پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

سورہ المنافقون کا خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 9, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورہ المنافقون کا خلاصہ
ڈاکٹر محمد عقیل
جب یہ دھوکے باز منافق تمہاری محفلوں میں آتے ہیں تو تمہاری ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے بڑھ چڑھ کر گواہی دیتے ہیں آپ اللہ کے رسول ہیں۔ حالانکہ تمہاری رسالت ان کی گواہی کی محتاج نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول پڑھنا جاری رکھیں »


الجبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 16, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارحمنا یا جبار
اللہ کی صفت “جبار” کا شمار طاقت و غلبے کی صفات میں ہوتا ہے۔”الجبار ” کے معنی قوت و شوکت کی مالک، زورآور، قوی اور قاہر ہستی کے ہیں۔ عرب جبار یا جبارہ اس کھجور کے درخت کو کہتے تھے جس کے کھجوروں یا پھل کو حاصل کرنے کے لیے کسی پڑھنا جاری رکھیں »


الحلیم۔ بردبار

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Feb 17, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحلیم۔ بردبار
ڈاکٹر محمد عقیل
الحلیم اللہ کی صفات میں ایک اہم صفت ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں بردباری کرنے والا، تحمل کرنے والا۔ حلم کا مطلب ہے جوش غضب سے اپنے نفس کو روکنا۔ اس کے معنی کو مزید کھولا جائے تو حلیم سے مراد وہ شخصیت ہوتی ہے جس میں جلد بازی نہ ہو، جو تحمل اور عزم کے ساتھ کسی بھی عمل کے مقابلے میں فوری رد عمل کا اظہار نہ کرے، وہ شخصیت جو جلد بازی سے کام خراب نہ کردے، وہ جسے اپنے اعصاب پر پورا قابو ہو، وہ جو اپنے آپ کو اچانک رد عمل سے روک کر رکھے اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرے، وہ جو جذبات سے مغلوب نہ ہو۔
اللہ کی صفت الحلیم سے مراد وہ ہستی ہے جو اپنی مخلوق پر ظاہری اور پوشیدہ انداز میں اپنی رحمت نازل کرتا رہتا اور ان کی نافرمانیوں اور مخالفت کے باوجود ان شفقت کرتا اور ان کی کوتاہیوں سے درگذر کرتا ہے ۔ اللہ کی اسی صفت حلم انسان کے لیے ایک نعمت ہے۔ اگر اللہ تعالی میں حلم نہ ہوتا تو اللہ ہمارے گناہوں کی پاداش میں ہمیں کب کا ہلاک کرچکے ہوتے، اللہ کے غضب سے زمین و آسمان پھٹ چکے ہوتے اور وہ قیامت جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے کب کی آ لگی ہوتی۔ لیکن اللہ کی یہی بردباری اور تحمل ہے وہ انسان کو مہلت دیتے ہیں حتی کہ برا بھلا کہنے والوں کو بھی فوری طور پر ہلاک نہیں کرتے اور انہیں موقع دیتے ہیں کہ وہ اصلاح کرلیں۔ نہ صرف اللہ موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ توبہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان کو لغزشوں سے پاک ہونے کے لیے اپنی جانب سے خصوصی گائیڈلائن فراہم کرتے ہیں۔
صفت حلیم اللہ کی صفت الوہاب اور الغنی کے تحت آتی ہے۔ صفت غنی یا وہابیت وہ صفت ہے جسے دیگر صفات کی مدد کی ضرورت نہیں۔ باقی صفات تخلیق، علم، فنا، بقا وغیرہ کو کسی حقیقت میں ظاہر ہونے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہابیت کے مطابق اللہ تعالی انسان کو وسائل عطا کرتے اور انہیں برتنے کا موقع دیتے ہیں۔ ان وسائل کو انسان خدا کے طے کردہ قوانین کے مطابق بھی استعمال کرتا ہے اور بعض اوقات ان قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے۔ لیکن اللہ کی صفت حلم آزمائش کی وجہ سے انسان کو اس کی نافرمانی کی دوری سزا نہیں دیتی بلکہ تحمل و بردباری کی بنا پر اس کے نتیجے کو مؤخر کردیتی ہے۔
انسان کے لیے صفت حلم
قرآن میں یہ صفت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے خاص طور پر استعمال ہوئی ہے۔ان کے ساتھ ہی حضرت شعیب اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ انسان کے لیے بھی یہی مطلوب ہے کہ اپنے اندر حلم پیداکرے ۔ صفت حلم و بردباری کو بیدار کیے بنا کوئی شخص حقیقت میں کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتا۔ اس صفت کے بنا جو بھی حاصل ہوتا ہے وہ مختصر مدت کے لیے ہوتا ہے یا محض ایک فریب ہوتا ہے۔ الحلیم ہی وہ بنیادی صفت ہے جس کے تحت دیگر صفات سے دیرپا استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب اللہ تعالی کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کی شخصیت میں صفت حلم بیدار کردیتے ہیں۔ تاکہ اسے زندگی میں جو کچھ بھی ملے وہ دیرپا ہو۔
مثال کے طور پر ایک شخص کو اگر دولت مل جائے لیکن اس میں حلم و بردباری نہ ہو تو وہ بہت جلد فضول خرچی میں دولت کو ختم کرکے فقیر بن سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بڑا عالم اگر غیر متحمل مزاج ہو تو اپنے علم کو جلد بازی میں استعمال کرکے نادانی کا رویہ اختیار کرسکتا ہے۔ ایک مینجر جلد بازی میں غلط فیصلے کرسکتا، سیاست دان ریاست کو داؤ پر لگاسکتا اور ایک بزنس مین عارضی ناکامیوں کی بنا پر جلد ہمت ہارسکتا ہے۔
یہ صفت حلم کی کمی ہی ہوتی ہے کہ ایک عام شخص جلد غصے، چڑچڑاہٹ، بدمزاجی، عدم برداشت، ڈپریشن اور مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسی کی بنا پر شادیاں ناکام ہوجاتیں، گھر اجڑ جاتے، خاندان فساد کا شکار ہوجاتے، ریاست انتشار کا شکار پڑھنا جاری رکھیں »


شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jan 31, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شکر گذاری اور ناشکری کیا ہے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں اکثر شکرگذاری کو محض زبانی معاملہ سمجھتے ہیں کہ صرف الحمدللہ ، یا اللہ تیرا شکر ہے وغیرہ کہہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ شکر ادا پڑھنا جاری رکھیں »


دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jan 19, 2017

مضمون نمبر 5: دعا اور کلمہ کن سے ہم آہنگی
ڈاکٹر محمد عقیل
جب اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے ” کن ” کہا یعنی ہوجا۔ تو یہ کائنات وجود میں آگئی ۔ اللہ تعالی اس بات پر قادر تھے کہ وہ بس اشارہ کرتے اور سب کچھ خود بخود ایک سیکنڈ میں بن جاتا۔ لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں »


اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jan 17, 2017

مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح
پکارا جائے ؟
از ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو اسمائے حسنی کے ذریعے پکارو، سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔
“اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں ناموں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے” (سورہ الاعراف پڑھنا جاری رکھیں »


اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Jan 16, 2017

مضمون نمبر ۳: اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا
ڈاکٹر محمد عقیل
متعدد حسن اور صحیح روایات میں اسم اعظم کے ذریعے اللہ کو پکارنے کا حکم موجود ہے۔ یعنی اللہ کو ایک مخصوص نام سے اگر پکارا جائے تو اللہ تعالی ضرور سنتے ہیں۔ان روایات کی تفصیل یہ پڑھنا جاری رکھیں »


دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 15, 2017

مضمون نمبر ۲: دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو
ڈاکٹر محمد عقیل
ہم دیکھتے ہیں کہ دن رات لوگ لاکھوں کروڑوں دعائیں مانگتے ہیں لیکن ان میں سے چند ہی قبول ہوتی ہیں۔ دوسری جانب قرآن میں اللہ نے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ بلکہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ نمازیا صلوٰۃ کے لغوی معنی ہی دعا کے ہیں۔ اسی طرح تمام عبادات میں اصل فوکس دعا یعنی اللہ کو پکارنے اور اس پڑھنا جاری رکھیں »


دعا یا اللہ کو پکارنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 8, 2017

دعا پر مقالات کا مجموعہ
ڈاکٹر محمد عقیل
 مضمون نمبر ا: دعا یا اللہ کو پکارنا
دعا کے لغوی معنی پکارنے کے ہیں۔ توحید کا خلاصہ ہے کہ اللہ ہی کو تنہا پکارا جائے اور جب اسے تنہا نہیں پکارا جاتا تو شرک جنم لیتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اللہ کو پکارنے کا حکم ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنے کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے شرک سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔
پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور معبودکو نہ پکارو، ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔(الشعرا ۲۶:۲۱۳)
اللہ کو پکارنے کا مفہوم
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو پکارنے سے کیا مراد ہے اور اللہ کو تنہاپکارنے سے کیا مراد ہے؟ ہم دن رات ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ، پکارتے ہیں اور ان سے مدد لیتے ہیں ۔ تو کیا یہ شرک ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہاں اللہ کو ہی پکارنے کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی کو مدد کے لیے پکارا ہی نہ جائے۔ کسی بھی زندہ شخص سے مدد مانگنا چونکہ اسباب کے قانون کے تحت ہے اس لیے یہ پُکارنا ان معنوں میں نہیں جن میں ہم خدا کو پکارتے ہیں۔
یہاں جس پکار کی ممانعت کی جارہی ہے وہ اسباب سے ماورا پکار ہے۔ چنانچہ مشرکین مکہ چند فرشتوں ، دیویوں اور دیوتاؤ ں کو خدا کا مقرب سمجھ کر انہیں پکارتے، ان سے مانگتے اور ان سے سفار ش کرتے تھے۔ چونکہ یہ تمام ہستیاں نہ اسباب کی دنیا کے تحت نہ تو موجود ہوتی ہیں، نہ ان سے بات کی جاسکتی ہے اور نہ ہی یہ اس کا جواب دے سکتی ہیں۔ اسی لیے ان سے مدد مانگنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ان کو خدا کی طرح حاضر، ناظر، سمیع، بصیر، حکیم ، علیم ، قدیر ، خالق اور زندہ سمجھ ان سے مدد کی درخواست کی جائے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس ہستی کو خدا کے برابر نہ سہی بلکہ اس کے مقربین کا درجہ دے کر ہی کلام کیا جائے۔ لہٰذا وہ مخلوق جو اس وقت اسباب کی دنیا میں موجود نہیں اس سے کسی بھی قسم کی مدد کی درخواست کرنا شرک ہے۔ اس مخلوق میں جنات ، فرشتے اور وہ تمام انسان آجاتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔


خیرو شر کا تعین

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jun 11, 2016

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خیرو شر کا تعین

پروفیسر محمد عقیل

دنیا وی اور دینی دونوں اعتبار سے خیر و شر کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ دنیا میں انسانی معاشروں میں  قانون نام ہی خیر کے نفاذ اور شر سے روکنے کا ہے۔ اسی طرح مذہب بھی آخرت کی نجات خیر کو ماننے اور شر سے بچنے  پر موقوف ہے۔ چنانچہ خیر اور شر کا تعین بہت ضروری ہے۔

عمل صالح یا نیکی اور گناہ کے تعین  کے حوالےسے کئی  نکتہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ نیکی  اور گناہ کے تعین کی واحد منبع  وحی الٰہی ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خیر و شر کے تعین  کی بنیاد انسانی  عقل ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ خیر و شر کا تعین انسان کی فطرت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ ایک اور مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ خیرو شر کا کوئی مستقل وجود نہیں اور یہ انسان اپنے ماحول سے اخذ کرتا ہے۔

۱۔ فطرت

انسان بچپن ہی سے جس معیار سے آشنائی حاصل کرتا ہے وہ فطرت میں ودیعت کردہ الہام ہے جو ہر انسان کے اندررکھ دیا گیا ہے۔ اچھائی اور برائی کا ایک اور معیارانسانی فطرت  و وجدان ہے۔انسانی فطرت پر مبنی علم اس الہام کا نام ہے  جو انسا ن کو خیر و شر کا شعور دیتا ہے، جو اس کے رویے اور اعمال کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے۔

اخلاقی معاملات میں بالخصوص تمام انسان یہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے، زنا کوئی پسندیدہ فعل نہیں، قتل ایک برا عمل ہے وغیرہ۔ لیکن مجرد فطرت کی بنیاد پر خیرو شر کا تعین کیا جائے تو بڑے مسئلے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ کہ  فطرت کو مسخ کرکے ایک  غلط روایت کو بھی فطرت کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر  ہم جنس پرستی کو آج قانونی حیثیت مل گئی ہے  تو کل ہزاروں سال کے بعد  ممکن ہے  اسے فطرت مان لیا جائے۔ نیز فطرت و وجدان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں معاملات کو متعین طور پر بیان کرنا مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ بہت سی باتیں احساسات  پر منحصر ہوتی ہیں۔

جبلت اور فطرت میں فرق

یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی  فطرت اور  حیوانی جبلت میں فرق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اور حیوان میں کچھ تقاضے ایسے ہیں جومشترک ہیں ۔ مثال کے طور پر  بھوک انسان کو بھی لگتی ہےا ور حیوان کو بھی، جنسی تقاضہ انسان کا بھی ہے اور حیوان کا بھی، دفاع انسان بھی کرتا ہے حیوان بھی، اجتماعیت انسان بھی پسند کرتا ہے اور حیوان بھی۔لیکن انسان اور حیوان کی جبلت یا فطرت میں جو چیز حد فاصل ہے وہ اختیار و ارادہ ہے۔ حیوان اپنی جبلت کے تحت مجبور ہے جبکہ انسان اپنے ارادے سے اس جبلت کے خلاف جاسکتا اور اس کے خلاف کام کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک  سبزی خور جانور کبھی گوشت نہیں کھائے ماسوائے چند مواقع کے۔ اسی طرح ایک بطخ کا بچہ پیدا ہونے کے بعد خود بخود تیرنا شروع کردے گا۔ ایک جانور جنسی تقاضا پورے کرنے کے لیے کسی اخلاقی حدود کا پابند نہیں ۔ دوسری جانب ایک انسان غذا کی موجودگی کے باوجود خود کو کھانے سے روکنے پر قادر ہے، وہ جنسی مواقع پاکر بھی آزادانہ اخلاط سے گریز کرسکتا ہے۔

دراصل انسان میں جبلت سے ماورا ایک اور علم موجود ہے اور وہ ہے فطرت کا الہام۔یہ الہام انسان کو خیرو شر کا ایک اضافی علم و شعور دیتا ہے  جو حیوانوں میں  بہت ابتدائی سطح پر ہوتا  ہے۔ حیوانوں کا خیرو شر  زیادہ تر بقا کے تقاضوں  سے متعلق ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ودیعت کردہ الہام کے تحت  جو چیزیں آتی ہیں ان  کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن ان کا تعلق زیادہ تر دنیاوی امور اور باہمی معاملات سے ہوتا ہے۔اس میں لین دین، بات چیت کی حدود، میل ملاپ وغیرہ شامل ہیں۔

۲۔ وحی

فطرت کا الہام ایک خام تصورہے جس میں بہت سی چیزیں  خلط مبحث  کا شکار ہوسکتی ہے۔ نیز انسانی عقل اور فطرت ایک حد کے بعد آکر انسا ن کو راہنمائی دینا بند کردیتی ہے۔ وحی اس سلسلے میں اس نامکمل  علم کو تکمیل تک پہنچاتی اور اس کے خلا کو پورا کرتی ہے۔

مثال کے طور پر فطرت اور انسانی عقل ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ خدا ہے لیکن اس سے تعلق کس طرح قائم کرنا ہے اس بارے میں کوئی خاص راہنمائی نہیں کرتی۔ اسی طرح عقل کہتی ہے کہ ایک دن ایسا آنا چاہیے جب بروں اور اچھوں کو الگ کردیا جائے تو وحی اسے یقین کے ساتھ آخرت کی شکل میں بیان کردیتی ہے۔ وحی یہ سب باتیں تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے جس میں  قیامت، حشر، نامہ اعمال، جنت، جہنم  سب کچھ ایک یقینی علم کے طور پر ہوتا ہے ۔  اسی طرح وحی  فطرت کے ابہام کو دور کردیتی ہے جیسے حیا ایک بنیادی تصور ہے جو فطرت میں پایا جاتا ہے لیکن اس تصور میں کیا توازن پیدا ہو ، اس کا تعین وحی کرتی ہے۔  اسکے علاوہ وحی انسان کے تزکیے کے لیے اصولوں کا تعین کرتی ہے۔ وہ خدا کی شریعت دیتی ہے جس میں خدائی احکامات کی تفصیل ہوتی ہے۔

وحی پر اشکالات

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی تو نہ ماضی میں ہر شخص کو ملی ہے نہ حال میں۔ یعنی ماضی میں بھی پیغمبر آئے، انہوں نے  قوم کو مخاطب کیا اور دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کی تعلیمات کو دنیا میں باقی لوگوں میں پہنچایا جاتا تھا۔ اسی طرح ایک مسئلہ یہ تھا  پیغمبر ہر قوم میں نہیں بھیجے گئے  ۔ خاص طور پر آج کے دور میں تو نبوت کا سلسلہ بندہوچکا ہے۔ وحی کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے تین طرح کے مخاطبین ہوسکتے ہیں۔ایک وہ مخاطبین جن کو براہ راست پیغمبر مخاطب کرتے ہیں۔ ان پر قانون کا اطلاق مختلف ہوتا ہے۔ ان کی آزمائش بہت کڑی ہوتی ہے کہ ایک ایسے پیغمبر پر ایمان لائیں جس کے پیچھے کوئی تاریخی شان و شوکت  نہیں۔ چنانچہ یہ اگر مان لیتے ہیں تو ان کا اجر کافی  زیادہ ہے۔ انکار کی صورت میں سزا بھی کڑی ہے کیونکہ پیغمبر انہیں ہر بات کھول کر بیان کردیتا ہے لیکن یہ مان کرنہیں دیتے۔ انکار کی وجہ کوئی غلط فہمی نہیں بلکہ ضد، ہٹ دھرمی، مفاد پرستی ، تعصب یا کوئی اور اخلاقی برائی ہوتی ہے اور اس وجہ کو اللہ تعالی  کھول کر بیان کردیتے ہیں۔

پیغمبر کے دوسرے مخاطبین وہ ہیں  جو نسلی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور جن تک پیغمبر کی  تعلیمات بالواسطہ طور پر پہنچتی ہیں ۔ ان کے لیے یہ آسانی ہوتی ہے کہ پیغمبر پر یہ پیدائیشی طور پر ایمان رکھتے ہیں اور پیغمبر سے انہیں ایک عمومی عقیدت ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر کے پیچھے ایک عظیم الشان تاریخ کھڑی ہوتی ہے۔  وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پیغمبر کی تعلیمات  میں بزرگوں کے اقوال شامل ہوجاتے اور کچھ غلط روایات بھی دین کاحصہ بن جاتی ہیں۔ ہر دور کے مذہبی پیشوا ان تعلیمات  کی تشریح کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور عوام کے سامنے اس تشریح   کو دین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سارے ہی مذہبی پیشوا بدنیت نہیں ہوتے لیکن  بہرحال وہ پیغمبر نہیں ہوتے اوروہ بات بیان کرنے میں غلطی کرسکتے ہیں۔

پیغمبر کے تیسرے مخاطبین وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیر مسلم ہوں اور پیغمبر کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ہوں۔ ان تک پیغام پہنچانے کی ذمہ امت پر ہوتی ہے۔ان غیرمسلموں کا پہلا کام تو یہ ہے کہ وہ عقل و فطرت کی بنیاد پر جو اچھائی اور برائی کا شعور رکھتے ہیں اس پر عمل کریں۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ جس  مذہب کو ماحول اور نسلی طور پر  حق سمجھتے ہیں  اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور ساتھ ساتھ اس مذہب کی و ہ باتیں جو عقل و فطرت سے متصادم ہوں ان پر پیدا ہونے والے سوالات کے جواب تلاش کریں۔ تیسر ا یہ کہ اگر کوئی حق بات ان کے سامنے پیش کی جائے تو اس پر کا ن دھریں اور تعصب میں آکر اس کا انکار نہ کردیں۔

 وحی کا کام

پہلا اصول یہ جان لینا چاہیے کہ وحی کی تعلیمات تمام انسانوں کو برابر نہیں ملتیں۔ حضرت ابوبکر ، عمر ، عثمان، علی رضی اللہ عنہم  اور  دیگر صحابہ کو وحی جس طرح ملی اور سمجھ آئی، تابعین کو اس طر ح نہیں ملی۔ اسی طرح وحی کی تعلیمات جس طرح شاہ ولی اللہ کو سمجھ آئیں، ایک گاؤں میں بسنے والی  بوڑھی عورت کو سمجھ نہیں آئیں۔ تو مسلم معاشرے ہی میں وحی کا ابلاغ اور فہم مختلف اندازمیں ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کی تعلیمات کا ابلاغ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں میں مختلف ہوا ہے۔ تو ہر بندہ اتنے ہی عمل کا مکلف یعنی پابند ہے جتنا علم اس تک پہنچا  ۔

بالکل یہی اصول   غیرمسلموں پر بھی اپلائی ہوتا ہے۔ ایک غیر مسلم اتنے ہی علم پر عمل کرنے کا مکلف ہے جتنا علم اس تک پہنچا۔ اگر وہ مانتا تھا کہ اس کے مذہب میں زنا کرنا حرام ہے اور وہ زنا کرتا ہے تو وہ عنداللہ پکڑ ا جاسکتا ہے۔  لیکن یہاں اس کی اصل آزمائش اور عقل و فطرت کی بنیاد پر ہوگی جس کا علم اس کے پاس پہلے سے موجود ہے۔

اگر ہم غور سے جائزہ لیں تو کسی ایک معیار کی بنیاد پر خیر و شر یا اچھائی اور برائی کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر اگر ہم وحی اور صرف وحی کو معیار بنالیں تو  بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو وحی میں موجود نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ دادی یا نانی سے نکاح حرام ہے یا زہر حرام ہے ۔ لیکن  عقل اور منطق کے استعمال کے ذریعے دادی یا نانی کو ماں کے حکم میں لیا جاتا اور ان سے نکاح حرام سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں کسی جان کو ناحق مارنے سے منع کیا گیا ہے اس لیے  زہر کو  کھانا خود کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے اسی لیے اس کو کھانا حرام نہیں۔

۳۔عقل

ایک اور خیرو شر کا معیار عقل کو قرار دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک  نہیں کہ عقل  خیر و شر کے  تعین میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن یہ بذات خود کو ئی علم کا منبع یا خیر وشر کا معیار نہیں۔ عقل کا کام فطرت یا وحی یا کسی اور علم کی روشنی میں خیر و شر کا تعین کرنا اور اس کے حق یا رد میں دلائل فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب ہم اگر خیر و شر کا معیار صرف عقل کو بنالیں تو یہ بات بھی ناقص ہے۔  عقل  کی اپنی محدودیت ہے۔ عقل  ہمیں بہت سی باتیں تجربے سے سکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کے بعد سیکھا کہ زہر کھانے سے ہلاکت ہوجاتی ہے، آزادنہ جنسی اختلاط سے ایڈز پھیل سکتا ہے، نکاح کا ادارہ تباہ کرنے سے خاندانی نظام ختم ہوجاتا ہے وغیرہ۔ لیکن اس تجربے کی بھینٹ ہزاروں لوگوں کو چڑھانا پڑتا ہے۔

۴۔ علم کے غیر مستقل ذرائع

فطرت و وحی علم کا مستقل ذریعہ ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی علم کے بے شمار ذرائع ہیں۔ لیکن  یہ خیر و شر کے تعین میں براہ راست مدد نہیں کرتے بلکہ عقل کو فیصلہ کرنے کا مواد فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست معیار ماحول ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان خیرو شر کا  ابتدائی علم  اپنے ماحول ہی سے لیتا ہے۔ وہ اپنے والدین، اعزا و اقربا، دوس احباب وغیرہ کو دیکھ کر  بہت سی چیزیں سیکھ لیتا ہے جس میں خیرو شر کا تعین بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طو ر پر ایک بچہ جو مغربی ممالک میں پلا بڑھا ہو وہ  شراب پینا جائز سمجھتا ہے لیکن ایک مسلمان ماحول میں پلنے  بڑھنے والا بچہ اسے ناجائز اور برائی سمجھتا ہے۔  لیکن شراب کو مطلقا اچھائی  کوئی بھی نہیں سمجھتا۔

مغرب میں پلنے بڑھنے والا ایک شخص بھی جب بڑا ہوتا ہے تو وہ بھی شراب کو کسی نہ کسی درجے میں برا سمجھتا ہے خواہ وہ ڈرائیونگ کے وقت ہو یا نابالغ کے لیے ہو۔ اسی طرح وہ بھی زنا کو بر اسمجھتا ہے اور وہ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی اس کی ماں یا بیوی سے آزادانہ جنسی تعلق قائم کرے وغیرہ۔ اس کا مطلب ہے کہ ماحول کی بنا پر خیر و شر کا تعین کچھ مشکل تو ہوجاتا ہے لیکن  انسانی فطرت یہاں بھی اس کی راہنمائی کرتی ہے۔

علم دیگر غیر مستقل ذرائع جو خیر و شر کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں ان میں ایک تجربہ بھی ہے۔ انسان تجربے کے ذریعے جان جاتا ہے کہ خیر اور شر کیا ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کی ذریعے جانا   کہ اسموکنگ کینسر کا باعث ہے، چکنائی کھانے سے ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے وغیرہ۔تجربہ اخلاقی معاملات میں بھی خیرو شر کے تعین میں مدد کرتا ہے۔ جیسے تجربہ نے بتایا کہ آزادانہ جنسی اختلاط کوئی اچھی بات نہیں وغیرہ۔علم کا ایک اہم ذریعہ ہمارے حواس خمسہ ہیں۔ کھانا ، دیکھنا، سننا ، چکھنا اور چھونا وہ علم حاصل کرنے کے طریقے ہیں جن کی وجہ سے ہم خیر و شر کے تعین میں مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

 

انسانی لائف سائیکل

اس بحث سے یہ بات تو پتا چلتی ہے کہ خیرو شر کا معیار  کسی ایک علم  کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وحی کو عقل کی ضرورت ہے اور فطرت کو وحی کے تعین کی۔ اگر ہم انسانی لائف سائکل کو دیکھیں تو خیر و شر کا معیار بہت ہی فطری اور آسان ہے ۔ یہ اتنا خود کار عمل ہے کہ ایک بچہ بھی اس کی پیروی کررہا ہوتا ہے۔

ہم دیکھیں تو جب ایک بچہ بڑھا ہونا شروع ہوتا ہے اس وقت اسے وحی کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود وہ خوب اچھی طرح کچھ بنیادی چیزوں کو خیرو شر مان رہا ہوتا ہے۔ بہت ہی چھوٹے بچوں پر ایک مرتبہ ایک تجربہ کیا گیا۔ اس  میں بچوں کو دو طرح کے کھلونے دیے گئے۔ ایک وہ کھلونے تھے جو نیچے سے اوپر کی طرف جارہے تھے اور دوسرے وہ جو اوپر سے نیچے آرہے تھے۔ بچوں کی اکثریت نے نیچے سے اوپر جانے والے کھلونوں کو پسند کیا جو اس بات کا اظہار تھا کہ بچے فطر ی طور پر مثبت عمل کو پسند کرتے ہیں جو ایک خیر ہے۔

اسی طرح جب ایک بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ سچا ہوتا ہے اور اسی سچ کی بنیاد پر وہ دنیاوی مصلحتیں نہیں جانتا  اور سچ بولتا  اور اسے ہی پسند کرتا ہے۔ بعد میں وہ ممکن ہے اپنے والدین کی بنا پر جھوٹ بولنے لگ جائے۔ فطرت میں ودیعت کردہ خیرو شر کا تصور وہ پہلی وحی یا الہام ہے جو اللہ نے انسانوں کو دیا اور سب کو دیا۔ یہی وہ کسوٹی  ہے جس کی بنیاد پر دنیا میں اخلاقیات ظہور پذیر ہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔

اس کے بعد بچہ میں کچھ عقل اور سمجھ بوجھ آنا شروع ہوتی ہے۔ اب وہ خیرو شر کے تعین کرنے میں ماحول  سے بھی مدد لیتا ہے۔ اس کی بنا پر وہ دیکھتا ہے کہ بہت سی باتیں جو اس  کی نے  فطرت نے  شر  کے طور پر بتائیں تھیں ، وہ معاشرے نے  خیر کے طور پر لی ہوئی ہیں۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے لیکن کچھ لوگ مصلحتا جھوٹ بولتے ہیں۔ چنانچہ وہ جب خود جھوٹ بولنا شروع کرتا ہےتو اس کا ضمیر شدید مزاحمت کرتا اور اسے گناہ کا احساس دلاتا ہے۔ اگر وہ ماحول سے متاثر ہوکر ضمیر کی آواز دبالے تو  اس کی عقل اسے حیلے فراہم کردیتی ہے۔ لیکن اس کے لاشعور میں ہمیشہ یہ احساس ضرور رہتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اس سے جھوٹ بولتا ہے اور اسے دھوکا دیتا ہے تو اسے برا لگتا ہے۔

اس کے بعد بچے کی زندگی کی تیسرا مرحلہ تعلیم ہے۔ یہ تعلیم دینی تعلیم  اور دنیوی تعلیم دونوں ہوسکتی ہیں۔ دینی تعلیم میں بچے کو کوئی نہ کوئی مذہب پڑھایا جاتا ہے۔ اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی تم پڑھ رہے ہو وہ خدا کا پیغام ہے جس کے ماننے کی صورت میں نجات ہے ورنہ سزا۔ اب بچہ اس وحی ے بارے میں سوالات کرتا ہے جو عقل وفطرت پر مبنی ہوتے ہیں۔ کچھ سوالات عقل سے ماورا بھی ہوتے ہیں۔ یہاں بچے کو بالعموم تمام معاشروں میں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ وحی کو  من و عن مانے کیونکہ عقیدے میں عقل کا کوئی کردار نہیں، نہ ماننے کی صورت میں اسے  سخت سزاؤں سے ڈرایا جاتا ہے۔

اس موقع پر بچہ مذہب کے بارے میں یہ جان لیتا ہے کہ اگر اسے ماننا ہے تو عقل کو بند کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اس کا مذہب کے بارے میں ایک ایسا تصور پیدا ہوجاتا ہے جو پراسرایت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مذہب کو چونکہ عقل سے نہیں پرکھا جاسکتا، اس لیے مذہبی تعلیمات جاننے کے لیے وہ نہ صرف اپنے مذہبی پیشواؤں کا محتاج ہے بلکہ ان کی باتوں کو من و عن ماننا اور بغیر کسی دلیل کے ماننا ہے۔

یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ایک بچہ اپنے مذہب سے دوری اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی ساری توجہ دنیاوی امور اور دنیاوی تعلیمات پر ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا  کی باتیں اس کی سمجھ میں آرہی ہوتی ہیں اور مذہبی رہنما اس کے سوالات کے جواب دینے کی بجائے  سوال پوچھنے کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عقل ، وحی اور فطرت کا تعلق

یہاں ہمیں عقل ، فطرت اور وحی کے تعلق کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ انسانی لائف سائیکل سے ہم نے یہ جانا کہ  انسان ابتدا میں جو علم  لے کر پیدا ہوتا ہے وہ اس کی فطرت  میں ودیعت کردہ الہام ہے۔اس سے اگلے مرحلے میں و ہ عقل، وحی  اور ماحول کے ذریعے کچھ چیزیں سیکھتا اور فطرت کے اس علم کو پروان چڑھاتا ہے۔

اس بحث سے یہ علم حاصل ہوا کہ انسانی علم کا بنیادی ماخذ انسانی فطرت ہے۔   دوسرا علم  انسان  وحی کا علم ہے۔ایک اور ذریعہ ماحول ہے لیکن  یہ کوئی مستقل ذریعہ نہیں۔  انسانی عقل  ان تمام  علوم کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں معاونت کرتی ہے۔

فطرت انسانیت  کی  وہ مشترکہ وحی ہے جس میں نہ کوئی فرقہ بازی ہے، نہ مذہبی منافرت، نہ تقسیم ، نہ فخر اور نہ حقارت۔ یہ الہام سب کے پاس موجود ہے۔ ایک ہندو بھی اس الہام کو جانتا ہے اور عیسائی بھی، یہ الہام ایک موچی کے پاس بھی ہے اور ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کے پاس بھی، یہ عورت بھی جانتی ہے اور مرد بھی، یہ امریکہ میں بھی پایا جاتا ہےا ور افریقہ کے جنگلات میں بھی۔

لیکن فطرت کا یہ علم ناقص اور مبہم ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے وحی کا علم دیا جاتا ہے۔ وحی کا ابلاغ خود بخود نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مختلف ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وحی کی تعلیمات ہر شخص تک یکساں نہیں پہنچتیں۔ اسی لیے ایک شخص  وحی  کو ماننے کا مکلف یا پابند اتنا ہی ہے جتنا اس تک علم پہنچا۔وحی کو فطرت کے علم پر فوقیت حاصل ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ  وحی کا مستند  علم فطرت کے خلاف نہیں ہوتا  لیکن  اس ساتھ  ہی یہ علم فطرت کے علم سے زیادہ مستند  اور واحد کسوٹی ہے۔ اسی پر فطرت  ، ماحول یا دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کو پرکھا جائے گا۔

جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو عقل فطرت اور وحی کے علم کو اخذ کرتی، اسے سمجھتی ، پرکھتی اور پھر اسے مان کر عمل کرنے کی جانب راہنمائی دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عقل کے بغیر وحی اور فطرت سے علم حاصل نہیں کیا جاسکتا اور انسان دینی احکامات کا مکلف ہی نہیں رہتا۔ یعنی نماز کس طرح پڑھنی ہے یہ وحی  کے علم سے عقل اخذ کرکے لوگوں کو بتائے گی۔ اسی طرح خیر و شر کا تعین  فطرت سے کس طرح اخذ کرنا ہے، یہ بھی عقل کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فطرت اور وحی عقل کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک قابل غور بات ہے کہ اگر فطرت اور وحی کی تعلیمات کو ختم  کردیا ہے تو عقل کچھ بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی ایسے انسان کا تصور کریں جسے وحی کا کچھ نہیں علم اور یہ بھی تصور کریں کہ فطرت کی تعلیمات  اس کی یاداشت سے مٹائی جاچکیں ( گوکہ یہ ممکن نہیں) تو مجرد عقل اسے نہیں بتاسکتی کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔

خلاصہ

خلاصہ کچھ یوں بنا  کہ انسانی علم کے دو بنیادی ماخذ ہیں ایک  فطرت اور دوسرا وحی۔ فطرت ہر شخص کے پاس ہے لیکن ناقص علم ہے۔ وحی ہر شخص کے پاس نہیں لیکن کام  علم ہے۔ عقل ان دونوں کو استعمال کرنے  اور خیر و شر اخذ کرنے کا نام ہے۔  خیر و شر کا تعین اس علم کی بنیاد پر ہوگا جو دستیاب ہو اور انسان اسی کا مکلف ہے۔ البتہ انسان اس بات کا بھی  مکلف ہے کہ موجودہ علم کی اصلاح کرے اور ضروری علم میں اضافہ کرے۔