لیے نیکی اتنا ہی عمل ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے لیے نیکی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس میں اس کی بالواسطہ کوشش شامل ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی عمل کیا جائے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے۔ اس کامطلب ہے کہ اس عمل میں جتنی بے دلی شامل ہوگی اتنا ہی وہ عبادت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی و ہ کام جو مارے باندھے کیے جاِئیں وہ نیکی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع و سجود درست طور پر ادا نہیں ہورہے تھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دوبارہ پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اسی طرح قرآن میں منافقین کی نماز کا ذکر ہے کہ وہ مارے باندھے مسجد میں آتے ہیں ۔
دنیاوی معاملات میں بھی محنت اور خوش اسلوبی ضروری ہے۔ ایک شخص جب ملازمت کرتا ہے تو کام چوری کرنا یا اپنی ذات کو آرام دینے کے لیے چور راستے تلاش کرنا نیکی کو گناہ میں بدل سکتا ہے۔
۵۔ آخری شرط یہ ہے کہ عمل کا مقصد کسی نہ کسی مخلوق کو براہ راست یا بالواسطہ نفع پہنچانا ہو۔ یہ نفع دنیا کا بھی ہوسکتا ہے اور دین کا بھی۔دین کے نفع کو نیکی ماننا تو ایک مسلمہ ہے لیکن دنیوی کاموں کو بھی متعدد احادیث میں صدقہ اور نیکی قرار دیا گیا ہے۔
۱۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بے ہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہو گی۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 251)
۲۔ اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔(مسلم)
۳۔ جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسلم)
۴۔ تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔(مسلم)
۵۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(مسلم)
۶۔ کتے یا کسی جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
۷۔ رشتے داری کا لحاظ رکھنا، گناہوں سے بچنا، مصیبت برداشت کرنا، اچھے اخلاق اپنا، قرض دار کو مہلت دینا سب اعمال نیکی ہیں۔(بخاری)
ا ن تمام روایات کو جمع کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ صدقہ یا نیکی سے مراد ہر و ہ عمل ہے جس میں خود کو یا کسی دوسری مخلوق کو نفع پہنچایا جارہا ہو۔ اس اصول کے تحت مثال کے طور پر ایک قاری اگر بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے تو چونکہ وہ انہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچا رہا ہے تو اس کا عمل نیکی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر بچوں کو کیمسٹری پڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد دنیوی فائدہ پہنچانا ہے تو یہ بھی ویسے ہی نیکی ہے جیسے قرآن پڑھانا۔
بعض اوقات انسان کوئی عمل کسی دوسری مخلوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کررہا ہوتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا خود کو دینی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے،اسی طرح رزق کمانا، پڑھائی کرنا یا معلومات میں اضافہ کرنا خود کو دنیوی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے اس لیے یہ بھی نیکی ہے۔
خلاصہ
اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی کا دائرہ کار صرف دینی عبادات، مذہبی رسومات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ ہر اچھا عمل نیکی ہے بشرطیکہ اسے ان حدود قیود میں کیا جائے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


فار گرانٹڈ (For Granted)

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

فار گرانٹڈ

(For Granted)

زندگی میں بے شمار نعمتیں ہمیں   بن مانگے مل جاتی ہیں۔ ہم ان کے لئے نہ تو سوچتے ، نہ محنت کرتے، نہ پریشان ہوتے اور نہ ہی کوئی تگ و کرتے ہیں ۔اس کے باوجود یہ ہماری جھولی میں ڈال کر دے دی جاتی ہیں۔ اس میں سر فہرست  اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ ہم پیدا بھی نہیں ہوتے  اور ماں کے پیٹ میں ہماری کابندوبست ہوجاتا ہے۔ جب ہم اس دنیا میں آتے ہی تو زمین کی آغوش ہمارے لئے ماں کا پیٹ بن جاتی اور زندگی گذارنے کی تمام سہولیات بن مانگے مل جاتی ہیں۔  سورج حرارت فراہم کرتا، رات سکون مہیا کرتی، چاند تارے ذوق کی تسکین کرتے، فضا  تفس کو ممکن بناتی ، زمین اپنا سینہ چاک کرکے غذا کو اگلتی اور جانور گوشت کے پہاڑ  بنے    لذت کام و دہن کا سبب بنتے ہیں۔

 

ان نعمتوں کی فراہمی کو ہم فارگرانٹڈ لیتے اور اپنا حق سمجھتے رہتے ہیں۔یہیں سے ختم نہ ہونے والی غلطیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس کی نعمتیں حقیر لگتیں، پھر اس کے وجود کا احساس ہی نہیں ہوتا، پھر اس کے کرم کا اندازہ نہیں ہوتا  اور اس کی لا متناہی شفقت محسوس ہی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ  خدا نعوذ باللہ ایک خودکار مشین کی مانند لگنے لگتا ہے ۔ پھر سب کچھ خود بخود ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔آفاق میں سورج  کا طلوع و غروب، سبزہ کا اگنا ، غلہ کی پیداوار ، زمین کی گردش، بارش کا برسنا سب کچھ خود بخود ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ انفس میں سانس و زیرو بم، دل کی دھڑکن، آنکھوں کی بصارت، زبان کا تکلم، کانوں کی سماعت، دماغ کی سوچیں سب ایک خود کار نظام کے تحت بندھے ہوئے لگتے ہیں۔

پھر لاشعور میں یہ خیال  راسخ ہوجاتا ہے جب سب کچھ خود بخود مل رہا ہے تو کیوں اس کی شکرگذاری کی جائے،  کیوں اس کی بندگی کی جائے، کیوں اس کی بات مانی جائے ، کیوں اس کے آگے جبین نیاز ٹیکی جائے؟ اس سے  اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اب کسی خدا کی کیا ضرورت؟یہ تو سب خود بخود ہورہا ہے۔ اس سے آگے کچھ لوگ بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا موجود ہی نہیں اور نعوذباللہ  انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔

اسی صورت حال سے انسان کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ براہ راست مداخلت کرتے ہیں اور یہ احسا س دلاتے ہیں کہ یہ سب نعمتیں انسان کا حق نہیں بلکہ اللہ کی عنایت ہیں اور اللہ جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں۔ چنانچہ کبھی زمین کو ہلایا جاتا ، سمندر کے بند کھول دئیے جاتے،ہوا کی باگیں چھوڑدی جاتیں، آسمانی بجلی کو آزاد کردیا جاتا اوربارش کو طوفان میں بدل دیا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد انسان کو یہ احسا س دلانا ہے کہ یہ سب کچھ فارگرانٹڈ لینے کے لئے نہیں۔ ان سب کے خالق کاشکر واجب ہے، اس کا احترام لاز م ، اس کی نمک حلالی ضروری ہے۔ خدا کی نعتموں کو فارگرانٹڈ نہ لیجئے ۔ ورنہ بہت جلد آپ کو یہ تجربہ کروایا جاسکتا ہے کہ یہ سب فارگرانٹڈنہیں ۔

 پروفیسر محمد عقیل

 

 

                                            

 

 


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


قصص القرآن۔ ایک دلچسپ کتاب از پروفیسر عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

اس کتاب کی خصوصیات
قرآنی قصائص پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ یہ کتاب کئی پہلووں سے ان سے مختلف ہے۔ پہلا پہلو تو یہ ہے کہ اس میں چھ گروپ بنا کر قرآنی قصائص کو بیان کیا گیا ہے جس سے قاری کا ذہن ایک ہی موضوع سے متعلق رہتا ہے اور معاملے کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں اکثر قصائص سے متعلق تذکیری، اخلاقی یا سبق آموز پہلو پر روشنی ڈال کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ قصہ کن پہلووں سے ہماری عملی زندگی سے متعلق ہے اور ہم اس سے سبق حاصل کرکے کیا عمل کرسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس میں بنیاد قرآن کو بنایا گیا ہے اور واقعے سے قبل جہاں ممکن ہو وہاں قرآن کی آیت سے بات شروع کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ کوئی غیر مستند بات بیان نہ ہو ۔ چوتھا یہ کہ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اس واقعے کے تاریخی اور دیگر پہلووں پر تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچواں یہ اس کتاب میں مختصر سوالات کے ذریعے قاری کے مطالعہ اور تفہیم کی صلاحیت کو جانچنے اور ساتھ ہی اسے پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اس کتاب کا استعمال
یہ کتاب یوں تو ہر طبقے کے لئے مفید ہے لیکن بالخصوص ایک عام پڑھے لکھے شخص، خواتین ، بڑی عمر کے بچوں ، طلبا اور اساتذہ کے لئے مفید ہے۔ ایک عام قاری کے لئے اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے وہ ہر روز اس کا تھوڑا تھوڑا حصہ پڑھے اور پھر اس میں دی گئی مشقیں حل کرے۔نیز جو تذکیر وہ حاصل کرے اسے اپنی عملی زندگی میں اپلائی کرنے کی پوری کوشش کرے۔
اس کتاب کے مطالعے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اسے گھر کے سربراہ جن میں شوہر، خواتین یا بڑے بھائی بہن شامل ہیں اپنے دیگر خاندا ن کے دیگر افرادمیں اورخاص طور پر بچوں میں اسے پڑھ کر سنائیں اور ساتھ ساتھ اس کی وضاحت بھی کرتے جائیں۔ جو تاریخی تفصیل غیر ضروری لگے یا جو بات مخاطب کی سطح کے لئے نامناسب ہو اسے حذف کردیں تاکہ دلچسپی برقرار رہے۔ اس کے بعد ان سے کچھ سوالات پوچھ لیں تاکہ انہیں سننے کی ترغیب حاصل ہو۔
کتاب کے ابواب
یہ کتاب چھ ابواب میں منقسم ہے۔ پہلا با ب انبیاء علیہم السلام کے واقعات پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب قوموں کے قصون کو بیان کرتا، تیسرا نیک ہستیوں کی داستانیں بتاتا، چوتھا برے کرداروں پر روشنی ڈالتا ، پانچواں قرآن کے انکشافات کی تفصیل بیان کرتا اور چھٹا باب متفرق قصائص کی تفصیل کرتا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں کسی بھی کسی کی غلطی ہو تو ضرور مطلع کریں۔ نیز میرے لئے اور میرے ادارے کے ٖلئے خاص طور پر دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنے لئے خاص کرلیں۔
پروفیسر محمد عقیل
کتاب داؤن لوڈ کرنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tazBxOTNROV9GWnc


میرے رب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Nov 15, 2015

میرے رب!
میرا اب جی یہ چاہتا ہے
کہ اپنی ذاتِ خلوت سے
فریب نفس کی اس جلوت سے
ہجومِ ستمگراں، اس دنیا کی
ہر نسبت سے
جو تجھ سے دور کرے
ہر اس “نعمت” سے
ناطہ توڑ کر اپنا
تعلق توڑ کر اپنا
تیری منزل کی جانب
کہیں روپوش ہو جاؤں
میں اک درویش ہو جاؤں

از: سید اسراراحمد


چلو اس اور چلتے ہیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Nov 14, 2015

چلو اس اور چلتے ہیں
(جنت کے طلب گاروں کے نام)
پروفیسر محمد عقیل

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پھولوں کی وادی میں پرند ے بات کرتے ہیں
جہاں آوارہ بھنورے شام کو اٹھکھیلیاں کرتے، مچلتے ہیں
جہاں بادل پہاڑوں پہ ٹہرتے اور چلتے ہیں
جہاں ہر زیرو بم کے ساتھ ہی موسم بدلتے ہیں

چلو اس اورچلتے ہیں
جہاں سوچیں حقیقت بن کے خود ہی گنگناتی ہیں
جہاں قوس قزح کی سب لکیریں مسکراتی ہیں
جہاں سورج کی کرنیں سرد ہوکے بول اٹھتی ہیں
جہاں تاروں کی کرنیں کہکشاں سی جگمگاتی ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پربت کی چوٹی سرنگوں ہوتی سی لگتی ہے
جہاں تاریکیوں میں چاندنی خود رقص کرتی ہے
جہاں باد صبا کی سرسراہٹ گدگداتی ہے
جہاں برسات رنگ و نورکی محفل سجاتی ہے

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ پیرہن سونے کے اور چاندی کے بندھن ہیں
حسیں قالین، تخت و تاج و ریشم ،اطلس و دیبا
شرابیں پاک، نغمے صاف اور چمکے ہوئے من ہیں
سبھی مسرور وشاداں ہیں سبھی مہکے ہوئے تن ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ سبزہ ، ڈالی، ٹہنی ، پھل اور پھول اپنا ہے
جہاں کانٹا نہیں کوئی، جہاں سوکھا نہیں آتا
جہاں رنج والم، مشکل، ستم ، غم نہیں آتا
جہاں پہ خوف کے مارے یہ جی بیٹھا نہیں جاتا

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں چشمے ابلتے ہیں
جہاں اشجار ہر لمحے نئے منظر بدلتے ہیں
جہاں راتیں بھی روشن ہیں جہاں کی محفلیں نوری
جہاں پہ حسن بے پروا کے جلوے بھی نکلتے ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
چلو اس رب سے ملتے ہیں
جہاں سجدے مچلتے ہیں،جہاں یہ دل پگھلتے ہیں
جہاں پہ رب کے قدموں میں جبیں بس جم سی جاتی ہے
جہاں پہ ساعتیں مدھم ، خوشی کے دیپ جلتے ہیں

چلواس اور چلتے ہیں
چلو پھر سے سنبھلتے ہیں
چلو خود کو بدلتے ہیں
چلو بس آج سب کچھ چھوڑ کے ہم بھی نکلتے ہیں
چلو اس اور چلتے ہیں


ڈائری کاایک صفحہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Oct 27, 2015

ڈائری کاایک صفحہ،
از حافظ محمد شارق

ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے ؛ وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔ یعنی بنیے پر پیسے کی موت آتی ہے وہ پرانے کھاتے کھولتا ہے، کہیں کسی کو ادھار دے رکھا ہو، کسی نے قرض لیا ہو، کہیں امانت رکھائی
ہو، غرض کہ پرانے مردے بھی اکھاڑ کر جہاں کہیں سے وصولی ممکن ہو وہ پائی پائی وصول کرتا ہے۔

یہ کہاوت سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ روزِ محشر بھی ہم سب کی حالت کچھ اسی بنیے کی طرح ہوگی، ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہوں گے اور سب سے وصولی کے چکر میں ہوں گے، آپ نےکسی کی غیبت کی ہو، کسی کی دل آزاری کی، کسی کے گھر کے گیٹ پر بائیک پارک کردی، کسی کو ملاوٹ کرکے کچھ بیچا، کسی کو قطار میں دھکا دیا ہو، کسی کی زمین ہڑپ کردی ، کسی کو گالی دی ہو، ہر ایک آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے کھول کھول کر نیکیاں وصول کرے گا۔ سب پائی پائی کا حساب لیں گے اور ایک ماشے کی نیکی بھی
معاف نہیں کریں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر ظلم کے مقابلے نیکیوں اور گناہوں کا تبادلہ ہوگا۔

اس صورت حال کو سوچ کر ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے اعمال کے بینک بلنس میں اتنی نیکیاں بھی جمع کر رکھی ہیں کہ اس وصولی کے بعد ہماری نجات ہوسکے؟؟؟ کیا ہم نے حقوق العباد کا اس قدر خیال بھی رکھا ہے کہ روزِ محشر ہم پر اس ظلم کے عوض اس کے گناہ نہ لاد دیے جائیں؟
اگر ہم نجات کے متمنی ہیں تو پھر ہمیں اپنی زندگیوں میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ہو گا۔


کاپیاں اور اعمال نامے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

کاپیاں اور اعمال نامے

پروفیسر محمد عقیل
میں نے اپنے اٹھارہ سالہ کیرئیر میں بے شمار کاپیاں چیک کی ہیں۔ کچھ کاپیاں انٹرنل امتحانات کی ہوتی ہیں اور کچھ بورڈ ایگزامز کی۔ بورڈ یا یونی ورسٹی کی کاپیوں کے چیک کرنے والے کو علم نہیں ہوتا کہ طالب علم کون ہے۔ اسی لیے بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں لکھی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک کاپی میں ایک لڑکی نے لکھا ” میری منگنی ہوگئی جس کی خوشی میں سب کچھ بھول گئی، پلیز پاس کردیں”۔ کسی میں لکھا تھا ” میرے بچے کی ساری رات طبیعت خراب رہی اس لیے پڑھ نہیں پائی تو پاس کردیں۔” اس کے علاوہ غربت و افلاس کی بنا پر پاس کرنے کی اپیلیں تو بہت کامن ہیں۔غرض کئی قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ دراصل یہ کاپیاں انسانی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں کہ امتحان دینے والا کس مزاج کا حامل ہے۔ اسی شخصیت کی کارکردگی کا اعلان رزلٹ کار ڈ کے ذریعے کردیا جاتا ہے کہ امتحان دینے والا پاس ہے یا فیل ۔ رزلٹ کارڈ کی طرح ایک دن آخرت میں ہمیں اعمال نامہ دیا جائے گا جس میں ہماری شخصیت کا تعین کردیا جائے گا کہ ہم اچھے انسان تھے یا برے، سنجیدہ تھے یا لابالی، خدا پرست تھے یا مفاد پرست۔ اسی لحاظ سے ہمارا انجام
متعین ہوجائے گا کہ ہم پاس ہیں یا فیل۔اسی تناظر میں ہم دیکھیں تو ہم ان کاپیوں سے بہت حد تک انسانی شخصیت کے بارے میں جان سکتے اور اس سے آخرت کے انجام کو سمجھ سکتے ہیں۔

بری کاپیاں
کچھ کاپیوں میں طلبا فلمی گانے ،اشعار، لطیفے، لایعنی کہانیاں اور دیگر خرافات لکھ دیتے ہیں۔ اس قسم کی کاپیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ لکھنےوالا پورے امتحانی نظام کا مذاق اڑارہا، چیک کرنے والے کو منہ چڑا رہا اور بدتمیزی کرکے یہ کہہ رہا ہے ” کرلو جو کرنا ہے۔” قیامت میں بھی کچھ لوگ اپنے نامہ اعمال میں اس قسم کے اعمال لائیں گے جب انھوں نے خدا کو گالی دی تھی، اس کا انکار کیا تھا، اس کی باتوں کا مذاق اڑایا تھا، اس کے پیغمبروں کی توہین کی تھی، اس کی جانب بلانے والوں کو دقیانوسی کہا تھا، اس کی کتابوں پر تبرا بھیجا تھا، اس کے امتحانی نظام کو چیلنج کیا تھا اور بغاوت کا علم بلند کرکے کہا تھا کہ ” کرلو جو کرنا ہے”۔ ایسے لوگوں کا انجام سادہ نہیں۔ بلکہ یہ نظام کے باغی ہیں اور ان کی سزا عام مجرموں کی طرح نہیں بلکہ اسپیشل طرز کی ہوگی۔

کچھ کاپیاں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ اس قسم کے طلبا نے سرے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور پورا سال لاابالی پن میں گزارا۔ آخرت میں بھی کچھ لوگوں کے اعمال نامے میں اچھائیاں اور نیکیاں نہیں ہوں گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ساری زندگی لہو لعب ، کھیل کود، غفلت اور دنیا میں لگادی اور آخرت کے حوالے سے کوئی کام بھی نہ کرپائے۔
کچھ لوگ ہیں جو امتحان میں محنت نہیں کرتے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے کاپی پر مختلف تعویذ اور وظائف لکھتے ہیں۔ ان کی مثا ل آخرت میں ان لوگو ں کی سی ہے جو توہمات کے سہارے اپنی زندگی گزارتے رہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان اور عمل صالح لازمی ہے اور نجات اسی پر موقوف ہے۔
کچھ طلبا رونے پیٹنے لگ جاتے اور بہانے بنانے لگ جاتے ہیں کہ ہماری طبیعت خراب تھی یا میں بہت غریب ہوں اس لیے پاس کردیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے بہانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص ایک دن قبل بیمار تھا تو کیا سارا سال بیمار تھا کہ ایک لفظ نہیں لکھ پایا۔ آخرت میں بھی اس قسم کے لوگ پیش ہوں گے جنھوں نے اس آس پر گناہ کیے ہوں گے کہ کوئی بہانہ کردیں گے۔ اول تو وہاں زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اگر کسی کا کوئی عذر ہوگا تو رب العٰلمین خود ہی اس کا لحاظ کرکے حساب کتاب کریں گے۔ لیکن وہاں جھوٹ بولنا، مگر مچھ کے آنسو بہانا، بہانے تراشنا ممکن نہ ہوگا۔

کچھ لوگ اس آس پر امتحان دیتے ہیں کہ پیسے دے کر پاس ہوجائیں گے ، یا کسی سیاسی تنظیم کی بنیاد پر کام کروالیں گے، یا ڈرا دھمکا کر کام نکال لیں گے یا کسی کی سفارش سے کام چلالیں گے۔ یہ سارے کام دنیا میں بھی اتنے آسان نہیں ہوتے۔ البتہ آخرت میں تو اس کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کون ہے جو خدا کو نعوذ باللہ دھمکا کر اپنا کام کروالے، وہ کو ن سی سیاسی تنظیم ہے جو اپنا اثرو رسوخ رب العٰلمین پر آزما سکے؟ وہ کو ن سا پیسا ہے جسے رشوت کے طور پر استعمال کیا جاسکے؟ وہ کون ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف سفارش کرکے نجات دلواسکے؟
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یعنی جواب دیتے ہوئے درمیان میں سوال ہی کاپی کردیتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کو یہ تاثر ہو کہ کاپی بھری ہوئی ہے۔ ممتحن کی نگاہ فورا ہی تاڑ لیتی ہے اور بھری ہوئی کاپی کو کاٹ کر وہ زیرو نمبر دے دیتا ہے۔آخرت میں خدا کو دھوکا دینا تو قطعا ممکن نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے اپنے نامہ اعمال میں الٹے سیدھے لایعنی اعمال بھر رکھے ہوں گے جنہیں وہ دین سمجھ کر کرتے رہے لیکن وہ سب خدا کے نزدیک ناقابل قبول تھے۔کوئی شخص دین داری کے نام پر لایعنی جلسے نکالتا رہا، وہ اسلام کے نام پر جھوٹی سیاست کرتا رہا، وہ جہاد کے نام پر فساد کرتا رہا، وہ دقیانوسی قبائلی کلچر کو اسلامی شعائرسمجھتا رہا، وہ ریا کار ی والے حج کو گناہوں کی مغفرت کا سبب سمجھتا رہا ۔لیکن جب وہ آخرت میں ان سب کو دیکھے گا تو علم ہوگا کہ یہ سارے اعمال اسے نجات دینے کی بجائے الٹے اس کے گلے پڑ گئے ہیں۔
امتحان دینے والے لوگوں کی ایک قسم ان لوگوں پر مبنی ہے جنھوں نے سوال ہی درست طو ر پر نہیں سمجھا۔ سوال کچھ تھا اور جواب کچھ اور۔ وہ سوال کا غلط جواب لکھتے رہے اور اسے ہی درست سمجھتے رہے۔ اس غلط جواب لکھنے کا ایک سبب تو غلط اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جوش و جذبات اور جلد بازی میں اتنے اندھے ہوگئے کہ سوال سمجھنے ہی کی زحمت نہ کی۔ آخرت میں بھی اس قسم کے کئی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے امتحانی سوال کو سمجھا ہی نہیں اور غلط جواب دے کر آگئے۔مثال کے طور پر مذہبی لیڈر شپ کا اصل امتحان یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ و تربیت کرتے لیکن وہ لوگوں میں تعصب پیدا کرنے کو دین داری سمجھتے رہے۔ ان کا کام تھا کہ لوگوں کے باطن کی اصلاح کرتے لیکن وہ ظاہری رسومات ہی کو دین کے طور پر پیش کرتے رہے۔
ایک اور قسم ان لوگوں کی ہے جو ایک سوال کا جواب اتنا طویل لکھ دیتے ہیں کہ سار ا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ دیگر سوال حل ہی نہیں کرپاتے۔ نتیجے کے طور پر وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ دین کے معاملے میں بھی یہ بہت کامن ہے۔ کچھ لوگ مثال کے طور پر عبادات میں ہی پوری زندگی بسر کردیتے ہیں ۔ فرض نمازوں کےساتھ ساتھ اشراق و چاشت پڑھتے، رمضان کے علاوہ نفلی روزے رکھتے اور فرضی حج کے علاوہ کئی حج بھی کرتے ہیں لیکن دین کے دیگر امور کو فراموش کردیتے ہیں۔یہ لوگ مثال کے طور پر اخلاقیا ت میں دوسرے سرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بدتمیزی کرتے، کاروبار میں دھوکا دیتے، بات چیت سے تکلیف پہنچاتے، بدگمانی و چغلی سے فساد برپا کرتے، انسانوں کا قتل کرنے والوں کی واہ واہ کرتے، تعصب کو دین سمجھتے اور ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکت کو اپنی عبادت گزاری کی آڑ میں جائز قرار دیتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اشراق اور چاشت کی نمازو ں نے تکبر میں مبتلا کردیا ۔یہ دین میں پوچھے گئے صرف ایک سوال ہی کا جواب دیتے رہے اور دوسرے سوالات کی تیاری ہی نہیں کی۔ نتیجہ “فیل “۔
کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے سوالات کا غلط انتخاب کرتے ہیں۔ انھیں دس میں سے پانچ سوال کرنے تھے لیکن انھوں نے وہ سوالات منتخب کیے جن میں وہ کمزور تھے یا جن کے جوابات مشکل تھے۔ دین میں بھی یہ کا م اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص کو ایک ساد ہ زندگی ملی تھی جس میں وہ باآسانی چند اعمال کرکے پاس ہوسکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی لالچ ، حرص اور طمع کے ذریعے ناجائز دولت کے انبار اکھٹے کرلیے ، جھوٹی شہرت کو زندگی کا مقصد بنالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوگیا، عبادات سے محروم ہوگیا ۔ تو اس نے ایسا سوال منتخب کرلیا جس کے جواب کا وہ مکلف ہی نہ تھا ۔

کچھ سوال اس طرح کے ہوتے ہیں جن کا جواب مخصوص ہیڈنگز میں ہی دینا ہوتا ہے جبکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب اپنی طرف سے دینا ہوتا ہے۔ دین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کچھ ایسے امور ہیں جس کا دین نے طریقہ مقرر کردیا ہے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ مخصوص ہے جیسے نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں دین نے مجمل چھوڑا ہے یعنی انسان آزاد ہے کہ ایک دائرے میں رہتے ہوئے ان پر عمل کرے جیسے انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق کتنا سوئے، کتنا کھائے ، کتنا پئیے وغیرہ۔ اب جو لوگ دین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں وہ متعین امور میں آزادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ نمازوں کو لایعنی سمجھ کر اذکار پر ہی اکتفا کرتے، روزوں کو فاقہ کشی سمجھ کر چھوڑنے کی کوشش کرتے، حج کو محض ایک رسم سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ظاہر پرست لوگ دین کی دی گئی رخصت میں بھی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ فجر کی نماز کے بعد سونے کو دین کے خلاف سمجھتے، کھانا پیٹ بھر کر کھانے کو تقوی کے منافی گردانتے اوردنیا کی جائز نعمتوں سے استفادے کو برائی جانتے ہیں۔اس روئیے سے دین کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نتیجہ بعض اوقات کٹر ظاہر پرستی یا ایک لابالی شخصیت کی شکل میں نکلتا ہے۔

اچھی کاپیاں
دوسری قسم کی کاپیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت اچھا لکھا ہوتا ہے، ہر صفحے پر سنجیدگی ، متانت، محنت اور دیانت ٹپک رہی ہوتی ہے۔ خوبصورت لکھائی دیکھ کر نفاست کا احساس ہوتا اورمتن پڑھ کر ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ہر سوال اچھی طرح سمجھا جاتا اور اس کا متوازن جواب دیا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نہ صرف امتحانی نظام کے تقاضوں کو سمجھا بلکہ اس پر ایمان لاکر اس کے مطابق تیاری کی، اس کے ہر سوال کو بغور پڑھا، اس کے جوابات پر نوٹس بنائے ، سمجھنے کے لیے کلاسز لیں، اساتذہ سے رجوع کیا، تعلیمی اداروں کی خاک چھانی، اپنا دن رات ایک کیا اور تن من دھن قربان کرکے یکسوئی اختیار کی۔ دین میں ایسے لوگوں کی مثال ان سلیم الفطرت لوگوں کی ہے جنھوں نے اپنی فطرت کے چراغ کی حفاظت کی، اسے ماحول کی آلودگی سے بچائے رکھا۔ اس کے علاوہ وحی کے علم سے اپنی شخصیت کو آراستہ کیا، خدا کے احکامات کو سمجھا ، جانا، مانا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے درست اساتذہ کا انتخاب کیا، ان سے اپنے مسائل ڈسکس کیے اور راہنمائی حاصل کرنے کے بعد منزل کی جانب چل پڑے۔
ایسے لوگوں کا آخرت میں انجام صدیقین، شہدا اورصالحین کی صورت میں ہوگا۔ ہر طرف سے ان پر سلامتی اور مبارکباد کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے، ان کے استقبال کے لیے فرشتے مستعد ہوں گے، انھیں خدا کی جانب سے کامیابی کی سند سے نوزا جائے گا اور ان کا آخری کلمہ یہی ہوگا۔
الحمدللہ رب العٰالمین۔

اسائن منٹ
• روز رات سونے سے پہلے اپنے پورے دن کا جائزہ لیجئے کہ آپ کے اعمال نامے کا شمار کن قسم کی کاپیوں میں شمار ہوتی ہے؟
• روز سوتے وقت خود کو بہتر کرنے کے لیے کم از کم ایک عادت کو چھوڑنے یا اپنانے کا ارادہ کر کے سوئیں۔