پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

کاپیاں اور اعمال نامے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

کاپیاں اور اعمال نامے

پروفیسر محمد عقیل
میں نے اپنے اٹھارہ سالہ کیرئیر میں بے شمار کاپیاں چیک کی ہیں۔ کچھ کاپیاں انٹرنل امتحانات کی ہوتی ہیں اور کچھ بورڈ ایگزامز کی۔ بورڈ یا یونی ورسٹی کی کاپیوں کے چیک کرنے والے کو علم نہیں ہوتا کہ طالب علم کون ہے۔ اسی لیے بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں لکھی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک کاپی میں ایک لڑکی نے لکھا ” میری منگنی ہوگئی جس کی خوشی میں سب کچھ بھول گئی، پلیز پاس کردیں”۔ کسی میں لکھا تھا ” میرے بچے کی ساری رات طبیعت خراب رہی اس لیے پڑھ نہیں پائی تو پاس کردیں۔” اس کے علاوہ غربت و افلاس کی بنا پر پاس کرنے کی اپیلیں تو بہت کامن ہیں۔غرض کئی قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ دراصل یہ کاپیاں انسانی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں کہ امتحان دینے والا کس مزاج کا حامل ہے۔ اسی شخصیت کی کارکردگی کا اعلان رزلٹ کار ڈ کے ذریعے کردیا جاتا ہے کہ امتحان دینے والا پاس ہے یا فیل ۔ رزلٹ کارڈ کی طرح ایک دن آخرت میں ہمیں اعمال نامہ دیا جائے گا جس میں ہماری شخصیت کا تعین کردیا جائے گا کہ ہم اچھے انسان تھے یا برے، سنجیدہ تھے یا لابالی، خدا پرست تھے یا مفاد پرست۔ اسی لحاظ سے ہمارا انجام
متعین ہوجائے گا کہ ہم پاس ہیں یا فیل۔اسی تناظر میں ہم دیکھیں تو ہم ان کاپیوں سے بہت حد تک انسانی شخصیت کے بارے میں جان سکتے اور اس سے آخرت کے انجام کو سمجھ سکتے ہیں۔

بری کاپیاں
کچھ کاپیوں میں طلبا فلمی گانے ،اشعار، لطیفے، لایعنی کہانیاں اور دیگر خرافات لکھ دیتے ہیں۔ اس قسم کی کاپیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ لکھنےوالا پورے امتحانی نظام کا مذاق اڑارہا، چیک کرنے والے کو منہ چڑا رہا اور بدتمیزی کرکے یہ کہہ رہا ہے ” کرلو جو کرنا ہے۔” قیامت میں بھی کچھ لوگ اپنے نامہ اعمال میں اس قسم کے اعمال لائیں گے جب انھوں نے خدا کو گالی دی تھی، اس کا انکار کیا تھا، اس کی باتوں کا مذاق اڑایا تھا، اس کے پیغمبروں کی توہین کی تھی، اس کی جانب بلانے والوں کو دقیانوسی کہا تھا، اس کی کتابوں پر تبرا بھیجا تھا، اس کے امتحانی نظام کو چیلنج کیا تھا اور بغاوت کا علم بلند کرکے کہا تھا کہ ” کرلو جو کرنا ہے”۔ ایسے لوگوں کا انجام سادہ نہیں۔ بلکہ یہ نظام کے باغی ہیں اور ان کی سزا عام مجرموں کی طرح نہیں بلکہ اسپیشل طرز کی ہوگی۔

کچھ کاپیاں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ اس قسم کے طلبا نے سرے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور پورا سال لاابالی پن میں گزارا۔ آخرت میں بھی کچھ لوگوں کے اعمال نامے میں اچھائیاں اور نیکیاں نہیں ہوں گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ساری زندگی لہو لعب ، کھیل کود، غفلت اور دنیا میں لگادی اور آخرت کے حوالے سے کوئی کام بھی نہ کرپائے۔
کچھ لوگ ہیں جو امتحان میں محنت نہیں کرتے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے کاپی پر مختلف تعویذ اور وظائف لکھتے ہیں۔ ان کی مثا ل آخرت میں ان لوگو ں کی سی ہے جو توہمات کے سہارے اپنی زندگی گزارتے رہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان اور عمل صالح لازمی ہے اور نجات اسی پر موقوف ہے۔
کچھ طلبا رونے پیٹنے لگ جاتے اور بہانے بنانے لگ جاتے ہیں کہ ہماری طبیعت خراب تھی یا میں بہت غریب ہوں اس لیے پاس کردیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے بہانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص ایک دن قبل بیمار تھا تو کیا سارا سال بیمار تھا کہ ایک لفظ نہیں لکھ پایا۔ آخرت میں بھی اس قسم کے لوگ پیش ہوں گے جنھوں نے اس آس پر گناہ کیے ہوں گے کہ کوئی بہانہ کردیں گے۔ اول تو وہاں زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اگر کسی کا کوئی عذر ہوگا تو رب العٰلمین خود ہی اس کا لحاظ کرکے حساب کتاب کریں گے۔ لیکن وہاں جھوٹ بولنا، مگر مچھ کے آنسو بہانا، بہانے تراشنا ممکن نہ ہوگا۔

کچھ لوگ اس آس پر امتحان دیتے ہیں کہ پیسے دے کر پاس ہوجائیں گے ، یا کسی سیاسی تنظیم کی بنیاد پر کام کروالیں گے، یا ڈرا دھمکا کر کام نکال لیں گے یا کسی کی سفارش سے کام چلالیں گے۔ یہ سارے کام دنیا میں بھی اتنے آسان نہیں ہوتے۔ البتہ آخرت میں تو اس کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کون ہے جو خدا کو نعوذ باللہ دھمکا کر اپنا کام کروالے، وہ کو ن سی سیاسی تنظیم ہے جو اپنا اثرو رسوخ رب العٰلمین پر آزما سکے؟ وہ کو ن سا پیسا ہے جسے رشوت کے طور پر استعمال کیا جاسکے؟ وہ کون ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف سفارش کرکے نجات دلواسکے؟
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یعنی جواب دیتے ہوئے درمیان میں سوال ہی کاپی کردیتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کو یہ تاثر ہو کہ کاپی بھری ہوئی ہے۔ ممتحن کی نگاہ فورا ہی تاڑ لیتی ہے اور بھری ہوئی کاپی کو کاٹ کر وہ زیرو نمبر دے دیتا ہے۔آخرت میں خدا کو دھوکا دینا تو قطعا ممکن نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے اپنے نامہ اعمال میں الٹے سیدھے لایعنی اعمال بھر رکھے ہوں گے جنہیں وہ دین سمجھ کر کرتے رہے لیکن وہ سب خدا کے نزدیک ناقابل قبول تھے۔کوئی شخص دین داری کے نام پر لایعنی جلسے نکالتا رہا، وہ اسلام کے نام پر جھوٹی سیاست کرتا رہا، وہ جہاد کے نام پر فساد کرتا رہا، وہ دقیانوسی قبائلی کلچر کو اسلامی شعائرسمجھتا رہا، وہ ریا کار ی والے حج کو گناہوں کی مغفرت کا سبب سمجھتا رہا ۔لیکن جب وہ آخرت میں ان سب کو دیکھے گا تو علم ہوگا کہ یہ سارے اعمال اسے نجات دینے کی بجائے الٹے اس کے گلے پڑ گئے ہیں۔
امتحان دینے والے لوگوں کی ایک قسم ان لوگوں پر مبنی ہے جنھوں نے سوال ہی درست طو ر پر نہیں سمجھا۔ سوال کچھ تھا اور جواب کچھ اور۔ وہ سوال کا غلط جواب لکھتے رہے اور اسے ہی درست سمجھتے رہے۔ اس غلط جواب لکھنے کا ایک سبب تو غلط اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جوش و جذبات اور جلد بازی میں اتنے اندھے ہوگئے کہ سوال سمجھنے ہی کی زحمت نہ کی۔ آخرت میں بھی اس قسم کے کئی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے امتحانی سوال کو سمجھا ہی نہیں اور غلط جواب دے کر آگئے۔مثال کے طور پر مذہبی لیڈر شپ کا اصل امتحان یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ و تربیت کرتے لیکن وہ لوگوں میں تعصب پیدا کرنے کو دین داری سمجھتے رہے۔ ان کا کام تھا کہ لوگوں کے باطن کی اصلاح کرتے لیکن وہ ظاہری رسومات ہی کو دین کے طور پر پیش کرتے رہے۔
ایک اور قسم ان لوگوں کی ہے جو ایک سوال کا جواب اتنا طویل لکھ دیتے ہیں کہ سار ا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ دیگر سوال حل ہی نہیں کرپاتے۔ نتیجے کے طور پر وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ دین کے معاملے میں بھی یہ بہت کامن ہے۔ کچھ لوگ مثال کے طور پر عبادات میں ہی پوری زندگی بسر کردیتے ہیں ۔ فرض نمازوں کےساتھ ساتھ اشراق و چاشت پڑھتے، رمضان کے علاوہ نفلی روزے رکھتے اور فرضی حج کے علاوہ کئی حج بھی کرتے ہیں لیکن دین کے دیگر امور کو فراموش کردیتے ہیں۔یہ لوگ مثال کے طور پر اخلاقیا ت میں دوسرے سرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بدتمیزی کرتے، کاروبار میں دھوکا دیتے، بات چیت سے تکلیف پہنچاتے، بدگمانی و چغلی سے فساد برپا کرتے، انسانوں کا قتل کرنے والوں کی واہ واہ کرتے، تعصب کو دین سمجھتے اور ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکت کو اپنی عبادت گزاری کی آڑ میں جائز قرار دیتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اشراق اور چاشت کی نمازو ں نے تکبر میں مبتلا کردیا ۔یہ دین میں پوچھے گئے صرف ایک سوال ہی کا جواب دیتے رہے اور دوسرے سوالات کی تیاری ہی نہیں کی۔ نتیجہ “فیل “۔
کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے سوالات کا غلط انتخاب کرتے ہیں۔ انھیں دس میں سے پانچ سوال کرنے تھے لیکن انھوں نے وہ سوالات منتخب کیے جن میں وہ کمزور تھے یا جن کے جوابات مشکل تھے۔ دین میں بھی یہ کا م اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص کو ایک ساد ہ زندگی ملی تھی جس میں وہ باآسانی چند اعمال کرکے پاس ہوسکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی لالچ ، حرص اور طمع کے ذریعے ناجائز دولت کے انبار اکھٹے کرلیے ، جھوٹی شہرت کو زندگی کا مقصد بنالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوگیا، عبادات سے محروم ہوگیا ۔ تو اس نے ایسا سوال منتخب کرلیا جس کے جواب کا وہ مکلف ہی نہ تھا ۔

کچھ سوال اس طرح کے ہوتے ہیں جن کا جواب مخصوص ہیڈنگز میں ہی دینا ہوتا ہے جبکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب اپنی طرف سے دینا ہوتا ہے۔ دین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کچھ ایسے امور ہیں جس کا دین نے طریقہ مقرر کردیا ہے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ مخصوص ہے جیسے نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں دین نے مجمل چھوڑا ہے یعنی انسان آزاد ہے کہ ایک دائرے میں رہتے ہوئے ان پر عمل کرے جیسے انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق کتنا سوئے، کتنا کھائے ، کتنا پئیے وغیرہ۔ اب جو لوگ دین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں وہ متعین امور میں آزادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ نمازوں کو لایعنی سمجھ کر اذکار پر ہی اکتفا کرتے، روزوں کو فاقہ کشی سمجھ کر چھوڑنے کی کوشش کرتے، حج کو محض ایک رسم سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ظاہر پرست لوگ دین کی دی گئی رخصت میں بھی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ فجر کی نماز کے بعد سونے کو دین کے خلاف سمجھتے، کھانا پیٹ بھر کر کھانے کو تقوی کے منافی گردانتے اوردنیا کی جائز نعمتوں سے استفادے کو برائی جانتے ہیں۔اس روئیے سے دین کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نتیجہ بعض اوقات کٹر ظاہر پرستی یا ایک لابالی شخصیت کی شکل میں نکلتا ہے۔

اچھی کاپیاں
دوسری قسم کی کاپیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت اچھا لکھا ہوتا ہے، ہر صفحے پر سنجیدگی ، متانت، محنت اور دیانت ٹپک رہی ہوتی ہے۔ خوبصورت لکھائی دیکھ کر نفاست کا احساس ہوتا اورمتن پڑھ کر ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ہر سوال اچھی طرح سمجھا جاتا اور اس کا متوازن جواب دیا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نہ صرف امتحانی نظام کے تقاضوں کو سمجھا بلکہ اس پر ایمان لاکر اس کے مطابق تیاری کی، اس کے ہر سوال کو بغور پڑھا، اس کے جوابات پر نوٹس بنائے ، سمجھنے کے لیے کلاسز لیں، اساتذہ سے رجوع کیا، تعلیمی اداروں کی خاک چھانی، اپنا دن رات ایک کیا اور تن من دھن قربان کرکے یکسوئی اختیار کی۔ دین میں ایسے لوگوں کی مثال ان سلیم الفطرت لوگوں کی ہے جنھوں نے اپنی فطرت کے چراغ کی حفاظت کی، اسے ماحول کی آلودگی سے بچائے رکھا۔ اس کے علاوہ وحی کے علم سے اپنی شخصیت کو آراستہ کیا، خدا کے احکامات کو سمجھا ، جانا، مانا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے درست اساتذہ کا انتخاب کیا، ان سے اپنے مسائل ڈسکس کیے اور راہنمائی حاصل کرنے کے بعد منزل کی جانب چل پڑے۔
ایسے لوگوں کا آخرت میں انجام صدیقین، شہدا اورصالحین کی صورت میں ہوگا۔ ہر طرف سے ان پر سلامتی اور مبارکباد کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے، ان کے استقبال کے لیے فرشتے مستعد ہوں گے، انھیں خدا کی جانب سے کامیابی کی سند سے نوزا جائے گا اور ان کا آخری کلمہ یہی ہوگا۔
الحمدللہ رب العٰالمین۔

اسائن منٹ
• روز رات سونے سے پہلے اپنے پورے دن کا جائزہ لیجئے کہ آپ کے اعمال نامے کا شمار کن قسم کی کاپیوں میں شمار ہوتی ہے؟
• روز سوتے وقت خود کو بہتر کرنے کے لیے کم از کم ایک عادت کو چھوڑنے یا اپنانے کا ارادہ کر کے سوئیں۔


ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

اسلامی عبادات میں نماز کی ایک منفرد اہمیت ہے۔ ایمانیات اور دیگر عبادات کی اہمیت بھی مسلّم مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ایک عام مسلمان ا یک دن میں شعوری یا لاشعوری طور پر کتنی مرتبہ کلمہ پڑھتا ہے۔ یا یہ کہ فرشتوں کو، رسولوں کو یا آخر ت کو کتنی مرتبہ یاد کرتا ہے۔ اسی طرح عبادات کی مثال لے لیں۔

روزہ سال میں ایک مرتبہ ایک مہینہ کے لیے فرض ہے۔ زکوٰۃ صاحبِ نصاب پر فرض ہے ہر ایک مسلمان پر نہیں۔ حج کی فرضیت بھی صاحبِ استطاعت کے لیے ہے۔ یوں دین کا ایک بڑا حصہ ہماری روز مرّہ زندگی سے نکل جاتا ہے۔ اس طرح یہ تمام دینی فرائض عام مسلمان کے شعور کا با قاعدہ حصہ نہیں بن پاتے ما سوائے ان لوگوں کے جو ان باتوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔

اس کے بر عکس نماز ایک ایسی عبادت ہے جو ایک مسلمان کو اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہو نے دیتی۔ ایک دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز، محلہ اور گلی کوچوں میں مسجد کا وجود، اور نماز کے مقررہ اوقات میں لوگوں کا مسجد کا رُخ کرنا ، ایسے مناظر ہیں جو اسلامی معاشرے میں اللہ کی موجودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ مناظر ایک عام بے نمازی کو بھی یہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔ اور یوں اللہ کے وجود کا احساس ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔ نماز سے تعلق کی بنیاد پر معاشرہ میں لوگوں کے کئی گروپ بن جاتے ہیں۔

اوّل تو وہ لوگ ہیں جن کے دل مسجد میں ا َٹکے ہوتے ہیں۔ اللہ کی یاد ایسے لوگوں کے رَگ و پَے میں دوڑتی ہے۔ بڑی سعادت ہے ایسے لوگوں کے لیے۔ یہ اُٹھتے بیٹھتے، جُھکے ہوئے اور کروٹوں کے بَل اللہ کو یاد رکھتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو فقط روٹین میں نماز ادا کرتے ہیں مگر اِن کا بھی ایک تعلق اللہ سے جُڑا ہوا تو ہوتا ہی ہے۔ پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو نماز تو نہیں ادا کرتے مگر اذان کی آواز ان کی سماعت کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتی ہے۔

اگر نماز نہیں ہو تی تو شائد ہم اللہ کو بھول جاتےاور اُسے اپنے حافظہ سے محو کر دیتے، اور اگر اللہ اس کے بدلے میں ہمیں اپنے حا فظہ سے نکال دے تو؟
مصنف: شمیم مرتضی


آن لائن کمائیے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Dec 25, 2013


آن لائن کمائیے
از عدیلہ کوکب
وہ لوگوں کی نگاہ میں ایک بندہ مومن تھا اور اسے خود بھی اس کا ادراک تھا۔ اس نے دس سال کی عمر میں نماز شروع کی اور کبھی کوئی نماز قصداَ نہ چھوڑی۔ پھر نماز کے علاوہ وہ انفاق، روزہ داری اور دیگر نیکیوں میں عمر کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا گیا۔ پچیس برس کا ہونے تک وہ ایک مکمل صالح مرد بن چکا تھا۔ تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ وہ خوش اخلاق، ادب آداب کا خیال رکھنے والا ایک سنجیدہ مزاج شخص تھا، اسے کبھی قہقہ لگاتے پڑھنا جاری رکھیں »


پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jun 8, 2013


پاکستان میں سیاسی تبدیلی آگئی۔ نواز شریف نے مسند اقتدار پر قدم رکھ دیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے 14 برس قبل ان کو نکالا گیا تھا۔ اس کے بعد اس مسند پر ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت، شوکت عزیز، محمد میاں سومرو، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور میر ہزار خان کھوسو فائز رہے۔ مگر سب ایک کے بعد ایک رخصت ہوگئے۔ جبکہ میاں نواز شریف کو اقتدار سے فارغ کرنے والے پرویز مشرف کو بھی اقتدار چھوڑنا پڑا اور ان کے انتخاب کے وقت وہ اسی شہر اسلام آباد میں نظر بند تھے۔ اس کہانی کا خلاصہ پڑھنا جاری رکھیں »


دسمبر 2012 اور دنیا کا اختتام

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Nov 27, 2012

پچھلے کچھ عرصے سے دنیا بھر کے میڈیا اور انٹرنیٹ پر دسمبر 2012 کا بہت زیادہ چرچاہے ۔ اس کا سبب وہ پیش گوئی ہے جس کے مطابق دسمبر 2012 کی 21 تاریخ کو ہماری دنیا ایک زبردست تباہی کی زد میں آئے گی جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر اہل زمین کی زندگی ختم ہوجائے گی۔ اس پیش گوئی کی اساسات کیا ہیں یہ اپنی جگہ خود ایک تفصیلی موضوع ہے ، تاہم میں اختصار سے اس کا ذکر کر دیتا ہوں ۔ اس کی پہلی بنیاد قدیم امریکی تہذیب مایا کا وہ کیلنڈر پڑھنا جاری رکھیں »


رمضان اور توبہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Aug 3, 2012


رمضان میں لوگ عبادت کی کثرت کیا کرتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ مگر رمضان کا حقیقی شعور جس شخص کو حاصل ہوگا وہ کثرتِ عبادت سے پہلے کثرتِ استغفار اور توبہ سے اپنے عمل کا آغاز کرے گا۔ کیونکہ توبہ ہی نیکی کی زندگی کا درست نقطۂ آغاز ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں »


مہدی حسن کی محفل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Jun 13, 2012


۱۳ جون سن ۲۰۱۲ کو عظیم گلوکار مہدی حسن اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی عمر ۸۵ برس تھی۔ انہیں غزل کی دنیا کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے غزل کے علاوہ بے شمار فلمی گیت بھی گائے جنکی بنا پر وہ ملکی و غیر ملکی سطح پر غیر معمولی شہرت کے حقدار ٹہرے۔
مہدی حسن کا انتقال انسان کی بے بسی، محدودیت پڑھنا جاری رکھیں »


مصیبتوں سے نجات کیسے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday May 19, 2012

ہم میں سے ہر شخص مصائب سے بچ کر زندگی گزارنا چاہتا ہے ۔ دکھ اور الم کی زندگی کوئی نہیں پسند کرتا۔ ہماری تمام تر کدو و کاوش کے پیچھے یہی جذبہ ہوتا ہے کہ مصائب و آلام سے بچ کر زندگی گزاری جائے ۔ مگر یہ دنیاآزمائش کے جس اصول پربنی ہے اس میں ہماری لاکھ کوشش کے باوجود پڑھنا جاری رکھیں »


طیارے کا حادثہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Apr 21, 2012

۲۰ اپریل ۲۰۱۲ کو بھوجا ائیر لائین کا طیارہ کراچی سےا سلام آباد جانے کے لئے روانہ ہوا۔ جب طیارہ اسلام آباد پہنچا تو موسم بہت خراب تھا۔ موسم کی خرابی کے باوجود طیارے نے لینڈ کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے نتیجے میں طیارہ کریش ہوگیا ۔ طیارے میں ۱۲۸ عملے سمیت مسافر سوار تھے جن میں سے کوئی بھی نہ بچ پایا۔ ان مسافروں میں چھ شیر خوار بچے اور دو نوبیاہتا جوڑے پڑھنا جاری رکھیں »


سیاچن کا جہنم

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 15, 2012


سیاچن کا گلیشیر جو دنیا کا سب سے بلند میدان جنگ ہے سن 1984انڈیا اور پاکستان کے بیچ تنازع کا سبب بناہوا ہے۔ حال ہی میں یہاں ایک برفانی تودہ گرنے سے 138پاکستانی فوجی برف کے تودے تلے دفن ہوگئے ہیں ۔کئی دن گزرجانے کے بعد اب اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ ان میں سے کسی شخص کو زندہ بچایا جاسکے گا۔ پڑھنا جاری رکھیں »