پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

قربانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Sep 24, 2015

بقرہ عید کا دن اللہ تعالی نے یوں تو حاجیوں کے لئے رکھا ہے لیکن حاجیوں سے مشابہت کے لئے اسے پوری امت کے لئے عید بنادیا۔ ہم حاجیوں سے مشابہت ہی کے لئے قربانی کرتے ناخن بڑھاتے اور بال کاٹنے سے گریز کرتے ہیں لیکن ہم باقی چیزوں کو بھول جاتے ہیں۔ دیکھئے قرآن حاجیوں کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ یہی ہم پر لاگو ہوتا ہے:

فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا ۭ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ٢٠٠؁
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ٢٠١؁

پھر جب تم مناسک ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ کو ایسے یاد کرو جیسے تم اپنے آباؤ اجداد کو یاد کیا کرتے تھے یا اس سے بھی بڑھ کر۔ پھر لوگوں میں کچھ تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں : ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں سب کچھ دنیا میں ہی دے دے۔” ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں : ”اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی۔ اور ہمیں [٢٧٢] دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔”

ییہاں اللہ نے واضح طور پر کہہ دیا کہ اللہ کو بہت زیادہ بلکہ سب سے زیادہ یاد کرو۔ غور کیجے کیا ہم اللہ کو یاد کرتے ہیں یا قربانی کے بعد کھانے پینے ہی سے فرصت نہیں۔ اللہ کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہی نہیں کہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کیا جائے۔ ہم جب کسی گائے یا بکرے کو دیکھیں تو غور کریں کہ کیسے گوشت کے پہاڑ اللہ نے ہمارے لئے پید اکردئیے۔ ہم کھانا پکتا ہوا دیکھیں تو اس کی مہک پر غور کریں کہ وہ خدا کتنا مہربان ہے جس نے ہ صرف بھوک کا تقاضا پیدا کیا بلکہ اسے احسن طریقے سے پورا کیا۔ ہم جب کھانا کھائیں تو خدا کی صفات پر غور کریں کہ وہ رحیم ہے ، رحمان ہے، رب، ودود، حلیم، کلیم ہے ۔
ذرا اوپر کی لائین کو غور سے پڑھیں۔ یہ آیت بتا رہی ہے جو کھانے پینے ہی کو مقصود بنا بیٹھے تو ٹھیک ہے دنیا میں لذت تو مل جائے گی لیکن آخرت میں کوئی حصہ نہ ملے گا۔ لیکن کتنا اچھا ہوگا وہ کھانا اور کتنی اچھی ہوگی وہ قربانی جو ہمیں اس دنیا میں بھی لذت دے اور جس کی مہک روز حشر میں بھی محسوس ہو۔ بس خداوند کی حمد کریں، اس کی تکبیر بیان کریں، اس کے چرچے کریں، اسی کے گن گائیں ، اسی کی باتیں کریں کیونکہ وہ واقعی عظیم ہے۔
اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر واللہ اکبر وللہ حمد۔ اللہ اکبر کبیرا، والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا۔
پروفیسر محمد عقیل


شوہر پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

انسانی شخصیت اور معاشرے کے لیے جو منفی رجحانات نقصان دہ ہیں ان میں بد گمانی بلاشبہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو انسان کی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک بے سکوینی، جھگڑے اور فساد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔بدگمانی اپنے دل میں کسی کے بارے میں بری سوچ رکھنے کو کہتے ہیں۔
ہماری خاندانی زندگی بدگمانی کا ایک سب سے اہم شکار شوہر ہوتا ہے ۔ عام طور پر خواتین اپنے شوہروں پر کئی پہلووں سے شک کرتی ہیں لیکن سب سے اہم پہلو یہی ہوتا ہے کہ یہ کسی دوسری عورت میں تو دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس بدگمانی کے بے شمار نفسیاتی، جذباتی ، واقعاتی یا دیگر اسباب ہوسکتے ہیں۔
خواتین کو یہ شک سب سےپہلے شوہروں کے رویے سے ہوتا ہے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں مرد کا رویہ بے حد رومانوی (Romantic)ہوتا ہے لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ رومانویت کی اس کمی سے بیوی کے دل میں یہی بات پیدا ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے یا ابتدائی دنوں میں تو یہ جان نچھاور کرتے، محبت کا اظہار کرتے اور مجھ سے خوب باتیں کرتے تھے، اب یہ بدل گئے ہیں۔ ضرور کوئی چکر ہے۔ بس یہ چکر کا خیال آتے ہیں چکر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہیں سے بدگمانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
ایک اور اہم سبب شوہر کا تاخیر سے گھر آنا ہے۔دفتری یا کاروبای مصروفیات کی بنا پر مرد حضرات تاخیر سے گھر آتے ہیں۔ عام طور پر بیویوں کو شک ہوتا ہے کہ کیا معاملہ ہے۔ پھر شوہر تھکے ماندے گھر واپس آتے ہیں اور عام طور پر باتیں نہیں کرتے۔بیوی جو سارا دن اس کا انتظار کرتی رہتی ہے اپنے پورے دن کی کتھا سنانے کے درپے ہوتی ہے۔
شوہر عام طور پر کوئی دلچسپی نہیں لیتے یا پھر صرف ہاں ہوں کرکے بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر مرد ویسے بھی خواتین کے مقابلے میں کم گو ہوتے ہیں۔ یہاں بھی بیوی میں بدگمانی پید اہوتی ہے کہ میری تو کوئی اہمیت نہیں ، کوئی اوقات نہیں وغیرہ۔ یہاں سے ایک خود ساختہ بے چارگی، احساس کمتری، شک اور دیگر گمانوں کی ایک چین شروع ہوجاتی ہے۔
بدگمانی کی ایک اور ممکنہ وجہ شوہر کی آزاد خیالی ، کھلا مزاج یا ڈبل اسٹینڈرڈہوتا ہے۔شوہر کا دیگر خواتین سے بات چیت کرنا، ان کے ساتھ ہنسنا بولنا، ان سے اچھی طرح بات چیت کرنا ایک بیوی کو بہت برا لگتا ہے ۔ یہاں سے بھی بدگمانی پیدا ہوتی ہے ۔ عورت خود کو کمتر سمجھتی اور شوہر پر مختلف طریقوں سے شک کرتی ہے۔
یہاں عین ممکن ہے کہ شوہر کی غلطی ہو اور اس کا رویہ نامناسب ہو لیکن اس کی نیت کسی عورت میں دلچسپی کا نہ ہو۔ اس صورت میں کی گئی بدگمانیاں سرد جنگ کو جنم دیتیں، لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی اور بعض اوقات علیحدگی کا سبب بھی بن جاتیں ہیں۔
یہ ضروری ہے ہم اپنے دماغ کو خود کے ہی قائم کردہ بے بنیاد مفروضات کی زنجیر نہ لگائیں بلکہ حسن ظن قائم رکھتے ہوئے اپنے معاملات حسن انداز میں طے کریں ۔بدگمانی و شک ایک ادھورا علم ہوتا ہے اور ادھورے علم کی بنیاد پر زندگی کی عمارت تعمیر کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل


مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی
کسی بھی نارمل انسان کی زندگی میں یہ ممکن نہیں کہ کسی سی اس کا تنازعہ نہ ہو۔ ہر انسان کی طبیعت ، ، پسند نا پسند اور فطرت مختلف ہو نے کی وجہ سے زندگی میں ایسے بے شمار مرحلے آتے ہیں جب اس کا کسی نا کسی سے اختلافِ رائے ہو جاتا ہے۔ خواہ یہ اختلافِ رائے سیاسی اکھاڑے میں ہو، مذہبی مناظرے میں ہو، دوستوں کی محفل میں ہو یا خانگی زندگی میں ہو۔
جب کبھی تنازعہ پیش آئے تو ہمیشہ لوگ کہتے ہیں کہ “اُس نے میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی” دونوں فریقین یہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس نے دوسرے کی بات سمجھنے کی کتنی کوشش کی۔ ہماری ساری زندگی اپنی بات منوانے کے چکر میں گذر جاتی ہے۔ ہم کسی اور کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ذرا سو چیے اللہ نے ہمیں دو کان اور ایک زبان کیوں دی ہے۔زیادہ سننے اور کم بولنے کے لیے۔کسی کی بات نا سننے اور نا ماننے کے حوالے سےہمارے رویے کے کئی عوامل ہو سکتے ہیں مثلاً :
1. ذاتی عناد
2. انا
3. کم علمی
ذاتی عناد جب کسی جھگڑے کی بنیاد بنتا ہے تو ہم اپنی دشمنی کی وجہ سے کسی کی کوئی بات ماننے کے لیے اس لیے تیار نہیں ہوتے کیوں کہ وہ “ہمارے دشمن” نے کی ہو تی ہے۔یہاں ایک نفسیاتی رکاوٹ حائل ہو جاتی ہے جو ہمیں عقلیت پر مبنی فیصلے نہیں کرنے دیتی۔ تنازعہ کے حل میں حائل ایک اور رکاوٹ ہماری انا ہوتی ہے۔ہمارا نفس ہمیں اکساتا ہے کہ کسی کی بات مان لینے میں ہماری سبکی ہو گی ۔ لوگ کیا کہیں گے کہ میں نے ان کی بات مان لی۔ میرا سر جھک جائے گا۔اور ہماری انا خود ہماری راہ میں آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسی مسٔلے کے حل میں رکاوٹ کی ایک تیسری بڑی وجہ کم علمی ہے۔ ہمیں اکثر بات پوری طرح پتہ نہیں ہوتی اور ہم اپنی کم معلومات پر ہی کسی چیز، واقعہ یا شخص کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں ؛ اور یہ رائے کم معلومات کی بنا پر صحیح نہیں ہوتی مگر ہم اُسے درست سمجھ کر اس کے دِفع میں اپنی ساری توانائی صرف کرتے ہیں۔
ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ہماری بات مانیں، ہماری بات سنیں، ہمارے طریقے پر چلیں اور اس طرح ایک سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ میرا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس فریقِ ثانی کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے اور ایک دوسری سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ اس کا طریقہ ہے۔ اور ہر ایک اپنے طریقے کو منوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین پر جذبات غالب رہتے ہیں۔اور جذبات کی اس آگ کو ہمارا نفس ہوا دیتا رہتا ہے۔ اپنی دشمنی کی وجہ سے، اپنی انا کے ہاتھوں سے مجبور اور اپنی کم علمی کی بنا پر ہم کسی تنازعہ کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔
ایسے میں ہمیں ایک ایسے طریقے کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ تو اس کا طریقہ ہوتا ہے نہ میرا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ طریقہ جو ہمیں مسائل کے حل کی طرف لے کر جاتا ہو وہ نہ تو کسی کی خواہشات پر مبنی ہوتا ہو نہ جذبات پر۔ ایسے طریقہ کی بنیاد اصولوں پر ہوتی ہے۔اصول بھی وہ جو time tested ہوں اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں جن اصولوں کی پاسداری کرنے کے لیے کہتا ہے ان کو اگر زمان ومکان کی کسوٹی پر پرکھیں تو یہ اصول کھرے ثابت ہوتے ہیں۔کسی بھی زمانے میں کسی بھی جگہ ، آج سے ایک ہزار سال پہلے مغرب میں یا مشرق میں۔ ان اصولوں میں ایک universality ہے۔ان اصولوں پر مبنی طریقہ ایک بہتر طریقہ ہے۔

مصنف: شمیم مرتضی


شب قدر اور فرشتے سے مکالمہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jul 12, 2015

شب قدر اور فرشتے سے مکالمہ
سلیم کی آنکھ نماز پڑھتے پڑھتےآنکھ لگ گئی۔ اچانک اس نے خواب میں دیکھا کہ آسمان چاروں طرف سے فرشتوں سے بھرا ہے۔ جو ق درجوق فرشتے آسمان سے اترتے چلے جارہے ہیں۔ کچھ فرشتے نیچے اترنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں ۔ دو فرشتے اس کے قریب سے گذرے تو اس نے سوچا کہ ان کی باتیں سنی جائیں۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ ہولیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ آج کی رات پرورردگار عالم نے اہم فیصلے کرنے ہیں اور لوگ ہیں کہ انہیں پڑھنا جاری رکھیں »


شب برات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Jun 3, 2015

ہماری سوسائٹی میں شب برات پر دو مکاتب فکر ہیں۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ شب برات نجات کی رات ہے، اس رات لوگوں کے نامہ اعمال اللہ کے حضور پیش ہوتے ، ان کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا، ان کے جینے مرنے کا تعین ہوتا ، لوگوں کو جہنم سے آزادی دی جاتی ہے۔ چنانچہ اس رات کی عبادت بہت افضل ہے اور اس رات قبرستان جانا چاہئے اور نوافل و اذکار کثرت سے کرنے چاہئیں۔
دوسرا گروہ اس رات کی مذہبی حیثیت کو چلینج کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس رات کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس رات کی بنیاد ضعیف احادیث پر ہے اور اس کے فضائل مستند نہیں۔ چنانچہ یہ گروہ اس رات کو بااہتمام منانے اور اجتماع کرنے کو بدعت مانتا اور اس کے تمام فضائل کو باطل قرار دیتا ہے۔
اس بارے میں ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے جو غیر معروف لیکن حقیقت سے قریب تر ہے۔ اس مکتبہ فکر جو چیزیں دین میں مباح یعنی جائز ہیں وہ سب کی سب اس رات میں جائز رہیں گی اور جو چیزیں ناجائز ہیں وہ اس رات کی بنا پر جائز نہیں ہوجائیں گی۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس رات کو عبادت کرتا، نفل پڑھتا، قرآن کی تلاوت کرتا، ذکرو اذکار کرتا یا اور کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا ہے تو اسے کسی طور اس بنا پر ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ شعبان کی مخصوص رات کو یہ کام ہورہا ہے۔
دوسری جانب لاؤڈ اسپیکر پر نعتیں پڑھ کر لوگوں کی نیندیں حرام کرنا، پٹاخے اور آتش بازی سے پڑوسیوں کا سکون غارت کرنا، روحوں کو حاضر کروانا، مزارات پر سجدہ کرنا ، قبروں میں چلہ کشی کرناکسی بھی رات میں جائز نہیں تو اس رات میں کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔


وجودِ زن کے مصنوعی رنگ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Oct 8, 2014

عورت کا وجود نوعِ انسانی کی بقاکے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مردوں کا۔ عورت بہن‘ بیٹی اور بیوی کے روپ میں ایک نعمت ہے ۔ سب سے بڑھ کر وہ ایک ماں ہے جس کی آغوش ایک نومولود کی طبعی ضروریات ہی پورا نہیں کرتی بلکہ اس کی نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ لہٰذا ایک ماں کی گود سے ایک بچہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ دنیا کی اعلیٰ ترین درسگاہ بھی فراہم نہیں کر سکتی۔<!–more–> اگر ماں خدا کو بھگوان کے روپ میں پیش کرے تو بعد میں اس بھگوان سے خدائے حقیقی تک پہنچنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا ہے۔ ایک بچہ خیروشر، شرک و توحید اور جبر و قدر جیسے دقیق موضوعات سے لے کر صبروقناعت‘ سادگی و حیا اور فقر و استغنا جیسے عملی مسائل پر ابتدائی تعلیم ماں ہی سے حاصل کرتا ہے۔
علم کی اس اولین درسگاہ کا اپنا قبلہ ہی درست نہ ہو تو قدرت کے فطری نقشہ میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس بگاڑ کا عملی نمونہ کبھی دنیا ہٹلر‘ میسولینی اور چنگیزخان کی شکل میں انفرادی سطح پر دیکھتی ہے تو کہیں اجتماعی سطح پر قوم لوطؑ ‘ قوم عاد ؑ اور ثمود کی صورت میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے۔خواتین کی طبیعت میں کئی پہلوؤں سے بگاڑ پیدا ہوسکتاہے مگر اس تحریر میں ہم صرف ایک خاص چیز کی طرف توجہ دلارہے ہیں یعنی نمود و نمائش کے جذبے میں حد سے بڑھ جانا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ عورتوں میں نمود و نمائش کا جذبہ مردوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ اگر اپنی حدود میں رہے تو دنیا کے حسن میں اضافہ کرتا ہے اور اگر ان قیود سے ماورا ہو جائے تو فساد برپا کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کی نمود و نمائش کے بے شمار پہلو ہیں لیکن ان کاسب سے نمایاں اظہار ملبوسات اور زیورات کے ذریعے سے ہوتا ہے۔
جہاں تک لباس کا تعلق ہے تو اس کا بنیادی مقصد سترپوشی ہی نہیں بلکہ زینت و آرائش بھی ہے بشرطیکہ اس میں اسراف نہ ہو ۔لیکن اگر ہم خواتین کے طرز عمل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مطمح نظر اکثراس سے مختلف ہوتاہے۔ اکثر خواتین ملبوسات کو مقابلے کے جذبے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ کسی لباس کو زیب تن کر لیا جائے تو دوسری تقریب کے لیے وہ شجرِ ممنوعہ بن جاتا ہے۔ پھر اگر کوئی یہ بدعت کر بھی لے تو اسے غربت کے طعنے دے کر راہِ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لباس جتنا مہنگا ہو، اتنا ہی خاتون کے اعلیٰ ذوق اور اسٹیٹس کا عکاس سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب زیورات کا شوق بھی خواتین کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ سونا جو کہ انتہائی بے مصرف دھات ہے خواتین ہی کی وجہ سے انتہائی قیمتی بنا ہوا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اسٹیل کی چوڑیاں پہننا عار اور سونے کی چوڑیاں پہننا وقار سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں محض دھاتیں ہیں۔ سونے کی قدروقیمت کا تعلق قدیم ترین نفسیات سے ہے۔ چنانچہ یہ زیورات تالوں میں بند الماریوں میں پڑے رہتے ہیں ۔ اگر کبھی خواتین سے یہ کہا جائے کہ ان زیورات کو کسی منافع بخش مصرف میں استعمال کیا جائے تو ان کے لیے یہ بات بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔
خواتین اسی نمود و نمائش کے جذبے کے تحت تقاریب کو رونق بخشتی ہیں۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے لیے نت نئے لباس پہنے جاتے ہیں۔ منفرد نظر آنے کی خواہش میں لاکھوں روپے کے زیورات بنوائے جاتے ہیں اور پھر اسے مووی میں محفوظ کرکے امر کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اسی طرز عمل کی بناء پر آمدنی کے ناجائز ذرائع کو فروغ ملتا ہے۔ کرپشن پیدا ہوتی ہے۔ سادگی کی جگہ تصنع و بناوٹ آجاتی ہے۔ معصومیت کی بجائے چالاکی پیدا ہوتی ہے۔ ہمدردی کی بجائے حسد گھر کر لیتا ہے۔یوں انسانیت کی یہ عظیم ترین درسگاہ بگاڑ کا شکار ہو کر ایک بڑے بگاڑ کو جنم دینے کا سبب بن جاتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ خواتین یہ فیصلہ کریں انہیں اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اس جھوٹی شان و شوکت کی ختم نہ ہونے والی جدوجہد میں جھونک دینا ہے یاانہیں سادگی اور وقار کا درس دینا ہے ۔ کیونکہ سادگی ہی وہ راستہ ہے جس کے ساتھ کسی شخص کو اپنی شخصیت کی تکمیل کے لیے ظاہری سہاروں کی ضرورت نہیں رہتی۔

از پروفیسر محمد عقیل


عورتوں کو دیکھنا!… ایک مرد دوست کا مشورہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 13, 2014


کبھی نہ کبھی تو مجھے اپنے ناتجربہ کاردوست سے یہ بات کرنا ہی پڑے گی۔لیکن ایسے نہیں۔ میں موقع کی تلاش میں ہوں۔ کسی ایسے وقت میں جب اس کی بے باک بھری نظریں وہی کر رہی ہوں جو مردوں کی آنکھیں بخوبی کر لیتی ہیں… یعنی اپنی خواہش کے ہدف کا تعاقب۔ جگہ کوئی بھی ہو سکتی ہے جیسےسمندر کے کنارے یا کسی شاپنگ مال میں۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔ ۔ ۔ البتہ مجھے پتا ہے کہ ایسا وقت آنے والا ہے جب مجھے اپنے پڑھنا جاری رکھیں »


اعتقاد کی سند

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Mar 23, 2014


اعتقاد کی سند
میں چند دن قبل اپنے دوست سے ملنے گیا ۔ کافی دنوں بعد ملاقات ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے پتے میں کافی عرصے سے درد ہے۔ اور وہ ایک دن پتے کا آپریشن کرانے کے لئے ہسپتال میں بھی ایڈمٹ ہوگیا تھا کہ کسی صاحب نے کہا کہ کلونجی ہر مرض کی دوا ہے اور یہ بات قرآن و حدیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ اللہ کا کلام کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ بس تم صبح سے سات دانے کلونجی کے کھانا شروع کردو۔
میرے دوست نے ہسپتال سے کوچ کیا اور کلونجی کے پڑھنا جاری رکھیں »


ہم مائیں ، ہم بہنیں ، ہم بیٹیاں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Feb 20, 2014


بنت اعظمی
سامعہ ایکٹنشن پر اپنی بھابھی کی باتیں سن رہی تھی جو کسی آدمی سے فون پر بات کررہی تھی۔ دونوں کے لہجے میں بڑی لگاوٹ تھی، یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے پر مر مٹیں گے۔ سامعہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔
اچانک وہاں سے مرد کی آواز آئی:
” اچھا تو بتاؤ کب مل رہی ہو؟”
پڑھنا جاری رکھیں »


ویلنٹائن ڈے اور محبوب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Feb 14, 2014


ایک مرتبہ اشفاق احمد اور ان کی اہلیہ بانو قدسیہ میں بحث چھڑ گئی کہ “محبوب ” کی تعریف کیا ہے۔ دونوں کافی
دیر تک بحث کرتے رہے یہاں تک کہ رات ہوگئی اور وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے۔ چنانچہ دونوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے استاد کے پاس چلتے ہیں اور ان سے دریافت کرتے ہیں۔ وہ جب استاد کے پاس پہنچے تو وہ کھانا پکا رہے تھے۔ دونوں نے ان سے دریافت کیا :” حضرت یہ بتائیے کہ محبوب کسے کہتے ہیں”۔ استاد نے فرمایا:
پڑھنا جاری رکھیں »