پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jun 27, 2017

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا پڑھنا جاری رکھیں »


فیصلہ سازی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 16, 2017

فیصلہ سازی
Decision Making
ایک لطیفہ ہے کہ ایک ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے پچیس لوگوں کو اپنی بس تلے کچل دیا تھا۔ اس سے پولیس آفیسر سے پوچھا:
“آخر تم نے کس طرح پچیس لوگوں پر گاڑی چڑھادی حالانکہ تم دوسری طرف بھی گاڑی کا رخ موڑ سکتے تھے؟”
” سر جی ! میری گاڑی کے بریک فیل ہوچکے تھے میرے دائیں جانب بارات تھی اور بائیں جانب صرف دو افراد ۔ میں نے دو افراد پڑھنا جاری رکھیں »


حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 29, 2017

حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: آج کے دور میں وہ جماعت یا مسلک کس طرح تلاش کیا جائے جو حق پر ہو؟
جواب: بالعموم ہم جب حق کی تلاش کی بات کرتے ہیں توا سے محدود پڑھنا جاری رکھیں »


ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Aug 22, 2016

ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف
عام طور پر جب مذہبی علما سےب اختلاف کی بات کی جاتی اور تحقیق کے بارے میں کہا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ “جس طرح کسی اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے کسی عام شخص کو اختلاف کا کوئی حق نہیں، اسی طرح ایک عام انسان نہ ہی تحقیق کرسکتا اور نہ ہی عالم سے اختلاف کرسکتا ہے۔ اس کے لیے اسی درجے کا عالم ہونا لازمی ہے۔”۔ یہ دلیل جزوی طور درست ہے۔ یعنی علمی طور پر کسی ڈاکٹر سے” علمی اختلاف” کرنے کے لیے ڈاکٹری کا علم ہونا ضرور ہے۔یعنی ایک ڈاکٹر یہ تشخیص کررہا ہے کہ سینے کے درد کی وجہ ہارٹ کا معاملہ ہے اور ایک عام آدمی اپنی ڈاکٹری لڑا رہا ہے کہ نہیں جناب یہ تو گیس کا مرض معلو م ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے پہلو سے یہ بات غلط ہے۔ ایک ڈاکٹر کے اخلاقی پہلو کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر ہونا قطعا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر غلط تشخِیص کررہا ہے، پیسے بنانے کے لیے ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ رہا ہے، بار بار بلانے کے لیے مرض کا درست علاج نہیں کررہا، اور کمیشن کھانے کے لیے کسی خاص میڈیکل اسٹور بھیج رہا ہے تو اس قسم کے ڈاکٹر کی علمیت سے ہمیں نہ کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی علمی اختلاف کرنا ہے۔ ہم تو اس سے عملی اختلاف کرتے ہوئے کنارہ کش ہوجائیں گے اور اس اختلاف کے لیے ڈاکٹر ہونا لازمی نہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہوگا کہ ہم اس ڈاکٹر کے رویے کا جائزہ لیں گے، اس سے کچھ سوالات کریں گے، کچھ لوگوں سے رائے لیں گے اور اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کنارہ کش ہوجائیں گے،
یہی رویہ علما کے لیے بھی مطلوب ہے۔کس عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے ظاہر ہے دین کا ٹیکنکل علم ہونا لازمی ہے۔ لیکن عملی اختلاف کرنے کے لیے صرف کامن سینس کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عالم فرقہ واریت کی دعوت دے رہا، شعیہ سنی کو لڑوارہا،معصوم لوگوں کے قتل کا سبب بن رہا ، اپنے قول سے دنیا پرستی کو حرام اور فعل سے دنیا میں پوری طرح ملوث ہو، زبان سے عورتوں کی آواز کو بھی سننا حرام قرار دیتا ہو اور عمل سے عورتوں کی محفلوں کا رسیا ثابت ہو تو وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کی اس اپروچ سے ہمیں اختلاف ہوگا۔ یہ اختلاف کرنے کے لیے ہمیں درس نظامی سے عالم کا کورس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی جامعہ الازہز سے عالم کی ڈگری لینے کی حاجت۔ جب بھی ہم کسی عالم میں کوئی اس قسم کی عملی برائی دیکھیں گے تو سب سے پہلے تو اس سے بات چیت کریں گے کہ ممکن ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہو یا بات سمجھ نہ آئی ہو، پھر لوگوں سے ڈسکس کریں گے اور اس سب کےباوجود اگر اطمینان نہیں ہوا تواس کی تقلید محض اس لیے نہیں کرنے لگیں گے کہ ہمارے مسلک کے عالم ہیں یا ان عالم کی ہر بات درست ہوگی اور یہ غلطی نہیں کرسکتے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے مطلوبہ علم ہونا لازمی ہے۔ البتہ ایک ڈاکٹر یا مذہبی عالم کے علم پر شک ہونے کی صورت میں تحقیق کرنا لازمی ہے۔ اور ایک ڈاکٹر یا ایک عالم کے عمل میں غلط رویہ ثابت ہونے کی صورت میں دونوں سے دور ہوجانا بھی لازم ہے غلط انتخاب اگر ڈاکٹر کے معاملے میں ہوجائے تو جان کو خطرہ ہے اور اگر عالم کے معاملے میں ہوجائے تو ایمان کو خطرہ ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی  کیوں؟

عظمی عنبرین/ اقصی ارشد

اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو  تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین  حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی  آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ  میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔

بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین  کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک  دولت مند شخص  ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔

ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے  پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون  حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ  منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے  ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔

ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات  ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق  کے مطابق  ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ  کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲  ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12   کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی  انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر  دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان  میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن  کی کمی  کا شکا  ر  ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

اگر آپ مندرجہ  ذیل  علاما ت  سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ  کے  جسم  میں وٹامن 12 –B کی  شدید  کمی کا عندیہ ہے :

1.احساسات  و جذبات  کا  غیر معمولی  اتا ر چڑھاؤ۔

2.روزمرہ  کے  کاموں  میں بے رغبتی  ،خواہ  وہ  اپنی  مرضی و منشا  کے پسندیدہ  مشاغل  ہی  کیوں  نہ ہوں 3.دماغ  کا چکرانا ۔

4.سونے  کے  اوقات  کی بے  اعتدالی ۔

5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن

6.معمولی  سی  باتوں پر  بدمزاجی  اور جھلاہٹ

7.دیگر معاشرتی دباؤ یا   پسپائی والی  علامات

اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار  میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج  ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس  کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام خوراک میں وٹامن  کی دستیابی  کا  بڑا  ذریعہ بچھڑے  کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا   جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر  چکن  دستیاب ہے جس میں  اس  وٹامن  کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس  کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد  ایک  دن کا وقفہ اور پھر  اگلا  انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال  میں  ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر  ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔

 


بیوی پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

بیوی  پر شک  اور بدگمانی

کہتے ہیں مرد عام طورپر شکی  ہوتے ہیں۔شک کا ایک بڑا سبب عادت و مزاج ہوتا ہے۔ چنانچہ  کچھ مرد اپنی  بیویوں پر بلاجواز شک کرتے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ایک ایسے پولیس مین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہر شخص کو مجرم سمجھتا ہے۔ ایسے شوہر   اپنی بیوی کو مجرم گردانتے اور ہر دوسرے دن اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عفت کا ثبوت پیش کرے۔

اس قسم کے لوگ باآسانی بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔  یہ بیوی کی  ہر ٹیلفون کل پر نظر رکھتے ، اس کے ایس ایم ایس سے غلط معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتے، اس کے مو ڈ سوئینگ کو الٹی سیدھی توجیہہ دینے کی  کوشش کرتے ، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کسی کا خِیال محسوس کرتے، اس کی چہل قدمی  کو کسی کا انتظار سمجھتے  اور اسکے میک اپ کو اپنی بدگمانی کی عینک سے مشکوک بنادیتے ہیں۔ جب بیوی ذرا بھی ان کے سوالات کا جواب دینے میں چوک جاتی اور انہیں مطمئین نہیں کرپاتی تو ان کے شک  کا سانپ اور سرکش ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے  شک کا یہ اژدہا پورے خاندان کو نگل لیتا ہے۔

شک  کا تعلق  ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ بعض  اوقات ایک  ایک  بند ماحول میں رہنےوالا شخص باآسانی بدگمانی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ اور اگر بیوی ذرا آزاد ماحول کی ہو  بس پھر تو معاملہ خراب۔ بیوی کا کسی سے ہنس کر بات کرنا، کسی کی بات پر مسکرادینا، کسی  کی تعریف میں دو بول بول دینا، کسی پر تبصرہ کردینا ایک تنگ نظر میاں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہر  آنے والا دن بیوی کوایک بے حیا عورت کے روپ میں  پیش کرتا  رہتا ہے۔ایسا مرد اپنی بدگمانی میں طرح طرح کی باتیں سوچتا اور الٹے سیدھے اندازے لگاتا رہتا ہے۔ اس کی بدگمانی کبھی اس کی مردانگی پر سوالیہ نشان ڈالتی، کبھی بیوی کے کردار کو براپیش کرتی، کبھی بیوی کی بے تکلفی کو فحاشی گردانتی تو کبھی اس کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے پر اکساتی ہے۔

بیوی سے بدگمان ہونے کی ایک اور وجہ کوئی واقعہ، قصہ، ڈرامہ   یا  کہانی  ہوتی ہے ۔ کبھی کسی فلم سے متاثر ہوکر  میاں اپنی بیوی کو اسی روپ میں دیکھنے لگ جاتا ہے جس میں ایک بے حیا عورت کے کردار کو دکھایا گیا ہوتا ہے۔ اب اسی مفروضے پر جب وہ روزمرہ کا جائزہ لیتا ہے تو بیوی کی بہت سے باتیں اس کردار سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کی  بیوی اس  بے حیا کردار کی طرح فیس بک  بھی استعمال کرتی، وہاٹس ایپ بھی چلاتی، ای میل بھی کرتی اور ایس ایم ایس بھی بھیجتی نظر آتی ہے۔ اسے اپنی بیوی بالکونی میں بھی کھڑی دکھائی دیتی  اور کبھی چھت پر جاتی نظر آتی ہے۔ اب اسے یہ  خیال  آتا ہے کہ کسی طرح بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس جاسوسی میں  کوئی نہ کوئی ایسی بات مل سکتی ہے جو شک کو قوی کردے۔ اس کے بعد اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

بدگمانی کی اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک بدگمان شخص اس مفروضے پر سوچتا ہے کہ اس کی بیوی غلط راہوں پر جارہی ہے یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص کا شک درست ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شک غلط بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ عا م اصول کے تحت ہر شخص کو شک کافائدہ دینا چاہئے اور اسے اس وقت تک بے قصور سمجھنا چاہئے جب تک کہ اس کے قصور وار ہونے کے قوی ثبوت نہ مل جائیں۔

بدگمانی  کے کئی حل ہیں۔ اول تو بدگمانی جب بھی پیدا ہو تو اسے  پہلے مرحلے پر جھٹک دینا چاہئے۔اگر اس سے کام نہ بنے تو بدگمانی کی وجہ معلوم کرکے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔  اگر شک بہت  قوی ہو تو اسے بات چیت کے  ذریعے ڈسکس کرلینا چاہئے۔ اس سے رشتے میں دراڑ کی بجائے مضبوطی پیدا ہوگی۔ اگر معاملہ اس سے بھی حل نہ ہو تو چند بزرگوں کو  بیچ میں ڈال کر سماجی دباؤ کے تحت کام کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجو بھی اگر  معاملہ حل نہ ہو تو کیا کریں؟ فرض کریں ایک شخص کی بیوی واقعی کسی دوسرے مرد میں دلچسپی رکھتی ہے تو جذبات سے قطع نظر ہوکر دیکھیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور حل نہ ہونے کی صورت میں خوش اسلوبی سے علحیدگی اختیار کرلیں۔

پروفیسر محمد عقیل

 


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


قدرتی آفات پر غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا تحقیقی مطالعہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Nov 6, 2015

قدرتی آفات پر غامدی صاحب کے نقطہ نظر کا تحقیقی مطالعہ
پروفیسر محمد عقیل
۲۶ اکتوبر ۲۰۱۵ کے زلزلے کے بعد ملک میں ایک اہم بحث چھڑ گئی ہے کہ یہ زلزلہ عذاب ہے یا تنبیہہ ہے یا محض زمین کی پلیٹوں کی حرکت۔ یوں تو یہ سوال سیلاب، طوفان اور دیگر قدرتی آفات کے لیے بہت اہم ہے لیکن زلزلے کے لیے خاص طور پر اس سوال کی اہمیت ہے۔ قدرتی آفت بالخصوص زلزلہ پڑھنا جاری رکھیں »


جادو اور نفسی علوم کی نوعیت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Oct 28, 2015

جادو اور نفسی علوم کی نوعیت
پروفیسر محمد عقیل

جادو ،سحر یا نفسی علوم کی حقیقت کیا ہے؟
ہمیں سحر کی نوعیت کو مختصرا جان لینا چاہئے۔کچھ اسکالرز درست طور پر بیان کرتے ہیں کہ جس طرح اللہ نے انسان کو مادی علوم دیے ہیں اسی طرح نفسی یا روحانی علوم بھی دیے ہیں۔ میری دانست میں مادی علوم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ ان کا حصول اور استعمال انہیں حرام بناتا ہے۔ بالکل ایسے ہی نفسی یا روحانی علوم اپنی ذات میں حرا م نہیں بلکہ ان کے حصول کا طریقہ اور استعمال انہیں ناجائز بناتا ہے۔
نفسی علوم حرام ہیں یا حلال؟
نفسی علوم کو دو حصوں میں منقسم کیا جاسکتا ہے ایک وہ جو جائز ہیں اور دوسرے وہ جو ناجائز ہیں۔جائز نفسی علوم کو عام طور پرپیراسائکولوجی، روحانی علوم، ہپناٹزم، ٹیلی پیتھی وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جبکہ ناجائز نفسی علوم کو جادو، سحر، سفلی علم ، کالا علم وغیرہ سے موسوم کیا جاتا ہے۔
نفسی علوم دووجوہات کی بنا پر ناجائز ہوتے ہیں۔ایک تو ان کے حصول کا طریقہ اور دوسرا ان کے استعمال کا طریقہ۔ اگر کوئی نفسی علم شیطانی قوتوں سے مدد لے کر حاصل کیا جائے تو ناجائز ہے۔ ماہرین کے مطابق کہ جنات میں موجود شیاطین انسان کو مدد فراہم کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں وہ انسان سے شرک کرواتے ، اپنی پوجا کرواتے، اپنے کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا کراتے ، کسی انسان کو قتل کراتے یا کسی اور گناہ کبیرہ کا ارتکاب کراتے ہیں۔ چونکہ اس علم کا حصول شرک و کفر پر مبنی ہے اسی لئے اس علم کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
نفسی علوم کی دوسری قسم اپنی ذات میں جائز ہے انہیں ہم جائز نفسی علوم یا پیراسائکوکولوجی کہہ سکتے ہیں۔ ان کے جائز ہونے کی وجہ ان کا حصول کا طریقہ ہے۔ ان کے حصول میں کسی شیطانی قوت یا شرک کی آمیزش نہیں ہوتی۔ یا تو اس علم جائز مذہبی روایات سےاخذ کیا جاتا ہے یا پھر نیوٹرل طریقہ لیا جاتا ہے جس پر کوئی شرعی یا اخلاقی قدغن نہیں۔ البتہ یہ علم اس وقت ناجائز ہوجاتا ہے جب اس سے غلط قسم کے مقاصد حاصل کیے جائیں جیسے کسی کو قتل کرادینا، کسی کو ایذا پہنچانا وغیرہ۔
نفسی علوم کی کیا حدود ہیں؟
اس بارے میں ہمیں اطمینا ن رکھنا چاہیے کہ نفسی علوم خواہ کسی بھی نوعیت کے ہوں ، ان کا اثر محدود ہوتا ہے۔ کچھ نفسی علوم محض آنکھوں کو دھوکا دے کر اپنا کام کرتے ہیں، کچھ کسی اور ذریعے سے۔ لیکن ان کا ثر اتنا ہی محدود ہوتا ہے جتنا ماد ی علوم کا۔ مثال کے طور پر انسان ٹیکنالوجی کی مدد سے آج ہوائی جہاز تو بنا سکتا ہے لیکن اس کی اپنی محدودیت ہے۔ یعنی ایسا نہیں کہ یہ جہاز ایک مخصوص اسپیڈ سے زیادہ تیز اڑے جیسے لائٹ کی اسپیڈ، یا یہ بغیر رن وے کے اڑ پائے ، یا بنا ایندھن چلے یا لوہے کی بجائے کاغذ کا بن جائے یا کروڑوں لوگوں کو ایک ساتھ اپنے اندر سمولے۔ بالکل اسی قسم کی محدودیتیں نفسی علوم میں بھی ہوتی ہیں۔
نفسی علوم کے ذریعے کوئی دنیا فتح نہیں کرسکتا اگر ایسا ہوتا تو دنیا پر جادوگروں اور پیراسائکلوجی کے ماہرین کا راج ہوتا۔ نفسی علوم کے ذریعے کوئی انسان کو جانور اور جانور کو کسی اور شکل میں تبدیل نہیں کرسکتا ورنہ جادوگر اپنے دشمنوں کو نہ جانے کیا بناچکے ہوتے۔ ان کے ذریعے دولت کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں لے جاسکتا ورنہ سارے کالے علم کے ماہر اپنے گاہک تلاش کرنے کی بجائے یہی کام کررہے ہوتے اور آج سب سے زیادہ مالدار ہوتے۔ ان علوم کے ذریعے مادے کی ہیت نہیں بدلی جاسکتی ورنہ دنیا کی ساری مٹی سونا ہوچکی ہوتی اور کاریں یا دیگر چیزیں سائنس دان نہیں جادوگر بنارہے ہوتے۔ جادو اور سحر کی محدودیت کو اسی طرح کامن سینس اور مشاہدے کی بنیاد پر چیک کیا جاسکتا ہے۔
سحر یا نفسی علوم کا طریقہ واردات کیا ہے؟
نفسی علوم دو یا تین طریقوں سے کام کرتے ہیں لیکن سب کا اثر انسان کی نفسیات پر پڑتا ہے۔ ایک طریقہ موکل کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ اس میں ہمزاد یا جنات کو اپنا تابع یا دوست بنا کر کام کیاجاتا اور ان سے اپنا کام کرایا جاتا ہے۔ یہ جنات لوگوں کی نفسیات پر حملہ کرتے، انہیں ڈراتے ،دھکماتے ، مختلف روپ میں آتے ، انہیں ٹیلی پتھی کی ذریعے اپنے شیطانی خیالات سے پریشان کرتے ہیں تاکہ اپنے وکیل کے مذموم مقاصد پورا کرسکیں۔ ان کو البتہ یہ اختیار نہیں ہوتا کہ کسی کی جان لے لیں۔ اگر ایسا ہوتا تو شیطان سب سے پہلے اللہ کے نیک بندوں اور داعیوں کو ہلاک کردیتا ۔ ان شریر جنات کا اثر زیادہ تر کمزور نفسیات رکھنے والے لوگوں پر ہوتا ہے جبکہ مضبوط نفسیات والے لوگ اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ شیطان یا جنات کسی کو نفسیاتی طور پر مایوس کرکے خودکشی پر تو مجبور کرسکتا ہے لیکن براہ راست قتل کرنے کی طاقت اس میں نہیں۔
جادو کا دوسرا طریقہ کچھ غیب کی خبریں معلوم کرنا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق اس کاا یک طریقہ تو یہ ہے کہ جب ملائے اعلی سے احکامات کا نزول ہوتا اور اوپر کے فرشتوں سے یہ بات نیچے زمین کے فرشتوں کو بتائی جارہی ہوتی ہے جو کچھ شریر جنات یہ باتیں سن لیتے ہیں۔ گوکہ انہیں مار کر بھگادیا جاتا ہے لیکن وہ کچھ باتیں الٹے سیدھے طریقے سے سن کر اپنے وکیلوں کو بتادیتے ہیں جن میں وہ دس جھوٹی باتیں ملاکر بات بیان کردیتا ہے۔
ایک ماہر کے مطابق اس کا دوسرا طریقہ کسی شخص کی نفسیات کوپڑھنا ہوتا ہے۔ ٹیلی پیتھی کے ذریعے شیاطین انسان کی موجودہ سوچ کو پڑھ سکتے ہیں ۔ یعنی ایک انسان اس وقت کیا سوچ رہا ہے اس کو شیاطین پڑھ کر اپنے وکیلوں کو بتاسکتے ہیں البتہ انہیں انسان کی ماضی کی سوچ کو جاننے کا اختیار اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ وہ انسان ان سوچو ں کو خیالات میں نہیں لاتا۔ لیکن یہ علم بھی بہت ادھورا ہوتا ہے کیونکہ ایک انسان کی کچھ وقت کی سوچ سے پورے معاملے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
کیا عامل صحیح علم رکھتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق نوے پچانوے فی صد سے زائد عامل جعلی ہوتے یا ادھورا علم رکھتےاور عوام کی نفسیات سےکھیلتے ہیں۔
اس بات کا کس طرح پتا چلے گا کہ یہ علم جادو یعنی حرام عمل ہے یا ایک نفسی علم؟
اس کا بہت آسان جواب ہے۔اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ کالا علم ہے تو اس کے پاس تو پھٹکنا بھی نہیں چاہیے۔ جو لوگ روحانی علم کے ذریعے علاج کا دعوی کرتے ہیں ان کے تعویذ وغیرہ کو کھول کر دیکھنا چاہئے ۔ اگر اس میں شیطانی کلمات لکھے ہوں یا ایسے کلمات ہوں جو ناقابل فہم ہوں تو فورا اجتناب برتنا چاہیے۔ اگر کوئی ایسا عمل ہو جس میں گندگی وغیرہ کی ہدایت ہو تو گریز کرنا چاہیے جیسے کچھ عملیات باتھ روم میں ہوتے ہیں، کچھ غلاظتوں پر۔
کیا روحانی علوم یعنی قرآن کے ذریعے علاج جائز ہے؟
سورہ فاتحہ دم وغیرہ کرنا، آیت الکرسی کے ذریعے حفاظت طلب کرنا، سورہ الفلق اور سورہ الناس کو جاد و کے توڑ کے لئے استعمال کرنا اور دیگر سورتوں سے علاج کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پیچھے واضح کیا کہ جادو اور نفسی علوم کا اثر نفسیاتی ہوتا ہے اس لئے جو بھی پڑھا جائے اس کا ترجمہ یا مفہوم ضرور ذہن میں رکھا جائے ورنہ ماہرین کے مطابق شفا کے امکانات کم ہوتے یابالکل ہی نہیں ہوتے۔
کیا تعویذ وغیرہ جائز ہیں جبکہ کچھ احادیث میں گنڈے اور تعویذ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا کے بے شمار علوم ایسے ہیں جو انسان کے نفع کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ انسان ان سے حسب ضرورت استفادہ کرسکتا ہے۔ دین اس وقت ان علوم میں مداخلت کرتا ہے جب ان میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت پائی جائے۔ جیسے میڈیا سائنسز ایک نیوٹرل علم ہے جس کے پڑھنے یا نہ پڑھنے پر مذہب کا کوئی مقدمہ نہیں۔ اگر یہ علم انسانوں کو نقصان پہنچانے میں استعمال ہو اور اس سے محض فحاشی و عریانیت اور مادہ پرستی ہی کو فروغ مل رہا ہو تو مذہب مداخلت کرکے اس کے استعمال پر قدغن لگاسکتا اور اسے جزوی طور پر ممنوع کرسکتا ہے۔
میرے فہم کے مطابق کچھ ایسا ہی معاملہ نفسی علوم کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہ علم سحر کی حیثیت سےیہود اور کچھ مشرکین کے پاس تھا ۔ چونکہ کسی پیغمبر کی بعثت کو ایک طویل عرصہ گذرچکا تھا اس لئے ان علوم پر بھی شیاطین کا قبضہ تھا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصلاح معاشرہ اور تطہیر کا کام کیا تو اس علم پر بھی خاص طور پر توجہ دی۔ اس زمانے میں تعویذ ، گنڈے اور دیگر چیزیں مشرکانہ نجاست رکھتی تھیں اس لئے انہیں ممنوع اور حرام قرار دے دیا گیا۔ اصل علت یا وجہ جادو یا شرک تھا تعویذ کا استعمال نہ تھا۔
اس کی بہترین مثال تصویر ہے۔ تصویریں اس زمانے میں بنائی ہی شرک کی نیت سے جاتی تھیں اس لئے جاندار کی تصویر بنانا ممنوع کردیا گیا۔ لیکن بعد میں جب تصویروں میں علت نہیں رہی تو علما نے اسے جائز قرار دے دیا۔ یہی معاملہ تعویذ گنڈوں کےساتھ بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تعویذ وغیرہ کا براہ راست دین سے کوئی تعلق نہیں اور یہ نفسی علوم کا ایک طریقہ اور ٹول ہے۔ چنانچہ اگر کوئی تعویذ شرکیہ نجاستوں سے پاک ہے تو اس پر وہی حکم لگے گا جو دم درود یا دیگر روحانی علوم پر لگتا ہے۔
دین کا نفسی علوم کے بارے میں کیا رویہ ہے؟
دین حرام قسم کے نفسی علوم کے استعمال کو قطعا ممنوع کردیتا ہے ۔ جائز نفسی علوم کے استعمال پر بھی دین کوئی بہت زیادہ حوصلہ افزائی نہیں کرتا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ سنت سے ثابت ہے کہ آپ نے کسی کو رزق کے حصول کے لئے وظیفہ نہیں بلکہ دنیاوی عمل بتایا، بیماری کا علاج دم درود سے نہیں بلکہ طبیب اور مادی اسباب سے کیا، جنگ میں کامیابی کے لئے مراقبوں اور مکاشفوں سے مدد نہ لی، مستقبل کے لیے ستاروں کی چال کو درخور اعتنا نہ سمجھا، مشکلات ہے حل کے لیے اسباب کرنے کے بعد اللہ پر توکل کیا تعویذ گنڈے نہیں کیے۔ کیونکہ آپ کا مقصد ایک حقیقت پسند اور توہمات سے پاک امت کا قیام تھا ۔
نفسی علوم پر بھروسہ نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ یہ علوم باقاعدہ سائنس نہیں بن پائے ہیں۔ سائنس جس طرح سبب اور اثر یعنی کاز اور افیکٹ (Cause and Effect) تعلق کو قطعیت کے ساتھ بیان کرتی ہے، یہ علوم ابھی اس پریزینٹیشن سے کوسوں دور ہیں۔ اسی لئے ان کا استعمال عام طور پر توہمات کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ البتہ کوئی وظیفہ یا عمل اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درست طور پر منسوب ہے یا تجربہ کی بنا پر اس کی قطیعت ثابت ہوچکی ہے تو اس کے استعمال میں کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی۔
ہارو ت و ماروت پر جو علم اتارا گیا تھا کیا وہ جادو تھا؟
جیسا کہ ہم نے پڑھا کہ جادو حرام ہے اور اس کی وجہ ا س میں شرک کی علت کا ہونا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالی اپنے فرشتوں کے ذریعے اس قسم کا کوئی علم کیسے اتار سکتے ہیں جس میں شرک کی آلائش ہو۔ میری رائے کے تحت ہاروت و ماروت پر اتارا گیا علم پیراسائکلوجی کے جائز علوم میں سے ایک تھا ۔ البتہ اس کا استعمال منفی و مثبت دونوں طریقوں سے کیا جاسکتا تھا۔ جیسا کہ اسی آیت میں ہے:
غرض لوگ ان سے (ایسا) سحر سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (سحر) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔(البقرہ ۱۰۲:۲)
اس آیت میں ہے کہ اس علم سے فائدہ بھی پہنچ سکتا تھا اور نقصان بھی ۔ لیکن انہوں نے صرف نقصان پہنچایا جس میں سرفہرست میاں بیوی میں جدائی تھی۔ اس کی وجہ بھی کچھ علما کے نزدیک یہ تھی کہ بنی اسرائل کو اس دور میں غیر یہودی عورت سے شادی کرنا ممنوع تھا۔ اس وقت خواتین کی کمی تھی اس لَئے لوگ جدائی ڈلواکر اس کی عورت کو اپنی بیوی بنانا چاہتے تھے۔ تو بہر حال وہ علم کسی طور شرکیہ یا ممنوع علم نہ تھا بلکہ اپنی اصل میں جائز تھا۔ اس کے منفی استعمال کی مذمت کی گئی ہے۔ یعنی وہ علم اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ آزمائش تھا ۔ البتہ اس کا منفی استعمال اسے حرام بنا رہا تھا
کیا جادو کرنا کفر یا شرک ہے؟
چونکہ جادو میں شرک و کفر کی آمیزس ہوتی ہے اور اس میں خدا کے علاوہ دیگر قوتوں کی مدد مانگی جاتی ہے اس لئے جادو کرنا حرام اور شرک ہے۔ اسی طرح جادو کا استعمال بالواسطہ طور پر شرک و کفر کے درجے تک لے جاتا ہے۔
کیا جادو کا توڑ جادو سے ہوسکتا ہے؟
جادو کا توڑ کوئی روحانی یا نیوٹرل علم تو ہوسکتا ہے لیکن جادو نہیں۔
نوٹ:
اس تحریر میں میں نے کئی علما ، ماہرین اور مفسرین سے برا ہ راست یا بالواسطہ استفادہ کیا ہے۔ ان سب کا نام لکھنا تو ممکن نہ تھا البتہ ان سب کا میں عمومی طور پر شکر گذار ہوں ۔
پروفیسر محمد عقیل
۲۷ اکتوبر ۲۰۱۵
۱۳ محرم الحرام ۱۴۳۷ ہجری


زلزلہ پر کچھ سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Oct 27, 2015

زلزلہ پر کچھ سوالات
۲۶ اکتوبر ۲۰۱۵ کو کوہ ہندوکش کی پلیٹوں میں حرکت کی بنا پر ایشیا میں زلزلہ آیا۔ اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان میں محسوس کیے گئے ۔ اس زلزلے پر ہمارے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جن کا جواب جاننا ضروری ہے۔ ذیل میں ان سوالوں کا مذہبی اور سائنسی تناظر میں جواب موجود ہے۔
1. کیا زلزلہ کے پیچھے انسانوں کی کوئی کوتاہی موجود ہوسکتی ہے ؟
جی ہاں۔ ماہرین کے مطابق آج کل زلزلوں کی بنیادی وجہ ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں ۔ مختلف انڈسٹریز اور مشینوں کے استعمال کی بنا پر زہریلی گیسیں خارج ہورہی ہیں۔ ا ن گیسوں کی وجہ سے اوزون متاثر ہورہی ہے۔ اس کی بنا پر زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیرز پگھل رہے اور سمندر کی سطح بلند ہورہی ہے۔ اللہ نے گلیشیرز اور سمندر کے اپنی میں ایک توازن رکھا ہے ۔ لیکن اس عمل سے گلیشیرز کے نیچے کی زمین کا بوجھ ہلکا اور سمندروں کی نیچے کی زمین کا بوجھ بھاری ہورہا ہے۔ اس تبدیلی کی بنا پر زمین کی تہہ میں پلیٹیں سرکنے کا عمل نہ صرف تیز بلکہ شدید تر ہوگیا ہے۔ لہٰذا زلزلوں کی تعداد اور شدت میں نہ صرف اضافہ ہوگیا بلکہ مستقبل میں اس عمل کے عمل مزید تیز ہونے کا اندیشہ ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو انسان بحیثیت مجموعی ماحول کو خراب کرنے کا قصور وار اور زلزلوں کے آنے کا سبب بن رہا ہے۔ بالخصوص اس وقت جب اسے ان سب باتوں کا علم ہے۔
2. کیا زلزلہ آنے میں اللہ تعالی کا بھی براہ راست کنٹرول ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ کے دنیا میں اپنا فیصلہ نافذ کرنے کے ہمارے علم کے مطابق دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالی اسباب و علل کے ذریعے یہ سار ا کام کرواتے ہیں۔ مثال کے طوراگر ایک شخص اگر اونچی عمارت سے چھلانگ لگائے گا تو زخمی کا ہلاک ہوجائے گا۔اس تکلیف کا سبب کشش ثقل یعنی زمین کے کھنچنے کی قوت کو مدنظر نہ رکھنا ہے۔ اللہ کا دوسرا طریقہ اسباب و علل سے ماورا کسی بھی نتیجے کا ظہور ہے جیسا بالعموم معجزات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے مثال کے طور پر حضرت ابراہیم کے لیے آگ کا گلزار بن جانا۔ یا جیسے پیغمبر کے مخاطبین کو انکار کی صورت میں آسمان سے عذاب نازل کرکے فنا کردیا جانا۔نتیجہ خواہ اسباب کے ذریعے برآمد ہو یا اسبا ب سے ماورا، چونکہ دونوں کام اللہ کی براہ راست یا بالواسطہ اجازت ہی سے ہورہے ہوتے ہیں اسی لیے دونوں ہی کو اللہ کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔
اگر ماضی کو دیکھا جائے تو بظاہر یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالی عام طور پر پہلے ہی طریقے کو اختیار کرتے اور امور کو اسباب و علل کے تحت ہی ہونے دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ آپ قادر مطلق ہیں تو آپ اسباب کے پابند نہیں۔ آپ جب چاہیں اسباب کے بالکل برخلاف نتیجہ برآمد کرسکتے اور اپنا فیصلہ نافذ کرسکتے ہیں۔
جہاں تک قدرتی آفات بالخصوص زلزلے کا تعلق ہے تو یہ عام طور پر اسباب کے تحت ہی ہورہے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالی ٰ ہر قسم کی آنے والی آفت سے نہ صرف پوری طرح باعلم ہوتے بلکہ اپنی حکمت کے لحاظ سے اس کی شدت، ڈائریکشن ، وقت اور کیفیت کا تعین یا تبدیلی کے عمل کو مانیٹر کررہے ہوتے اور اس کے نتائج کو یکسر تبدیل کرنے پر مکمل طور پر قادر ہوتے ہیں۔
چنانچہ زلزلے خواہ اللہ کی اسباب و علل کی اسکیم کے تحت آئیں یا اللہ کی براہ راست مداخلت کے ذریعے، دنوں ہی من جانب اللہ ہوتے اور دونوں ہی اللہ کے براہ راست کنٹرول اور علم میں ہوتے ہیں۔
3. کیا زلزلہ اللہ کا عذاب ہوتا ہے؟
اس پر دو مکاتب فکر ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔ روایتی مذہبی علما عام طور پر ہر قسم کی قدرتی آفت کو اللہ کے عذاب سے تعبیر کرتے ہیں۔اس پر ناقدین یہ تنقید کرتے ہیں کہ اگر یہ اللہ کا عذاب ہے تو زیادہ تر غریب ملکوں، کمزور مکانوں میں رہنے والے لوگوں پر کیوں آتا اور امریکہ و برطانیہ پر کیوں نہیں آتا۔ چنانچہ یہ لوگ تباہی کے مادی اسباب تلاش کرتے ہیں ۔ دوسری جانب قرآن میں موجود عذاب کی آیات کو یہ گروہ رسول کے ساتھ خاص کرتا ہے ۔ ان کے نزدیک وہ عذاب جو قوموں پر نازل ہوتا تھا وہ اتمام حجت کے بعد ہوتا تھا جب رسول کی قوم اسے ماننے سےانکار کردیتی تھی۔ ان کے نزدیک آج کل کی قدرتی آفات کا اس عذاب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قدرت آفات آزمائش کے پہلو سے آتی ہیں۔
4. ان دونوں گروہوں میں سے کس کی بات درست ہے؟
یہ بات درست ہے کہ قدرتی آفات اسباب و علل کے تحت بھی آتی ہیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ رسول کی قوم پر جو عذاب نازل ہوتا تھا وہ اسبا ب علل کے تحت نہیں بلکہ اللہ کی براہ راست مداخلت کے تحت نازل ہوتا تھا۔ یہ بات بھی درست معلوم ہوتی ہے کہ ان قدرتی آفات کا معاملہ آزمائش ہے جس سے متاثر ہونے والوں کا کام صبر کرنا اور بچ جانے والوں کا کام شکر کرنا ہے۔
یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ عذاب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک عذاب تو اتمام حجت کے طور پر آتا ہے جس میں رسول کی مخاطب قوم کو فنا کردیا جاتا ہے۔ دوسرا عذاب تنبیہہ کے لیے آتا ہے جس میں قوم کے کچھ حصے کو فنا اور کچھ کو باقی رکھا جاتا ہے۔ یہ دوسری قسم کا متنبہ کرنے والے عذاب کے لیے رسول کا ہونا لازمی نہیں اور یہ کبھی بھی کہیں بھی آسکتا ہے۔ چنانچہ یہ بات بھی درست ہے کہ کسی بھی قوم پر قدرتی آفات کا عمل جہاں مادی اسباب و علل کے تحت ہوتا ہے وہاں اخلاقی انحطاط بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔ چنانچہ زمین میں فساد پھیلانے کی صورت میں اللہ تعالی اس قوم کو عذاب میں مبتلا کرسکتے ہیں۔ اس کا ثبوت سورہ روم کی یہ آیت ہے:
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ 41؀
بحر و بر میں فساد پھیل گیا ہے جس کی وجہ لوگوں کے اپنے کمائے ہوئے اعمال ہیں ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کچھ اعمال کا مزا چکھا دے۔ شاید وہ ایسے کاموں سے باز آجائیں۔ (الروم ۴۱:۳۰)
اس آیت کی تفسیر میں مولانا مودودی لکھتے ہیں:
یہ پھر اس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ “لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی” سے مراد وہ فسق و فجور اور ظلم و جور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کردینے سے لازما انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے۔ “شاید کہ وہ باز آئیں” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی آخرت کی سزا سے پہلے اس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں، بلکہ بعض اعمال کا برا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اس عقیدہ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء علیہم السلام ہمیشہ سے انسان کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں، جس کو اختیار کرنے کے سوا انسانی اعمال کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے ۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، التوبہ، آیت 126۔ الرعد آیت 31۔ السجدہ 21۔ الطور 47۔(تفہیم القرآن ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 64)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی حکمت کے مطابق مختلف اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی پر تنبیہ کے لیے عذاب نازل کرتے رہتے ہیں اور ا س کے لیے کسی رسول کا ہونا لازم نہیں۔ ان اخلاقی خلاف ورزیوں میں سر فہرست اللہ کے بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی یا اس میں کوتاہی ہے۔ مثال کے طور پر زلزلے کے کیس میں ماحولیات کو آلودہ کرنا اور زلزلے سے بچنے کے لیے مادی اقدامات نہ لینا ایک بڑی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اخلاقی جرائم میں شرک، انکارآخرت، مادہ پرستی ، جنسی بے راوہ روی، معاشی جرائم وغیرہ وہ برائیاں ہیں جس کی بنا پر اللہ تنبیہہ کرنے کے لیے عذاب نازل کرسکتے ہیں۔
5. زلزلہ میں کیا حکمت پوشیدہ ہوسکتی ہے ؟
اس میں تنبیہہ، ناراضگی، وارننگ، آزمائش، دلوں کو نرم کرنا، خدا کی جانب لوگوں کو متوجہ کرنا، آخرت کے زلزلے سے خبردار کرنا جیسے بےشمار پہلو شامل ہوتے ہیں۔یعنی اگر یہ عذاب ہے تو اس عذاب میں قوم فنا نہیں ہوتی بلکہ کچھ لوگوں کو موت دے کر باقی لوگوں کو اس سے سبق حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ جن لوگوں کی جان اور مال اس آفت سے متاثر ہوتے ہیں اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ گناہ گار لوگ ہی ہوں۔ ان میں سے زندہ بچ جانے والے متاثرہ لوگوں پر صبر کا امتحان لاگو ہوجاتا جبکہ متاثر نہ ہونے والے لوگوں پر شکر کے امتحان کے تقاضے لاگو ہوجاتے ہیں۔
6. زلزلہ میں مزید کا پہلو پوشیدہ ہوسکتے ہیں؟
اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کی قدرتی آفات بالخصوص زلزلے میں کئی دیگر پہلو بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس قسم کی آفت اللہ کی ناراضگی کو ظاہر کرتی ہے۔لیکن ضروری نہیں کہ یہ ناراضگی مذہبی طور پر بیان کیے جانے والے چند گنے چنے گناہوں کے ارتکاب پر ہی ہو۔ یہ ناراضگی ماحولیات کو تباہ کرنے کے حوالے سے بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی ، قرآن کی خلاف ورزی، فطرت کی تعلیمات سے انحراف ، شرک کا ارتکاب، قول و فعل میں تضاد علما کی بدکاریوں پر خاموشی اور دیگر برائیاں بھی اس ناراضگی کا سبب ہوسکتی ہیں۔
زلزلہ کی آفت ایک قسم کا الارم بھی ہے کہ انسان نے اپنے ماحولیاتی نظام کی اگر اصلاح نہ کی تو یہ آفتیں بڑھ جائیں گی اور یہ اضافہ زمین پر سے زندگی کے خاتمے تک بھی جاسکتا ہے۔اس کا ایک اور پہلو تنبیہہ بھی ہے۔ انسان عام طور پر چیزوں کو فارگرانٹڈ لیتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ آسمان و زمین کی ساری نعمتیں اس کا حق ہیں۔چنانچہ اس نعمت میں کمی کرکے یہ بتادیا جاتا ہے کہ یہ حق نہیں بلکہ خدا کی جانب سے انعام ہے۔ خدا س بات پر قادر ہے کہ جب چاہے زمین کو نیچے سے ہلادے یا آسمان سے آگ برسادے۔ اس کا ایک پہلو شکر و صبر کا امتحانی ماحول پیدا کرنا ہے۔
7. اللہ تو خیر مطلق ہیں اور اپنے بندوں تو زلزلہ جیسا شر کیوں ظہور پذیر ہوتا ہے ؟
اللہ خیر مطلق ہیں۔ وہ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہیں اسی لیے وہ انہیں بے راہ روی کا شکار دیکھ کر انہیں اس کیفیت سے نکلنے کا موقع دیتے ہیں۔ اس کا ایک طریقہ شاک ٹریٹمنٹ ہے۔ اس کے ذریعے بندوں پر کئی حقائق آشکار ہوتے ہیں۔ بندہ اگر فراست کی نگاہ سے دیکھے تو وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا کی نعمت عارضی ہے، یہاں کا ملنا ملنا نہیں اور کھونا کھونا نہیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ اسی طرح ایک دن سب تباہ ہوجائے گا۔ جب وہ ان حقائق کو جانتا ہے تو لامحالہ خدا کی جانب رجوع کرتا اور آخرت کی اصل زندگی کی وہ نعمتیں اپنے نام بک کرلیتا ہے جن کے سامنے دنیا کی یہ مصیبتیں کچھ بھی نہیں۔
8. اس آفت میں اللہ سے رجوع کرنے کی انفرادی صورت کیا ہے؟
زلزلہ چونکہ اجتماعی معاملہ ہے اس لئے اس معاملے میں انفرادی ہی نہیں اجتماعی طور پر اللہ سے رجوع کرنا لازمی ہوتا اور اس کے معلوم اسباب کی روک تھا م ضروری ہوتی ہے۔ اس کے لیے درج ذیل انفرادی و اجتماعی اقدام کرکے اللہ سے رجوع کیا جاسکتا ہے:
۱۔ سب سے پہلے تو ہم میں سے ہر شخص اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لے کہ ہم وہ کون سے کام ہیں جو خدا کی نافرمانی میں کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ خدا کے احکامات انسان کو صرف عبادات ہی میں نہیں بلکہ معاشرت، معیشت، اخلاقیات، خوردو نوش، اخلاقیات اور دیگر امور میں بھی ملے ہیں۔ نیز تمام احکامات کا ماخذ علمائے مذہب نہیں بلکہ اللہ کی بنائی ہو ئی فطرت اور وحی ہے۔ اس لیے ہم میں سے ہر شخص ان کوتاہیوں کا جائزہ لے کر ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھالے ۔
۲۔ اس بیڑا اٹھانے کے لیے زبانی استغفار ، توبہ اور معافی کا کلمات کسی بھی زبان میں ادا کرنا ایک اچھا اقدام ہے جس سے انسان کی نیت کا پتا چلتا ہے۔
۳۔ زبان سے اقرار کے بعد اسے عمل میں ڈھالنے کی پوری کوشش کی جائے۔ کیونکہ عمل کے بغیر محض بات کرنا خودفریبی اور منافقت کو جنم دے سکتا ہے۔
۴۔ زلزلے کا نفسیاتی اثر ختم ہوجانے کے بعد بھی اللہ کو یاد رکھنا اور رجوع کے عمل کو جاری رکھنا ہی اصل مومن کی پہچان ہے۔ بھول جانے والوں کے لیے ممکن ہے اگلا زلزلہ تنبیہہ نہ ہو بلکہ موت کا پیغام ہو۔

9. اجتماعی سطح پر توبہ و استغفار کے لیے کیا اقدام کرنے چاہیں؟
سب سے پہلے وہ اسباب معلوم کرنے چاہئیں جس کی بنا پر یہ سب کچھ وقوع پذیر ہوا۔ اس کے بعد اس کے سد باب کے لیے حکومت، میڈیا، عدلیہ اورا نتظامیہ مل کر کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں۔
دوسرا کام ان اخلاقی برائیوں کا خاتمہ ہے جن کی بنا پر اللہ تعالی کی ناراضگی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان برائیوں میں صرف مشہور زمانہ چند گناہ جیسے زنا، بے پردگی، شراب نوشی، سود ، فحش موسیقی ہی شامل نہیں۔ اجتماعی گناہوں میں ملاوٹ ، دھوکے بازی، چوری، ڈاکہ زنی، کرپشن، جھوٹ، نمود و نمائش، مذہبی تعصب، فرقہ بندی، قتل و غارت گری اور منافقت ، قرآن کو چھوڑدیناجیسی برائیاں بھی شامل ہیں۔ ان سب پر بھی میڈیا ، سماجی راہنما، سلجھے ہوئے مذہبی علما اور حکومت کا کام کرنا لازمی ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے اجتماعی توبہ اور استغفار کی جاسکتی ہے۔ باقی سارے طریقے محض زبانی دعوے اور خانہ پری ہی ہیں۔
پروفیسر محمد عقیل
۲۷ اکتوبر ۲۰۱۵
۱۳ محرم الحرام ۱۴۳۷ ہجری