پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

نیا احتساب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

نیا احتساب

کیا ہم حسد کرتے ہیں ؟ کیا ہم زنا کرتے ہیں؟ کیا ہم  جھوٹ بولتے  ہیں ؟  ان تمام سوالات کا جواب عین  ممکن ہے ہم    یہ دیں کہ  ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ عام حالات میں کوئی گناہ کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جب انسان گناہ کی جانب مائل ہوتا  اور غلط کام کرتا ہے۔

نیکی اور گناہ کا تعلق انسان کے داخلی اور خارجی ماحول سے ہے۔داخلی ماحول میں انسان کی طبیعت، مزاج، خواہشات،رغبات اور مفادات کا دخل ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص  اپنی شخصیت میں غیض  و غضب  کا پہلو نمایاں رکھتا ہے تو وہ باآسانی غصہ کی جانب مائل ہوجائے گا۔ دوسری جانب خارجی ماحول میں انسان کے گردو پیش کے معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور دیگر حالات کا دخل ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص مغربی ماحول میں پلا بڑھا تو اس کے لئے زنا کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔  ایک انسان کے لئے  اپنے داخل و خارج کے موافق  حالات میں نیکی کرنا  عام طور پر آسان ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر حالات ناموافق ہوں تو ایسی صورت میں نیکی کرنا  اور گناہ سے بچنا  ایک جہاد بن جاتا ہے۔ یہی اصل آزمائش کا وقت ہوتا ہے اور یہیں انسان کے رخ کا تعین ہوجاتا ہے کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔

عام طور پر جب ہم اپنا احتساب کرتے ہیں تو ان حالات کو ذہن میں رکھتے ہیں جو موافق اور نارمل ہیں۔ چنانچہ جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم تو جھوٹ نہیں بولتے ، ہم تو حسد کا شکار نہیں ہوتے، ہم تو بدگمانی نہیں رکھتے، ہم کسی کے خلاف بات نہیں کرتے ، ہم تو شاید کچھ بھی نہیں کرتے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دیکھنے کا زاویہ بدل لیں تو صورت حال برعکس بھی  ہوسکتی ہے۔ممکن ہے ہماری زندگی میں سچ بولنے کا امتحان آیا ہی صرف دس مرتبہ ہو اور اس ان تمام ناموافق مواقع پر ہم یہ کہہ کر جھوٹ بول گئے کہ کبھی کبھی تو چلتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں اپنے مدمقابل  صرف چار لوگ ہی ایسے ٹکرائے ہوں جنہیں دیکھ کر حسد محسوس ہو اور ہم ان چاروں مواقع پر حسد کا شکار ہوچلے ہوں۔ ممکن ہے ہمیں زندگی میں چندہی مرتبہ کسی  اپنے مفادات کے خلاف کوئی  حق بات پیش کی گئی ہو اور ہر موقع پر ہم  نے عصبیت و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے حق کو رد کردیا ہو۔

چنانچہ ہم سب کو نئے سرے سے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لیتے وقت اپنی شخصیت  کو ناموافق حالات  میں رکھ کر سوچنا چاہئے۔ہمیں خود یہ یہ سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم خود کو اس وقت بھی     سچ بولنے پر آمادہ کرلیتے ہیں جب  مادی نقصان سامنے ہو، کیا ہم اس وقت صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں جب  دل شدت غم سے پھٹا جارہا ہو، کیا ہم اس وقت لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جب ان کی غلطی ایک مسلم حقیقت بن چکی ہوتی  ہے، کیا ہم اس وقت بھی اپنے آپ کو  چھوٹا مان لیتے ہیں جب ہماری انا بری طرح مجروح ہورہی ہے۔اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے سرے سے امتحان کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ آزمائش کے وقت ہم ناکام ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر محمد عقیل


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی  کیوں؟

عظمی عنبرین/ اقصی ارشد

اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو  تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین  حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی  آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ  میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔

بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین  کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک  دولت مند شخص  ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔

ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے  پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون  حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ  منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے  ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔

ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات  ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق  کے مطابق  ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ  کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲  ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12   کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی  انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر  دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان  میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن  کی کمی  کا شکا  ر  ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

اگر آپ مندرجہ  ذیل  علاما ت  سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ  کے  جسم  میں وٹامن 12 –B کی  شدید  کمی کا عندیہ ہے :

1.احساسات  و جذبات  کا  غیر معمولی  اتا ر چڑھاؤ۔

2.روزمرہ  کے  کاموں  میں بے رغبتی  ،خواہ  وہ  اپنی  مرضی و منشا  کے پسندیدہ  مشاغل  ہی  کیوں  نہ ہوں 3.دماغ  کا چکرانا ۔

4.سونے  کے  اوقات  کی بے  اعتدالی ۔

5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن

6.معمولی  سی  باتوں پر  بدمزاجی  اور جھلاہٹ

7.دیگر معاشرتی دباؤ یا   پسپائی والی  علامات

اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار  میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج  ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس  کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام خوراک میں وٹامن  کی دستیابی  کا  بڑا  ذریعہ بچھڑے  کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا   جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر  چکن  دستیاب ہے جس میں  اس  وٹامن  کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس  کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد  ایک  دن کا وقفہ اور پھر  اگلا  انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال  میں  ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر  ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔

 


یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

یور ٹائم اسٹارٹس ناؤ

جب ایک طالب علم امتحان دینے جاتا ہے  تو اس کی ابتدا اور انتہا کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ کوئی شخص نہ تو اس مقررہ وقت سے پہلے امتحان شروع کرسکتا اور نہ اس مقررہ وقت کے بعد امتحان جاری رکھ سکتا ہے۔

جس طرح دنیوی امتحانات کا ایک وقت مقرر ہے تو اسی طرح آخرت کے امتحان کا بھی ٹیسٹ مقررہ وقت پر شروع ہوتا اور اس وقت کے بعد ختم ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر غیبت کے ٹیسٹ کا وقت ایک خاتون کے لئے اس وقت شروع ہوتا ہے جب اسے اپنے ارد گرد  کے ماحول میں لوگوں سے حسد  ، جلن اور بدگمانی ہو۔جونہی وہ اس ماحول سے نکل کر ایک ایک دودراز ملک میں جاکر رہنا شروع کرتی ہےجہاں کوئی نہیں  جس سے وہ باتیں کرسکے تو اس  ٹیسٹ کا وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ اب اگر اس نے ناموافق حالات میں تو دل کھول کر اپنے مخالفین کی برائی کی ۔ لیکن جب اسے تنہائی ملی اور کوئی غیبت کرنے والا نہ ملا تو خاموش ہوگئی اور یہ سمجھنے لگی کہ میں تو غیبت نہیں کرتی تو غلط فہمی کا شکار ہے۔ اس نے غیبت کے ٹیسٹ پیریڈ میں  ناکامی کا مظاہرہ کیا اور فیل ہوگئی۔ اب وہ خاموش اس لئے ہے کہ حالات بدل گئے ہیں۔

جس طرح نماز وں کا وقت مقرر ہے، روزے کا متعین وقت ہے، زکوٰۃ کی ادائیگی کا ایک خاص موقع ہے اور حج کا مخصوص موسم ہے ایسے  ہی دین کے بیشتر امتحانات  کا موقع  متعین وقت میں ہی ہوتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا موقع ان کی زندگی تک ہے موت کے بعد نہیں، عفو درگذر کے  ٹیسٹ  کا آغاز اسی وقت ہوتا ہے جب کسی کے خلاف غصہ عروج پر ہو، شوہر یا بیوی کے حقوق کی ادائیگی کا ٹیسٹ ازدواجی زندگی کے دوران ہے۔

ہم سب کو چاہئے کہ اپنے اپنے امتحانات اور ان کے اوقات کو پہنچانیں۔ ہم دیکھیں کہ اس وقت ہم کس قسم کی آزمائش میں ہیں  اور پھر اسی مناسبت سے اپنی کاردگی پیش کرنے کی کوشش کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی خاص معاملے مسئلے کے امتحان کا وقت  آئے اور گذر بھی جائے لیکن ہمیں پتا تک نہ چلے۔ امتحانی اوقات کو پہچاننا بذات خود ایک آزمائش ہے۔ جو اس آزمائش میں ناکام ہوگیا وہ امتحان میں کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔

پروفیسر محمد عقیل

 


المبشر میگزین۔۔دسواں شمارہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Mar 11, 2016

المبشر میگزین کا دسواں شمارہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tSjlteXB4SU1SVUE


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


دینی اور سوشل سائنسز کی تعلیم کا آن لائن ادارہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Dec 31, 2015

تعارف
محمد مبشر نذیر 2008 میں اسلامک اسٹڈیز پروگرام (ISP) کے نام سے چند سال پہلے اس سفر کا آغاز کیا۔اس ادارہ کا مقصد علم کے متلاشیوں کو اسلامی اور سماجی علوم کی تعلیم انٹرنیٹ کے ذریعے فراہم کرناتھا۔یہی ادارہ آج ترقی کا سفر طے کر کے اسرا (IISRA) کی صورت اختیار کرچکا ہے اور الحمدللہ پڑھنا جاری رکھیں »


شیطان کا طریقہ واردات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Nov 29, 2015

شیطان کا طریقہ واردات
ہمارے مذہبی لٹریچر میں شیطان پر کافی بحثیں کی گئی ہیں کہ وہ ازلی ہے یا ابدی، فرشتہ ہے یا جن،شکل و صورت کیسی ہے، رہتا کہاں ہے، کھاتا پیتا کیا ہے وغیرہ۔ لیکن قرآن نے شیطان کے ان پہلووں کی بجائے اس بات پر فوکس کیا ہے کہ وہ کس طرح انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ شیطان نے اس کا سب سے بڑا ہتھیار وسوسہ انگیزی ہی کو قراردیا ہے۔
یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی زور نہیں اور وہ صرف وسوسہ انگیزی کے ذریعے ہی انسان کو اکسا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح انسان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، اسے کس طرح ہمارے خِیالات کا علم ہوتا ہے، اسے کیسے پتا چلتا ہے کہ ہمارا کمزور پہلو کیا ہے اور ہم کس طرح اس کی وسوسہ انگیزی کے فریب میں آجاتے ہیں؟
شیطان کی وسوسہ انگیزی کو ہم کسی حد تک ٹیلی پیتھی سے مماثلت دے سکتے ہیں۔ گوکہ یہ علم ابھی باقاعدہ سائنس تو نہیں بن پایا لیکن شیطان کی وسوسہ انگیز ی کو سمجھنے کے لئے بہترین مثال ہے۔ ٹیلی پیتھی میں ایک شخص بغیر کسی ٹیلی فون، موبائل ، ای میل یا کسی اور بات چیت کےذریعے کے کسی دوسرے شخص کے ذہن کے خیالات جان سکتا اور اپنے خیالات اس کے ذہن میں ڈال سکتا ہے۔
مثال کے طورپر احمد جو ٹیلی پیتھی کا ماہر ہے وہ اکرم کے خیالات پڑھنا چاہتا ہے۔ احمد کراچی اور اکرم حیدرآبا د میں ہے۔ احمد اپنے ذہن میں اکرم کا تصور لاتا اور اکرم کے دماغ میں گھس کر اس کے خیالات پڑھ لیتا ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے۔ احمد چاہے تو اکرم کے خیالات میں اپنے خیالات بھی ملا سکتا اور اسےکسی کام کرنے پر اکساسکتا ہے۔

مثال کے طور پر اکرم اس وقت کوئی فلم کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ احمد اس کے دماغ میں جاکر اس کے خیالات کو پڑھتا ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ وہ اس وقت ہیرو ہیروئین کے متعلق سوچ رہا ہے کہ کس طر ح دنوں نے غریب کی مدد کرکے اسے مشکل سے نکالا۔ ادھراحمد نے ان خیالات میں اپنا وسوسہ بھی ڈال دیا کہ ہیروئین کو دیکھو کتنی خوبصورت ہے۔ اب دماغ کی رو ایک نیک خیال سے بھٹک گئی۔ یہ پہلا مرحلہ ہے ۔ اگر اکرم اس خیال کو جھٹک دے اور اپنے پرانے تصور پر چلاجائے تو احمد ناکام ہوجائے گا۔ لیکن اگر وہ ہیروئین کےخوبصورت چہرے کا تصور کرے گا تو احمد مزید تصورات پیدا کرکے اسے جنسی اشتعال دلا سکتا اور کسی گناہ کی جانب راغب کرسکتا ہے۔
ٹیلی پیتھی ایک مستند علم ہے یا نہیں ، اس سے قطع نظر شیطان کا طریقہ واردات کم و بیش یہی ہوتا ہے۔ وہ اسی طرح دور یا قریب بیٹھ کر انسان کے خیالات کو پڑھتا ہے۔ وہ بار بار جب انسان کے خیالات سے آگاہی حاصل کرتا رہتا ہے تو اسے اس کی شخصیت کے کمزور پہلووں کا علم ہونے لگتا ہے۔ وہ انہیں کمزرو پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے وسوسہ انگیزی کرتا ہے۔جیسے ایک شخص کے خیالات سے علم ہوتا ہے کہ وہ خود کو بہت بڑا عالم سمجھتا ہے ۔ اس شخص کو شیطان اپنی نظر میں بڑا بنانے کے وسوسے ڈالتا ہے۔ نوجوانوں کے ذہن کو جنسی بے راہ روی کا شکار بناتا ہے وغیرہ۔

وسوسے انسانی شیاطین کی جانب سے آئیں یا جناتی شیطانوں کی طرف سے۔ ایک انسان ان کو مکمل طور پر رد کرنے پر قادر ہے۔ ان سے بچنے کا طریقہ بہت آسان ہے۔جونہی ہمیں یہ محسوس ہو کہ شیطان نے وسوسہ انگیزی کی ہے تو ہمیں اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہئے۔ اس پناہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر کی قوتیں یعنی فرشتے ہماری حفاظت پر مامور کردیتے ہیں۔ چنانچہ جب شیطان وسوسے ڈالتا ہے تواللہ سے پناہ مانگنے پر فرشتے شیطان کی چالوں کو ہم پر واضح کردیتے اور ہمارےاندر مزاحمت پیدا کردیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس طرح ان چالوں کو سمجھ کر جواب دیں۔ اس کے علاوہ فرشتے شیطان کی جانب سے پیدا کی گئی منفی سوچوں کے جواب میں سکینت نازل کرتے اور مثبت سوچیں پیدا کرکے ہماری معاونت کرتے ہیں۔ لیکن فرشتوں کا یہ ساتھ انہی کو ملتا ہے جو شیطان کو دھتکار کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ ہم علم حاصل کریں۔ اگر ہمیں صحیح و غلط کی تمیز ہوگی تب ہی ہم شیطانی وسوسوں اور چالوں کو پہچان سکتے ہیں۔ تیسرا قدم یہ کہ ہم عمل بہتر بنائیں۔ ایک شخص جو گناہوں کی زندگی میں ملوث ہو، شیطان کا باآسانی شکار بن جاتا ہے۔ آخری قدم یہ کہ ہم اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے نقش قدم پر چلیں کیونکہ اللہ کے چنے ہوئے بندوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا ۔ اور جب ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو عین ممکن ہے کہ ہم بھی شیطان کی دراندازیوں سے محفوظ رہیں۔
وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ 97؀ۙوَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ 98؀
نیز یہ دعا کرتے رہئے کہ: پروردگار! میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ (سورہ المومنون)

Professor Muhammad Aqil


چلو اس اور چلتے ہیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Nov 14, 2015

چلو اس اور چلتے ہیں
(جنت کے طلب گاروں کے نام)
پروفیسر محمد عقیل

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پھولوں کی وادی میں پرند ے بات کرتے ہیں
جہاں آوارہ بھنورے شام کو اٹھکھیلیاں کرتے، مچلتے ہیں
جہاں بادل پہاڑوں پہ ٹہرتے اور چلتے ہیں
جہاں ہر زیرو بم کے ساتھ ہی موسم بدلتے ہیں

چلو اس اورچلتے ہیں
جہاں سوچیں حقیقت بن کے خود ہی گنگناتی ہیں
جہاں قوس قزح کی سب لکیریں مسکراتی ہیں
جہاں سورج کی کرنیں سرد ہوکے بول اٹھتی ہیں
جہاں تاروں کی کرنیں کہکشاں سی جگمگاتی ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پربت کی چوٹی سرنگوں ہوتی سی لگتی ہے
جہاں تاریکیوں میں چاندنی خود رقص کرتی ہے
جہاں باد صبا کی سرسراہٹ گدگداتی ہے
جہاں برسات رنگ و نورکی محفل سجاتی ہے

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ پیرہن سونے کے اور چاندی کے بندھن ہیں
حسیں قالین، تخت و تاج و ریشم ،اطلس و دیبا
شرابیں پاک، نغمے صاف اور چمکے ہوئے من ہیں
سبھی مسرور وشاداں ہیں سبھی مہکے ہوئے تن ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں پہ سبزہ ، ڈالی، ٹہنی ، پھل اور پھول اپنا ہے
جہاں کانٹا نہیں کوئی، جہاں سوکھا نہیں آتا
جہاں رنج والم، مشکل، ستم ، غم نہیں آتا
جہاں پہ خوف کے مارے یہ جی بیٹھا نہیں جاتا

چلو اس اور چلتے ہیں
جہاں چشمے ابلتے ہیں
جہاں اشجار ہر لمحے نئے منظر بدلتے ہیں
جہاں راتیں بھی روشن ہیں جہاں کی محفلیں نوری
جہاں پہ حسن بے پروا کے جلوے بھی نکلتے ہیں

چلو اس اور چلتے ہیں
چلو اس رب سے ملتے ہیں
جہاں سجدے مچلتے ہیں،جہاں یہ دل پگھلتے ہیں
جہاں پہ رب کے قدموں میں جبیں بس جم سی جاتی ہے
جہاں پہ ساعتیں مدھم ، خوشی کے دیپ جلتے ہیں

چلواس اور چلتے ہیں
چلو پھر سے سنبھلتے ہیں
چلو خود کو بدلتے ہیں
چلو بس آج سب کچھ چھوڑ کے ہم بھی نکلتے ہیں
چلو اس اور چلتے ہیں


حق کی پیروی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Nov 3, 2015

حق کی پیروی

ہم سب سے حق کی پیروی مطلوب ہے اور بس۔ آج ہم تعلیم یافتہ لوگوں کے لیے جسمانی جہاد کے مواقع تو معدوم ہی ہیں لیکن اپنی رائے سے رجوع کرنا اور غلطی واضح ہوجانے پر اسے ترک کرنا جہاد سے کم نہیں۔
ہم سب الحمدللہ حق کے پیروکار ہیں کسی شخصیت کے نہیں۔ امام مالک مسجد نبوی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے سامنے بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے۔ وہ نبی کریم کی قبر مبارک کی جانب اشارہ کرتے کہتے ” انسانوں میں صرف ان صاحب (نبی کریم) سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ، باقی سب لوگ خطاکار انسان ہیں اور ہم بھی ان جیسے انسا ن ( یعنی سب سے اختلاف ممکن ہے)۔
رجوع کرنے کا معاملہ امام ابو حنیفہ کا بھی یہی تھا جو کہتے تھے کہ میرے قول کے مقابلے میں اگر صحیح حدیث مل جائے تو اسے ترک کردواور حدیث اپنالو۔ اہل علم ہمیشہ سے اپنے علم کا آپریشن کرتے رہے اور حق کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ یہ ان کے مقلدین ہوتے ہیں جو عقیدت کو عقیدہ بناکر اسے عین دین سمجھ لیتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اس تحریر کے قارئین میں سے ہر شخص نے اپنا عقید ہ آباو اجداد کی اندھی تقلید کی بنا پر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اپنا یا ہوگا۔ میں خود ایک بریلوی گھرانے میں پیدا ہوا۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر ہی میں یہ بات واضح ہونے لگ گئی کہ اس عقیدے میں گڑ بڑ ہے۔ پھر اس عقیدے کو جب چھوڑا تو شدید مخالفت کا سامنا تھا لیکن اللہ نے توفیق دی اور استقامت عطا فرمائی۔ اس کے بعد جماعت المسلمین، غامدی صاحب، مولانا وحید الدین ، اہل حدیث، مولانا مودودی ، اشرف علی تھانوی اور دیگر سے استفادہ ضرور کیا لیکن کسی فرد یا جماعت کو سراپا حق نہ سمجھا ۔ ہمیشہ اللہ نے اما م مالک کا یہ جملہ ذہن میں رکھا:
” صرف نبی کریم سے اختلاف ممکن نہیں ( کیونکہ آپ معصوم عن الخطا ہیں) باقی ھم رجالون ونحن رجال۔
ہم سب سے جو مطلوب ہے وہ فکر فراہی، دیوبندیت، بریلویت ، تصوف اور بزرگان دین کا دفاع مقصود نہیں۔ ہم سب سے اس حق کا دفاع مقصود ہے جسے ہم نیک نیتی سے حق سمجھتے ہیں۔ اسی پر ہم قیامت کے دن مسئول ہونگے۔ چنانچہ ہمیں لوگوں اور مکاتب فکر کے دفاع کی بجائے حق کا دفاع کرنا چاہیے خواہ وہ کسی بھی شکل میں اور کسی کی بھی طرف سے ہو۔
اپنے نظریے کی غلطی واضح ہوجانے کے بعد اسے ترک کرنا ایسا ہی ہے جیسے اپنے جسم سے کسی کینسر زدہ حصے کو الگ کرنا۔ جس طرح اس متاثرہ حصے کو الگ نہ کیا جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے، ایسے ہی اگر غلط عقائد کو غلطی واضح ہوجانے کے بعد تعصب ، تنگ نظری، ضد ، ہٹ دھرمی، مفاد پرستی یا انا کی باعث الگ نہ کرنے پر روحانی موت ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد بندہ کتنا ہی علامہ کیوں نہ بن جائے ، اندر سے اس کا روحانی وجود سڑنے کے عمل سے گذررہا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ خداکی نظر میں مرجاتا ہے لیکن اسے اس کا پتا تک نہیں چلتا۔
پروفیسر محمد عقیل


ڈائری کاایک صفحہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Oct 27, 2015

ڈائری کاایک صفحہ،
از حافظ محمد شارق

ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے ؛ وانڑیاں جب کھُٹتا ہے تو پرانے کھاتے کھولتا ہے۔ یعنی بنیے پر پیسے کی موت آتی ہے وہ پرانے کھاتے کھولتا ہے، کہیں کسی کو ادھار دے رکھا ہو، کسی نے قرض لیا ہو، کہیں امانت رکھائی
ہو، غرض کہ پرانے مردے بھی اکھاڑ کر جہاں کہیں سے وصولی ممکن ہو وہ پائی پائی وصول کرتا ہے۔

یہ کہاوت سنتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ روزِ محشر بھی ہم سب کی حالت کچھ اسی بنیے کی طرح ہوگی، ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہوں گے اور سب سے وصولی کے چکر میں ہوں گے، آپ نےکسی کی غیبت کی ہو، کسی کی دل آزاری کی، کسی کے گھر کے گیٹ پر بائیک پارک کردی، کسی کو ملاوٹ کرکے کچھ بیچا، کسی کو قطار میں دھکا دیا ہو، کسی کی زمین ہڑپ کردی ، کسی کو گالی دی ہو، ہر ایک آپ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھاتے کھول کھول کر نیکیاں وصول کرے گا۔ سب پائی پائی کا حساب لیں گے اور ایک ماشے کی نیکی بھی
معاف نہیں کریں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ہر ظلم کے مقابلے نیکیوں اور گناہوں کا تبادلہ ہوگا۔

اس صورت حال کو سوچ کر ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے اعمال کے بینک بلنس میں اتنی نیکیاں بھی جمع کر رکھی ہیں کہ اس وصولی کے بعد ہماری نجات ہوسکے؟؟؟ کیا ہم نے حقوق العباد کا اس قدر خیال بھی رکھا ہے کہ روزِ محشر ہم پر اس ظلم کے عوض اس کے گناہ نہ لاد دیے جائیں؟
اگر ہم نجات کے متمنی ہیں تو پھر ہمیں اپنی زندگیوں میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ہو گا۔