پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Aug 29, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل
• “حضرت قربانی سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں۔”
پوچھو کیا پوچھنا ہے۔
• قربانی کی بنیادی شرط کیا ہے ؟
میاں ! قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔ ۔ یاد رکھو! قربانی میں اصل اہمیت تقوی کی ہے گوشت اور خون کی نہیں۔ تقوی کے بنا سارے جانورگوشت اور خون ہیں جو کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن خدا کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تقوی ہو تو محض ناخن کاٹنے پر ہی خدا قربانی کا اجر دے دیتا ہے اور تقوی نہ ہو تو کروڑوں کی نام نہاد قربانی منہ پر پڑھنا جاری رکھیں »


سورہ المنافقون کا خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 9, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ المنافقون کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
جب یہ دھوکے باز منافق تمہاری محفلوں میں آتے ہیں تو تمہاری ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول پڑھنا جاری رکھیں »


الجبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 16, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارحمنا یا جبار
اللہ کی صفت “جبار” کا شمار طاقت و غلبے کی صفات میں ہوتا ہے۔”الجبار ” کے معنی قوت و شوکت کی مالک، زورآور، قوی اور قاہر ہستی کے ہیں۔ عرب جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہتے تھے جس کے کھجوروں یا پھل کو حاصل کرنے کے لیے کسی پڑھنا جاری رکھیں »


الحلیم۔ بردبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Feb 17, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحلیم۔ بردبار
ڈاکٹر محمد عقیل
الحلیم اللہ کی صفات میں ایک اہم صفت ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں بردباری کرنے والا، تحمل کرنے والا۔ حلم کا مطلب ہے جوش غضب سے اپنے نفس کو روکنا۔ اس کے معنی کو مزید کھولا جائے تو حلیم سے مراد وہ شخصیت ہوتی ہے جس میں جلد بازی نہ ہو، جو تحمل اور عزم کے ساتھ کسی بھی عمل کے مقابلے میں فوری رد عمل کا اظہار نہ کرے، وہ شخصیت جو جلد بازی سے کام خراب نہ کردے، وہ جسے اپنے اعصاب پر پورا قابو ہو، وہ جو اپنے آپ کو اچانک رد عمل سے روک کر رکھے اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرے، وہ جو جذبات سے مغلوب نہ ہو۔
اللہ کی صفت الحلیم سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی مخلوق پر ظاہری اور پوشیدہ انداز میں اپنی رحمت نازل کرتا رہتا اور ان کی نافرمانیوں اور مخالفت کے باوجود ان شفقت کرتا اور ان کی کوتاہیوں سے درگذر کرتا ہے ۔ اللہ کی اسی صفت حلم انسان کے لیے ایک نعمت ہے۔ اگر اللہ تعالی میں حلم نہ ہوتا تو اللہ ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں کب کا ہلاک کرچکے ہوتے، اللہ کے غضب سے زمین و آسمان پھٹ چکے ہوتے اور وہ قیامت جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے کب کی آ لگی ہوتی۔ لیکن اللہ کی یہی بردباری اور تحمل ہے وہ انسان کو مہلت دیتے ہیں حتی کہ برا بھلا کہنے والوں کو بھی فوری طور پر ہلاک نہیں کرتے اور انہیں موقع دیتے ہیں کہ وہ اصلاح کرلیں۔ نہ صرف اللہ موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ توبہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کو لغزشوں سے پاک ہونے کے لیے اپنی جانب سے خصوصی گائیڈلائن فراہم کرتے ہیں۔
صفت حلیم اللہ کی صفت الوہاب اور الغنی کے تحت آتی ہے۔ صفت غنی یا وہابیت وہ صفت ہے جسے دیگر صفات کی مدد کی ضرورت نہیں۔ باقی صفات تخلیق، علم، فنا، بقا وغیرہ کو کسی حقیقت میں ظاہر ہونے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہابیت کے مطابق اللہ تعالی انسان کو وسائل عطا کرتے اور انہیں برتنے کا موقع دیتے ہیں۔ ان وسائل کو انسان خدا کے طے کردہ قوانین کے مطابق بھی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ان قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے۔ لیکن اللہ کی صفت حلم آزمائش کی وجہ سے انسان کو اس کی نافرمانی کی دوری سزا نہیں دیتی بلکہ تحمل و بردباری کی بنا پر اس کے نتیجے کو مؤخر کردیتی ہے۔
انسان کے لیے صفت حلم
قرآن میں یہ صفت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خاص طور پر استعمال ہوئی ہے۔ان کے ساتھ ہی حضرت شعیب اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ انسان کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ اپنے اندر حلم پیداکرے ۔ صفت حلم و بردباری کو بیدار کیے بنا کوئی شخص حقیقت میں کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ اس صفت کے بنا جو بھی حاصل ہوتا ہے وہ مختصر مدت کے لیے ہوتا ہے یا محض ایک فریب ہوتا ہے۔ الحلیم ہی وہ بنیادی صفت ہے جس کے تحت دیگر صفات سے دیرپا استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب اللہ تعالی کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی شخصیت میں صفت حلم بیدار کردیتے ہیں۔ تاکہ اسے زندگی میں جو کچھ بھی ملے وہ دیرپا ہو۔
مثال کے طور پر ایک شخص کو اگر دولت مل جائے لیکن اس میں حلم و بردباری نہ ہو تو وہ بہت جلد فضول خرچی میں دولت کو ختم کرکے فقیر بن سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بڑا عالم اگر غیر متحمل مزاج ہو تو اپنے علم کو جلد بازی میں استعمال کرکے نادانی کا رویہ اختیار کرسکتا ہے۔ ایک مینجر جلد بازی میں غلط فیصلے کرسکتا، سیاست دان ریاست کو داؤ پر لگاسکتا اور ایک بزنس مین عارضی ناکامیوں کی بنا پر جلد ہمت ہارسکتا ہے۔
یہ صفت حلم کی کمی ہی ہوتی ہے کہ ایک عام شخص جلد غصے، چڑچڑاہٹ، بدمزاجی، عدم برداشت، ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی کی بنا پر شادیاں ناکام ہوجاتیں، گھر اجڑ جاتے، خاندان فساد کا شکار ہوجاتے، ریاست انتشار کا شکار پڑھنا جاری رکھیں »


شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jan 31, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں اکثر شکرگذاری کو محض زبانی معاملہ سمجھتے ہیں کہ صرف الحمدللہ ، یا اللہ تیرا شکر ہے وغیرہ کہہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ شکر ادا پڑھنا جاری رکھیں »


دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jan 19, 2017

مضمون نمبر 5: دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی
ڈاکٹر محمد عقیل
جب اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے ” کن ” کہا یعنی ہوجا۔ تو یہ کائنات وجود میں آگئی ۔ اللہ تعالی اس بات پر قادر تھے کہ وہ بس اشارہ کرتے اور سب کچھ خود بخود ایک سیکنڈ میں بن جاتا۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں »


اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jan 17, 2017

مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح
پکارا جائے ؟
از ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو اسمائے حسنی کے ذریعے پکارو، سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔
“اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں ناموں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے” (سورہ الاعراف پڑھنا جاری رکھیں »


اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Jan 16, 2017

مضمون نمبر ۳: اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا
ڈاکٹر محمد عقیل
متعدد حسن اور صحیح روایات میں اسم اعظم کے ذریعے اللہ کو پکارنے کا حکم موجود ہے۔ یعنی اللہ کو ایک مخصوص نام سے اگر پکارا جائے تو اللہ تعالی ضرور سنتے ہیں۔ان روایات کی تفصیل یہ پڑھنا جاری رکھیں »


دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 15, 2017

مضمون نمبر ۲: دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو
ڈاکٹر محمد عقیل
ہم دیکھتے ہیں کہ دن رات لوگ لاکھوں کروڑوں دعائیں مانگتے ہیں لیکن ان میں سے چند ہی قبول ہوتی ہیں۔ دوسری جانب قرآن میں اللہ نے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ بلکہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ نمازیا صلوٰۃ کے لغوی معنی ہی دعا کے ہیں۔ اسی طرح تمام عبادات میں اصل فوکس دعا یعنی اللہ کو پکارنے اور اس پڑھنا جاری رکھیں »


دعا یا اللہ کو پکارنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 8, 2017

دعا پر مقالات کا مجموعہ
ڈاکٹر محمد عقیل
 مضمون نمبر ا: دعا یا اللہ کو پکارنا
دعا کے لغوی معنی پکارنے کے ہیں۔ توحید کا خلاصہ ہے کہ اللہ ہی کو تنہا پکارا جائے اور جب اسے تنہا نہیں پکارا جاتا تو شرک جنم لیتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اللہ کو پکارنے کا حکم ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنے کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے شرک سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔
پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور معبودکو نہ پکارو، ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔(الشعرا ۲۶:۲۱۳)
اللہ کو پکارنے کا مفہوم
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو پکارنے سے کیا مراد ہے اور اللہ کو تنہاپکارنے سے کیا مراد ہے؟ ہم دن رات ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ، پکارتے ہیں اور ان سے مدد لیتے ہیں ۔ تو کیا یہ شرک ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہاں اللہ کو ہی پکارنے کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی کو مدد کے لیے پکارا ہی نہ جائے۔ کسی بھی زندہ شخص سے مدد مانگنا چونکہ اسباب کے قانون کے تحت ہے اس لیے یہ پُکارنا ان معنوں میں نہیں جن میں ہم خدا کو پکارتے ہیں۔
یہاں جس پکار کی ممانعت کی جارہی ہے وہ اسباب سے ماورا پکار ہے۔ چنانچہ مشرکین مکہ چند فرشتوں ، دیویوں اور دیوتاؤ ں کو خدا کا مقرب سمجھ کر انہیں پکارتے، ان سے مانگتے اور ان سے سفار ش کرتے تھے۔ چونکہ یہ تمام ہستیاں نہ اسباب کی دنیا کے تحت نہ تو موجود ہوتی ہیں، نہ ان سے بات کی جاسکتی ہے اور نہ ہی یہ اس کا جواب دے سکتی ہیں۔ اسی لیے ان سے مدد مانگنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ان کو خدا کی طرح حاضر، ناظر، سمیع، بصیر، حکیم ، علیم ، قدیر ، خالق اور زندہ سمجھ ان سے مدد کی درخواست کی جائے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس ہستی کو خدا کے برابر نہ سہی بلکہ اس کے مقربین کا درجہ دے کر ہی کلام کیا جائے۔ لہٰذا وہ مخلوق جو اس وقت اسباب کی دنیا میں موجود نہیں اس سے کسی بھی قسم کی مدد کی درخواست کرنا شرک ہے۔ اس مخلوق میں جنات ، فرشتے اور وہ تمام انسان آجاتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔