پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jun 27, 2017

فیس بک پر جھوٹے لائکس کا فتنہ
ڈاکٹر محمد عقیل
فیس بک کی کئی آزمائشوں میں ایک اہم فتنہ لائکس کا فتنہ ہے۔ عام طور پر ہم سب ایک دوسرے کی پوسٹوں کو لائک کرتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی اسباب ہوتے ہیں جن میں کسی کی تعریف کرنا، حوصلہ افزائی کرنا، اپنے دلی جذبات کا پڑھنا جاری رکھیں »


تنہائی، غصہ اور ڈپریشن

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jun 2, 2016

سوال: میں بہت تنہائی محسوس کرتی ہوں۔ مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ غصے سے اندر ہی اندر کڑھتی رہتی ہوں ۔ دو دن غصہ رک جاتا ہے۔ تیسرے دن میں کنٹرول نہیں کرسکتی۔ غصہ مجھ پراتنا حاوی ہوجاتا ہے کہ میں اس سے لڑ نہیں سکتی۔ پھر میں بہت روتی ہوں۔ اور اس تیسری رات میں سو بھی نہیں پاتی۔ دم گھٹنے لگتا ہے۔ دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ جیسے دل بند ہوجائے گا ۔ کوئی بات یاد آجائے تو ساری رات کیا، کیوں اور کیسے ہوا سوچتے ہوئے گزرجاتی ہے۔ سوچیں میرے دماغ سے نکلتی نہیں ہیں۔ جب سے میرا پالتو طوطا میری غلطی کی وجہ سے مر گیا ہے میں مزید ڈپریش کا شکار ہو چکی ہوں ۔میری امی مجھے اکثر کہتی تھیں اور ابھی بھی انکا یہی خیال ہے کہ میں ذہنی مریض ہوں۔ اب مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہےکہ واقعی میں مینٹلی ٹھیک نہیں ہوں۔ ایک مہینے سے دماغ نے ساتھ دینا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں سب ٹھیک ہیں بس میں ٹھیک نہیں ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی میں اس کیفیت کو کنٹرول نہیں کرپاتی ۔ لوگوں کی تنقید سے اور برا محسوس کرتی ہوں۔سب کچھ برا ہے میرے ساتھ۔۔میری شادی ہونے والی ہے مگرلگتا ہے سب کچھ مل کے بھی خالی ہاتھ ہوں۔ کبھی میرا دل کرتا ہے باہر جاؤں ۔۔فرینڈز کے ساتھ گھوموں باتیں کروں اور کبھی بالکل تنہا رہنے کا دل کرتا ہے جہاں کوئی نہ ہو۔۔میں بہت ڈپریش میں ہوں ۔۔مدد چاہیے۔
جواب:آپ کے سوال میں بہت سی الجھی ہوئی سوچیں اور بے ربط خیالات ہیں۔۔دیکھیں آج دنیا میں بے شمار لوگوں کو آپ سے ملتے جلتے مسائل کا سامنا ہے یعنی گھر میں توجہ نہ ملنا،جسمانی خوبصورتی نہ ہونا،تنہائی،کسی عزیز کا بچھڑ جانا۔۔۔اور اپنی ناکامیوں پر مزید مایوس کن خیالات کی بھرمار۔۔۔لیکن اصل بات یہ مسائل نہیں بلکہ ان مسائل پر ہمارا ردعمل ہے۔ آج دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جو کسی نہ کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ آپ بالکل بھی ذہنی مریض نہیں صرف آپ میں قوت ارادی کی کمی اور زود حسی ہے۔یہ سب مسائل حل طلب ہیں اگر آپ ان کے آگے خود کو بےبس سمجھ کر ہتھیار نہ پھینکیں بلکہ مثبت سوچوں اور مثبت رویے کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں۔یقین مانیں اگر آپ انہی لایعنی قسم کی سوچوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں تو دنیا کا کوئی بھی انسان آپ کی مدد نہیں کر سکتا ، نہ کوئی ہینگ آؤٹ اور نہ ہی کوئی دوست۔۔
اللہ نے ہر انسان کو اس کی ضروریات کے مطابق بے شمار نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے اور جن چیزوں سے محروم رکھا ہے یہ بھی اس کے لا محدود علم اور مصلحت کے تحت ہے جس کو ہمارا محدود ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ مگر ہم اپنی اپنی محرومیوں کو خود پر اسقدر حاوی کر لیتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کر پاتے اور ان بے شمار نعمتوں کو سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں حاصل ہیں بغیر ہماری کسی کوشش کے۔
اب آپ کی مرضی کے مطابق آپ کی شادی ہونے والی ہے۔یہ آپ کے پاس اپنی زندگی کو نارمل کرنے کا سنہری موقع ہے،اب اگر آپ نے خود کو کنٹرول نہ کیا تو آگے بھی خدا نہ کرے ،سوائے مسائل کے،کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔میرا مشورہ ہے کہ:
۔اپنے گھر والوں کے رویے کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں کہ وہ آپ کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں ۔ بے شک ان کا طریقہ کار غلط ہے مگر ان کی نیت ہو سکتا ہے درست ہو، ان کی باتوں پر کڑھنے کی بجائے برداشت اور حوصلے کے ساتھ کوشش کریں کہ محبت کا برتاؤ کریں۔
۔آپ کو کسی مثبت ذہنی اور جسمانی سرگرمی کی شدید ضرورت ہے مثلاً اچھی کتابوں کا مطالعہ ،ہلکی پھلکی ورزش وغیرہ۔
۔دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ مت کیجئے۔ یہ فرض کر لیجئے کہ دوسرا آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ بڑی بڑی توقعات رکھنے سے انسان کو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
۔خوشی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا سیکھئے اور بڑے سے بڑے غم کا سامنا مردانہ وار کرنے کی عادت ڈالئے۔
۔اللہ کے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کریں،اپنی چھوٹی بڑی ہر بات اس کے سامنے کریں اس یقین کے ساتھ کہ وہ قادر مطلق ضرور سنتا ہے۔۔یقین مانیں دل پرسکون ہو جاتا ہے۔۔
ان تمام طریقوں سے بڑھ کر سب سے زیادہ اہم رویہ جو ہمیں اختیار کرنا چاہئے وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل اور قناعت ہے۔ توکل کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہا جائے۔ اس کا انتہائی معیار یہ ہے کہ انسان کسی بھی مصیبت پر دکھی نہ ہو بلکہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو ، اسے دل و جان سے قبول کرلے۔ ظاہر ہے عملاً اس معیار کو اپنانا ناممکن ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اس کے جتنا بھی قریب ہو سکتا ہو، ہو جائے۔
آپ نے جس خیالی دنیا کا ذکر کیا ہے ، یقیناً وہ دنیا انسان کو ملے گی۔بس ہمیں خود کو اس کا اہل ثابت کرنا ہے اور وہ دنیا کا سکون بھی ہو سکتا ہے اور آخرت کا ہمیشہ کا آرام بھی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم یہ سوچیں کہ دنیا کی اس چند روزہ زندگی سے ہم نے اپنی آخرت کا سامان کیسے اکٹھا کرنا ہے؟؟یہ مشکل تو ہو گا مگر اس کے بعد ہمیشہ کا سکون مقدر بن سکتا ہے۔۔
اللہ آپ کو قوت برداشت اور ہمت دے کہ آپ خود کو بدلنے میں کامیاب ہو سکیں۔۔آمین
از: راعنہ نقی سید


نیا احتساب

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

نیا احتساب

کیا ہم حسد کرتے ہیں ؟ کیا ہم زنا کرتے ہیں؟ کیا ہم  جھوٹ بولتے  ہیں ؟  ان تمام سوالات کا جواب عین  ممکن ہے ہم    یہ دیں کہ  ہم تو ایسا نہیں کرتے۔ عام حالات میں کوئی گناہ کی جانب مائل نہیں ہوتا۔ البتہ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جب انسان گناہ کی جانب مائل ہوتا  اور غلط کام کرتا ہے۔

نیکی اور گناہ کا تعلق انسان کے داخلی اور خارجی ماحول سے ہے۔داخلی ماحول میں انسان کی طبیعت، مزاج، خواہشات،رغبات اور مفادات کا دخل ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شخص  اپنی شخصیت میں غیض  و غضب  کا پہلو نمایاں رکھتا ہے تو وہ باآسانی غصہ کی جانب مائل ہوجائے گا۔ دوسری جانب خارجی ماحول میں انسان کے گردو پیش کے معاشرتی، معاشی، اخلاقی اور دیگر حالات کا دخل ہوتا ہے۔ جیسے کوئی شخص مغربی ماحول میں پلا بڑھا تو اس کے لئے زنا کرنے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔  ایک انسان کے لئے  اپنے داخل و خارج کے موافق  حالات میں نیکی کرنا  عام طور پر آسان ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر حالات ناموافق ہوں تو ایسی صورت میں نیکی کرنا  اور گناہ سے بچنا  ایک جہاد بن جاتا ہے۔ یہی اصل آزمائش کا وقت ہوتا ہے اور یہیں انسان کے رخ کا تعین ہوجاتا ہے کہ وہ کس سمت جارہا ہے۔

عام طور پر جب ہم اپنا احتساب کرتے ہیں تو ان حالات کو ذہن میں رکھتے ہیں جو موافق اور نارمل ہیں۔ چنانچہ جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ ہم تو جھوٹ نہیں بولتے ، ہم تو حسد کا شکار نہیں ہوتے، ہم تو بدگمانی نہیں رکھتے، ہم کسی کے خلاف بات نہیں کرتے ، ہم تو شاید کچھ بھی نہیں کرتے۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دیکھنے کا زاویہ بدل لیں تو صورت حال برعکس بھی  ہوسکتی ہے۔ممکن ہے ہماری زندگی میں سچ بولنے کا امتحان آیا ہی صرف دس مرتبہ ہو اور اس ان تمام ناموافق مواقع پر ہم یہ کہہ کر جھوٹ بول گئے کہ کبھی کبھی تو چلتا ہے۔ ممکن ہے ہمیں اپنے مدمقابل  صرف چار لوگ ہی ایسے ٹکرائے ہوں جنہیں دیکھ کر حسد محسوس ہو اور ہم ان چاروں مواقع پر حسد کا شکار ہوچلے ہوں۔ ممکن ہے ہمیں زندگی میں چندہی مرتبہ کسی  اپنے مفادات کے خلاف کوئی  حق بات پیش کی گئی ہو اور ہر موقع پر ہم  نے عصبیت و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے حق کو رد کردیا ہو۔

چنانچہ ہم سب کو نئے سرے سے اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لیتے وقت اپنی شخصیت  کو ناموافق حالات  میں رکھ کر سوچنا چاہئے۔ہمیں خود یہ یہ سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم خود کو اس وقت بھی     سچ بولنے پر آمادہ کرلیتے ہیں جب  مادی نقصان سامنے ہو، کیا ہم اس وقت صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں جب  دل شدت غم سے پھٹا جارہا ہو، کیا ہم اس وقت لوگوں کو معاف کردیتے ہیں جب ان کی غلطی ایک مسلم حقیقت بن چکی ہوتی  ہے، کیا ہم اس وقت بھی اپنے آپ کو  چھوٹا مان لیتے ہیں جب ہماری انا بری طرح مجروح ہورہی ہے۔اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے سرے سے امتحان کی تیاری کی ضرورت ہے کیونکہ آزمائش کے وقت ہم ناکام ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر محمد عقیل


ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

ڈپریشن، تھکاوٹ اور بدمزاجی  کیوں؟

عظمی عنبرین/ اقصی ارشد

اگر گھر میں ایک ہی ٹی وی ہو تو  تین گروپ بن جاتے ہیں ۔ مردوں کو سیاسی ٹاک شوز پسند آتے ہیں ، خواتین انٹرٹینمنٹ اور شو بز کے چینل لگانا چاہتی ہیں اور بچے کارٹونز پر پل پڑنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔  تینوں کا واحد مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ تسکین کا حصول ۔ سب یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح وہ لطف، مزا یا تسکین حاصل کرکے اپنے آپ کو ریلیکس کرلیں گے۔ لیکن ہم ایک اہم بات بھول جاتے ہیں۔ تسکین  حاصل کرنے کے لئے دو عوامل کا ہونا لازمی ہے۔ ایک تو تسکین کا موقع اور دوسرا تسکین حاصل کرنے کی صلاحیت۔ مثال کے طور پر آپ چھولوں کی چاٹ کھاکر لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی  آپ کے منہ کا ذائقہ بخار اور گلے میں درد کی بنا پر کڑوا ہوچکا ہے۔ تو اب آپ چھولے کھاکر بھی تسکین حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ آپ  میں اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت موجود نہیں۔

بالکل ایسے ہی ہماری پوری زندگی میں یہ دو عوامل ہونا لازمی ہیں یعنی تسکین کا موقع اور تسکین  کے حصول کی صلاحیت۔ ایک بہت ہی خوشی کے موقع پر بھی ایک پاگل یا نفسیاتی شخص محظوظ نہی ہوسکتا۔ ایک منفی ذہن کا شخص بارش سے لطف اندوز ہونے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتاہے، ایک  دولت مند شخص  ڈپریشن کے باعث اپنی دولت سے فائدہاٹاحنے سے قاصر ہوتا ہے وغیرہ۔

ہماری ساری توجہ تسکین کے ذرائع تلاش کرنے  پر ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ہم سکون  حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی توجہ دیں تو کم چیزوں میں زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔ ہمارے سکون ی راہ میں سب سے بڑی  رکاوٹ  منفی سوچ، احساس کمتری، چرچڑاہٹ، موڈ کی باربار تبدیلی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسے مسائل ہیں۔ جب تک ان پر قابونہ پایا جائے  ہم کسی طور تفریح تو کیا ایک نارمل لائف بھی نہیں گزارسکتے۔

ان تمام بیماریوں کی کئی وجوہات  ہوسکتی ہیں۔ لیکن ایک تحقیق  کے مطابق  ہماری سوسائیٹی میں اس کی ایک بڑی وجہ  کچھ مخصوص وٹامن کی کمی ہے۔ اس میں سرفہرست وٹامن بی ۱۲  ہے۔ یہ بات تشویشناک ہے کہ عوام الناس وٹامن بی 12   کی اہمیت سے کماحقہ آ گاہ نہیں ہیں ،جبکہ نفسیاتی امراض کے سلسلہ میں یہ جزو لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے وٹامن بی  انسانی صحت میں ہاضمے سے لے کر  دماغ کی صحت تک کے لیے انتہائی ضروری ہے جبکہ پاکستان  میں یہ وٹامن فراہم کرنے والی غذا کی قلت کی بنا پر لوگ بڑ ے پیمانہ پر اس اہم اور ضروری وٹامن  کی کمی  کا شکا  ر  ہوتے ہیں اور اکثر نفسیاتی بیماریاں اس وٹامن کی کمی کی ہی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔

اگر آپ مندرجہ  ذیل  علاما ت  سےگزر رہے ہیں تو یہ آپ  کے  جسم  میں وٹامن 12 –B کی  شدید  کمی کا عندیہ ہے :

1.احساسات  و جذبات  کا  غیر معمولی  اتا ر چڑھاؤ۔

2.روزمرہ  کے  کاموں  میں بے رغبتی  ،خواہ  وہ  اپنی  مرضی و منشا  کے پسندیدہ  مشاغل  ہی  کیوں  نہ ہوں 3.دماغ  کا چکرانا ۔

4.سونے  کے  اوقات  کی بے  اعتدالی ۔

5.سستی و بے ہمتی والا رویہ ، ٹینشن، ڈپریشن

6.معمولی  سی  باتوں پر  بدمزاجی  اور جھلاہٹ

7.دیگر معاشرتی دباؤ یا   پسپائی والی  علامات

اس وٹامن کی کمی کو یوں تو ٹیسٹ کے زریعے معلوم کرایا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس وٹامن کو زیادہ مقدار  میں لے بھی لے تو یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ یہ قدرتی طریقوں سے جسم سے از خود خارج  ہوجاتا ہے ۔ بالعموم نفسیاتی  بیماریوں کا علاج کرنےوالے ڈاکٹرز اس  کے بارے میں لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی کمائی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عام خوراک میں وٹامن  کی دستیابی  کا  بڑا  ذریعہ بچھڑے  کا جگر ہے ۔کسی حد تک یہ مرغی کے جگر اور انڈوں میں بھی پایا   جاتا ہے ،مگر ہمارے ملک میں جو برائلر  چکن  دستیاب ہے جس میں  اس  وٹامن  کی حسب ضرورت مقدار نہیں ہوتی ۔ اس  کے علاوہ مارکیٹ میں وٹامن بی کی سپلمنٹس (ادویات) بھی ملتی ہیں اور انجکشن کی مدد سے بھی یہ کمی دور کی جاتی ہے۔ اس وٹامن کے سالانہ صرف دس انجکشن لگوانا کافی ہیں۔ہر انجکشن کے بعد  ایک  دن کا وقفہ اور پھر  اگلا  انجکشن ،اسی طرح دس مکمل کریں ۔ کچھ کیسز ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک سال  میں  ہر تین ماہ بعد ہ کورس کرنا چاہیے؛ اس بارے میں حتمی فیصلہ کوئی ماہر نفسیات یا یا ڈاکٹر  ہی کرسکتا ہے تاہم اس معاملے میں آپ کو انتہائی محتاط اور با خبر رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ وٹامنز کی کمی سے ہونے والی نفسیاتی الجھنوں نے نجات حاصل کرسکیں۔

 


جادو اور نفسی علوم کی حقیقت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

جادو اور نفسی علوم کی حقیقت

از پروفیسر محمد عقیل

تحریر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tTVhBeFdwbXZBTkU


شیطان کا طریقہ واردات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Nov 29, 2015

شیطان کا طریقہ واردات
ہمارے مذہبی لٹریچر میں شیطان پر کافی بحثیں کی گئی ہیں کہ وہ ازلی ہے یا ابدی، فرشتہ ہے یا جن،شکل و صورت کیسی ہے، رہتا کہاں ہے، کھاتا پیتا کیا ہے وغیرہ۔ لیکن قرآن نے شیطان کے ان پہلووں کی بجائے اس بات پر فوکس کیا ہے کہ وہ کس طرح انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ شیطان نے اس کا سب سے بڑا ہتھیار وسوسہ انگیزی ہی کو قراردیا ہے۔
یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی زور نہیں اور وہ صرف وسوسہ انگیزی کے ذریعے ہی انسان کو اکسا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح انسان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، اسے کس طرح ہمارے خِیالات کا علم ہوتا ہے، اسے کیسے پتا چلتا ہے کہ ہمارا کمزور پہلو کیا ہے اور ہم کس طرح اس کی وسوسہ انگیزی کے فریب میں آجاتے ہیں؟
شیطان کی وسوسہ انگیزی کو ہم کسی حد تک ٹیلی پیتھی سے مماثلت دے سکتے ہیں۔ گوکہ یہ علم ابھی باقاعدہ سائنس تو نہیں بن پایا لیکن شیطان کی وسوسہ انگیز ی کو سمجھنے کے لئے بہترین مثال ہے۔ ٹیلی پیتھی میں ایک شخص بغیر کسی ٹیلی فون، موبائل ، ای میل یا کسی اور بات چیت کےذریعے کے کسی دوسرے شخص کے ذہن کے خیالات جان سکتا اور اپنے خیالات اس کے ذہن میں ڈال سکتا ہے۔
مثال کے طورپر احمد جو ٹیلی پیتھی کا ماہر ہے وہ اکرم کے خیالات پڑھنا چاہتا ہے۔ احمد کراچی اور اکرم حیدرآبا د میں ہے۔ احمد اپنے ذہن میں اکرم کا تصور لاتا اور اکرم کے دماغ میں گھس کر اس کے خیالات پڑھ لیتا ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے۔ احمد چاہے تو اکرم کے خیالات میں اپنے خیالات بھی ملا سکتا اور اسےکسی کام کرنے پر اکساسکتا ہے۔

مثال کے طور پر اکرم اس وقت کوئی فلم کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ احمد اس کے دماغ میں جاکر اس کے خیالات کو پڑھتا ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ وہ اس وقت ہیرو ہیروئین کے متعلق سوچ رہا ہے کہ کس طر ح دنوں نے غریب کی مدد کرکے اسے مشکل سے نکالا۔ ادھراحمد نے ان خیالات میں اپنا وسوسہ بھی ڈال دیا کہ ہیروئین کو دیکھو کتنی خوبصورت ہے۔ اب دماغ کی رو ایک نیک خیال سے بھٹک گئی۔ یہ پہلا مرحلہ ہے ۔ اگر اکرم اس خیال کو جھٹک دے اور اپنے پرانے تصور پر چلاجائے تو احمد ناکام ہوجائے گا۔ لیکن اگر وہ ہیروئین کےخوبصورت چہرے کا تصور کرے گا تو احمد مزید تصورات پیدا کرکے اسے جنسی اشتعال دلا سکتا اور کسی گناہ کی جانب راغب کرسکتا ہے۔
ٹیلی پیتھی ایک مستند علم ہے یا نہیں ، اس سے قطع نظر شیطان کا طریقہ واردات کم و بیش یہی ہوتا ہے۔ وہ اسی طرح دور یا قریب بیٹھ کر انسان کے خیالات کو پڑھتا ہے۔ وہ بار بار جب انسان کے خیالات سے آگاہی حاصل کرتا رہتا ہے تو اسے اس کی شخصیت کے کمزور پہلووں کا علم ہونے لگتا ہے۔ وہ انہیں کمزرو پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے وسوسہ انگیزی کرتا ہے۔جیسے ایک شخص کے خیالات سے علم ہوتا ہے کہ وہ خود کو بہت بڑا عالم سمجھتا ہے ۔ اس شخص کو شیطان اپنی نظر میں بڑا بنانے کے وسوسے ڈالتا ہے۔ نوجوانوں کے ذہن کو جنسی بے راہ روی کا شکار بناتا ہے وغیرہ۔

وسوسے انسانی شیاطین کی جانب سے آئیں یا جناتی شیطانوں کی طرف سے۔ ایک انسان ان کو مکمل طور پر رد کرنے پر قادر ہے۔ ان سے بچنے کا طریقہ بہت آسان ہے۔جونہی ہمیں یہ محسوس ہو کہ شیطان نے وسوسہ انگیزی کی ہے تو ہمیں اللہ سے پناہ طلب کرنی چاہئے۔ اس پناہ کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر کی قوتیں یعنی فرشتے ہماری حفاظت پر مامور کردیتے ہیں۔ چنانچہ جب شیطان وسوسے ڈالتا ہے تواللہ سے پناہ مانگنے پر فرشتے شیطان کی چالوں کو ہم پر واضح کردیتے اور ہمارےاندر مزاحمت پیدا کردیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس طرح ان چالوں کو سمجھ کر جواب دیں۔ اس کے علاوہ فرشتے شیطان کی جانب سے پیدا کی گئی منفی سوچوں کے جواب میں سکینت نازل کرتے اور مثبت سوچیں پیدا کرکے ہماری معاونت کرتے ہیں۔ لیکن فرشتوں کا یہ ساتھ انہی کو ملتا ہے جو شیطان کو دھتکار کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ ہم علم حاصل کریں۔ اگر ہمیں صحیح و غلط کی تمیز ہوگی تب ہی ہم شیطانی وسوسوں اور چالوں کو پہچان سکتے ہیں۔ تیسرا قدم یہ کہ ہم عمل بہتر بنائیں۔ ایک شخص جو گناہوں کی زندگی میں ملوث ہو، شیطان کا باآسانی شکار بن جاتا ہے۔ آخری قدم یہ کہ ہم اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے نقش قدم پر چلیں کیونکہ اللہ کے چنے ہوئے بندوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا ۔ اور جب ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو عین ممکن ہے کہ ہم بھی شیطان کی دراندازیوں سے محفوظ رہیں۔
وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ 97؀ۙوَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ 98؀
نیز یہ دعا کرتے رہئے کہ: پروردگار! میں شیطان کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں ۔ (سورہ المومنون)

Professor Muhammad Aqil


محبت –کیا ، کیوں ، کیسے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 12, 2015

محبت –کیا ، کیوں ، کیسے؟
پروفیسر محمد عقیل
سوشیالوجی کی کلاس میں آج کافی ہل چل تھی۔اس ہلچل کی وجہ آج کا موضوع تھا یعنی ” محبت کیا ، کیوں اور کیسے ہوتی ہے۔” پروفیسر کلاس میں داخل ہوئے تو دھماچوکڑی مچانے والے لڑکے لڑکیاں اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔
پروفیسر ادریس نےاپنا موٹا چشمہ سنبھالا اور کلاس کا آغاز کیا:
پڑھنا جاری رکھیں »


موڈ پر قابو کیسے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday May 28, 2015

” مجھے اپنی سوچوں پر قابو نہیں ۔ ہر وقت الٹی سیدھی سوچیں میرے دماغ میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ ان کی بنا پر جذبات مجھ پر حاوی رہتے ہیں۔ غصہ، بے چینی ، مایوسی ، افسردگی، منفی سوچ اور اس قسم کی دیگر باتیں ذہن میں آتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر مجھے بتاؤ میں کیا کروں؟”
وہ ایک ماہر نفسیات کے سامنے بیٹھا اپنی رام کہانی سنا رہا تھا۔
” تم ایک جملے میں اپنے مسئلے کو بیان کرو” ۔ ڈاکٹر نےپوچھا۔
” میرا موڈ میرے قابو میں نہیں بلکہ میں اس کے قابو میں ہوں۔” اس نے جواب دیا۔
“دیکھو! ہمارے دماغ اور دل کا گہرا تعلق ہے۔ دل جذبات کا مرکز اور دماغ عقل کی آماجگاہ ہے۔دل اور دماغ کے درمیا ن ایک نظر نہ آنے والی نالی ہے جیسے سانس کی نالی ہوتی ہے۔ اس نالی کے ذریعے عقل اور دل آپس میں پیغام رسانی یا میسجنگ کرتے ہیں۔ اگر ان کے درمیان توازن برقرار رہے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن عدم توازن انسانی شخصیت کا بیڑا غرق کردیتا ہے۔” ڈاکٹر کچھ دیر کے لئے سگریٹ سلگانے کے لئے رکا اور مریض بے چینی سے اپنا پہلو بدلنے لگا کہ کسی طرح گفتگو کا سلسلہ بحال ہو۔
” بہر حال ، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل سے پیغامات مسلسل دماغ کی جانب جارہے ہوں اور دماغ سے ہدایات نیچے دل کی جانب نہ آرہی ہوں۔ ایسی صورت میں یہ نالی ون وے ہوجاتی ہے اور اس میں یکطرفہ طور پر بہاؤ شروع ہوجاتا ہے۔چنانچہ دماغ پر جذبات حاو ی ہوجاتے اور دماغ کا فنکشن سلو ہوجاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت تسلسل کے ساتھ رہے تو پھر انسان کا موڈ اس کے قابو میں نہیں رہتا، وہ کبھی اداس ہوجاتا ہے، کبھی غصہ آتا ہے، کبھی بے چینی، کبھی پریشانی، کبھی غم تو کبھی ڈپریشن۔ کبھی خوشی بھی ملتی ہے لیکن عارضی۔ ”
” ہاں ہاں ، ایسا تو میرے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ تو میں کوشش کرتا ہوں کہ دماغ کی سوچوں کے ذریعے دل کو قابو کروں؟”
” یہی تو غلطی کرتے ہو تم۔ بلکہ اکثر لوگ یہی کرتے ہیں۔ ایک بیمار اور کمزور دماغ کس طرح ایک طاقتور اور بپھرے ہوئے جذباتی دل کو قابو کرسکتا ہے؟ ”
” اوہ! پھر کیا کروں؟”
” کچھ نہ کرو بس دماغ اور دل کی رابطے کی نالی کو عارضی طور پر بلاک کردو۔ یعنی دماغ سے کوئی میسج نہ بھجو اور نہ دل سے آنے والا کوئی پیغام وصول کرو۔”
” لیکن وسوسے تو آتے رہتے ہیں، دل تو اپنا کام کرتا رہتا ہے؟”
” ہاں ، تم ٹھیک کہتے ہو۔ اپنے دماغ کو خالی کرو۔ اس میں سے سوچوں کو نکال دو۔ اسے اس طرح خالی کردو جیسے ایک مکان کو شفٹنگ کے وقت خالی کردیا جاتا ہے، اس میں نہ کوئی فرنیچر ہوتا ہے نہ دوسرا سامان۔”
” اوہ! یہ تو بہت مشکل کام ہے۔”
” کوئی مشکل نہیں۔ ان اسٹیپس کو فالو کرو:
۱۔ سب سے پہلے تنہائی میں کسی ریلیکس جگہ پر بیٹھ جاؤ یا لیٹ جاؤ ، آنکھیں بند کرکے کر سانس آہستہ آہستہ اندر لواور اوپر لے جاکر روک دو۔ پانچ سیکنڈ تک روکے رکھو۔ پھر آہستہ آہستہ سانس باہر نکالو اور جب بالکل نکل جائے تو پانچ سیکنڈ تک روک لو۔ ایسا دس مرتبہ کرو۔
۲۔ اپنے چہرے پر غور کرو اور سوچو کہ تمہارے گال ، پیشانی اور آنکھوں کے اردگرد کے عضلات پھیل رہے ہیں۔ تم دیکھو گے کہ ایسا واقعی ہوگا۔”
۳۔ اب آنکھیں کھول کر سامنے کسی بھی چیز جیسے بلب یا ٹیبل وغیرہ کو دیکھنا شروع کرو اور مسلسل دیکھتے رہو۔ اس دوران اپنے دماغ کو بالکل خالی رکھو اور آہستہ آہستہ سانسیں لیتے رہو۔ یہ کام کوئی دس منٹ تک کرو۔
۴۔ روزانہ یہ عمل کرتے رہو اور دورانیہ دس منٹ سے بڑھادو۔
۵۔ دن میں جب وقت ملے دو تین مرتبہ ایسا کرلو۔ پندرہ دن میں حالات میں بہتری آجائے گی”
” کیا اس طر ح مجھے اپنے جذبات پر مکمل قابو مل جائے گا؟”
” ہاں لیکن بہت حد تک، باقی باتیں اگلے وزٹ پر بتاؤں گا۔ فیس ساتھ لیتے آنا۔”
ڈاکٹر نے ہاتھ بڑھایا اور اسے رخصت کردیا۔
پروفیسر محمد عقیل


اندر کے جانور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Oct 18, 2014

“کیا تم نے جانور کو دیکھا ہے”؟ بابا نے اپنے حامد  سے سوال کیا۔

” جی ، جی ، کئی مرتبہ دیکھا ہے ، لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ “حامد نے جواب دیا ۔

” اچھا ! تم نے کبھی اپنے اندر کے جانور کو دیکھا ہے؟”۔ بابا نے اس کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور سوال کردیا۔

” یہ اندر کا جانور کیا ہوتا ہے مجھے علم نہیں۔” حامد نے حیرت سے جواب دیا

” بیٹا! کیا ایسا نہیں ہوتا کہ بعض اوقات تم غصے سے چیختے ،   حسد سے انگلیاں چباتے، نفس کی ناجائز خواہش پوری کرتے اورحرص و ہوس کا  شکار ہوتے ہو؟”۔

” جی ہاں ! ایسا تو اکثر ہوتا ہے”۔ حامد نے کہا

” یہی تو اندر کا جانور ہے  جو ہم پر حاوی ہوجاتا ہے اور ہماری شخصیت جانور جیسی ہوجاتی ہے۔  بیٹا ، ہم  سب کے اندر بے شمار جانور چھپے ہوئے ہیں، یہ جانور ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھے جاسکتے بس ان کے لئے ہمیں آنکھیں بند کرکے اندر جھانکنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ اندر کیا کیا موجود ہے”۔ بابا نے تفصیل سے بیان کیا۔

انسان کی اصل شخصیت کیا ہے؟ اس پر بلامبالغہ لاکھوں صفحات  تحریر ہوچکے ہیں لیکن پھر بھی  انسان کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا۔  علم نفسیات کی تشریح   علم  کیمیا سے مختلف ہے تو روحانی علوم کے ماہرین  مادی علوم کے پنڈتوں سے اختلاف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جب ہم اس موضوع پر قرآن سے رجوع کرتے ہیں تو قرآن قطعیت کے ساتھ یہ بتاتا ہے کہ  انسان کی اصل شخصیت کیا ہے؟ یہ شخصیت انسان کے ظاہر اور اورباطن کا مجموعہ ہے۔ انسان کے ظاہر سے مراد چہرہ، ہاتھ پاؤں، رنگت، چال ،ڈھال وغیرہ ہے۔ دوسری جانب باطن سے مراد انسان کی   اچھی  اور بری صفات ہیں۔

ہم جب اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھتے ہیں  تو چہرہ ، ڈیل ڈول  اور ظاہری جثہ سامنے آتا ہے۔ سطحی قسم کے لوگ اسے ہی انسان کی اصل شخصیت سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ہمارے اندر بھی ایک  شخصیت موجود ہے جسے ہم نفس، خودی ، اپنا آپ ، میں ، روح ، دل یا کسی بھی نام سے منسوب کر سکتے ہیں ۔ اس  باطن کی شخصیت  کا بھی ایک چہرہ ہوتا ہے ، اس کے ہاتھ پاؤں ، جسم،  بو، زبان  سب ہوتے ہیں۔ اس باطنی جسم پر لگی ہوئی غلاظت اتنی ہی بری ہوتی ہے جتنی ظاہری بدن پر  لگی ہوئی کیچڑ ۔اس باطنی جسم  کی غلاظتیں   تکبر، نفس پرستی،  تعصب ، منفی سوچ، حسد ، کینہ، انتقامی نفسیات اور  خدا کی نافرمانی ہیں۔ دوسری جانب اس وجود کا پاکیزہ لباس    عجزو انکساری، نفس پر کنٹرول، مثبت سوچ، درگذر کی نفسیات اور خدا کی فرماں برداری   آراستہ ہے۔

اگر کوئی شخص  گندگی میں رہنے کا عادی ہوجائے تو اسے اپنے ظاہری جسم کی گندگی کا احساس نہیں ہوتا ۔ وہ میل کچیل کو گوارا کرلیتا، بدبو  کے ساتھ گذارا کرتا، دھول مٹی میں  اٹھتا بیٹھا اور  گندگی کو اپنا لیتا ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ ان سب باتوں کا اتنا عادی ہو جاتا ہے کہ گندگی اور پاکیزگی میں تمیز ہی کھوبیٹھتا ہے۔

بالکل یہی معاملہ اس شخص کےساتھ بھی ہوتا ہے جو اپنے  باطن کو گندگیوں سے صاف نہیں رکھ پاتا۔ جب اس کا باطنی  وجود ان غلاظتوں کا عادی ہوجاتا ہے تو پھر فحش مناظر دیکھنے  کی گندگی محسوس نہیں ہوتی ، پھر جھوٹ بولنے پر زبان لڑکھڑاتی نہیں، پھر  عزت لوٹتے وقت ضمیر کی سرگوشی بھی نہیں ابھرتی، پھر  خدا کی نافرمانی پر ہلکی سی ندامت بھی نہیں ہوتی۔ پھر انسان کے اندر کئی جانور پیدا ہوجاتے ہیں جو اس کے وجود کا احاطہ کرلیتے ہیں ۔ یہ جانور  غصہ، شہوت، نفس پرستی، حسد، کینہ، انتقام ، قانو ن شکنی، خود غرضی، انارکی اور بے ہنگم سوچوں کی شکل میں نمودار ہوتے اور آہستہ آہستہ انسا ن کو جانور بنادیتے ہیں۔ ایسے انسان کا ظاہری وجود تو  صاف ستھرے انسان کی شکل کا ہوتا ہے لیکن  اس کا باطن جانوروں کی خصلتوں کی بنا پر پاکیزگی کھوچکا ہوتا ہے۔

اس دنیا میں کسی شرفا کی تقریب میں ایسے شخص کا داخلہ ممنوع ہے جس کا منہ کیچڑ میں لتھڑا ہو، جس کے بال دھول مٹی سے اٹے ہوئے ہوں ، جس کے جسم پر میل کچیل کی تہیں چڑھی ہوں۔ بالکل ایسے ہی آخرت میں خدا کی جنت میں ان لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے جن کا  باطنی وجود ناپاکی و غلاظت سے لتھڑا ہوا ہو۔

پروفیسر محمد عقیل


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ۔اصول نمبر 12۔برائی کا جواب برائی سے دینے کی قیمت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Oct 10, 2014

کیس اسٹڈی
وہ آج دفتر میں داخل ہوا تو چپراسی نے کہا کہ صاحب یاد کررہے ہیں۔وہ آلتو جلالتو پڑھتا ہوا باس کے کمرے میں داخل ہوا ۔ باس کا موڈ ٹھیک نہ تھا۔ ” تمہیں پتا ہے تم نے فراڈ کیا ہے؟۔ باس مخاطب ہوا لیکن اس کی نگاہیں بتارہی تھیں کہ وہ اپنا جھوٹ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔
اس نے فراڈ کا انکار کیا لیکن اس ملاقات کا انجام اس کی ملازمت برطرفی پر ہوا اور یوں باس نے اپنے دیرینہ انتقام کو پورا کرلیا۔ وہ منہ لٹکائے گھر واپس آگیا ۔ باس کی شکل اسے دنیا کے
قبیح ترین جانور سے ملتی جلتی نظر آرہی تھی، اندر غم و غصے کا ایک طوفان برپا تھا۔ ایک طرف بے روزگاری کا غم تو دوسری طرف انتقام لینے کی شدید خواہش۔ وہ اپنے دوست کے پاس پہنچا جس کا تعلق ایک سیاسی تنظیم سے تھا۔ اس نے سارا کیس اس کے سامنے رکھ دیا۔
“مجھَے ہر صورت میں باس کی لاش چاہئے اس کے بعد تم جو بولوگے ہوجائے گا۔” اس نے سیاسی کارکن سے کہا۔ کارکن نے کہا کہ تم ابھی جاؤ اور ایک مرتبہ پھر سوچ لو۔ کل بات کریں گے۔ وہ واپس تو آگیا لیکن اس یقین کے ساتھ کہ کل بھی وہ یہی کہے گا اوربا س کا خون کرواکے ہی دم لے گا۔
رات کو جب سونے کے لئے لیٹا تو نیند کوسوں دور تھی۔ اس نے دو نیند کی گولیاں پھانکیِں اور سونے کے لئے لیٹ گیا۔ آنکھیں بند ہونے کے باوجود اس کا لاشعور اسے وہی دکھاتا رہا۔ اس کے سامنے اس کے باس کی لاش پڑی ہے اور اس کے سینے پر پاؤن رکھ کر وہ قہقہے لگا رہا ہے۔ پھر منظر بدلتا ہے ۔ اس کا دوست اس سے اس سے قتل کی قیمت وصول کرنے آجاتا ہے۔ یہ قیمت پیسوں سے نہیں بلکہ ٹارگٹ کلر بن کر ہی چکائی جاسکتی تھی۔ یوں وہ ایک ٹارگٹ کلر بن کر لوگوں کا خون کرنا شروع ہی کرتا ہے کہ اچانک اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ منہ دھوکر اٹھتا ہے اور اب اس کا رخ اپنے دوست کی جانب نہیں بلکہ نئی ملازمت کی تلاش کی طرف تھا۔ اس نے انتقام کی مہنگی قیمت چکانے کی بجائے اس واقعے کو فراموش کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
وضاحت
یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ دنیا ہم نے نہیں بنائی ۔ اسی لئے یہاں ہر روزایسے واقعات درپیش ہوتے ہیں کہ جن میں ہمیں لوگوں سے شکایت ہوتی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ شکایت جائز ہے یا ناجائز، ہم اپنے مخالفین سے نفرت کرتے ہیں ۔ ہمار ی نفرت ہمارے دشمنوں کو وہ قوت فراہم کرتی ہے جس سے وہ باآسانی ہم پر غلبہ پاسکتے ہیں۔ اگر ہمارے دشمنوں کو یہ بات پتا چل جائے کہ ہم کس قدر پریشان ہیں تو وہ خوشی سے بھنگڑا ڈالنا شروع کردیں۔ ہماری نفرت، پریشانی، لعنت ملامت اور حسد سے دشمنوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا بلکہ ہماری اپنی زندگی جہنم بن جاری ہے۔
اس کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے دشمنوں سے پیار کریں اس لئے نہیں کہ واقعی ہمیں ان سے پیار ہے بلکہ اس لئے کہ ہمیں اپنے آپ سے پیار ہے۔ دشمنوں سے انتقام لینے کی قیمت دینے کی بجاِئے دشمنوں کو معاف کردیں اور ناخوشگوار واقعے کو بھول جائیں ۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو انتقام کی قیمت چکانے کے لئے تیار ہوجائیں۔
اسائنمنٹ
۱۔ اپنے مخالفین کی فہرست بنائیے اور اختلاف کی وجہ بھی لکھیں۔
۲۔یہ لکھیں کہ اگر آپ بدلہ لیں گے تو اس کی قیمت کیا ہوگی؟
۳۔فراموش کرنے کی عادت ڈالیں کیونکہ آپ اپنے دشمن نہیں دوست ہیں۔
پروفیسر محمد عقیل