پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

خیرو شر کا تعین

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jun 11, 2016

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خیرو شر کا تعین

پروفیسر محمد عقیل

دنیا وی اور دینی دونوں اعتبار سے خیر و شر کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ دنیا میں انسانی معاشروں میں  قانون نام ہی خیر کے نفاذ اور شر سے روکنے کا ہے۔ اسی طرح مذہب بھی آخرت کی نجات خیر کو ماننے اور شر سے بچنے  پر موقوف ہے۔ چنانچہ خیر اور شر کا تعین بہت ضروری ہے۔

عمل صالح یا نیکی اور گناہ کے تعین  کے حوالےسے کئی  نکتہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ نیکی  اور گناہ کے تعین کی واحد منبع  وحی الٰہی ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خیر و شر کے تعین  کی بنیاد انسانی  عقل ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ خیر و شر کا تعین انسان کی فطرت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ ایک اور مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ خیرو شر کا کوئی مستقل وجود نہیں اور یہ انسان اپنے ماحول سے اخذ کرتا ہے۔

۱۔ فطرت

انسان بچپن ہی سے جس معیار سے آشنائی حاصل کرتا ہے وہ فطرت میں ودیعت کردہ الہام ہے جو ہر انسان کے اندررکھ دیا گیا ہے۔ اچھائی اور برائی کا ایک اور معیارانسانی فطرت  و وجدان ہے۔انسانی فطرت پر مبنی علم اس الہام کا نام ہے  جو انسا ن کو خیر و شر کا شعور دیتا ہے، جو اس کے رویے اور اعمال کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے۔

اخلاقی معاملات میں بالخصوص تمام انسان یہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے، زنا کوئی پسندیدہ فعل نہیں، قتل ایک برا عمل ہے وغیرہ۔ لیکن مجرد فطرت کی بنیاد پر خیرو شر کا تعین کیا جائے تو بڑے مسئلے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ کہ  فطرت کو مسخ کرکے ایک  غلط روایت کو بھی فطرت کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر  ہم جنس پرستی کو آج قانونی حیثیت مل گئی ہے  تو کل ہزاروں سال کے بعد  ممکن ہے  اسے فطرت مان لیا جائے۔ نیز فطرت و وجدان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں معاملات کو متعین طور پر بیان کرنا مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ بہت سی باتیں احساسات  پر منحصر ہوتی ہیں۔

جبلت اور فطرت میں فرق

یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی  فطرت اور  حیوانی جبلت میں فرق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اور حیوان میں کچھ تقاضے ایسے ہیں جومشترک ہیں ۔ مثال کے طور پر  بھوک انسان کو بھی لگتی ہےا ور حیوان کو بھی، جنسی تقاضہ انسان کا بھی ہے اور حیوان کا بھی، دفاع انسان بھی کرتا ہے حیوان بھی، اجتماعیت انسان بھی پسند کرتا ہے اور حیوان بھی۔لیکن انسان اور حیوان کی جبلت یا فطرت میں جو چیز حد فاصل ہے وہ اختیار و ارادہ ہے۔ حیوان اپنی جبلت کے تحت مجبور ہے جبکہ انسان اپنے ارادے سے اس جبلت کے خلاف جاسکتا اور اس کے خلاف کام کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک  سبزی خور جانور کبھی گوشت نہیں کھائے ماسوائے چند مواقع کے۔ اسی طرح ایک بطخ کا بچہ پیدا ہونے کے بعد خود بخود تیرنا شروع کردے گا۔ ایک جانور جنسی تقاضا پورے کرنے کے لیے کسی اخلاقی حدود کا پابند نہیں ۔ دوسری جانب ایک انسان غذا کی موجودگی کے باوجود خود کو کھانے سے روکنے پر قادر ہے، وہ جنسی مواقع پاکر بھی آزادانہ اخلاط سے گریز کرسکتا ہے۔

دراصل انسان میں جبلت سے ماورا ایک اور علم موجود ہے اور وہ ہے فطرت کا الہام۔یہ الہام انسان کو خیرو شر کا ایک اضافی علم و شعور دیتا ہے  جو حیوانوں میں  بہت ابتدائی سطح پر ہوتا  ہے۔ حیوانوں کا خیرو شر  زیادہ تر بقا کے تقاضوں  سے متعلق ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ودیعت کردہ الہام کے تحت  جو چیزیں آتی ہیں ان  کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن ان کا تعلق زیادہ تر دنیاوی امور اور باہمی معاملات سے ہوتا ہے۔اس میں لین دین، بات چیت کی حدود، میل ملاپ وغیرہ شامل ہیں۔

۲۔ وحی

فطرت کا الہام ایک خام تصورہے جس میں بہت سی چیزیں  خلط مبحث  کا شکار ہوسکتی ہے۔ نیز انسانی عقل اور فطرت ایک حد کے بعد آکر انسا ن کو راہنمائی دینا بند کردیتی ہے۔ وحی اس سلسلے میں اس نامکمل  علم کو تکمیل تک پہنچاتی اور اس کے خلا کو پورا کرتی ہے۔

مثال کے طور پر فطرت اور انسانی عقل ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ خدا ہے لیکن اس سے تعلق کس طرح قائم کرنا ہے اس بارے میں کوئی خاص راہنمائی نہیں کرتی۔ اسی طرح عقل کہتی ہے کہ ایک دن ایسا آنا چاہیے جب بروں اور اچھوں کو الگ کردیا جائے تو وحی اسے یقین کے ساتھ آخرت کی شکل میں بیان کردیتی ہے۔ وحی یہ سب باتیں تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے جس میں  قیامت، حشر، نامہ اعمال، جنت، جہنم  سب کچھ ایک یقینی علم کے طور پر ہوتا ہے ۔  اسی طرح وحی  فطرت کے ابہام کو دور کردیتی ہے جیسے حیا ایک بنیادی تصور ہے جو فطرت میں پایا جاتا ہے لیکن اس تصور میں کیا توازن پیدا ہو ، اس کا تعین وحی کرتی ہے۔  اسکے علاوہ وحی انسان کے تزکیے کے لیے اصولوں کا تعین کرتی ہے۔ وہ خدا کی شریعت دیتی ہے جس میں خدائی احکامات کی تفصیل ہوتی ہے۔

وحی پر اشکالات

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی تو نہ ماضی میں ہر شخص کو ملی ہے نہ حال میں۔ یعنی ماضی میں بھی پیغمبر آئے، انہوں نے  قوم کو مخاطب کیا اور دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کی تعلیمات کو دنیا میں باقی لوگوں میں پہنچایا جاتا تھا۔ اسی طرح ایک مسئلہ یہ تھا  پیغمبر ہر قوم میں نہیں بھیجے گئے  ۔ خاص طور پر آج کے دور میں تو نبوت کا سلسلہ بندہوچکا ہے۔ وحی کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے تین طرح کے مخاطبین ہوسکتے ہیں۔ایک وہ مخاطبین جن کو براہ راست پیغمبر مخاطب کرتے ہیں۔ ان پر قانون کا اطلاق مختلف ہوتا ہے۔ ان کی آزمائش بہت کڑی ہوتی ہے کہ ایک ایسے پیغمبر پر ایمان لائیں جس کے پیچھے کوئی تاریخی شان و شوکت  نہیں۔ چنانچہ یہ اگر مان لیتے ہیں تو ان کا اجر کافی  زیادہ ہے۔ انکار کی صورت میں سزا بھی کڑی ہے کیونکہ پیغمبر انہیں ہر بات کھول کر بیان کردیتا ہے لیکن یہ مان کرنہیں دیتے۔ انکار کی وجہ کوئی غلط فہمی نہیں بلکہ ضد، ہٹ دھرمی، مفاد پرستی ، تعصب یا کوئی اور اخلاقی برائی ہوتی ہے اور اس وجہ کو اللہ تعالی  کھول کر بیان کردیتے ہیں۔

پیغمبر کے دوسرے مخاطبین وہ ہیں  جو نسلی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور جن تک پیغمبر کی  تعلیمات بالواسطہ طور پر پہنچتی ہیں ۔ ان کے لیے یہ آسانی ہوتی ہے کہ پیغمبر پر یہ پیدائیشی طور پر ایمان رکھتے ہیں اور پیغمبر سے انہیں ایک عمومی عقیدت ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر کے پیچھے ایک عظیم الشان تاریخ کھڑی ہوتی ہے۔  وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پیغمبر کی تعلیمات  میں بزرگوں کے اقوال شامل ہوجاتے اور کچھ غلط روایات بھی دین کاحصہ بن جاتی ہیں۔ ہر دور کے مذہبی پیشوا ان تعلیمات  کی تشریح کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور عوام کے سامنے اس تشریح   کو دین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سارے ہی مذہبی پیشوا بدنیت نہیں ہوتے لیکن  بہرحال وہ پیغمبر نہیں ہوتے اوروہ بات بیان کرنے میں غلطی کرسکتے ہیں۔

پیغمبر کے تیسرے مخاطبین وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیر مسلم ہوں اور پیغمبر کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ہوں۔ ان تک پیغام پہنچانے کی ذمہ امت پر ہوتی ہے۔ان غیرمسلموں کا پہلا کام تو یہ ہے کہ وہ عقل و فطرت کی بنیاد پر جو اچھائی اور برائی کا شعور رکھتے ہیں اس پر عمل کریں۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ جس  مذہب کو ماحول اور نسلی طور پر  حق سمجھتے ہیں  اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور ساتھ ساتھ اس مذہب کی و ہ باتیں جو عقل و فطرت سے متصادم ہوں ان پر پیدا ہونے والے سوالات کے جواب تلاش کریں۔ تیسر ا یہ کہ اگر کوئی حق بات ان کے سامنے پیش کی جائے تو اس پر کا ن دھریں اور تعصب میں آکر اس کا انکار نہ کردیں۔

 وحی کا کام

پہلا اصول یہ جان لینا چاہیے کہ وحی کی تعلیمات تمام انسانوں کو برابر نہیں ملتیں۔ حضرت ابوبکر ، عمر ، عثمان، علی رضی اللہ عنہم  اور  دیگر صحابہ کو وحی جس طرح ملی اور سمجھ آئی، تابعین کو اس طر ح نہیں ملی۔ اسی طرح وحی کی تعلیمات جس طرح شاہ ولی اللہ کو سمجھ آئیں، ایک گاؤں میں بسنے والی  بوڑھی عورت کو سمجھ نہیں آئیں۔ تو مسلم معاشرے ہی میں وحی کا ابلاغ اور فہم مختلف اندازمیں ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کی تعلیمات کا ابلاغ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں میں مختلف ہوا ہے۔ تو ہر بندہ اتنے ہی عمل کا مکلف یعنی پابند ہے جتنا علم اس تک پہنچا  ۔

بالکل یہی اصول   غیرمسلموں پر بھی اپلائی ہوتا ہے۔ ایک غیر مسلم اتنے ہی علم پر عمل کرنے کا مکلف ہے جتنا علم اس تک پہنچا۔ اگر وہ مانتا تھا کہ اس کے مذہب میں زنا کرنا حرام ہے اور وہ زنا کرتا ہے تو وہ عنداللہ پکڑ ا جاسکتا ہے۔  لیکن یہاں اس کی اصل آزمائش اور عقل و فطرت کی بنیاد پر ہوگی جس کا علم اس کے پاس پہلے سے موجود ہے۔

اگر ہم غور سے جائزہ لیں تو کسی ایک معیار کی بنیاد پر خیر و شر یا اچھائی اور برائی کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر اگر ہم وحی اور صرف وحی کو معیار بنالیں تو  بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو وحی میں موجود نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ دادی یا نانی سے نکاح حرام ہے یا زہر حرام ہے ۔ لیکن  عقل اور منطق کے استعمال کے ذریعے دادی یا نانی کو ماں کے حکم میں لیا جاتا اور ان سے نکاح حرام سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں کسی جان کو ناحق مارنے سے منع کیا گیا ہے اس لیے  زہر کو  کھانا خود کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے اسی لیے اس کو کھانا حرام نہیں۔

۳۔عقل

ایک اور خیرو شر کا معیار عقل کو قرار دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک  نہیں کہ عقل  خیر و شر کے  تعین میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن یہ بذات خود کو ئی علم کا منبع یا خیر وشر کا معیار نہیں۔ عقل کا کام فطرت یا وحی یا کسی اور علم کی روشنی میں خیر و شر کا تعین کرنا اور اس کے حق یا رد میں دلائل فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب ہم اگر خیر و شر کا معیار صرف عقل کو بنالیں تو یہ بات بھی ناقص ہے۔  عقل  کی اپنی محدودیت ہے۔ عقل  ہمیں بہت سی باتیں تجربے سے سکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کے بعد سیکھا کہ زہر کھانے سے ہلاکت ہوجاتی ہے، آزادنہ جنسی اختلاط سے ایڈز پھیل سکتا ہے، نکاح کا ادارہ تباہ کرنے سے خاندانی نظام ختم ہوجاتا ہے وغیرہ۔ لیکن اس تجربے کی بھینٹ ہزاروں لوگوں کو چڑھانا پڑتا ہے۔

۴۔ علم کے غیر مستقل ذرائع

فطرت و وحی علم کا مستقل ذریعہ ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی علم کے بے شمار ذرائع ہیں۔ لیکن  یہ خیر و شر کے تعین میں براہ راست مدد نہیں کرتے بلکہ عقل کو فیصلہ کرنے کا مواد فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست معیار ماحول ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان خیرو شر کا  ابتدائی علم  اپنے ماحول ہی سے لیتا ہے۔ وہ اپنے والدین، اعزا و اقربا، دوس احباب وغیرہ کو دیکھ کر  بہت سی چیزیں سیکھ لیتا ہے جس میں خیرو شر کا تعین بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طو ر پر ایک بچہ جو مغربی ممالک میں پلا بڑھا ہو وہ  شراب پینا جائز سمجھتا ہے لیکن ایک مسلمان ماحول میں پلنے  بڑھنے والا بچہ اسے ناجائز اور برائی سمجھتا ہے۔  لیکن شراب کو مطلقا اچھائی  کوئی بھی نہیں سمجھتا۔

مغرب میں پلنے بڑھنے والا ایک شخص بھی جب بڑا ہوتا ہے تو وہ بھی شراب کو کسی نہ کسی درجے میں برا سمجھتا ہے خواہ وہ ڈرائیونگ کے وقت ہو یا نابالغ کے لیے ہو۔ اسی طرح وہ بھی زنا کو بر اسمجھتا ہے اور وہ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی اس کی ماں یا بیوی سے آزادانہ جنسی تعلق قائم کرے وغیرہ۔ اس کا مطلب ہے کہ ماحول کی بنا پر خیر و شر کا تعین کچھ مشکل تو ہوجاتا ہے لیکن  انسانی فطرت یہاں بھی اس کی راہنمائی کرتی ہے۔

علم دیگر غیر مستقل ذرائع جو خیر و شر کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں ان میں ایک تجربہ بھی ہے۔ انسان تجربے کے ذریعے جان جاتا ہے کہ خیر اور شر کیا ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کی ذریعے جانا   کہ اسموکنگ کینسر کا باعث ہے، چکنائی کھانے سے ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے وغیرہ۔تجربہ اخلاقی معاملات میں بھی خیرو شر کے تعین میں مدد کرتا ہے۔ جیسے تجربہ نے بتایا کہ آزادانہ جنسی اختلاط کوئی اچھی بات نہیں وغیرہ۔علم کا ایک اہم ذریعہ ہمارے حواس خمسہ ہیں۔ کھانا ، دیکھنا، سننا ، چکھنا اور چھونا وہ علم حاصل کرنے کے طریقے ہیں جن کی وجہ سے ہم خیر و شر کے تعین میں مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

 

انسانی لائف سائیکل

اس بحث سے یہ بات تو پتا چلتی ہے کہ خیرو شر کا معیار  کسی ایک علم  کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وحی کو عقل کی ضرورت ہے اور فطرت کو وحی کے تعین کی۔ اگر ہم انسانی لائف سائکل کو دیکھیں تو خیر و شر کا معیار بہت ہی فطری اور آسان ہے ۔ یہ اتنا خود کار عمل ہے کہ ایک بچہ بھی اس کی پیروی کررہا ہوتا ہے۔

ہم دیکھیں تو جب ایک بچہ بڑھا ہونا شروع ہوتا ہے اس وقت اسے وحی کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود وہ خوب اچھی طرح کچھ بنیادی چیزوں کو خیرو شر مان رہا ہوتا ہے۔ بہت ہی چھوٹے بچوں پر ایک مرتبہ ایک تجربہ کیا گیا۔ اس  میں بچوں کو دو طرح کے کھلونے دیے گئے۔ ایک وہ کھلونے تھے جو نیچے سے اوپر کی طرف جارہے تھے اور دوسرے وہ جو اوپر سے نیچے آرہے تھے۔ بچوں کی اکثریت نے نیچے سے اوپر جانے والے کھلونوں کو پسند کیا جو اس بات کا اظہار تھا کہ بچے فطر ی طور پر مثبت عمل کو پسند کرتے ہیں جو ایک خیر ہے۔

اسی طرح جب ایک بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ سچا ہوتا ہے اور اسی سچ کی بنیاد پر وہ دنیاوی مصلحتیں نہیں جانتا  اور سچ بولتا  اور اسے ہی پسند کرتا ہے۔ بعد میں وہ ممکن ہے اپنے والدین کی بنا پر جھوٹ بولنے لگ جائے۔ فطرت میں ودیعت کردہ خیرو شر کا تصور وہ پہلی وحی یا الہام ہے جو اللہ نے انسانوں کو دیا اور سب کو دیا۔ یہی وہ کسوٹی  ہے جس کی بنیاد پر دنیا میں اخلاقیات ظہور پذیر ہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔

اس کے بعد بچہ میں کچھ عقل اور سمجھ بوجھ آنا شروع ہوتی ہے۔ اب وہ خیرو شر کے تعین کرنے میں ماحول  سے بھی مدد لیتا ہے۔ اس کی بنا پر وہ دیکھتا ہے کہ بہت سی باتیں جو اس  کی نے  فطرت نے  شر  کے طور پر بتائیں تھیں ، وہ معاشرے نے  خیر کے طور پر لی ہوئی ہیں۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے لیکن کچھ لوگ مصلحتا جھوٹ بولتے ہیں۔ چنانچہ وہ جب خود جھوٹ بولنا شروع کرتا ہےتو اس کا ضمیر شدید مزاحمت کرتا اور اسے گناہ کا احساس دلاتا ہے۔ اگر وہ ماحول سے متاثر ہوکر ضمیر کی آواز دبالے تو  اس کی عقل اسے حیلے فراہم کردیتی ہے۔ لیکن اس کے لاشعور میں ہمیشہ یہ احساس ضرور رہتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اس سے جھوٹ بولتا ہے اور اسے دھوکا دیتا ہے تو اسے برا لگتا ہے۔

اس کے بعد بچے کی زندگی کی تیسرا مرحلہ تعلیم ہے۔ یہ تعلیم دینی تعلیم  اور دنیوی تعلیم دونوں ہوسکتی ہیں۔ دینی تعلیم میں بچے کو کوئی نہ کوئی مذہب پڑھایا جاتا ہے۔ اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی تم پڑھ رہے ہو وہ خدا کا پیغام ہے جس کے ماننے کی صورت میں نجات ہے ورنہ سزا۔ اب بچہ اس وحی ے بارے میں سوالات کرتا ہے جو عقل وفطرت پر مبنی ہوتے ہیں۔ کچھ سوالات عقل سے ماورا بھی ہوتے ہیں۔ یہاں بچے کو بالعموم تمام معاشروں میں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ وحی کو  من و عن مانے کیونکہ عقیدے میں عقل کا کوئی کردار نہیں، نہ ماننے کی صورت میں اسے  سخت سزاؤں سے ڈرایا جاتا ہے۔

اس موقع پر بچہ مذہب کے بارے میں یہ جان لیتا ہے کہ اگر اسے ماننا ہے تو عقل کو بند کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اس کا مذہب کے بارے میں ایک ایسا تصور پیدا ہوجاتا ہے جو پراسرایت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مذہب کو چونکہ عقل سے نہیں پرکھا جاسکتا، اس لیے مذہبی تعلیمات جاننے کے لیے وہ نہ صرف اپنے مذہبی پیشواؤں کا محتاج ہے بلکہ ان کی باتوں کو من و عن ماننا اور بغیر کسی دلیل کے ماننا ہے۔

یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ایک بچہ اپنے مذہب سے دوری اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی ساری توجہ دنیاوی امور اور دنیاوی تعلیمات پر ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا  کی باتیں اس کی سمجھ میں آرہی ہوتی ہیں اور مذہبی رہنما اس کے سوالات کے جواب دینے کی بجائے  سوال پوچھنے کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عقل ، وحی اور فطرت کا تعلق

یہاں ہمیں عقل ، فطرت اور وحی کے تعلق کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ انسانی لائف سائیکل سے ہم نے یہ جانا کہ  انسان ابتدا میں جو علم  لے کر پیدا ہوتا ہے وہ اس کی فطرت  میں ودیعت کردہ الہام ہے۔اس سے اگلے مرحلے میں و ہ عقل، وحی  اور ماحول کے ذریعے کچھ چیزیں سیکھتا اور فطرت کے اس علم کو پروان چڑھاتا ہے۔

اس بحث سے یہ علم حاصل ہوا کہ انسانی علم کا بنیادی ماخذ انسانی فطرت ہے۔   دوسرا علم  انسان  وحی کا علم ہے۔ایک اور ذریعہ ماحول ہے لیکن  یہ کوئی مستقل ذریعہ نہیں۔  انسانی عقل  ان تمام  علوم کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں معاونت کرتی ہے۔

فطرت انسانیت  کی  وہ مشترکہ وحی ہے جس میں نہ کوئی فرقہ بازی ہے، نہ مذہبی منافرت، نہ تقسیم ، نہ فخر اور نہ حقارت۔ یہ الہام سب کے پاس موجود ہے۔ ایک ہندو بھی اس الہام کو جانتا ہے اور عیسائی بھی، یہ الہام ایک موچی کے پاس بھی ہے اور ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کے پاس بھی، یہ عورت بھی جانتی ہے اور مرد بھی، یہ امریکہ میں بھی پایا جاتا ہےا ور افریقہ کے جنگلات میں بھی۔

لیکن فطرت کا یہ علم ناقص اور مبہم ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے وحی کا علم دیا جاتا ہے۔ وحی کا ابلاغ خود بخود نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مختلف ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وحی کی تعلیمات ہر شخص تک یکساں نہیں پہنچتیں۔ اسی لیے ایک شخص  وحی  کو ماننے کا مکلف یا پابند اتنا ہی ہے جتنا اس تک علم پہنچا۔وحی کو فطرت کے علم پر فوقیت حاصل ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ  وحی کا مستند  علم فطرت کے خلاف نہیں ہوتا  لیکن  اس ساتھ  ہی یہ علم فطرت کے علم سے زیادہ مستند  اور واحد کسوٹی ہے۔ اسی پر فطرت  ، ماحول یا دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کو پرکھا جائے گا۔

جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو عقل فطرت اور وحی کے علم کو اخذ کرتی، اسے سمجھتی ، پرکھتی اور پھر اسے مان کر عمل کرنے کی جانب راہنمائی دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عقل کے بغیر وحی اور فطرت سے علم حاصل نہیں کیا جاسکتا اور انسان دینی احکامات کا مکلف ہی نہیں رہتا۔ یعنی نماز کس طرح پڑھنی ہے یہ وحی  کے علم سے عقل اخذ کرکے لوگوں کو بتائے گی۔ اسی طرح خیر و شر کا تعین  فطرت سے کس طرح اخذ کرنا ہے، یہ بھی عقل کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فطرت اور وحی عقل کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک قابل غور بات ہے کہ اگر فطرت اور وحی کی تعلیمات کو ختم  کردیا ہے تو عقل کچھ بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی ایسے انسان کا تصور کریں جسے وحی کا کچھ نہیں علم اور یہ بھی تصور کریں کہ فطرت کی تعلیمات  اس کی یاداشت سے مٹائی جاچکیں ( گوکہ یہ ممکن نہیں) تو مجرد عقل اسے نہیں بتاسکتی کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔

خلاصہ

خلاصہ کچھ یوں بنا  کہ انسانی علم کے دو بنیادی ماخذ ہیں ایک  فطرت اور دوسرا وحی۔ فطرت ہر شخص کے پاس ہے لیکن ناقص علم ہے۔ وحی ہر شخص کے پاس نہیں لیکن کام  علم ہے۔ عقل ان دونوں کو استعمال کرنے  اور خیر و شر اخذ کرنے کا نام ہے۔  خیر و شر کا تعین اس علم کی بنیاد پر ہوگا جو دستیاب ہو اور انسان اسی کا مکلف ہے۔ البتہ انسان اس بات کا بھی  مکلف ہے کہ موجودہ علم کی اصلاح کرے اور ضروری علم میں اضافہ کرے۔


تراویح کے مسئلے پر غیر جانبدار تحقیق

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jun 7, 2016

تراویح کے مسئلے پر غیر جانبدار تحقیق کے لیے فائل ڈان لوڈ کریں۔

تراویح پر غیر جانبدار تحقیق


نیکی کا درست تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

نیکی کا درست تصور

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی ہے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو نیکی کے تصور کو جاننے اور درست طور پر جاننے میں بہت اہم ہیں۔ اگر ہم قرآن کا جائزہ لیں تو قرآن سب سے پہلے جو بات ہمیں بتاتا ہے وہ یہ کہ اللہ نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ گویا عبادت ہی نیکی ہے اور عبادت سے گریز کرنا گناہ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کون سا عمل نیکی ہے؟ اس کےجواب میں بالعمو م روایتی حلقے ایک فہرست مرتب کردیتے ہیں جس میں اعمال صالح اور گناہوں کو بیان کردیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کے بارے میں ایک اندازہ وہوجاتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہ فہرست کارآمد نہیں رہتی۔ نیز اس فہرست کا دائرہ کار چند مخصوص معاملات تک محدود ہوجاتا ہے۔ اس اپروچ کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ عبادت، گناہ اور نیکی کو متعین کرنے کے لیے کسی مذہبی عالم کی تشریح کا محتاج رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے مذہبی طبقے پر تصوف کا بڑا گہرا اثر ہے اس لیے دنیا سے متعلق اچھے اعمال کو عام طور پر وہ نیکیوں میں شمار نہیں کرپاتے کیوں ان کی دانست میں اس سے دنیا پرستی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نیکی کی ایک جامع تعریف قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کی جائے اور اسی تناظر میں نیک اعمال اور گناہوں کا تعین کرنے کے عمل کو سیکھا جائے ۔ نیکی کی تعریف اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تو کچھ یوں بنتی ہے:
نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔
اس کی تشریح کی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلی بات کہ نیکی سے مراد کوئی بھی عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف دینی امور سے متعلق ہو، یہ دنیا کا بھی کوئی معاملہ ہوسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آگے بیان کردہ شرائط پوری ہورہی ہوں۔جیسا کہ اس آیت کو دیکھیں:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ١٧٧؁
نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو ۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (البقرہ ۱۷۷:۲)
ان آیات کو غور سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔
۲۔کسی عمل کے عمل صالح ہونے کے لیے پہلی شرط خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی قید کا خیال رکھنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا نے حلا ل و حرام کی قیود صرف وحی کے ذریعے ہی نہیں بتائی بلکہ انسان کی فطرت کے اندر بھی جائز و ناجائز کو طے کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھ دی ہے۔ بالخصوص اخلاقیات کے اکر معاملات میں اصل فتوی دل کا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا Ċ۝۽ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا Ď۝۽
اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے۔ پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔(سورہ الشمس ۹۱، آیات ۷-۸)
تو اصل بات یہ ہے کہ کسی عمل کے نیکی ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ وہ خدا کی بیان کردہ حدودو قیود کے اندر ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن وہ ناپاکی کی حالت میں ہے تو اس نے خدا کی حلال و حرام کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ بلاعذر ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ تصور ہوگا۔ ایسے ہی ایک شخص حج اگر حرام کی کمائی سے کررہا ہے تو یہ عمل بظاہر عبادت ہونے کے باوجود حقیقت میں نیکی نہیں۔اسی طرح ایک شخص اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے لیکن وہ اس چوری کے پیسوں سے یہ کام کررہا ہے ۔بچوں کا پیٹ پالنا ایک نیک کام ہے لیکن اس کو پورا کرتے وقت خد کے بیان کردہ حدود کی پاسداری نہیں کی گئی، اس لیے یہ نیکی نہیں۔
۳۔ کسی عمل کے نیکی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نیت کے اخلاص کا ہونا ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر یا لاشعور میں کہیں موجود ہونا چاہیے۔
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹ : ۲)
’’بے شک ، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف مطابق حق اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اطاعت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے۔ سن لو کہ خالص اطاعت کا سزاوار اللہ ہی ہے۔‘‘
مثلا ایک شخص روزہ رکھ رہا ہے لیکن اس کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہے تو یہاں اخلاص کی کمی ہے جس کی بنا پر اس کا روزہ عبادت یا نیکی نہیں۔ ایک شخص میدا ن جنگ میں جہاد کررہا ہے لیکن مقصد مال غنیمت ہے تو یہ نیکی نہیں۔لیکن ایک شخص اخلاص کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی سے کسی کو ایذا پہنچائے بنا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ عبادت یا نیکی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات نیت کا اظہار باقاعدہ زبان سے نہیں کیا جاتا اور یہ لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ جیسے ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس کچھ کہے بنا نیت باندھ لی۔ یہاں اس کا عمل یہ بتارہا ہے کہ وہ شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے نیت باندھی ہے۔
دینی معاملات میں تو بالعموم اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمل اللہ کے لیے کیا جارہا ہے لیکن دنیوی معاملات میں عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی نیت کا اظہار اکثر اوقات نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص روزانہ کمانے کو گھر سے نکلتا ہے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل میں اللہ کو راضی کرنے کی نیت موجود نہیں۔ اسی بنا پر کچھ لوگ کمانے کو عمل کو دنیا داری کہہ کر اسے نیکی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ شخص روزی کماتے وقت اللہ کی حدود و قیود کا خیال رکھ رہا ہے ۔ چنانچہ جس طرح نماز پڑھتے وقت لازم نہیں کہ زبان سے نیت کی جائے اسی طرح دنیاوی نیکیوں میں بھی ممکن نہیں کہ شعوری سطح پر ہر مرتبہ بیان کی جاری کیا جائے۔ بس ایک عمومی ارادہ کافی ہوتا ہے۔
۴۔ عمل صالح ہونے کی تیسر ی شرط اس عمل کو محنت یا مہارت سے یا خوش اسلوبی سے انجام دینا ہے۔
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ
اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے(النجم ۳۹:۵۳)
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کے لیے نیکی اتنا ہی عمل ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے لیے نیکی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس میں اس کی بالواسطہ کوشش شامل ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی عمل کیا جائے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے۔ اس کامطلب ہے کہ اس عمل میں جتنی بے دلی شامل ہوگی اتنا ہی وہ عبادت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی و ہ کام جو مارے باندھے کیے جاِئیں وہ نیکی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع و سجود درست طور پر ادا نہیں ہورہے تھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دوبارہ پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اسی طرح قرآن میں منافقین کی نماز کا ذکر ہے کہ وہ مارے باندھے مسجد میں آتے ہیں ۔
دنیاوی معاملات میں بھی محنت اور خوش اسلوبی ضروری ہے۔ ایک شخص جب ملازمت کرتا ہے تو کام چوری کرنا یا اپنی ذات کو آرام دینے کے لیے چور راستے تلاش کرنا نیکی کو گناہ میں بدل سکتا ہے۔
۵۔ آخری شرط یہ ہے کہ عمل کا مقصد کسی نہ کسی مخلوق کو براہ راست یا بالواسطہ نفع پہنچانا ہو۔ یہ نفع دنیا کا بھی ہوسکتا ہے اور دین کا بھی۔دین کے نفع کو نیکی ماننا تو ایک مسلمہ ہے لیکن دنیوی کاموں کو بھی متعدد احادیث میں صدقہ اور نیکی قرار دیا گیا ہے۔
۱۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بے ہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہو گی۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 251)
۲۔ اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔(مسلم)
۳۔ جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسلم)
۴۔ تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔(مسلم)
۵۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(مسلم)
۶۔ کتے یا کسی جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
۷۔ رشتے داری کا لحاظ رکھنا، گناہوں سے بچنا، مصیبت برداشت کرنا، اچھے اخلاق اپنا، قرض دار کو مہلت دینا سب اعمال نیکی ہیں۔(بخاری)
ا ن تمام روایات کو جمع کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ صدقہ یا نیکی سے مراد ہر و ہ عمل ہے جس میں خود کو یا کسی دوسری مخلوق کو نفع پہنچایا جارہا ہو۔ اس اصول کے تحت مثال کے طور پر ایک قاری اگر بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے تو چونکہ وہ انہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچا رہا ہے تو اس کا عمل نیکی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر بچوں کو کیمسٹری پڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد دنیوی فائدہ پہنچانا ہے تو یہ بھی ویسے ہی نیکی ہے جیسے قرآن پڑھانا۔
بعض اوقات انسان کوئی عمل کسی دوسری مخلوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کررہا ہوتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا خود کو دینی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے،اسی طرح رزق کمانا، پڑھائی کرنا یا معلومات میں اضافہ کرنا خود کو دنیوی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے اس لیے یہ بھی نیکی ہے۔
خلاصہ
اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی کا دائرہ کار صرف دینی عبادات، مذہبی رسومات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ ہر اچھا عمل نیکی ہے بشرطیکہ اسے ان حدود قیود میں کیا جائے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


قصص القرآن۔ ایک دلچسپ کتاب از پروفیسر عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

اس کتاب کی خصوصیات
قرآنی قصائص پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ یہ کتاب کئی پہلووں سے ان سے مختلف ہے۔ پہلا پہلو تو یہ ہے کہ اس میں چھ گروپ بنا کر قرآنی قصائص کو بیان کیا گیا ہے جس سے قاری کا ذہن ایک ہی موضوع سے متعلق رہتا ہے اور معاملے کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں اکثر قصائص سے متعلق تذکیری، اخلاقی یا سبق آموز پہلو پر روشنی ڈال کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ قصہ کن پہلووں سے ہماری عملی زندگی سے متعلق ہے اور ہم اس سے سبق حاصل کرکے کیا عمل کرسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس میں بنیاد قرآن کو بنایا گیا ہے اور واقعے سے قبل جہاں ممکن ہو وہاں قرآن کی آیت سے بات شروع کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ کوئی غیر مستند بات بیان نہ ہو ۔ چوتھا یہ کہ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اس واقعے کے تاریخی اور دیگر پہلووں پر تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچواں یہ اس کتاب میں مختصر سوالات کے ذریعے قاری کے مطالعہ اور تفہیم کی صلاحیت کو جانچنے اور ساتھ ہی اسے پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اس کتاب کا استعمال
یہ کتاب یوں تو ہر طبقے کے لئے مفید ہے لیکن بالخصوص ایک عام پڑھے لکھے شخص، خواتین ، بڑی عمر کے بچوں ، طلبا اور اساتذہ کے لئے مفید ہے۔ ایک عام قاری کے لئے اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے وہ ہر روز اس کا تھوڑا تھوڑا حصہ پڑھے اور پھر اس میں دی گئی مشقیں حل کرے۔نیز جو تذکیر وہ حاصل کرے اسے اپنی عملی زندگی میں اپلائی کرنے کی پوری کوشش کرے۔
اس کتاب کے مطالعے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اسے گھر کے سربراہ جن میں شوہر، خواتین یا بڑے بھائی بہن شامل ہیں اپنے دیگر خاندا ن کے دیگر افرادمیں اورخاص طور پر بچوں میں اسے پڑھ کر سنائیں اور ساتھ ساتھ اس کی وضاحت بھی کرتے جائیں۔ جو تاریخی تفصیل غیر ضروری لگے یا جو بات مخاطب کی سطح کے لئے نامناسب ہو اسے حذف کردیں تاکہ دلچسپی برقرار رہے۔ اس کے بعد ان سے کچھ سوالات پوچھ لیں تاکہ انہیں سننے کی ترغیب حاصل ہو۔
کتاب کے ابواب
یہ کتاب چھ ابواب میں منقسم ہے۔ پہلا با ب انبیاء علیہم السلام کے واقعات پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب قوموں کے قصون کو بیان کرتا، تیسرا نیک ہستیوں کی داستانیں بتاتا، چوتھا برے کرداروں پر روشنی ڈالتا ، پانچواں قرآن کے انکشافات کی تفصیل بیان کرتا اور چھٹا باب متفرق قصائص کی تفصیل کرتا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں کسی بھی کسی کی غلطی ہو تو ضرور مطلع کریں۔ نیز میرے لئے اور میرے ادارے کے ٖلئے خاص طور پر دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنے لئے خاص کرلیں۔
پروفیسر محمد عقیل
کتاب داؤن لوڈ کرنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tazBxOTNROV9GWnc


بیماری نامہ ۔۔ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

از پروفیسر محمد عقیل

تحریرپڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tYkduRHUzTzFJdHc


میرے رب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Nov 15, 2015

میرے رب!
میرا اب جی یہ چاہتا ہے
کہ اپنی ذاتِ خلوت سے
فریب نفس کی اس جلوت سے
ہجومِ ستمگراں، اس دنیا کی
ہر نسبت سے
جو تجھ سے دور کرے
ہر اس “نعمت” سے
ناطہ توڑ کر اپنا
تعلق توڑ کر اپنا
تیری منزل کی جانب
کہیں روپوش ہو جاؤں
میں اک درویش ہو جاؤں

از: سید اسراراحمد


چلو اس اور چلتے ہیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Nov 14, 2015

چلو اس اور چلتے ہیں
(جنت کے طلب گاروں کے نام)
پروفیسر محمد عقیل

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پھولوں کی وادی میں پرند ے بات کرتے ہیں
جہاں آوارہ بھنورے شام کو اٹھکھیلیاں کرتے، مچلتے ہیں
جہاں بادل پہاڑوں پہ ٹہرتے اور چلتے ہیں
جہاں ہر زیرو بم کے ساتھ ہی موسم بدلتے ہیں

چلو اس اورچلتے ہیں
جہاں سوچیں حقیقت بن کے خود ہی گنگناتی ہیں
جہاں قوس قزح کی سب لکیریں مسکراتی ہیں
جہاں سورج کی کرنیں سرد ہوکے بول اٹھتی ہیں
جہاں تاروں کی کرنیں کہکشاں سی جگمگاتی ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پربت کی چوٹی سرنگوں ہوتی سی لگتی ہے
جہاں تاریکیوں میں چاندنی خود رقص کرتی ہے
جہاں باد صبا کی سرسراہٹ گدگداتی ہے
جہاں برسات رنگ و نورکی محفل سجاتی ہے

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ پیرہن سونے کے اور چاندی کے بندھن ہیں
حسیں قالین، تخت و تاج و ریشم ،اطلس و دیبا
شرابیں پاک، نغمے صاف اور چمکے ہوئے من ہیں
سبھی مسرور وشاداں ہیں سبھی مہکے ہوئے تن ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ سبزہ ، ڈالی، ٹہنی ، پھل اور پھول اپنا ہے
جہاں کانٹا نہیں کوئی، جہاں سوکھا نہیں آتا
جہاں رنج والم، مشکل، ستم ، غم نہیں آتا
جہاں پہ خوف کے مارے یہ جی بیٹھا نہیں جاتا

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں چشمے ابلتے ہیں
جہاں اشجار ہر لمحے نئے منظر بدلتے ہیں
جہاں راتیں بھی روشن ہیں جہاں کی محفلیں نوری
جہاں پہ حسن بے پروا کے جلوے بھی نکلتے ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
چلو اس رب سے ملتے ہیں
جہاں سجدے مچلتے ہیں،جہاں یہ دل پگھلتے ہیں
جہاں پہ رب کے قدموں میں جبیں بس جم سی جاتی ہے
جہاں پہ ساعتیں مدھم ، خوشی کے دیپ جلتے ہیں

چلواس اور چلتے ہیں
چلو پھر سے سنبھلتے ہیں
چلو خود کو بدلتے ہیں
چلو بس آج سب کچھ چھوڑ کے ہم بھی نکلتے ہیں
چلو اس اور چلتے ہیں


حق کی پیروی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Nov 3, 2015

حق کی پیروی

ہم سب سے حق کی پیروی مطلوب ہے اور بس۔ آج ہم تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے جسمانی جہاد کے مواقع تو معدوم ہی ہیں لیکن اپنی رائے سے رجوع کرنا اور غلطی واضح ہوجانے پر اسے ترک کرنا جہاد سے کم نہیں۔
ہم سب الحمدللہ حق کے پیروکار ہیں کسی شخصیت کے نہیں۔ امام مالک مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے سامنے بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے۔ وہ نبی کریم کی قبر مبارک کی جانب اشارہ کرتے کہتے ” انسانوں میں صرف ان صاحب (نبی کریم) سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ، باقی سب لوگ خطاکار انسان ہیں اور ہم بھی ان جیسے انسا ن ( یعنی سب سے اختلاف ممکن ہے)۔
رجوع کرنے کا معاملہ امام ابو حنیفہ کا بھی یہی تھا جو کہتے تھے کہ میرے قول کے مقابلے میں اگر صحیح حدیث مل جائے تو اسے ترک کردواور حدیث اپنالو۔ اہل علم ہمیشہ سے اپنے علم کا آپریشن کرتے رہے اور حق کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ یہ ان کے مقلدین ہوتے ہیں جو عقیدت کو عقیدہ بناکر اسے عین دین سمجھ لیتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اس تحریر کے قارئین میں سے ہر شخص نے اپنا عقید ہ آباو اجداد کی اندھی تقلید کی بنا پر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اپنا یا ہوگا۔ میں خود ایک بریلوی گھرانے میں پیدا ہوا۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر ہی میں یہ بات واضح ہونے لگ گئی کہ اس عقیدے میں گڑ بڑ ہے۔ پھر اس عقیدے کو جب چھوڑا تو شدید مخالفت کا سامنا تھا لیکن اللہ نے توفیق دی اور استقامت عطا فرمائی۔ اس کے بعد جماعت المسلمین، غامدی صاحب، مولانا وحید الدین ، اہل حدیث، مولانا مودودی ، اشرف علی تھانوی اور دیگر سے استفادہ ضرور کیا لیکن کسی فرد یا جماعت کو سراپا حق نہ سمجھا ۔ ہمیشہ اللہ نے اما م مالک کا یہ جملہ ذہن میں رکھا:
” صرف نبی کریم سے اختلاف ممکن نہیں ( کیونکہ آپ معصوم عن الخطا ہیں) باقی ھم رجالون ونحن رجال۔
ہم سب سے جو مطلوب ہے وہ فکر فراہی، دیوبندیت، بریلویت ، تصوف اور بزرگان دین کا دفاع مقصود نہیں۔ ہم سب سے اس حق کا دفاع مقصود ہے جسے ہم نیک نیتی سے حق سمجھتے ہیں۔ اسی پر ہم قیامت کے دن مسئول ہونگے۔ چنانچہ ہمیں لوگوں اور مکاتب فکر کے دفاع کی بجائے حق کا دفاع کرنا چاہیے خواہ وہ کسی بھی شکل میں اور کسی کی بھی طرف سے ہو۔
اپنے نظریے کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد اسے ترک کرنا ایسا ہی ہے جیسے اپنے جسم سے کسی کینسر زدہ حصے کو الگ کرنا۔ جس طرح اس متاثرہ حصے کو الگ نہ کیا جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے، ایسے ہی اگر غلط عقائد کو غلطی واضح ہوجانے کے بعد تعصب ، تنگ نظری، ضد ، ہٹ دھرمی، مفاد پرستی یا انا کی باعث الگ نہ کرنے پر روحانی موت ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد بندہ کتنا ہی علامہ کیوں نہ بن جائے ، اندر سے اس کا روحانی وجود سڑنے کے عمل سے گذررہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ خداکی نظر میں مرجاتا ہے لیکن اسے اس کا پتا تک نہیں چلتا۔
پروفیسر محمد عقیل


لبیک۔ ۔۔۔۔۔۔۔حاضر ہوں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Sep 18, 2015

حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
میں حاضر ہوں اس اعتراف کے ساتھ کہ تعریف کے قابل توہی ہے۔ تو تنہا اور یکتا ہے، تجھ سا کوئی نہیں ۔ تیرا کرم، تیری شفقت، تیری عطا ، تیری کرم نوازی اور تیری عنایتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ تیری عظمت ناقابل بیان ہے، تیری شان لامتناہی طور پر بلند ہے، تیری قدرت ہر امر پر حاوی ہے، تیرا علم ہر حاضر و غائب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔تجھ سا کوئی نہیں اور کوئی تیری طرح تعریف کے لائق نہیں ۔
میں حاضر ہوں تیرے احسان کے بوجھ کے ساتھ کہ یہ ساری نعمتیں تیری ہی عطا کردہ اور عنایت ہیں۔ میری آنکھوں کی بینائی تیری دین، میرے کانوں کی سماعت تیری عطا، میرے سانسوں کے زیر و بم تیرا کرم، میرے دل کی دھڑکن تیری بخشش، میرے خون کی گردش تیری سخاوت، میرے دہن کا کلام تیرا لطف، میرے قدموں کی جنبش تیراا حسان ہے۔کوئی ان کو بنانے میں تیرا ساجھی، تیرا معاون اور شریک نہیں۔
میں حا ضر ہوں اس عجزکے ساتھ کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ تیری ملکیت ہے، یہ زمین تیری ، آسمان تیرا، سورج ، چاندستارے تیرے، پہاڑ تیرے ، میدان تیرے ، دریا و سمندر تیرے ہیں۔یہ میرا گھر، میرا مال، میری دولت، میرا جسم، میرے اہل و عیال میرے نہیں تیرے ہیں۔ کوئی ان کو بنانے اور عطا کرنےمیں تیر ا شریک نہیں حتیٰ کہ میں بھی نہیں ۔ پس تیرا اختیارہے توجس طرح ہے اپنی ملکیت پرتصرف کرے ۔
میں حاضر ہوں اپنے تمام گناہوں کے بار کےساتھ کہ تو انہیں بخش دے، اپنی تمام خطاؤں کے ساتھ کہ تو انہیں معاف کردے، اپنے تمام بدنما داغوں کے ساتھ کہ تو انہیں دھودے، اپنی تمام ظاہری و باطنی بیماریوں کے ساتھ کہ تو انہیں دور کردے،اپنے من کے کھوٹ کے ساتھ کہ تو اسے دھو دے، اپنی نگاہوں کی گستاخیوں کے ساتھ کہ تو ان سے چشم پوشی کرلے، اپنی کانوں کی گناہ گار سماعت کے ساتھ کہ تو اس کا اثر ختم کردے، اپنے ہاتھوں کی ناجائز جنبش کے ساتھ کہ تو ان سے درگذر کرلے، اپنے قدموں کی گناہ گار چال کے ساتھ کہ تو انہیں اپنی راہ پر ڈال دےاوربدکلامی کرنے والی زبان کے ساتھ کہ تو اس کو اپنی باتوں کے لئے خاص کرلے۔
میں حاضر ہوں شیطان سے لڑنے کے لئے، نفس کےناجائز تقاضوں سے نبٹنے کے لئے، خود کوتیرے سپرد کرنے کے لئے اور اپنا وجود قربان کرنے کے لئے۔پس اے پاک پروردگار! میرا جینا، میرا مرنا، میری نماز، میری قربانی، میرا دماغ ، میرا دل، میرا گوشت، میرا لہو، میرے عضلات اورمیری ہڈیاں غرض میرا پورا وجود اپنے لئے خاص کرلے۔
حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
از پروفیسر محمد عقیل