پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 2, 2017

نفاق کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
نفاق کا مرض اتنا اہم ہے کہ قرآن نے اسے خاص طور پر موضوع بنایا ہے۔ سورہ بقرہ جو قرآن کی دوسری ہی سورہ ہے اس کے دوسرے رکوع میں ہی منافقین کا ذکر ہے اور ان کی کچھ خصوصیات بتائی ہیں۔ اس کے علاوہ قرآن نے جگہ جگہ منافقین کی جانب اشارہ کرکے ان کی نفاق کی علامات، اس کی وجوہات اور اس کا علاج بتایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ توبہ، الحجرات ، سورہ احزاب اور پڑھنا جاری رکھیں »


فیصلہ سازی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 16, 2017

فیصلہ سازی
Decision Making
ایک لطیفہ ہے کہ ایک ڈرائیور کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس نے پچیس لوگوں کو اپنی بس تلے کچل دیا تھا۔ اس سے پولیس آفیسر سے پوچھا:
“آخر تم نے کس طرح پچیس لوگوں پر گاڑی چڑھادی حالانکہ تم دوسری طرف بھی گاڑی کا رخ موڑ سکتے تھے؟”
” سر جی ! میری گاڑی کے بریک فیل ہوچکے تھے میرے دائیں جانب بارات تھی اور بائیں جانب صرف دو افراد ۔ میں نے دو افراد پڑھنا جاری رکھیں »


حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 29, 2017

حق جماعت یا مسلک کی تلاش کس طرح کی جائے؟
ڈاکٹر محمد عقیل
سوال: آج کے دور میں وہ جماعت یا مسلک کس طرح تلاش کیا جائے جو حق پر ہو؟
جواب: بالعموم ہم جب حق کی تلاش کی بات کرتے ہیں توا سے محدود پڑھنا جاری رکھیں »


ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Aug 22, 2016

ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف
عام طور پر جب مذہبی علما سےب اختلاف کی بات کی جاتی اور تحقیق کے بارے میں کہا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ “جس طرح کسی اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے کسی عام شخص کو اختلاف کا کوئی حق نہیں، اسی طرح ایک عام انسان نہ ہی تحقیق کرسکتا اور نہ ہی عالم سے اختلاف کرسکتا ہے۔ اس کے لیے اسی درجے کا عالم ہونا لازمی ہے۔”۔ یہ دلیل جزوی طور درست ہے۔ یعنی علمی طور پر کسی ڈاکٹر سے” علمی اختلاف” کرنے کے لیے ڈاکٹری کا علم ہونا ضرور ہے۔یعنی ایک ڈاکٹر یہ تشخیص کررہا ہے کہ سینے کے درد کی وجہ ہارٹ کا معاملہ ہے اور ایک عام آدمی اپنی ڈاکٹری لڑا رہا ہے کہ نہیں جناب یہ تو گیس کا مرض معلو م ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے پہلو سے یہ بات غلط ہے۔ ایک ڈاکٹر کے اخلاقی پہلو کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر ہونا قطعا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر غلط تشخِیص کررہا ہے، پیسے بنانے کے لیے ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ رہا ہے، بار بار بلانے کے لیے مرض کا درست علاج نہیں کررہا، اور کمیشن کھانے کے لیے کسی خاص میڈیکل اسٹور بھیج رہا ہے تو اس قسم کے ڈاکٹر کی علمیت سے ہمیں نہ کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی علمی اختلاف کرنا ہے۔ ہم تو اس سے عملی اختلاف کرتے ہوئے کنارہ کش ہوجائیں گے اور اس اختلاف کے لیے ڈاکٹر ہونا لازمی نہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہوگا کہ ہم اس ڈاکٹر کے رویے کا جائزہ لیں گے، اس سے کچھ سوالات کریں گے، کچھ لوگوں سے رائے لیں گے اور اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کنارہ کش ہوجائیں گے،
یہی رویہ علما کے لیے بھی مطلوب ہے۔کس عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے ظاہر ہے دین کا ٹیکنکل علم ہونا لازمی ہے۔ لیکن عملی اختلاف کرنے کے لیے صرف کامن سینس کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عالم فرقہ واریت کی دعوت دے رہا، شعیہ سنی کو لڑوارہا،معصوم لوگوں کے قتل کا سبب بن رہا ، اپنے قول سے دنیا پرستی کو حرام اور فعل سے دنیا میں پوری طرح ملوث ہو، زبان سے عورتوں کی آواز کو بھی سننا حرام قرار دیتا ہو اور عمل سے عورتوں کی محفلوں کا رسیا ثابت ہو تو وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کی اس اپروچ سے ہمیں اختلاف ہوگا۔ یہ اختلاف کرنے کے لیے ہمیں درس نظامی سے عالم کا کورس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی جامعہ الازہز سے عالم کی ڈگری لینے کی حاجت۔ جب بھی ہم کسی عالم میں کوئی اس قسم کی عملی برائی دیکھیں گے تو سب سے پہلے تو اس سے بات چیت کریں گے کہ ممکن ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہو یا بات سمجھ نہ آئی ہو، پھر لوگوں سے ڈسکس کریں گے اور اس سب کےباوجود اگر اطمینان نہیں ہوا تواس کی تقلید محض اس لیے نہیں کرنے لگیں گے کہ ہمارے مسلک کے عالم ہیں یا ان عالم کی ہر بات درست ہوگی اور یہ غلطی نہیں کرسکتے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے مطلوبہ علم ہونا لازمی ہے۔ البتہ ایک ڈاکٹر یا مذہبی عالم کے علم پر شک ہونے کی صورت میں تحقیق کرنا لازمی ہے۔ اور ایک ڈاکٹر یا ایک عالم کے عمل میں غلط رویہ ثابت ہونے کی صورت میں دونوں سے دور ہوجانا بھی لازم ہے غلط انتخاب اگر ڈاکٹر کے معاملے میں ہوجائے تو جان کو خطرہ ہے اور اگر عالم کے معاملے میں ہوجائے تو ایمان کو خطرہ ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


خیرو شر کا تعین

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jun 11, 2016

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خیرو شر کا تعین

پروفیسر محمد عقیل

دنیا وی اور دینی دونوں اعتبار سے خیر و شر کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ دنیا میں انسانی معاشروں میں  قانون نام ہی خیر کے نفاذ اور شر سے روکنے کا ہے۔ اسی طرح مذہب بھی آخرت کی نجات خیر کو ماننے اور شر سے بچنے  پر موقوف ہے۔ چنانچہ خیر اور شر کا تعین بہت ضروری ہے۔

عمل صالح یا نیکی اور گناہ کے تعین  کے حوالےسے کئی  نکتہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ نیکی  اور گناہ کے تعین کی واحد منبع  وحی الٰہی ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خیر و شر کے تعین  کی بنیاد انسانی  عقل ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ خیر و شر کا تعین انسان کی فطرت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ ایک اور مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ خیرو شر کا کوئی مستقل وجود نہیں اور یہ انسان اپنے ماحول سے اخذ کرتا ہے۔

۱۔ فطرت

انسان بچپن ہی سے جس معیار سے آشنائی حاصل کرتا ہے وہ فطرت میں ودیعت کردہ الہام ہے جو ہر انسان کے اندررکھ دیا گیا ہے۔ اچھائی اور برائی کا ایک اور معیارانسانی فطرت  و وجدان ہے۔انسانی فطرت پر مبنی علم اس الہام کا نام ہے  جو انسا ن کو خیر و شر کا شعور دیتا ہے، جو اس کے رویے اور اعمال کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے۔

اخلاقی معاملات میں بالخصوص تمام انسان یہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے، زنا کوئی پسندیدہ فعل نہیں، قتل ایک برا عمل ہے وغیرہ۔ لیکن مجرد فطرت کی بنیاد پر خیرو شر کا تعین کیا جائے تو بڑے مسئلے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ کہ  فطرت کو مسخ کرکے ایک  غلط روایت کو بھی فطرت کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر  ہم جنس پرستی کو آج قانونی حیثیت مل گئی ہے  تو کل ہزاروں سال کے بعد  ممکن ہے  اسے فطرت مان لیا جائے۔ نیز فطرت و وجدان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں معاملات کو متعین طور پر بیان کرنا مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ بہت سی باتیں احساسات  پر منحصر ہوتی ہیں۔

جبلت اور فطرت میں فرق

یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی  فطرت اور  حیوانی جبلت میں فرق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اور حیوان میں کچھ تقاضے ایسے ہیں جومشترک ہیں ۔ مثال کے طور پر  بھوک انسان کو بھی لگتی ہےا ور حیوان کو بھی، جنسی تقاضہ انسان کا بھی ہے اور حیوان کا بھی، دفاع انسان بھی کرتا ہے حیوان بھی، اجتماعیت انسان بھی پسند کرتا ہے اور حیوان بھی۔لیکن انسان اور حیوان کی جبلت یا فطرت میں جو چیز حد فاصل ہے وہ اختیار و ارادہ ہے۔ حیوان اپنی جبلت کے تحت مجبور ہے جبکہ انسان اپنے ارادے سے اس جبلت کے خلاف جاسکتا اور اس کے خلاف کام کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک  سبزی خور جانور کبھی گوشت نہیں کھائے ماسوائے چند مواقع کے۔ اسی طرح ایک بطخ کا بچہ پیدا ہونے کے بعد خود بخود تیرنا شروع کردے گا۔ ایک جانور جنسی تقاضا پورے کرنے کے لیے کسی اخلاقی حدود کا پابند نہیں ۔ دوسری جانب ایک انسان غذا کی موجودگی کے باوجود خود کو کھانے سے روکنے پر قادر ہے، وہ جنسی مواقع پاکر بھی آزادانہ اخلاط سے گریز کرسکتا ہے۔

دراصل انسان میں جبلت سے ماورا ایک اور علم موجود ہے اور وہ ہے فطرت کا الہام۔یہ الہام انسان کو خیرو شر کا ایک اضافی علم و شعور دیتا ہے  جو حیوانوں میں  بہت ابتدائی سطح پر ہوتا  ہے۔ حیوانوں کا خیرو شر  زیادہ تر بقا کے تقاضوں  سے متعلق ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ودیعت کردہ الہام کے تحت  جو چیزیں آتی ہیں ان  کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن ان کا تعلق زیادہ تر دنیاوی امور اور باہمی معاملات سے ہوتا ہے۔اس میں لین دین، بات چیت کی حدود، میل ملاپ وغیرہ شامل ہیں۔

۲۔ وحی

فطرت کا الہام ایک خام تصورہے جس میں بہت سی چیزیں  خلط مبحث  کا شکار ہوسکتی ہے۔ نیز انسانی عقل اور فطرت ایک حد کے بعد آکر انسا ن کو راہنمائی دینا بند کردیتی ہے۔ وحی اس سلسلے میں اس نامکمل  علم کو تکمیل تک پہنچاتی اور اس کے خلا کو پورا کرتی ہے۔

مثال کے طور پر فطرت اور انسانی عقل ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ خدا ہے لیکن اس سے تعلق کس طرح قائم کرنا ہے اس بارے میں کوئی خاص راہنمائی نہیں کرتی۔ اسی طرح عقل کہتی ہے کہ ایک دن ایسا آنا چاہیے جب بروں اور اچھوں کو الگ کردیا جائے تو وحی اسے یقین کے ساتھ آخرت کی شکل میں بیان کردیتی ہے۔ وحی یہ سب باتیں تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے جس میں  قیامت، حشر، نامہ اعمال، جنت، جہنم  سب کچھ ایک یقینی علم کے طور پر ہوتا ہے ۔  اسی طرح وحی  فطرت کے ابہام کو دور کردیتی ہے جیسے حیا ایک بنیادی تصور ہے جو فطرت میں پایا جاتا ہے لیکن اس تصور میں کیا توازن پیدا ہو ، اس کا تعین وحی کرتی ہے۔  اسکے علاوہ وحی انسان کے تزکیے کے لیے اصولوں کا تعین کرتی ہے۔ وہ خدا کی شریعت دیتی ہے جس میں خدائی احکامات کی تفصیل ہوتی ہے۔

وحی پر اشکالات

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی تو نہ ماضی میں ہر شخص کو ملی ہے نہ حال میں۔ یعنی ماضی میں بھی پیغمبر آئے، انہوں نے  قوم کو مخاطب کیا اور دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کی تعلیمات کو دنیا میں باقی لوگوں میں پہنچایا جاتا تھا۔ اسی طرح ایک مسئلہ یہ تھا  پیغمبر ہر قوم میں نہیں بھیجے گئے  ۔ خاص طور پر آج کے دور میں تو نبوت کا سلسلہ بندہوچکا ہے۔ وحی کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے تین طرح کے مخاطبین ہوسکتے ہیں۔ایک وہ مخاطبین جن کو براہ راست پیغمبر مخاطب کرتے ہیں۔ ان پر قانون کا اطلاق مختلف ہوتا ہے۔ ان کی آزمائش بہت کڑی ہوتی ہے کہ ایک ایسے پیغمبر پر ایمان لائیں جس کے پیچھے کوئی تاریخی شان و شوکت  نہیں۔ چنانچہ یہ اگر مان لیتے ہیں تو ان کا اجر کافی  زیادہ ہے۔ انکار کی صورت میں سزا بھی کڑی ہے کیونکہ پیغمبر انہیں ہر بات کھول کر بیان کردیتا ہے لیکن یہ مان کرنہیں دیتے۔ انکار کی وجہ کوئی غلط فہمی نہیں بلکہ ضد، ہٹ دھرمی، مفاد پرستی ، تعصب یا کوئی اور اخلاقی برائی ہوتی ہے اور اس وجہ کو اللہ تعالی  کھول کر بیان کردیتے ہیں۔

پیغمبر کے دوسرے مخاطبین وہ ہیں  جو نسلی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور جن تک پیغمبر کی  تعلیمات بالواسطہ طور پر پہنچتی ہیں ۔ ان کے لیے یہ آسانی ہوتی ہے کہ پیغمبر پر یہ پیدائیشی طور پر ایمان رکھتے ہیں اور پیغمبر سے انہیں ایک عمومی عقیدت ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر کے پیچھے ایک عظیم الشان تاریخ کھڑی ہوتی ہے۔  وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پیغمبر کی تعلیمات  میں بزرگوں کے اقوال شامل ہوجاتے اور کچھ غلط روایات بھی دین کاحصہ بن جاتی ہیں۔ ہر دور کے مذہبی پیشوا ان تعلیمات  کی تشریح کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور عوام کے سامنے اس تشریح   کو دین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سارے ہی مذہبی پیشوا بدنیت نہیں ہوتے لیکن  بہرحال وہ پیغمبر نہیں ہوتے اوروہ بات بیان کرنے میں غلطی کرسکتے ہیں۔

پیغمبر کے تیسرے مخاطبین وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیر مسلم ہوں اور پیغمبر کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ہوں۔ ان تک پیغام پہنچانے کی ذمہ امت پر ہوتی ہے۔ان غیرمسلموں کا پہلا کام تو یہ ہے کہ وہ عقل و فطرت کی بنیاد پر جو اچھائی اور برائی کا شعور رکھتے ہیں اس پر عمل کریں۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ جس  مذہب کو ماحول اور نسلی طور پر  حق سمجھتے ہیں  اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور ساتھ ساتھ اس مذہب کی و ہ باتیں جو عقل و فطرت سے متصادم ہوں ان پر پیدا ہونے والے سوالات کے جواب تلاش کریں۔ تیسر ا یہ کہ اگر کوئی حق بات ان کے سامنے پیش کی جائے تو اس پر کا ن دھریں اور تعصب میں آکر اس کا انکار نہ کردیں۔

 وحی کا کام

پہلا اصول یہ جان لینا چاہیے کہ وحی کی تعلیمات تمام انسانوں کو برابر نہیں ملتیں۔ حضرت ابوبکر ، عمر ، عثمان، علی رضی اللہ عنہم  اور  دیگر صحابہ کو وحی جس طرح ملی اور سمجھ آئی، تابعین کو اس طر ح نہیں ملی۔ اسی طرح وحی کی تعلیمات جس طرح شاہ ولی اللہ کو سمجھ آئیں، ایک گاؤں میں بسنے والی  بوڑھی عورت کو سمجھ نہیں آئیں۔ تو مسلم معاشرے ہی میں وحی کا ابلاغ اور فہم مختلف اندازمیں ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کی تعلیمات کا ابلاغ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں میں مختلف ہوا ہے۔ تو ہر بندہ اتنے ہی عمل کا مکلف یعنی پابند ہے جتنا علم اس تک پہنچا  ۔

بالکل یہی اصول   غیرمسلموں پر بھی اپلائی ہوتا ہے۔ ایک غیر مسلم اتنے ہی علم پر عمل کرنے کا مکلف ہے جتنا علم اس تک پہنچا۔ اگر وہ مانتا تھا کہ اس کے مذہب میں زنا کرنا حرام ہے اور وہ زنا کرتا ہے تو وہ عنداللہ پکڑ ا جاسکتا ہے۔  لیکن یہاں اس کی اصل آزمائش اور عقل و فطرت کی بنیاد پر ہوگی جس کا علم اس کے پاس پہلے سے موجود ہے۔

اگر ہم غور سے جائزہ لیں تو کسی ایک معیار کی بنیاد پر خیر و شر یا اچھائی اور برائی کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر اگر ہم وحی اور صرف وحی کو معیار بنالیں تو  بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو وحی میں موجود نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ دادی یا نانی سے نکاح حرام ہے یا زہر حرام ہے ۔ لیکن  عقل اور منطق کے استعمال کے ذریعے دادی یا نانی کو ماں کے حکم میں لیا جاتا اور ان سے نکاح حرام سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں کسی جان کو ناحق مارنے سے منع کیا گیا ہے اس لیے  زہر کو  کھانا خود کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے اسی لیے اس کو کھانا حرام نہیں۔

۳۔عقل

ایک اور خیرو شر کا معیار عقل کو قرار دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک  نہیں کہ عقل  خیر و شر کے  تعین میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن یہ بذات خود کو ئی علم کا منبع یا خیر وشر کا معیار نہیں۔ عقل کا کام فطرت یا وحی یا کسی اور علم کی روشنی میں خیر و شر کا تعین کرنا اور اس کے حق یا رد میں دلائل فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب ہم اگر خیر و شر کا معیار صرف عقل کو بنالیں تو یہ بات بھی ناقص ہے۔  عقل  کی اپنی محدودیت ہے۔ عقل  ہمیں بہت سی باتیں تجربے سے سکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کے بعد سیکھا کہ زہر کھانے سے ہلاکت ہوجاتی ہے، آزادنہ جنسی اختلاط سے ایڈز پھیل سکتا ہے، نکاح کا ادارہ تباہ کرنے سے خاندانی نظام ختم ہوجاتا ہے وغیرہ۔ لیکن اس تجربے کی بھینٹ ہزاروں لوگوں کو چڑھانا پڑتا ہے۔

۴۔ علم کے غیر مستقل ذرائع

فطرت و وحی علم کا مستقل ذریعہ ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی علم کے بے شمار ذرائع ہیں۔ لیکن  یہ خیر و شر کے تعین میں براہ راست مدد نہیں کرتے بلکہ عقل کو فیصلہ کرنے کا مواد فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست معیار ماحول ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان خیرو شر کا  ابتدائی علم  اپنے ماحول ہی سے لیتا ہے۔ وہ اپنے والدین، اعزا و اقربا، دوس احباب وغیرہ کو دیکھ کر  بہت سی چیزیں سیکھ لیتا ہے جس میں خیرو شر کا تعین بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طو ر پر ایک بچہ جو مغربی ممالک میں پلا بڑھا ہو وہ  شراب پینا جائز سمجھتا ہے لیکن ایک مسلمان ماحول میں پلنے  بڑھنے والا بچہ اسے ناجائز اور برائی سمجھتا ہے۔  لیکن شراب کو مطلقا اچھائی  کوئی بھی نہیں سمجھتا۔

مغرب میں پلنے بڑھنے والا ایک شخص بھی جب بڑا ہوتا ہے تو وہ بھی شراب کو کسی نہ کسی درجے میں برا سمجھتا ہے خواہ وہ ڈرائیونگ کے وقت ہو یا نابالغ کے لیے ہو۔ اسی طرح وہ بھی زنا کو بر اسمجھتا ہے اور وہ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی اس کی ماں یا بیوی سے آزادانہ جنسی تعلق قائم کرے وغیرہ۔ اس کا مطلب ہے کہ ماحول کی بنا پر خیر و شر کا تعین کچھ مشکل تو ہوجاتا ہے لیکن  انسانی فطرت یہاں بھی اس کی راہنمائی کرتی ہے۔

علم دیگر غیر مستقل ذرائع جو خیر و شر کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں ان میں ایک تجربہ بھی ہے۔ انسان تجربے کے ذریعے جان جاتا ہے کہ خیر اور شر کیا ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کی ذریعے جانا   کہ اسموکنگ کینسر کا باعث ہے، چکنائی کھانے سے ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے وغیرہ۔تجربہ اخلاقی معاملات میں بھی خیرو شر کے تعین میں مدد کرتا ہے۔ جیسے تجربہ نے بتایا کہ آزادانہ جنسی اختلاط کوئی اچھی بات نہیں وغیرہ۔علم کا ایک اہم ذریعہ ہمارے حواس خمسہ ہیں۔ کھانا ، دیکھنا، سننا ، چکھنا اور چھونا وہ علم حاصل کرنے کے طریقے ہیں جن کی وجہ سے ہم خیر و شر کے تعین میں مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

 

انسانی لائف سائیکل

اس بحث سے یہ بات تو پتا چلتی ہے کہ خیرو شر کا معیار  کسی ایک علم  کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وحی کو عقل کی ضرورت ہے اور فطرت کو وحی کے تعین کی۔ اگر ہم انسانی لائف سائکل کو دیکھیں تو خیر و شر کا معیار بہت ہی فطری اور آسان ہے ۔ یہ اتنا خود کار عمل ہے کہ ایک بچہ بھی اس کی پیروی کررہا ہوتا ہے۔

ہم دیکھیں تو جب ایک بچہ بڑھا ہونا شروع ہوتا ہے اس وقت اسے وحی کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود وہ خوب اچھی طرح کچھ بنیادی چیزوں کو خیرو شر مان رہا ہوتا ہے۔ بہت ہی چھوٹے بچوں پر ایک مرتبہ ایک تجربہ کیا گیا۔ اس  میں بچوں کو دو طرح کے کھلونے دیے گئے۔ ایک وہ کھلونے تھے جو نیچے سے اوپر کی طرف جارہے تھے اور دوسرے وہ جو اوپر سے نیچے آرہے تھے۔ بچوں کی اکثریت نے نیچے سے اوپر جانے والے کھلونوں کو پسند کیا جو اس بات کا اظہار تھا کہ بچے فطر ی طور پر مثبت عمل کو پسند کرتے ہیں جو ایک خیر ہے۔

اسی طرح جب ایک بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ سچا ہوتا ہے اور اسی سچ کی بنیاد پر وہ دنیاوی مصلحتیں نہیں جانتا  اور سچ بولتا  اور اسے ہی پسند کرتا ہے۔ بعد میں وہ ممکن ہے اپنے والدین کی بنا پر جھوٹ بولنے لگ جائے۔ فطرت میں ودیعت کردہ خیرو شر کا تصور وہ پہلی وحی یا الہام ہے جو اللہ نے انسانوں کو دیا اور سب کو دیا۔ یہی وہ کسوٹی  ہے جس کی بنیاد پر دنیا میں اخلاقیات ظہور پذیر ہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔

اس کے بعد بچہ میں کچھ عقل اور سمجھ بوجھ آنا شروع ہوتی ہے۔ اب وہ خیرو شر کے تعین کرنے میں ماحول  سے بھی مدد لیتا ہے۔ اس کی بنا پر وہ دیکھتا ہے کہ بہت سی باتیں جو اس  کی نے  فطرت نے  شر  کے طور پر بتائیں تھیں ، وہ معاشرے نے  خیر کے طور پر لی ہوئی ہیں۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے لیکن کچھ لوگ مصلحتا جھوٹ بولتے ہیں۔ چنانچہ وہ جب خود جھوٹ بولنا شروع کرتا ہےتو اس کا ضمیر شدید مزاحمت کرتا اور اسے گناہ کا احساس دلاتا ہے۔ اگر وہ ماحول سے متاثر ہوکر ضمیر کی آواز دبالے تو  اس کی عقل اسے حیلے فراہم کردیتی ہے۔ لیکن اس کے لاشعور میں ہمیشہ یہ احساس ضرور رہتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اس سے جھوٹ بولتا ہے اور اسے دھوکا دیتا ہے تو اسے برا لگتا ہے۔

اس کے بعد بچے کی زندگی کی تیسرا مرحلہ تعلیم ہے۔ یہ تعلیم دینی تعلیم  اور دنیوی تعلیم دونوں ہوسکتی ہیں۔ دینی تعلیم میں بچے کو کوئی نہ کوئی مذہب پڑھایا جاتا ہے۔ اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی تم پڑھ رہے ہو وہ خدا کا پیغام ہے جس کے ماننے کی صورت میں نجات ہے ورنہ سزا۔ اب بچہ اس وحی ے بارے میں سوالات کرتا ہے جو عقل وفطرت پر مبنی ہوتے ہیں۔ کچھ سوالات عقل سے ماورا بھی ہوتے ہیں۔ یہاں بچے کو بالعموم تمام معاشروں میں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ وحی کو  من و عن مانے کیونکہ عقیدے میں عقل کا کوئی کردار نہیں، نہ ماننے کی صورت میں اسے  سخت سزاؤں سے ڈرایا جاتا ہے۔

اس موقع پر بچہ مذہب کے بارے میں یہ جان لیتا ہے کہ اگر اسے ماننا ہے تو عقل کو بند کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اس کا مذہب کے بارے میں ایک ایسا تصور پیدا ہوجاتا ہے جو پراسرایت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مذہب کو چونکہ عقل سے نہیں پرکھا جاسکتا، اس لیے مذہبی تعلیمات جاننے کے لیے وہ نہ صرف اپنے مذہبی پیشواؤں کا محتاج ہے بلکہ ان کی باتوں کو من و عن ماننا اور بغیر کسی دلیل کے ماننا ہے۔

یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ایک بچہ اپنے مذہب سے دوری اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی ساری توجہ دنیاوی امور اور دنیاوی تعلیمات پر ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا  کی باتیں اس کی سمجھ میں آرہی ہوتی ہیں اور مذہبی رہنما اس کے سوالات کے جواب دینے کی بجائے  سوال پوچھنے کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عقل ، وحی اور فطرت کا تعلق

یہاں ہمیں عقل ، فطرت اور وحی کے تعلق کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ انسانی لائف سائیکل سے ہم نے یہ جانا کہ  انسان ابتدا میں جو علم  لے کر پیدا ہوتا ہے وہ اس کی فطرت  میں ودیعت کردہ الہام ہے۔اس سے اگلے مرحلے میں و ہ عقل، وحی  اور ماحول کے ذریعے کچھ چیزیں سیکھتا اور فطرت کے اس علم کو پروان چڑھاتا ہے۔

اس بحث سے یہ علم حاصل ہوا کہ انسانی علم کا بنیادی ماخذ انسانی فطرت ہے۔   دوسرا علم  انسان  وحی کا علم ہے۔ایک اور ذریعہ ماحول ہے لیکن  یہ کوئی مستقل ذریعہ نہیں۔  انسانی عقل  ان تمام  علوم کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں معاونت کرتی ہے۔

فطرت انسانیت  کی  وہ مشترکہ وحی ہے جس میں نہ کوئی فرقہ بازی ہے، نہ مذہبی منافرت، نہ تقسیم ، نہ فخر اور نہ حقارت۔ یہ الہام سب کے پاس موجود ہے۔ ایک ہندو بھی اس الہام کو جانتا ہے اور عیسائی بھی، یہ الہام ایک موچی کے پاس بھی ہے اور ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کے پاس بھی، یہ عورت بھی جانتی ہے اور مرد بھی، یہ امریکہ میں بھی پایا جاتا ہےا ور افریقہ کے جنگلات میں بھی۔

لیکن فطرت کا یہ علم ناقص اور مبہم ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے وحی کا علم دیا جاتا ہے۔ وحی کا ابلاغ خود بخود نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مختلف ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وحی کی تعلیمات ہر شخص تک یکساں نہیں پہنچتیں۔ اسی لیے ایک شخص  وحی  کو ماننے کا مکلف یا پابند اتنا ہی ہے جتنا اس تک علم پہنچا۔وحی کو فطرت کے علم پر فوقیت حاصل ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ  وحی کا مستند  علم فطرت کے خلاف نہیں ہوتا  لیکن  اس ساتھ  ہی یہ علم فطرت کے علم سے زیادہ مستند  اور واحد کسوٹی ہے۔ اسی پر فطرت  ، ماحول یا دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کو پرکھا جائے گا۔

جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو عقل فطرت اور وحی کے علم کو اخذ کرتی، اسے سمجھتی ، پرکھتی اور پھر اسے مان کر عمل کرنے کی جانب راہنمائی دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عقل کے بغیر وحی اور فطرت سے علم حاصل نہیں کیا جاسکتا اور انسان دینی احکامات کا مکلف ہی نہیں رہتا۔ یعنی نماز کس طرح پڑھنی ہے یہ وحی  کے علم سے عقل اخذ کرکے لوگوں کو بتائے گی۔ اسی طرح خیر و شر کا تعین  فطرت سے کس طرح اخذ کرنا ہے، یہ بھی عقل کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فطرت اور وحی عقل کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک قابل غور بات ہے کہ اگر فطرت اور وحی کی تعلیمات کو ختم  کردیا ہے تو عقل کچھ بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی ایسے انسان کا تصور کریں جسے وحی کا کچھ نہیں علم اور یہ بھی تصور کریں کہ فطرت کی تعلیمات  اس کی یاداشت سے مٹائی جاچکیں ( گوکہ یہ ممکن نہیں) تو مجرد عقل اسے نہیں بتاسکتی کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔

خلاصہ

خلاصہ کچھ یوں بنا  کہ انسانی علم کے دو بنیادی ماخذ ہیں ایک  فطرت اور دوسرا وحی۔ فطرت ہر شخص کے پاس ہے لیکن ناقص علم ہے۔ وحی ہر شخص کے پاس نہیں لیکن کام  علم ہے۔ عقل ان دونوں کو استعمال کرنے  اور خیر و شر اخذ کرنے کا نام ہے۔  خیر و شر کا تعین اس علم کی بنیاد پر ہوگا جو دستیاب ہو اور انسان اسی کا مکلف ہے۔ البتہ انسان اس بات کا بھی  مکلف ہے کہ موجودہ علم کی اصلاح کرے اور ضروری علم میں اضافہ کرے۔


نیکی کا درست تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

نیکی کا درست تصور

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی ہے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو نیکی کے تصور کو جاننے اور درست طور پر جاننے میں بہت اہم ہیں۔ اگر ہم قرآن کا جائزہ لیں تو قرآن سب سے پہلے جو بات ہمیں بتاتا ہے وہ یہ کہ اللہ نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ گویا عبادت ہی نیکی ہے اور عبادت سے گریز کرنا گناہ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کون سا عمل نیکی ہے؟ اس کےجواب میں بالعمو م روایتی حلقے ایک فہرست مرتب کردیتے ہیں جس میں اعمال صالح اور گناہوں کو بیان کردیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کے بارے میں ایک اندازہ وہوجاتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہ فہرست کارآمد نہیں رہتی۔ نیز اس فہرست کا دائرہ کار چند مخصوص معاملات تک محدود ہوجاتا ہے۔ اس اپروچ کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ عبادت، گناہ اور نیکی کو متعین کرنے کے لیے کسی مذہبی عالم کی تشریح کا محتاج رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے مذہبی طبقے پر تصوف کا بڑا گہرا اثر ہے اس لیے دنیا سے متعلق اچھے اعمال کو عام طور پر وہ نیکیوں میں شمار نہیں کرپاتے کیوں ان کی دانست میں اس سے دنیا پرستی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نیکی کی ایک جامع تعریف قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کی جائے اور اسی تناظر میں نیک اعمال اور گناہوں کا تعین کرنے کے عمل کو سیکھا جائے ۔ نیکی کی تعریف اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تو کچھ یوں بنتی ہے:
نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔
اس کی تشریح کی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلی بات کہ نیکی سے مراد کوئی بھی عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف دینی امور سے متعلق ہو، یہ دنیا کا بھی کوئی معاملہ ہوسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آگے بیان کردہ شرائط پوری ہورہی ہوں۔جیسا کہ اس آیت کو دیکھیں:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ١٧٧؁
نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو ۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (البقرہ ۱۷۷:۲)
ان آیات کو غور سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔
۲۔کسی عمل کے عمل صالح ہونے کے لیے پہلی شرط خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی قید کا خیال رکھنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا نے حلا ل و حرام کی قیود صرف وحی کے ذریعے ہی نہیں بتائی بلکہ انسان کی فطرت کے اندر بھی جائز و ناجائز کو طے کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھ دی ہے۔ بالخصوص اخلاقیات کے اکر معاملات میں اصل فتوی دل کا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا Ċ۝۽ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا Ď۝۽
اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے۔ پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔(سورہ الشمس ۹۱، آیات ۷-۸)
تو اصل بات یہ ہے کہ کسی عمل کے نیکی ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ وہ خدا کی بیان کردہ حدودو قیود کے اندر ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن وہ ناپاکی کی حالت میں ہے تو اس نے خدا کی حلال و حرام کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ بلاعذر ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ تصور ہوگا۔ ایسے ہی ایک شخص حج اگر حرام کی کمائی سے کررہا ہے تو یہ عمل بظاہر عبادت ہونے کے باوجود حقیقت میں نیکی نہیں۔اسی طرح ایک شخص اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے لیکن وہ اس چوری کے پیسوں سے یہ کام کررہا ہے ۔بچوں کا پیٹ پالنا ایک نیک کام ہے لیکن اس کو پورا کرتے وقت خد کے بیان کردہ حدود کی پاسداری نہیں کی گئی، اس لیے یہ نیکی نہیں۔
۳۔ کسی عمل کے نیکی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نیت کے اخلاص کا ہونا ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر یا لاشعور میں کہیں موجود ہونا چاہیے۔
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹ : ۲)
’’بے شک ، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف مطابق حق اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اطاعت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے۔ سن لو کہ خالص اطاعت کا سزاوار اللہ ہی ہے۔‘‘
مثلا ایک شخص روزہ رکھ رہا ہے لیکن اس کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہے تو یہاں اخلاص کی کمی ہے جس کی بنا پر اس کا روزہ عبادت یا نیکی نہیں۔ ایک شخص میدا ن جنگ میں جہاد کررہا ہے لیکن مقصد مال غنیمت ہے تو یہ نیکی نہیں۔لیکن ایک شخص اخلاص کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی سے کسی کو ایذا پہنچائے بنا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ عبادت یا نیکی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات نیت کا اظہار باقاعدہ زبان سے نہیں کیا جاتا اور یہ لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ جیسے ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس کچھ کہے بنا نیت باندھ لی۔ یہاں اس کا عمل یہ بتارہا ہے کہ وہ شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے نیت باندھی ہے۔
دینی معاملات میں تو بالعموم اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمل اللہ کے لیے کیا جارہا ہے لیکن دنیوی معاملات میں عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی نیت کا اظہار اکثر اوقات نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص روزانہ کمانے کو گھر سے نکلتا ہے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل میں اللہ کو راضی کرنے کی نیت موجود نہیں۔ اسی بنا پر کچھ لوگ کمانے کو عمل کو دنیا داری کہہ کر اسے نیکی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ شخص روزی کماتے وقت اللہ کی حدود و قیود کا خیال رکھ رہا ہے ۔ چنانچہ جس طرح نماز پڑھتے وقت لازم نہیں کہ زبان سے نیت کی جائے اسی طرح دنیاوی نیکیوں میں بھی ممکن نہیں کہ شعوری سطح پر ہر مرتبہ بیان کی جاری کیا جائے۔ بس ایک عمومی ارادہ کافی ہوتا ہے۔
۴۔ عمل صالح ہونے کی تیسر ی شرط اس عمل کو محنت یا مہارت سے یا خوش اسلوبی سے انجام دینا ہے۔
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ
اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے(النجم ۳۹:۵۳)
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کے لیے نیکی اتنا ہی عمل ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے لیے نیکی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس میں اس کی بالواسطہ کوشش شامل ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی عمل کیا جائے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے۔ اس کامطلب ہے کہ اس عمل میں جتنی بے دلی شامل ہوگی اتنا ہی وہ عبادت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی و ہ کام جو مارے باندھے کیے جاِئیں وہ نیکی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع و سجود درست طور پر ادا نہیں ہورہے تھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دوبارہ پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اسی طرح قرآن میں منافقین کی نماز کا ذکر ہے کہ وہ مارے باندھے مسجد میں آتے ہیں ۔
دنیاوی معاملات میں بھی محنت اور خوش اسلوبی ضروری ہے۔ ایک شخص جب ملازمت کرتا ہے تو کام چوری کرنا یا اپنی ذات کو آرام دینے کے لیے چور راستے تلاش کرنا نیکی کو گناہ میں بدل سکتا ہے۔
۵۔ آخری شرط یہ ہے کہ عمل کا مقصد کسی نہ کسی مخلوق کو براہ راست یا بالواسطہ نفع پہنچانا ہو۔ یہ نفع دنیا کا بھی ہوسکتا ہے اور دین کا بھی۔دین کے نفع کو نیکی ماننا تو ایک مسلمہ ہے لیکن دنیوی کاموں کو بھی متعدد احادیث میں صدقہ اور نیکی قرار دیا گیا ہے۔
۱۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بے ہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہو گی۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 251)
۲۔ اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔(مسلم)
۳۔ جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسلم)
۴۔ تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔(مسلم)
۵۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(مسلم)
۶۔ کتے یا کسی جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
۷۔ رشتے داری کا لحاظ رکھنا، گناہوں سے بچنا، مصیبت برداشت کرنا، اچھے اخلاق اپنا، قرض دار کو مہلت دینا سب اعمال نیکی ہیں۔(بخاری)
ا ن تمام روایات کو جمع کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ صدقہ یا نیکی سے مراد ہر و ہ عمل ہے جس میں خود کو یا کسی دوسری مخلوق کو نفع پہنچایا جارہا ہو۔ اس اصول کے تحت مثال کے طور پر ایک قاری اگر بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے تو چونکہ وہ انہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچا رہا ہے تو اس کا عمل نیکی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر بچوں کو کیمسٹری پڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد دنیوی فائدہ پہنچانا ہے تو یہ بھی ویسے ہی نیکی ہے جیسے قرآن پڑھانا۔
بعض اوقات انسان کوئی عمل کسی دوسری مخلوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کررہا ہوتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا خود کو دینی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے،اسی طرح رزق کمانا، پڑھائی کرنا یا معلومات میں اضافہ کرنا خود کو دنیوی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے اس لیے یہ بھی نیکی ہے۔
خلاصہ
اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی کا دائرہ کار صرف دینی عبادات، مذہبی رسومات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ ہر اچھا عمل نیکی ہے بشرطیکہ اسے ان حدود قیود میں کیا جائے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


فار گرانٹڈ (For Granted)

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

فار گرانٹڈ

(For Granted)

زندگی میں بے شمار نعمتیں ہمیں   بن مانگے مل جاتی ہیں۔ ہم ان کے لئے نہ تو سوچتے ، نہ محنت کرتے، نہ پریشان ہوتے اور نہ ہی کوئی تگ و کرتے ہیں ۔اس کے باوجود یہ ہماری جھولی میں ڈال کر دے دی جاتی ہیں۔ اس میں سر فہرست  اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ ہم پیدا بھی نہیں ہوتے  اور ماں کے پیٹ میں ہماری کابندوبست ہوجاتا ہے۔ جب ہم اس دنیا میں آتے ہی تو زمین کی آغوش ہمارے لئے ماں کا پیٹ بن جاتی اور زندگی گذارنے کی تمام سہولیات بن مانگے مل جاتی ہیں۔  سورج حرارت فراہم کرتا، رات سکون مہیا کرتی، چاند تارے ذوق کی تسکین کرتے، فضا  تفس کو ممکن بناتی ، زمین اپنا سینہ چاک کرکے غذا کو اگلتی اور جانور گوشت کے پہاڑ  بنے    لذت کام و دہن کا سبب بنتے ہیں۔

 

ان نعمتوں کی فراہمی کو ہم فارگرانٹڈ لیتے اور اپنا حق سمجھتے رہتے ہیں۔یہیں سے ختم نہ ہونے والی غلطیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس کی نعمتیں حقیر لگتیں، پھر اس کے وجود کا احساس ہی نہیں ہوتا، پھر اس کے کرم کا اندازہ نہیں ہوتا  اور اس کی لا متناہی شفقت محسوس ہی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ  خدا نعوذ باللہ ایک خودکار مشین کی مانند لگنے لگتا ہے ۔ پھر سب کچھ خود بخود ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔آفاق میں سورج  کا طلوع و غروب، سبزہ کا اگنا ، غلہ کی پیداوار ، زمین کی گردش، بارش کا برسنا سب کچھ خود بخود ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ انفس میں سانس و زیرو بم، دل کی دھڑکن، آنکھوں کی بصارت، زبان کا تکلم، کانوں کی سماعت، دماغ کی سوچیں سب ایک خود کار نظام کے تحت بندھے ہوئے لگتے ہیں۔

پھر لاشعور میں یہ خیال  راسخ ہوجاتا ہے جب سب کچھ خود بخود مل رہا ہے تو کیوں اس کی شکرگذاری کی جائے،  کیوں اس کی بندگی کی جائے، کیوں اس کی بات مانی جائے ، کیوں اس کے آگے جبین نیاز ٹیکی جائے؟ اس سے  اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اب کسی خدا کی کیا ضرورت؟یہ تو سب خود بخود ہورہا ہے۔ اس سے آگے کچھ لوگ بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا موجود ہی نہیں اور نعوذباللہ  انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔

اسی صورت حال سے انسان کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ براہ راست مداخلت کرتے ہیں اور یہ احسا س دلاتے ہیں کہ یہ سب نعمتیں انسان کا حق نہیں بلکہ اللہ کی عنایت ہیں اور اللہ جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں۔ چنانچہ کبھی زمین کو ہلایا جاتا ، سمندر کے بند کھول دئیے جاتے،ہوا کی باگیں چھوڑدی جاتیں، آسمانی بجلی کو آزاد کردیا جاتا اوربارش کو طوفان میں بدل دیا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد انسان کو یہ احسا س دلانا ہے کہ یہ سب کچھ فارگرانٹڈ لینے کے لئے نہیں۔ ان سب کے خالق کاشکر واجب ہے، اس کا احترام لاز م ، اس کی نمک حلالی ضروری ہے۔ خدا کی نعتموں کو فارگرانٹڈ نہ لیجئے ۔ ورنہ بہت جلد آپ کو یہ تجربہ کروایا جاسکتا ہے کہ یہ سب فارگرانٹڈنہیں ۔

 پروفیسر محمد عقیل

 

 

                                            

 

 


نیا احتساب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

نیا احتساب

کیا ہم حسد کرتے ہیں ؟ کیا ہم زنا کرتے ہیں؟ کیا ہم  جھوٹ بولتے  ہیں ؟  ان تمام سوالات کا جواب عین  ممکن ہے ہم    یہ دیں کہ  ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ عام حالات میں کوئی گناہ کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جب انسان گناہ کی جانب مائل ہوتا  اور غلط کام کرتا ہے۔

نیکی اور گناہ کا تعلق انسان کے داخلی اور خارجی ماحول سے ہے۔داخلی ماحول میں انسان کی طبیعت، مزاج، خواہشات،رغبات اور مفادات کا دخل ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص  اپنی شخصیت میں غیض  و غضب  کا پہلو نمایاں رکھتا ہے تو وہ باآسانی غصہ کی جانب مائل ہوجائے گا۔ دوسری جانب خارجی ماحول میں انسان کے گردو پیش کے معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور دیگر حالات کا دخل ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص مغربی ماحول میں پلا بڑھا تو اس کے لئے زنا کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔  ایک انسان کے لئے  اپنے داخل و خارج کے موافق  حالات میں نیکی کرنا  عام طور پر آسان ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر حالات ناموافق ہوں تو ایسی صورت میں نیکی کرنا  اور گناہ سے بچنا  ایک جہاد بن جاتا ہے۔ یہی اصل آزمائش کا وقت ہوتا ہے اور یہیں انسان کے رخ کا تعین ہوجاتا ہے کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔

عام طور پر جب ہم اپنا احتساب کرتے ہیں تو ان حالات کو ذہن میں رکھتے ہیں جو موافق اور نارمل ہیں۔ چنانچہ جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم تو جھوٹ نہیں بولتے ، ہم تو حسد کا شکار نہیں ہوتے، ہم تو بدگمانی نہیں رکھتے، ہم کسی کے خلاف بات نہیں کرتے ، ہم تو شاید کچھ بھی نہیں کرتے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دیکھنے کا زاویہ بدل لیں تو صورت حال برعکس بھی  ہوسکتی ہے۔ممکن ہے ہماری زندگی میں سچ بولنے کا امتحان آیا ہی صرف دس مرتبہ ہو اور اس ان تمام ناموافق مواقع پر ہم یہ کہہ کر جھوٹ بول گئے کہ کبھی کبھی تو چلتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں اپنے مدمقابل  صرف چار لوگ ہی ایسے ٹکرائے ہوں جنہیں دیکھ کر حسد محسوس ہو اور ہم ان چاروں مواقع پر حسد کا شکار ہوچلے ہوں۔ ممکن ہے ہمیں زندگی میں چندہی مرتبہ کسی  اپنے مفادات کے خلاف کوئی  حق بات پیش کی گئی ہو اور ہر موقع پر ہم  نے عصبیت و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے حق کو رد کردیا ہو۔

چنانچہ ہم سب کو نئے سرے سے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لیتے وقت اپنی شخصیت  کو ناموافق حالات  میں رکھ کر سوچنا چاہئے۔ہمیں خود یہ یہ سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم خود کو اس وقت بھی     سچ بولنے پر آمادہ کرلیتے ہیں جب  مادی نقصان سامنے ہو، کیا ہم اس وقت صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں جب  دل شدت غم سے پھٹا جارہا ہو، کیا ہم اس وقت لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جب ان کی غلطی ایک مسلم حقیقت بن چکی ہوتی  ہے، کیا ہم اس وقت بھی اپنے آپ کو  چھوٹا مان لیتے ہیں جب ہماری انا بری طرح مجروح ہورہی ہے۔اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے سرے سے امتحان کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ آزمائش کے وقت ہم ناکام ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر محمد عقیل


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی  کیوں؟

عظمی عنبرین/ اقصی ارشد

اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو  تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین  حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی  آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ  میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔

بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین  کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک  دولت مند شخص  ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔

ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے  پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون  حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ  منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے  ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔

ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات  ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق  کے مطابق  ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ  کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲  ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12   کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی  انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر  دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان  میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن  کی کمی  کا شکا  ر  ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

اگر آپ مندرجہ  ذیل  علاما ت  سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ  کے  جسم  میں وٹامن 12 –B کی  شدید  کمی کا عندیہ ہے :

1.احساسات  و جذبات  کا  غیر معمولی  اتا ر چڑھاؤ۔

2.روزمرہ  کے  کاموں  میں بے رغبتی  ،خواہ  وہ  اپنی  مرضی و منشا  کے پسندیدہ  مشاغل  ہی  کیوں  نہ ہوں 3.دماغ  کا چکرانا ۔

4.سونے  کے  اوقات  کی بے  اعتدالی ۔

5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن

6.معمولی  سی  باتوں پر  بدمزاجی  اور جھلاہٹ

7.دیگر معاشرتی دباؤ یا   پسپائی والی  علامات

اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار  میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج  ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس  کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام خوراک میں وٹامن  کی دستیابی  کا  بڑا  ذریعہ بچھڑے  کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا   جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر  چکن  دستیاب ہے جس میں  اس  وٹامن  کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس  کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد  ایک  دن کا وقفہ اور پھر  اگلا  انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال  میں  ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر  ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔

 


یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ

جب ایک طالب علم امتحان دینے جاتا ہے  تو اس کی ابتدا اور انتہا کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ کوئی شخص نہ تو اس مقررہ وقت سے پہلے امتحان شروع کرسکتا اور نہ اس مقررہ وقت کے بعد امتحان جاری رکھ سکتا ہے۔

جس طرح دنیوی امتحانات کا ایک وقت مقرر ہے تو اسی طرح آخرت کے امتحان کا بھی ٹیسٹ مقررہ وقت پر شروع ہوتا اور اس وقت کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر غیبت کے ٹیسٹ کا وقت ایک خاتون کے لئے اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے اپنے ارد گرد  کے ماحول میں لوگوں سے حسد  ، جلن اور بدگمانی ہو۔جونہی وہ اس ماحول سے نکل کر ایک ایک دودراز ملک میں جاکر رہنا شروع کرتی ہےجہاں کوئی نہیں  جس سے وہ باتیں کرسکے تو اس  ٹیسٹ کا وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اب اگر اس نے ناموافق حالات میں تو دل کھول کر اپنے مخالفین کی برائی کی ۔ لیکن جب اسے تنہائی ملی اور کوئی غیبت کرنے والا نہ ملا تو خاموش ہوگئی اور یہ سمجھنے لگی کہ میں تو غیبت نہیں کرتی تو غلط فہمی کا شکار ہے۔ اس نے غیبت کے ٹیسٹ پیریڈ میں  ناکامی کا مظاہرہ کیا اور فیل ہوگئی۔ اب وہ خاموش اس لئے ہے کہ حالات بدل گئے ہیں۔

جس طرح نماز وں کا وقت مقرر ہے، روزے کا متعین وقت ہے، زکوٰۃ کی ادائیگی کا ایک خاص موقع ہے اور حج کا مخصوص موسم ہے ایسے  ہی دین کے بیشتر امتحانات  کا موقع  متعین وقت میں ہی ہوتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا موقع ان کی زندگی تک ہے موت کے بعد نہیں، عفو درگذر کے  ٹیسٹ  کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب کسی کے خلاف غصہ عروج پر ہو، شوہر یا بیوی کے حقوق کی ادائیگی کا ٹیسٹ ازدواجی زندگی کے دوران ہے۔

ہم سب کو چاہئے کہ اپنے اپنے امتحانات اور ان کے اوقات کو پہنچانیں۔ ہم دیکھیں کہ اس وقت ہم کس قسم کی آزمائش میں ہیں  اور پھر اسی مناسبت سے اپنی کاردگی پیش کرنے کی کوشش کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی خاص معاملے مسئلے کے امتحان کا وقت  آئے اور گذر بھی جائے لیکن ہمیں پتا تک نہ چلے۔ امتحانی اوقات کو پہچاننا بذات خود ایک آزمائش ہے۔ جو اس آزمائش میں ناکام ہوگیا وہ امتحان میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔

پروفیسر محمد عقیل