پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

سیکس ایجوکیشن اور ہم

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jan 12, 2018

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سیکس ایجوکیشن اور ہم
ڈاکٹر محمد عقیل
تعارف
سیکس ایجوکیشن ہمارے معاشرے میں اتنا حسا س مسئلہ ہے کہ اس پر بڑے بڑے اہل علم بھی قلم اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ماں باپ اپنے بچوں کو وہ بنیادی باتیں بتانے میں جھجکتے ہیں جن کو مائنس کرکے زندگی نہیں گذاری جاسکتی۔ہمارے تعلیمی ادارے جنسی تعلیم کا سلیبس بنانے میں اگر کامیاب بھی ہوجاتے ہیں تو اس کا نفاذ نہیں کرپاتے۔ ہمارا میڈیا ان باتوں کو شائستہ اسلوب میں ڈسکس کرنا گناہ عظیم پڑھنا جاری رکھیں »


زینب کا قتل اور خدا پر سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jan 11, 2018

بسم اللہ االرحمٰن الرحیم
زینب کا قتل اور خدا پر سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
معصوم زینب کی شہادت پر اس وقت پورا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا سراپا احتجاج اور غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ اس پر اہل علم بہت کچھ لکھ چکے اور لکھ رہے ہیں۔ اس کا ایک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ خدا کے انصاف اور مذہب کو نشانہ بنارہے اور طنزو تشنیع کے تیر برسا رہے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سنجیدہ طور پر خدا کی حکمت اور مذہب کی راہنمائی کو جاننا چاہتے ہیں۔ مجھے خود کئی سوال براہ راست اور بلاواسطہ اس موضوع پر مل چکے ہیں جن کا ایک تحریر میں جواب دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت حال کا جائزہ جذبات سے بالاتر ہوکرعقل اور نقل کی روشنی میں لینا لازمی ہے ورنہ حقیقت تک رسائی مشکل ہے۔ یہ چند سوال و جواب اسی حقیقت تک پہنچنے کی ایک کاوش ہیں ۔

سوال : یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک معصوم بچی کو اس بہیمانہ طریقے سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا؟ خدا نے ان ظالموں کے ہاتھ کیوں نہیں روکے؟
جواب : یہ دنیا جزا و سزا کے اصول پر نہیں بلکہ امتحان اور آزمائش کے اصول پر بنی ہے۔ یہاں جس طرح اچھے لوگوں کو اچھائی کرنے کا اختیار ہے، اسی طرح برے لوگوں کو برائی کرنے کا اختیار ہے۔یہ اختیار ہی اس امتحان و آزمائش کی بنیاد ہے۔ اسی اختیار پر فرشتوں نے اعتراض کیا تھا کہ اگر انسان کو بااختیار بنا کر بھیجا گیا تو یہ خون خرابہ کرے گا۔
سوال: یہ امتحان کیوں ہے؟ ہم نے تو خدا سے نہیں کہا تھا وہ دنیا میں بھیجے؟ کیوں ہمیں اس بھٹی میں زبردستی جھونک دیا گیا ؟
جواب : یہ آزمائش زبردستی کی نہیں۔ آج اگر کسی کو زبردستی پکڑ کر امتحان میں بٹھادیا جائے اور اس سے کہا جائے کہ یہ پرچہ حل کرو توانعام ملے گا ورنہ آگ میں ڈالے جاو گے۔ تو امتحان میں زبردستی بٹھانے والا شخص ایک ظالم اور نامعقول شخص کہلائے گا۔ خدا نے انسان کو اس آزمائش میں جھونکنے سے پہلے اس کی رضامندی پوچھی تھی۔ اس کا ذکر سورہ احزاب میں موجود ہے:
ہم نے [ارادہ و اختیار کی یہ ] امانت آسمانوں پر زمین اور پہاڑوں کو پیش کی لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے ( مگر ) انسان نے اسےاٹھا لیا ، وہ بڑا ہی ظالم جاہل ہے [ کہ وہ جانتا نہیں اس نے کیا اٹھالیا لیا ہے] ۔
سوال: جناب یہ سب باتیں تو ہمِیں یاد نہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں سب کچھ یاد ہوتا تب تو آپ کی بات درست تھی؟
جواب: جس طرح امتحان سے قبل تمام کاپیاں ، کتابیں او ر نوٹس لے لیے جاتے ہیں، بالکل ایسے ہی ہماری اس یادداشت کو محو کردیا گیا ہے جو عالم ارواح میں بنی تھی۔
سوال : یہ سب باتیں چھوڑیں، آپ یہ بتائیں کہ اگر بچی کے ساتھ زیادتی ہوہی گئی تھی تو ظالموں پر اسی وقت خدا کا عذاب کیوں نہ آیا؟ کیوں آسمان سے بجلی نہ کوندی؟ کیوں زمین شق نہ ہوئی ؟اور کیوں خدا کا فرشہ قہر نازل کرنے کے لیے نہیں اترا؟
جواب: یہ دنیا جن قوانین پر بنی ہے ان میں سے کچھ طبعی قوانین ہیں اور کچھ اخلاقی قوانین۔ دونوں کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے۔ ایک شخص اونچی عمارت سے چھلانگ لگادے تو وہ کشش ثقل کی بنا فورا ہلاک یا زخمی ہوجائے گا۔ اسی طرح کوئی شخص جنسی زیادتی جیسا ظلم کرتا ہے تو اسے بھی اس کا بدلہ ملے گا۔ البتہ اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کا نتیجہ فورا نہیں بلکہ تدریج کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگرفورا ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی آج شاید زندہ نہ ہوتا۔ نیز اگر گناہوں کا اثر فورا ہونے لگ جائے تو آزمائش کا اصول متاثر ہوگا۔
سوال : ارے جناب، آپ تو عجیب بات کرتے ہیں۔ اچھا تو کیا ان قاتلوں کو عذاب دینے کے لیے قیامت تک کا انتظار کرنا ہوگا؟
جواب: یہ ایک غلط فہمی ہے کہ خدا چودہ سوسال پہلے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نمودار ہوا اور اتمام حجت کرکے دوبارہ کائنات سے لاتعلق ہوکر بیٹھ گیا ہے۔ خدا نہ صرف اجتماعی بلکہ انفرادی معاملات پر نظر رکھتا اور اپنی تدبیر یں اسباب و علل کے پردے میں ظاہر کرتا رہتا ہے۔ اگر ہمارا قانون اور سماجی نظام اتنا طاقت ور اور فعال ہو تو ہم یقینا ان ظالموں کو اسی دنیا میں عبرتناک عذاب کی پہلی قسط دےسکتے ہیں۔ اور اگر خدا نے اسی دنیا میں انہیں عذاب دیا تو وہ اسباب و علل ہی کے تحت ہوگا اور اپنےو قت پر ہوگا اور ضروری نہیں یہ دنیا وی عذاب دیکھنے والوں کو دکھائی بھی دے۔ البتہ اصل عذاب تو دوسری دنیا ہی میں ممکن ہے۔
سوال: آپ ہر بار مولوی بن کر آخرت کی بات ہی کیوں کرتے ہیں؟
جواب : ظاہر ہے اگر ہٹلر لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے کے بعد خاموشی سے ایک مرتبہ پھانسی پر چڑھادیا جائے تو یہ کیسا انصاف ؟ اصل انصاف تو یہ ہے کہ اسے بھی لاکھوں بار پھانسی پر چڑھایا جائے اور اسی اذیت سے گذارا جائے جس سے مرنے والے اور ان کے اہل خانہ گذرے۔ ایسا اس دنیا میں ممکن نہیں اسی لیے آخرت ضروری ہے۔
سوال: چلیں یہ باتیں تو ٹھیک ہیں۔ اگر ظالموں کو دنیا میں یا آخرت میں عذاب مل بھی گیا تو اس سے کیا ہوگا؟ زینب تو دنیا سے چلی گئی۔ اس پر اور اس کے ماں باپ پر جو بیتی کیا ہونے والا عذاب اس کا مداوا کرے گا؟ یہ کیسا انصاف ہے خدا کا ؟
جواب : اس دنیا میں کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو دنیا والے کیا کرتے ہیں؟ وہ اس مظلوم سے پوچھتے ہیں کہ تمہیں کیا چاہیے۔ مظلوم جس بات پر راضی ہوجائے، وہ اسے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی اصو ل کو آخرت میں بھی اپلائی کردیجے۔ جب زینب اور اس گھر والے خدا کے حضور پہنچیں گے اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دے دیا جائے گا تو پھر زینب سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ وہ جو چاہے گی خدا اپنی حکمت کے تحت اس طرح دے گا کہ وہ اور اس کے گھر والے راضی ہوجائیں گے۔۔ جب وہ سب راضی ہوجائیں گے تو پھر اعتراض کس بات کا؟
سوال: حضرت، آپ کے جوابات تو مجھے لفاظی ہی معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال میرے پاس کوئی جواب نہیں ان باتوں کا۔ لیکن یہ بتائیے کہ اس واقعے میں اصل سبق کیا ہے؟
جواب : خدا کامل خیر ہے۔ اس سے شر کا ظہور نہیں ہوتا۔ حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جہاں خدا نے تین مختلف افراد کے ساتھ مختلف معاملہ کیا۔ دیکھا جائے تو کشتی کا توڑ دینا، بچے کو قتل کردینا بظاہر ایک شر معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اس میں جو خیر تھا وہ صرف اللہ ہی کو معلوم تھا۔
یہ واقعہ دراصل صرف زینب اور س کے قاتلوں ہی کی نہیں میری ، آپ کی، میڈیا ، حکومت، فیملی کی تربیت، حفاظتی نظام ، ایجوکیشن سب کی آزمائش ہے۔ آپ غور کریں تو علم ہوگا کہ اس قسم کے بیسیوں واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن زینب کا واقعہ اتنا مشہور کیوں ہوا۔ یقینا اس کی اتنی کثرت سے اشاعت میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوگی۔
سوال : وہ کیا حکمت ہے جناب ، یہ بھی فرمادیں؟
جواب: وہ حکمت بہت سادہ ہے۔ اس کے اسباب دیکھے جائیں تو سب سے پہلے وہ والدین قصور وار ہیں جن کے ہاں ایسے ظالموں کی تربیت ہوئی، یہ ہماری تربیت کے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ پھر پرنٹ ، الیکٹرانک ، سوشل میڈیا، فلمیں، ڈرامے اور ناول ذمہ دار ہیں جنہوں نے عریانی پھیلانے ، جنسیات اشتہا بھڑکانے اور تشدد سے پیسا کمانے کو اپنے وطیرہ بنارکھا ہے اور نوجوان جنسی اشتعال سے بے قابو ہورہے ہیں ۔ پھر ہمارا سماجی نظام قصور وار ہے جس نے نکاح مشکل اور زنا آسان بنا رکھا ہے۔ پھر ہمارا ایجوکیشن کا سسٹم قصور وار ہے جس میں اخلاقیات نامی کوئی سبجیکٹ ہی موجود نہیں۔ پھر ہمارے مذہبی رہنما قصور وار ہیں جنہوں نے مذہب کو رسومات کا مجموعہ بنا کر اسے اخلاقی زندگی سے لاتعلق کردیا ہے۔ پھر ہمارے سیاستدان قصوروار ہیں جو اس معاملے میں پوائینٹ اسکورنگ کررہے ہیں، پھر ہمارے حکمران قصور وار ہیں جن کی ناہلی کے سبب ایسے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔
سوال: حضرت ، یہ سب باتیں ٹھیک ہیں؟ لیکن زینب کو کیوں مارا گیا؟یہ کیسا خدا کا انصاف ہے؟؟؟؟


بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا ؟اسٹیفن ہاکنگ کے جواب کا تجزیہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Dec 26, 2017

بگ بینگ سے پہلے کچھ نہ تھا ؟اسٹیفن ہاکنگ کے جواب کا تجزیہ
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: کیا کائنات کہیں ختم ہوتی ہے۔ اگر ہاں تو اس اختتام کے اس پار کیا ہے؟

جواب: ہمارا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات ایک انتہائی تیز رفتار اسراع کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پھیلاو لامتناہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی وجہ سے کائنات مزید خالی اور تاریک ہوتی چلی جائے گی۔ اگرچہ کائنات کا کوئی اختتام نہیں پر اس کا ایک آغاز ضرور ہے۔ آج اس آغاز کو ہم بگ بینگ کہتے ہیں۔ یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ بگ بینگ سے پرے کیا تھا اور اس کا جواب ہو گا کہ کچھ نہیں۔ایسے ہی جیسے قطب جنوبی سے پرے کوئی جنوب نہیں ہے۔۔ پڑھنا جاری رکھیں »


میری کرسمس – کفر یا ایمان؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Dec 26, 2017

میری کرسمس – کفر یا ایمان؟
ڈاکٹر محمد عقیل
میری کرسمس پر آج کل زوردار بحث چل رہی ہے۔ ایک گروہ اس اصطلاح کا مطلب خدا کا بیٹا لے کر اس کے کہنے والوں پر کفر کا اطلاق کررہا ہے تو دوسرا گروہ وارفتگی میں میری کرسمس بولنا مذہنی و اخلاقی فریضہ ثابت کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت ان دونوں کے بین بین ہے۔
جہاں تک میری کرسمس کے لغوی معنی کا تعلق ہے تو یہ سادہ الفاظ میں “ہیپی کرسمس “یا “کرسمس پڑھنا جاری رکھیں »


فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jun 27, 2017

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا پڑھنا جاری رکھیں »


فیصلہ سازی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 16, 2017

فیصلہ سازی
Decision Making
ایک لطیفہ ہے کہ ایک ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے پچیس لوگوں کو اپنی بس تلے کچل دیا تھا۔ اس سے پولیس آفیسر سے پوچھا:
“آخر تم نے کس طرح پچیس لوگوں پر گاڑی چڑھادی حالانکہ تم دوسری طرف بھی گاڑی کا رخ موڑ سکتے تھے؟”
” سر جی ! میری گاڑی کے بریک فیل ہوچکے تھے میرے دائیں جانب بارات تھی اور بائیں جانب صرف دو افراد ۔ میں نے دو افراد پڑھنا جاری رکھیں »


حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 29, 2017

حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: آج کے دور میں وہ جماعت یا مسلک کس طرح تلاش کیا جائے جو حق پر ہو؟
جواب: بالعموم ہم جب حق کی تلاش کی بات کرتے ہیں توا سے محدود پڑھنا جاری رکھیں »


ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Aug 22, 2016

ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف
عام طور پر جب مذہبی علما سےب اختلاف کی بات کی جاتی اور تحقیق کے بارے میں کہا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ “جس طرح کسی اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے کسی عام شخص کو اختلاف کا کوئی حق نہیں، اسی طرح ایک عام انسان نہ ہی تحقیق کرسکتا اور نہ ہی عالم سے اختلاف کرسکتا ہے۔ اس کے لیے اسی درجے کا عالم ہونا لازمی ہے۔”۔ یہ دلیل جزوی طور درست ہے۔ یعنی علمی طور پر کسی ڈاکٹر سے” علمی اختلاف” کرنے کے لیے ڈاکٹری کا علم ہونا ضرور ہے۔یعنی ایک ڈاکٹر یہ تشخیص کررہا ہے کہ سینے کے درد کی وجہ ہارٹ کا معاملہ ہے اور ایک عام آدمی اپنی ڈاکٹری لڑا رہا ہے کہ نہیں جناب یہ تو گیس کا مرض معلو م ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے پہلو سے یہ بات غلط ہے۔ ایک ڈاکٹر کے اخلاقی پہلو کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر ہونا قطعا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر غلط تشخِیص کررہا ہے، پیسے بنانے کے لیے ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ رہا ہے، بار بار بلانے کے لیے مرض کا درست علاج نہیں کررہا، اور کمیشن کھانے کے لیے کسی خاص میڈیکل اسٹور بھیج رہا ہے تو اس قسم کے ڈاکٹر کی علمیت سے ہمیں نہ کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی علمی اختلاف کرنا ہے۔ ہم تو اس سے عملی اختلاف کرتے ہوئے کنارہ کش ہوجائیں گے اور اس اختلاف کے لیے ڈاکٹر ہونا لازمی نہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہوگا کہ ہم اس ڈاکٹر کے رویے کا جائزہ لیں گے، اس سے کچھ سوالات کریں گے، کچھ لوگوں سے رائے لیں گے اور اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کنارہ کش ہوجائیں گے،
یہی رویہ علما کے لیے بھی مطلوب ہے۔کس عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے ظاہر ہے دین کا ٹیکنکل علم ہونا لازمی ہے۔ لیکن عملی اختلاف کرنے کے لیے صرف کامن سینس کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عالم فرقہ واریت کی دعوت دے رہا، شعیہ سنی کو لڑوارہا،معصوم لوگوں کے قتل کا سبب بن رہا ، اپنے قول سے دنیا پرستی کو حرام اور فعل سے دنیا میں پوری طرح ملوث ہو، زبان سے عورتوں کی آواز کو بھی سننا حرام قرار دیتا ہو اور عمل سے عورتوں کی محفلوں کا رسیا ثابت ہو تو وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کی اس اپروچ سے ہمیں اختلاف ہوگا۔ یہ اختلاف کرنے کے لیے ہمیں درس نظامی سے عالم کا کورس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی جامعہ الازہز سے عالم کی ڈگری لینے کی حاجت۔ جب بھی ہم کسی عالم میں کوئی اس قسم کی عملی برائی دیکھیں گے تو سب سے پہلے تو اس سے بات چیت کریں گے کہ ممکن ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہو یا بات سمجھ نہ آئی ہو، پھر لوگوں سے ڈسکس کریں گے اور اس سب کےباوجود اگر اطمینان نہیں ہوا تواس کی تقلید محض اس لیے نہیں کرنے لگیں گے کہ ہمارے مسلک کے عالم ہیں یا ان عالم کی ہر بات درست ہوگی اور یہ غلطی نہیں کرسکتے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے مطلوبہ علم ہونا لازمی ہے۔ البتہ ایک ڈاکٹر یا مذہبی عالم کے علم پر شک ہونے کی صورت میں تحقیق کرنا لازمی ہے۔ اور ایک ڈاکٹر یا ایک عالم کے عمل میں غلط رویہ ثابت ہونے کی صورت میں دونوں سے دور ہوجانا بھی لازم ہے غلط انتخاب اگر ڈاکٹر کے معاملے میں ہوجائے تو جان کو خطرہ ہے اور اگر عالم کے معاملے میں ہوجائے تو ایمان کو خطرہ ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی  کیوں؟

عظمی عنبرین/ اقصی ارشد

اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو  تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین  حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی  آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ  میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔

بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین  کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک  دولت مند شخص  ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔

ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے  پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون  حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ  منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے  ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔

ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات  ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق  کے مطابق  ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ  کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲  ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12   کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی  انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر  دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان  میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن  کی کمی  کا شکا  ر  ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

اگر آپ مندرجہ  ذیل  علاما ت  سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ  کے  جسم  میں وٹامن 12 –B کی  شدید  کمی کا عندیہ ہے :

1.احساسات  و جذبات  کا  غیر معمولی  اتا ر چڑھاؤ۔

2.روزمرہ  کے  کاموں  میں بے رغبتی  ،خواہ  وہ  اپنی  مرضی و منشا  کے پسندیدہ  مشاغل  ہی  کیوں  نہ ہوں 3.دماغ  کا چکرانا ۔

4.سونے  کے  اوقات  کی بے  اعتدالی ۔

5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن

6.معمولی  سی  باتوں پر  بدمزاجی  اور جھلاہٹ

7.دیگر معاشرتی دباؤ یا   پسپائی والی  علامات

اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار  میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج  ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس  کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام خوراک میں وٹامن  کی دستیابی  کا  بڑا  ذریعہ بچھڑے  کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا   جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر  چکن  دستیاب ہے جس میں  اس  وٹامن  کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس  کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد  ایک  دن کا وقفہ اور پھر  اگلا  انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال  میں  ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر  ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔

 


بیوی پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

بیوی  پر شک  اور بدگمانی

کہتے ہیں مرد عام طورپر شکی  ہوتے ہیں۔شک کا ایک بڑا سبب عادت و مزاج ہوتا ہے۔ چنانچہ  کچھ مرد اپنی  بیویوں پر بلاجواز شک کرتے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ایک ایسے پولیس مین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہر شخص کو مجرم سمجھتا ہے۔ ایسے شوہر   اپنی بیوی کو مجرم گردانتے اور ہر دوسرے دن اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عفت کا ثبوت پیش کرے۔

اس قسم کے لوگ باآسانی بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔  یہ بیوی کی  ہر ٹیلفون کل پر نظر رکھتے ، اس کے ایس ایم ایس سے غلط معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتے، اس کے مو ڈ سوئینگ کو الٹی سیدھی توجیہہ دینے کی  کوشش کرتے ، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کسی کا خِیال محسوس کرتے، اس کی چہل قدمی  کو کسی کا انتظار سمجھتے  اور اسکے میک اپ کو اپنی بدگمانی کی عینک سے مشکوک بنادیتے ہیں۔ جب بیوی ذرا بھی ان کے سوالات کا جواب دینے میں چوک جاتی اور انہیں مطمئین نہیں کرپاتی تو ان کے شک  کا سانپ اور سرکش ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے  شک کا یہ اژدہا پورے خاندان کو نگل لیتا ہے۔

شک  کا تعلق  ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ بعض  اوقات ایک  ایک  بند ماحول میں رہنےوالا شخص باآسانی بدگمانی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ اور اگر بیوی ذرا آزاد ماحول کی ہو  بس پھر تو معاملہ خراب۔ بیوی کا کسی سے ہنس کر بات کرنا، کسی کی بات پر مسکرادینا، کسی  کی تعریف میں دو بول بول دینا، کسی پر تبصرہ کردینا ایک تنگ نظر میاں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہر  آنے والا دن بیوی کوایک بے حیا عورت کے روپ میں  پیش کرتا  رہتا ہے۔ایسا مرد اپنی بدگمانی میں طرح طرح کی باتیں سوچتا اور الٹے سیدھے اندازے لگاتا رہتا ہے۔ اس کی بدگمانی کبھی اس کی مردانگی پر سوالیہ نشان ڈالتی، کبھی بیوی کے کردار کو براپیش کرتی، کبھی بیوی کی بے تکلفی کو فحاشی گردانتی تو کبھی اس کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے پر اکساتی ہے۔

بیوی سے بدگمان ہونے کی ایک اور وجہ کوئی واقعہ، قصہ، ڈرامہ   یا  کہانی  ہوتی ہے ۔ کبھی کسی فلم سے متاثر ہوکر  میاں اپنی بیوی کو اسی روپ میں دیکھنے لگ جاتا ہے جس میں ایک بے حیا عورت کے کردار کو دکھایا گیا ہوتا ہے۔ اب اسی مفروضے پر جب وہ روزمرہ کا جائزہ لیتا ہے تو بیوی کی بہت سے باتیں اس کردار سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کی  بیوی اس  بے حیا کردار کی طرح فیس بک  بھی استعمال کرتی، وہاٹس ایپ بھی چلاتی، ای میل بھی کرتی اور ایس ایم ایس بھی بھیجتی نظر آتی ہے۔ اسے اپنی بیوی بالکونی میں بھی کھڑی دکھائی دیتی  اور کبھی چھت پر جاتی نظر آتی ہے۔ اب اسے یہ  خیال  آتا ہے کہ کسی طرح بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس جاسوسی میں  کوئی نہ کوئی ایسی بات مل سکتی ہے جو شک کو قوی کردے۔ اس کے بعد اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

بدگمانی کی اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک بدگمان شخص اس مفروضے پر سوچتا ہے کہ اس کی بیوی غلط راہوں پر جارہی ہے یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص کا شک درست ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شک غلط بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ عا م اصول کے تحت ہر شخص کو شک کافائدہ دینا چاہئے اور اسے اس وقت تک بے قصور سمجھنا چاہئے جب تک کہ اس کے قصور وار ہونے کے قوی ثبوت نہ مل جائیں۔

بدگمانی  کے کئی حل ہیں۔ اول تو بدگمانی جب بھی پیدا ہو تو اسے  پہلے مرحلے پر جھٹک دینا چاہئے۔اگر اس سے کام نہ بنے تو بدگمانی کی وجہ معلوم کرکے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔  اگر شک بہت  قوی ہو تو اسے بات چیت کے  ذریعے ڈسکس کرلینا چاہئے۔ اس سے رشتے میں دراڑ کی بجائے مضبوطی پیدا ہوگی۔ اگر معاملہ اس سے بھی حل نہ ہو تو چند بزرگوں کو  بیچ میں ڈال کر سماجی دباؤ کے تحت کام کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجو بھی اگر  معاملہ حل نہ ہو تو کیا کریں؟ فرض کریں ایک شخص کی بیوی واقعی کسی دوسرے مرد میں دلچسپی رکھتی ہے تو جذبات سے قطع نظر ہوکر دیکھیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور حل نہ ہونے کی صورت میں خوش اسلوبی سے علحیدگی اختیار کرلیں۔

پروفیسر محمد عقیل