پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے۔اصول نمبر 10۔ماضی مرچکا ہے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Oct 10, 2014

کیس اسٹڈی
وہ نفسیات کی کلا س تھی۔ پروفیسر صاحب کے آنے کا انتظار تھا ۔ لیکن پروفیسر صاحب کی ٹیبل پر ایک دودھ کی بوتل رکھی تھی۔تمام طلباء اس مخمصے میں تھے کہ آخر اس بوتل کا کیا مقصد ہے۔ ابھی چہ مہ گوئیاں جاری تھیں کہ اچانک پروفیسر صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ کلاس میں ایک سکوت طاری ہوگیا۔ اچانک پروفیسر صاحب نے بوتل اٹھائی اور دیوار پر دے ماری۔ سب ارے ارے کرتے رہ گئے لیکن جو ہونا تھا<!–more–>

وہ ہوچکا تھا۔ بوتل ٹوٹ چکی تھی اورسارا دودھ بہہ گیا تھا۔ اچانک پروفیسر صاحب نے سوال کیا :
“کوئی ہے جو اس دودھ کو واپس بوتل میں ڈال سکے؟”۔ سب نے نفی میں جواب دیا ۔ پروفیسر صاحب مسکرائے اور کہنے لگے:
“یہ دودھ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ اور ماضی پر ماتم نہیں کرنا چاہئے ۔ جو دودھ ضائع ہوگیا اس پر ماتم مت کرو، اسے بھول جاؤ اور آگے کا سوچو”۔
وضاحت
ماضی ایک اٹل حقیقت ہے لیکن اس سے بڑی حقیقت ہے کہ ماضی میں واپس نہیں جایا جاسکتا۔ جو واقعہ ایک منٹ قبل ہوا وہ ماضی کا حصہ بن گیا اور اب وہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم یا تو ماضی کے پچھتاووں میں زندگی گذارتے ہیں یا مستقبل کے اندیشوں میں۔ اس ماضی اور مستقبل کے درمیان حال ہے جو اصل زندگی ہے۔ گزرے ہوئے خوشگوار لمحے کم یاد رہتے ہیں لیکن ناگوار واقعات ہمارے لاشعور میں بعض اوقات چپک جاتے ہیں۔ کسی کو باپ کے مرنے کا غم چین نہیں لینے دیتا تو کسی کو اولاد کی کی جدائی کا افسوس ہوتا ہے۔ کوئی ماضی کی بے عزتی پر ملول رہتا ہے تو کوئی عشق میں ناکامی کو دل کا روگ بنالیتا ہے۔ کسی کو اپنے جمے ہوئے کاروبار کی یاد ستاتی ہے تو کوئی تعلیم میں پیچھے رہ جانے پر شب و روز ماتم کرتا ہے۔
حقیقت ہم سب جانتے ہیں کہ ماضی کا نقصان ہماری اپنی کوتاہی کی بنا پر ہوا ہو یا قسمت کی بے وفائی کی وجہ سے، دونوں صورتوں میں ماضی میں جاکر نقصان کو فائدے میں نہیں بدلا جاسکتا۔ چنانچہ اسے بھلادینا ، اپنے لاشعور سے نکال پھینکنا اور صبرو استقامت سے کام لینا ہی عقلمندی ہے۔
ماضی کو بھلانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے۔ اگر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے تو ایک ناکام ماضی کامیاب مستقبل کی نوید بن سکتا ہے۔یہ نہ صرف ماضی کے قابل تلافی نقصانات کو فائدے میں بدل سکتا ہے بلکہ ایک مثبت زندگی کی داغ بیل بھی ڈال سکتا ہے۔
اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ماضی کے نقصان پر غم بالکل نہ ہو۔ ایسا انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ جب چوٹ لگے گی تو دکھ ہوگا لیکن پہلے اسٹیپ میں اس غم پر واویلا کرنے کی بجائے صبرو تحمل سے کام لیا جائے اور غم کے نامعقول اظہار سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ دوسرے اسٹیپ میں اس صدمے کو پالا نہ جائے۔ تیسرے اسٹیپ میں یہ دیکھا جائے کہ کن اسباب کی بنا پر یہ صدمہ ملا۔ اگر یہ اللہ کی طرف سے تھا تو اس کی قضا پر راضی رہا جائے۔ اگر یہ ہماری کسی کوتاہی کی بنیاد پر ہوا تو آئیندہ اس کوتاہی کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
اسائنمنٹ
۱۔ ان ماضی کے پچھتاووں کی فہرست بنائیے جن پر آپ اکثر ملول و غمزدہ ہوجاتے ہیں۔
۲۔ان صدموں کو دو کالمز میں لکھیں کہ کونسے واقعات آپ کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوئے اور کون سے آپ کے اختیار سے باہر تھے۔
۳۔ وہ واقعات جو آپ کی اپنی وجہ سے ہوئے ان کا سد باب تحریر کریں اور آئیندہ ان سے بچنے کی کوشش کریں۔
۴۔اس کے بعد ماضی پر پچھتانا چھوڑ دیں کیونکہ جو دودھ بہہ گیا اس پر واویلا عقلمندی نہیں۔

پروفیسر محمد عقیل


پریشا ن ہونا چھوڑئیے -اصول نمبر 11۔ہماری سوچیں اور ہم

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Oct 9, 2014

<strong> کیس اسٹڈی</strong>
وہ جب ہسپتال میں داخل ہوا تو بون میرو کے ذریعے پتا چلا کہ اسے آئی ٹی پی (Idiopathic thrombocytopenic purpura) کا مرض ہے۔ اس مرض میں دفاعی نظام خون میں موجود پلٹ لیٹس کو دشمن سیل سمجھ کر ختم کرنا شروع کردیتا ہےاور یوں جسم میں پلیٹ لیٹس کی تعداد مناسب لیول سے کم رہتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم کے اندر اور باہر کہیں بھی خون بہنے کا امکان ہوتا ہے اور اگر چوٹ لگ جائے توخون کا بہاؤ مشکل سے رکتا ہے۔

اسے جب اس بیماری کا علم ہوا تو شروع میں منفی سوچوں نے زندگی بدل کر رکھ دی۔ اکثر رات کو سوتے وقت یوں لگتا کہ ناک سے خون بہہ رہا ہے اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا اور باتھ روم میں جاکر دیکھتا تو ایسا کچھ نہ ہوتا۔ کبھی یوں لگتا کہ جسم پر سرخ دھبے نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں، انہیں غور سے دیکھنے پر وہ دھبے گہرے ہوتے جاتے یہاں تک کہ وہ دہشت زدہ ہوکر اسکن کا جائزہ لینا چھوڑدیتا۔ کبھی سر میں درد ہوتا تو یوں لگتا کہ اب دماغ میں بلیڈنگ اسٹارٹ ہوا ہی چاہتی ہے۔
ایک مرتبہ تو حد ہوگئی۔ اس نے آفس میں ایک دوست سے ہاتھ ملایا تو اس نے توجہ دلائی کہ اس کے ہاتھ غیر معمولی طور پر لال ہورہے ہیں۔ اس نے جب غور سے دیکھا تو ہتھیلیاں اور ہاتھ کی پشت بہت زیادہ لال تھی ۔اس نے ہاتھ دھو کر وہ لالی چھٹانے کی کوشش کی لیکن کچھ نہ ہوا۔ وہ سمجھ گیا کہ اب تو بلیڈنگ ہونی لازمی ہے۔ جب اسے یہ یقین ہونے لگا کہ یہ پلیٹ لیٹس میں کمی ہی کی وجہ سے ہے تو اسے چکر آنے لگے، جسم میں نقاہت محسوس ہونے لگی اور بدن میں دوڑتا ہوا خون ایسا لگنے لگا کہ اب باہر آیا کہ تب۔
وہ اس دہشت زدگی کے عالم میں تھا اور یہی سوچ رہا تھا کہ کس ہسپتال کی جانب کوچ کیا جائے۔ اچانک اس نے اپنے جسم کے دیگر حصوں کا جائزہ لیا تو وہاں اس قسم کی کوئی علامت نہ تھی ۔ اس نے دماغ کو پرسکون کیا اور اس امکان پر غور کرنے لگا کہ ممکن ہے کوئی چیز ایسی ہو جس سے ہاتھ سرخ ہوگئے ہوں۔ وہ سوچتا رہا سوچتا رہا یہاں تک کہ اسے خیال آیا کہ کچھ دیر پہلے وہ باتھ روم سے ہوکر آیا تھا اور وہاں ایک ایسے رومال سے ہاتھ صاف کئے تھے جو پہلی مرتبہ استعمال کیا تھا۔ اس نے کاپنتے ہاتھوں سے جیب سے اس رومال کو نکالا۔ وہ لال رنگ کا تھا اور کچھ گیلا ہورہا تھا۔ اس نے وہ رومال اپنے اور اپنے ساتھی کے ہاتھوں پر رگڑا تو ہاتھوں کا رنگ بھی ویسے ہی سرخ ہوگیا۔ عقدہ یہ کھلا کہ رومال رنگ چھوڑ رہا تھا اور بس۔ اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وہ ساری علامات جو وہ اپنے جسم میں محسوس کررہا تھا یکدم غائب ہوگئیں اور وہ ہشاش بشاش اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ لیکن اس نے دوبارہ اس نامعقول رومال کو ہاتھ نہیں لگایا۔
<strong>وضاحت</strong>
ہم وہی ہوتے ہیں جو ہماری سوچیں ہوتی ہیں۔ اگر ہم یہ سوچیں کہ ہم ایک بدنصیب ، بدبخت اور لاچار انسان ہیں تو ہماری باڈی اسی طرح ری ایکٹ کرکے ہمیں ایک بے بس انسان بنادیتی ہے۔ اگر ہم غموں کی سوچ کو خود پر حاوی کریں تو ہمارا روپ ایک پژمردہ شخص ہی کاہوتا ہے۔ اگر ہم چوبیس گھنٹے اپنے جسم میں درد کو محسوس کرتے رہیں تو ایک نفسیاتی درد محسوس ہونے لگ جاتا ہے۔
اس کے برعکس اگر کوئی خود کو ایک باہمت ، طاقتور اور توانا کے روپ میں سوچے تو اس کا جسم اس کی نفسیات کے مطابق ڈھلنے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی اگر خوشی اور مسرت کی سوچوں میں رہے تو کئی حقیقی تکالیف بھی محسوس نہیں ہوتیں۔کوئی اگر دوسروں کے بارے میں منفی سو چ کو نکال دے تو اس کے دماغ میں نفرت کے کانٹوں کی بجائے محبت کے پھول کھلنے لگ جاتے ہیں۔
یہ سوچ ہی ہے جس کی بنا پر نپولین بونا پارٹ جیسا عظیم فاتح یہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں حقیقی کامرانی سے بھرپور لگاتار چھ دن بھی نہیں دیکھے ۔ اور یہ سوچ ہی ہے کہ ایک اندھی، گونگی اور بہری ہیلن کیلر کہتی ہے کہ میں نے زندگی کو انتہائی خوبصور ت پایا ہے۔
<strong>اسائنمنٹ</strong>
۱۔ آپ اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ اسے تین جملوں میں بیان کریں۔
۲۔آپ اپنی سوچوں کی لسٹ بنائیے اور یہ تعین کریں کہ وہ مثبت ہیں یا منفی۔
۳۔اپنی سوچوں کو بہتر اور مثبت بنانے کے لئے لائحہ عمل تیار کریں
پروفیسر محمد عقیل


پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر 9۔اسٹاپ لاس

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Mar 4, 2014


کیس اسٹڈی:
لیو ٹالسٹائی کی خوش نصیبی تھی کہ وہ جس لڑکی سے دیوانہ وار محبت کرتا تھا وہ اسے حاصل بھی ہوگئی اور دونوں کی شادی ہوگئی۔ لیکن وہ لڑکی انتہائی حاسد اور شکی مزاج نکلی۔ وہ بھیس بدل کر اکثر اپنے شوہر کا تعاقب کرتی، اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی اور شک کی بنا پر خودکشی کی دھمکی دیا کرتی تھی۔ ٹالسٹائی یہ بات جانتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک ڈائری لکھنا شروع کی جس میں اس نے خود کو معصوم اور اپنی بیوی کو ہر قصور کا مورد الزام ٹہرایا تاکہ آئیندہ آنے والی نسلیں اسے معصوم سمجھیں۔ اس کی بیوی کو جب خبر ہوئی تو اس نے بھی ایک اپنی تصنیف میں ٹالسٹائی کو ایک گھریلو شیطان اور خود کو ایک شہید کے روپ میں پیش کیا تاکہ آئندہ کی نسلیں اسے اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ دونوں آئیندہ آنے والی نسلو ں کے سامنے تو اپنی پوزیشن کلئیر کرنے میں لگے رہے لیکن انہیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ آپس میں مل بیٹھ کر ایک دوسرے کے سامنے اپنی پوزیشن کلئیر کریں۔ وہ اگر اسٹاپ لاس کا قانون اپلائی کرتے تو ان کی زندگی بہت خوشگواور ہواجاتی۔ وہ یہ تھا کہ جو ہوچکا سو ہوچکا، اب پڑھنا جاری رکھیں »


امتحان میں دعا کیوں؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Feb 18, 2014


اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جب ہم نے محنت کرلی تو پھر اللہ سے دعا کی کیا ضرورت ہے ۔ جب ہم نے دن رات جاگ کر محنت کی ، سبجیکٹ پر عبور حاصل کرلیا، اس کے ہر ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لے لیا تو پھر دعا نے کیا کرنا ہے۔ دوسری جانب ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم تو دعاؤں سے کامیاب ہوجائیں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں »


شیطانی قوتوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday May 21, 2013


سوال: پچھلے پانچ سال سے میں دین پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن اس میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پاتا۔ میں جب کئی بار توبہ کرچکا ہوں لیکن گناہوں میں دوبارہ مبتلا ہو جاتا ہوں۔ بعض اوقات میں مایوس ہو جاتا ہوں کہ کیا میں کبھی نیکیوں کی راہ پر گامزن ہو سکوں گا؟ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیطان میری راہ میں بیٹھا ہے اور وہ ہر بار مجھے گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟
جواب: اس بات کا خیال رکھئے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے ہماری آزمائش کے لئے بنائی ہے۔ اس دنیا میں ہمیں بھیجنے کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کا انتخاب کررہا ہے جو اس کی بنائی ہوئی جنت میں رہنے کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ یہ انتخاب ایک ساٹھ ستر سالہ امتحان کے ذریعے کررہا ہے جس میں سے ہم سب کو گزرنا ہے۔ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہماری آزمائش کے لئے یہ اجازت دی ہے کہ ہمیں اس کی راہ سے روکنے کی کوشش کرے۔ آپ پچھلے پڑھنا جاری رکھیں »


پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔اصول نمبر8اٹل حقیقت کو تسلیم کرلیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Dec 19, 2012


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۔8اٹل حقیقت کو تسلیم کرلیں
کیس اسٹڈی:
وہ آج بہت خوش تھا اور خوش کیوں نہ ہوتا۔ آج اسے برسوں پرانے سپنے کی تعبیر مل گئی تھی۔ وہ خوشی سے سرشار اپنے گھر میں داخل ہوا اور اپنی ماں سے لپٹ گیا۔
” امی! میں کامیاب ہوگیا۔ مجھے ائیر فورس میں پائلٹ کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے”۔
ماں اس کی بلائیں لینے لگی اور دعا دینے لگی۔ وہ ماں کو یہ خوشخبری دینے کے بعد بے چینی سے صبح کا انتظار کرنے لگا تاکہ جلد از جلد رپورٹ کرکے اپنی ڈیوٹی جوائین کرسکے۔ ابھی مغرب ہی ہوئی تھی اور اسے پوری رات کاٹنی تھی۔ اس نے سوچا کہ کل دفتر جانے کے لئے کچھ اچھے کپڑے خرید لے۔ چنانچہ وہ ایک دوست کے ساتھ بازار گیا پڑھنا جاری رکھیں »


پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔اصول نمبر 7: قانون اوسط سے مدد لیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Oct 31, 2012


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۷۔قانون اوسط سے مدد لیجئے
کیس اسٹڈی:
چند دوست آُپس میں اپنے اپنے خدشات اور خوف کا اظہار کررہے تھے۔ ایک دوست نے کہا ۔” مجھے آسمانی بجلی سے بہت ڈر لگتا ہے۔جب بجلی کڑکتی ہے تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مجھ پر ہی گرے گی”۔
ایک اور دوست بولا :
“یار مجھے تو فائرنگ سے بہت خوف آتا ہے۔ کراچی شہر کا کچھ پتا نہیں کب نامعلوم سمت سے آنے والی گولی ہمیں چاٹ جائے۔ میں اس خوف کی بنا پر باہر بہت کم نکلتا ہوں اور اکثر پریشان رہتا ہوں ۔ اس خوف کے سبب میں اپنی نیند بھی پوری پڑھنا جاری رکھیں »


پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔ اصول نمبر6:۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے۔

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Oct 17, 2012


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۶۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کیجئے
کیس اسٹڈی:
وہ جب آفس میں داخل ہوا تو بہت خوش تھا کیونکہ ترقی ہونے کے بعد یہ پہلا دن تھا۔ نیا کمرہ، گھومنے والی کرسی، گھنٹی پر حاضر ہونے والاچپراسی، ٹھنڈک والی مشین ، انٹرکام اور بہت کچھ اس کا منتظر تھا۔ وہ انہی خیالات میں کھویا دفتر میں داخل ہوا۔ وہ توقع کررہا تھا کہ اس کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ لیکن یہ کیا ؟ یہاں تو کچھ بھی نہ ہوا۔ سب لوگ اپنی سیٹ پر بیٹھے تھے اور کسی نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔ وہ کچھ دیر تو شش و پنج کے عالم میں کھڑا رہا لیکن جب کوئی رسپانس نہ ملا تو اپنے کمرے میں داخل ہوگیا۔ یہ وہی کمرہ تھا پڑھنا جاری رکھیں »


۔پریشا ن ہونا چھوڑئیے۔اصول نمبر۵:خود کو مصروف رکھیں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Oct 11, 2012


پریشا ن ہونا چھوڑئیے ،جینا شروع کیجئے
اصول نمبر۵۔خود کو مصروف رکھیں
کیس اسٹڈی:
“وہ بڑی افسردگی سے اپنی داستان الم دوست کو سنا رہا تھا۔اس نے ایک لمحے کے لئے توقف کیا اور پھر اپنی بات جاری رکھی۔” میرا ایک سات سالہ بیٹا اور پانچ سالہ بیٹی تھی ۔ ان سے میں بے حد محبت کرتا تھا۔ اچانک میری بیٹی کو ڈنگی بخار نے آلیا اور کچھ ہی عرصے وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلی گئی۔ اس کی موت کے بعد اللہ نے ہمیں ایک اور بچی سے نوازا لیکن پانچ دنوں کے اندر وہ بھی چٹ پٹ ہوگئی۔یہ دونوں نقصان میرے لئے ناقابل تلافی اور ناقابل برداشت تھے۔ پڑھنا جاری رکھیں »


مثبت ا و ر منفی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Sep 28, 2012

“مثبت و منفی عمل کیا ہے؟ “
کسی نے دریافت کیا۔ پھر مخاطب کی جانب سے جواب نہ ملنے پر اس نے خود ہی بیان کرنا شروع کردیا ۔
” مثبت ” کا مطلب ہے جمع کرنا، اضافہ کرنا یا بڑھانا ۔ دوسری جانب ” منفی ” کا مطلب کم کرنا یاگھٹانا”۔
یہ ایک حقیقت ہے۔مثبت عمل سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے ترقی ہو، بلندی کی جانب پیش قدمی ہو، منزل کا حصول ہو، بہتری ہو، فلاح و بہبود ہو ، تعمیر ہو۔ اس کے برعکس منفی عمل سے مراد ہر وہ فعل ہے جس میں حقیقی نقصان ہو، تنزلی ہو، منزل سے دوری ہو، تخریب ہو پڑھنا جاری رکھیں »