پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح پکارا جائے ؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jan 17, 2017

مضمون نمبر ۴: اللہ کو صفاتی نام (اسم اعظم )کے ذریعے کس طرح
پکارا جائے ؟
از ڈاکٹر محمد عقیل
اللہ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ اللہ کو اسمائے حسنی کے ذریعے پکارو، سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔
“اور سب اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو اسے انہیں ناموں سے پکارو اور چھوڑ دو ان کو جو اللہ کے ناموں میں کجروی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہیں گے” (سورہ الاعراف پڑھنا جاری رکھیں »


اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Jan 16, 2017

مضمون نمبر ۳: اسم اعظم یعنی بڑے نام سے دعا کرنا
ڈاکٹر محمد عقیل
متعدد حسن اور صحیح روایات میں اسم اعظم کے ذریعے اللہ کو پکارنے کا حکم موجود ہے۔ یعنی اللہ کو ایک مخصوص نام سے اگر پکارا جائے تو اللہ تعالی ضرور سنتے ہیں۔ان روایات کی تفصیل یہ پڑھنا جاری رکھیں »


دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 15, 2017

مضمون نمبر ۲: دعا کی قبولیت کے مختلف پہلو
ڈاکٹر محمد عقیل
ہم دیکھتے ہیں کہ دن رات لوگ لاکھوں کروڑوں دعائیں مانگتے ہیں لیکن ان میں سے چند ہی قبول ہوتی ہیں۔ دوسری جانب قرآن میں اللہ نے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے۔ بلکہ دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے۔ نمازیا صلوٰۃ کے لغوی معنی ہی دعا کے ہیں۔ اسی طرح تمام عبادات میں اصل فوکس دعا یعنی اللہ کو پکارنے اور اس پڑھنا جاری رکھیں »


دعا یا اللہ کو پکارنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 8, 2017

دعا پر مقالات کا مجموعہ
ڈاکٹر محمد عقیل
 مضمون نمبر ا: دعا یا اللہ کو پکارنا
دعا کے لغوی معنی پکارنے کے ہیں۔ توحید کا خلاصہ ہے کہ اللہ ہی کو تنہا پکارا جائے اور جب اسے تنہا نہیں پکارا جاتا تو شرک جنم لیتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اللہ کو پکارنے کا حکم ہے اور اللہ کے سوا کسی اور کو پکارنے کی سختی سے ممانعت ہے اور اسے شرک سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن میں یہ حکم بار بار آیا ہے۔
پس تم اللہ کے ساتھ کسی اور معبودکو نہ پکارو، ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔(الشعرا ۲۶:۲۱۳)
اللہ کو پکارنے کا مفہوم
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو پکارنے سے کیا مراد ہے اور اللہ کو تنہاپکارنے سے کیا مراد ہے؟ ہم دن رات ایک دوسرے کو بلاتے ہیں ، پکارتے ہیں اور ان سے مدد لیتے ہیں ۔ تو کیا یہ شرک ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہاں اللہ کو ہی پکارنے کا مفہوم یہ نہیں کہ کسی کو مدد کے لیے پکارا ہی نہ جائے۔ کسی بھی زندہ شخص سے مدد مانگنا چونکہ اسباب کے قانون کے تحت ہے اس لیے یہ پُکارنا ان معنوں میں نہیں جن میں ہم خدا کو پکارتے ہیں۔
یہاں جس پکار کی ممانعت کی جارہی ہے وہ اسباب سے ماورا پکار ہے۔ چنانچہ مشرکین مکہ چند فرشتوں ، دیویوں اور دیوتاؤ ں کو خدا کا مقرب سمجھ کر انہیں پکارتے، ان سے مانگتے اور ان سے سفار ش کرتے تھے۔ چونکہ یہ تمام ہستیاں نہ اسباب کی دنیا کے تحت نہ تو موجود ہوتی ہیں، نہ ان سے بات کی جاسکتی ہے اور نہ ہی یہ اس کا جواب دے سکتی ہیں۔ اسی لیے ان سے مدد مانگنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ان کو خدا کی طرح حاضر، ناظر، سمیع، بصیر، حکیم ، علیم ، قدیر ، خالق اور زندہ سمجھ ان سے مدد کی درخواست کی جائے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس ہستی کو خدا کے برابر نہ سہی بلکہ اس کے مقربین کا درجہ دے کر ہی کلام کیا جائے۔ لہٰذا وہ مخلوق جو اس وقت اسباب کی دنیا میں موجود نہیں اس سے کسی بھی قسم کی مدد کی درخواست کرنا شرک ہے۔ اس مخلوق میں جنات ، فرشتے اور وہ تمام انسان آجاتے ہیں جو دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔


ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Aug 22, 2016

ڈاکٹر اور عالم سے اختلاف
عام طور پر جب مذہبی علما سےب اختلاف کی بات کی جاتی اور تحقیق کے بارے میں کہا جاتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ “جس طرح کسی اعلی تعلیم یافتہ ڈاکٹر سے کسی عام شخص کو اختلاف کا کوئی حق نہیں، اسی طرح ایک عام انسان نہ ہی تحقیق کرسکتا اور نہ ہی عالم سے اختلاف کرسکتا ہے۔ اس کے لیے اسی درجے کا عالم ہونا لازمی ہے۔”۔ یہ دلیل جزوی طور درست ہے۔ یعنی علمی طور پر کسی ڈاکٹر سے” علمی اختلاف” کرنے کے لیے ڈاکٹری کا علم ہونا ضرور ہے۔یعنی ایک ڈاکٹر یہ تشخیص کررہا ہے کہ سینے کے درد کی وجہ ہارٹ کا معاملہ ہے اور ایک عام آدمی اپنی ڈاکٹری لڑا رہا ہے کہ نہیں جناب یہ تو گیس کا مرض معلو م ہوتا ہے۔
لیکن دوسرے پہلو سے یہ بات غلط ہے۔ ایک ڈاکٹر کے اخلاقی پہلو کو جانچنے کے لیے ڈاکٹر ہونا قطعا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر غلط تشخِیص کررہا ہے، پیسے بنانے کے لیے ٹیسٹ پر ٹیسٹ لکھ رہا ہے، بار بار بلانے کے لیے مرض کا درست علاج نہیں کررہا، اور کمیشن کھانے کے لیے کسی خاص میڈیکل اسٹور بھیج رہا ہے تو اس قسم کے ڈاکٹر کی علمیت سے ہمیں نہ کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی علمی اختلاف کرنا ہے۔ ہم تو اس سے عملی اختلاف کرتے ہوئے کنارہ کش ہوجائیں گے اور اس اختلاف کے لیے ڈاکٹر ہونا لازمی نہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہوگا کہ ہم اس ڈاکٹر کے رویے کا جائزہ لیں گے، اس سے کچھ سوالات کریں گے، کچھ لوگوں سے رائے لیں گے اور اطمینان نہ ہونے کی صورت میں کنارہ کش ہوجائیں گے،
یہی رویہ علما کے لیے بھی مطلوب ہے۔کس عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے ظاہر ہے دین کا ٹیکنکل علم ہونا لازمی ہے۔ لیکن عملی اختلاف کرنے کے لیے صرف کامن سینس کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عالم فرقہ واریت کی دعوت دے رہا، شعیہ سنی کو لڑوارہا،معصوم لوگوں کے قتل کا سبب بن رہا ، اپنے قول سے دنیا پرستی کو حرام اور فعل سے دنیا میں پوری طرح ملوث ہو، زبان سے عورتوں کی آواز کو بھی سننا حرام قرار دیتا ہو اور عمل سے عورتوں کی محفلوں کا رسیا ثابت ہو تو وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، اس کی اس اپروچ سے ہمیں اختلاف ہوگا۔ یہ اختلاف کرنے کے لیے ہمیں درس نظامی سے عالم کا کورس کرنے کی ضرورت ہے اور نہ کسی جامعہ الازہز سے عالم کی ڈگری لینے کی حاجت۔ جب بھی ہم کسی عالم میں کوئی اس قسم کی عملی برائی دیکھیں گے تو سب سے پہلے تو اس سے بات چیت کریں گے کہ ممکن ہے ہمیں مغالطہ ہوا ہو یا بات سمجھ نہ آئی ہو، پھر لوگوں سے ڈسکس کریں گے اور اس سب کےباوجود اگر اطمینان نہیں ہوا تواس کی تقلید محض اس لیے نہیں کرنے لگیں گے کہ ہمارے مسلک کے عالم ہیں یا ان عالم کی ہر بات درست ہوگی اور یہ غلطی نہیں کرسکتے۔
تو خلاصہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر اور ایک عالم سے علمی اختلاف کرنے کے لیے مطلوبہ علم ہونا لازمی ہے۔ البتہ ایک ڈاکٹر یا مذہبی عالم کے علم پر شک ہونے کی صورت میں تحقیق کرنا لازمی ہے۔ اور ایک ڈاکٹر یا ایک عالم کے عمل میں غلط رویہ ثابت ہونے کی صورت میں دونوں سے دور ہوجانا بھی لازم ہے غلط انتخاب اگر ڈاکٹر کے معاملے میں ہوجائے تو جان کو خطرہ ہے اور اگر عالم کے معاملے میں ہوجائے تو ایمان کو خطرہ ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


ایک اہم حدیث کی وضاحت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday Jul 4, 2016

ایک اہم حدیث کی وضاحت.
پروفیسر محمد عقیل
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم ۔۔۔۔ ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پا سکیں گی جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت(یعنی دور) سے محسوس کی جا سکتی ہے۔”( صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1085)
اس حدیث سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ جوڑا باندھنے والی عورتوں کی مذمت میں ہے یااس میں صرف خواتین کی مذمت کی گئی ہے۔
دراصل یہ حدیث اس روئیے کی مذمت میں کی گئی ہے جو جنس مخالف کو زنا کی جانب اکسانے کے لئے اپنایا جائے۔ اس میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ اوباش اور آوارہ عورتیں ہیں جو خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں اور دوسروں کو بھی بھٹکانے کا باعث بنتی ہیں۔
یہی رویہ اگر مردوں میں پایا جائے تو قابل مذمت ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آوارہ لڑکا عورتوں کو بہکائے، انہیں اپنے لباس ، چکنی چپڑِ ی باتوں ، اپنی پر کشش شخصیت یا اپنے دولت کے جھانسے میں لے کر ان کو غلط کام پر اکسائے یا و ورغلائے تو ا وہ بھی اس حدیث کی وعید میں آئے گا اور وہ بھی انشاءاللہ نہ جنت میں داخل ہوپائے گا اور نہ ہی اس کی خوشبو پاسکے گا۔


خیرو شر کا تعین

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jun 11, 2016

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خیرو شر کا تعین

پروفیسر محمد عقیل

دنیا وی اور دینی دونوں اعتبار سے خیر و شر کا تعین کرنا بہت اہم ہے۔ دنیا میں انسانی معاشروں میں  قانون نام ہی خیر کے نفاذ اور شر سے روکنے کا ہے۔ اسی طرح مذہب بھی آخرت کی نجات خیر کو ماننے اور شر سے بچنے  پر موقوف ہے۔ چنانچہ خیر اور شر کا تعین بہت ضروری ہے۔

عمل صالح یا نیکی اور گناہ کے تعین  کے حوالےسے کئی  نکتہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ نیکی  اور گناہ کے تعین کی واحد منبع  وحی الٰہی ہے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خیر و شر کے تعین  کی بنیاد انسانی  عقل ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ کہتا ہے کہ خیر و شر کا تعین انسان کی فطرت کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔ ایک اور مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ خیرو شر کا کوئی مستقل وجود نہیں اور یہ انسان اپنے ماحول سے اخذ کرتا ہے۔

۱۔ فطرت

انسان بچپن ہی سے جس معیار سے آشنائی حاصل کرتا ہے وہ فطرت میں ودیعت کردہ الہام ہے جو ہر انسان کے اندررکھ دیا گیا ہے۔ اچھائی اور برائی کا ایک اور معیارانسانی فطرت  و وجدان ہے۔انسانی فطرت پر مبنی علم اس الہام کا نام ہے  جو انسا ن کو خیر و شر کا شعور دیتا ہے، جو اس کے رویے اور اعمال کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے۔

اخلاقی معاملات میں بالخصوص تمام انسان یہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے، زنا کوئی پسندیدہ فعل نہیں، قتل ایک برا عمل ہے وغیرہ۔ لیکن مجرد فطرت کی بنیاد پر خیرو شر کا تعین کیا جائے تو بڑے مسئلے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو یہ کہ  فطرت کو مسخ کرکے ایک  غلط روایت کو بھی فطرت کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر  ہم جنس پرستی کو آج قانونی حیثیت مل گئی ہے  تو کل ہزاروں سال کے بعد  ممکن ہے  اسے فطرت مان لیا جائے۔ نیز فطرت و وجدان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں معاملات کو متعین طور پر بیان کرنا مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ بہت سی باتیں احساسات  پر منحصر ہوتی ہیں۔

جبلت اور فطرت میں فرق

یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی  فطرت اور  حیوانی جبلت میں فرق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان اور حیوان میں کچھ تقاضے ایسے ہیں جومشترک ہیں ۔ مثال کے طور پر  بھوک انسان کو بھی لگتی ہےا ور حیوان کو بھی، جنسی تقاضہ انسان کا بھی ہے اور حیوان کا بھی، دفاع انسان بھی کرتا ہے حیوان بھی، اجتماعیت انسان بھی پسند کرتا ہے اور حیوان بھی۔لیکن انسان اور حیوان کی جبلت یا فطرت میں جو چیز حد فاصل ہے وہ اختیار و ارادہ ہے۔ حیوان اپنی جبلت کے تحت مجبور ہے جبکہ انسان اپنے ارادے سے اس جبلت کے خلاف جاسکتا اور اس کے خلاف کام کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک  سبزی خور جانور کبھی گوشت نہیں کھائے ماسوائے چند مواقع کے۔ اسی طرح ایک بطخ کا بچہ پیدا ہونے کے بعد خود بخود تیرنا شروع کردے گا۔ ایک جانور جنسی تقاضا پورے کرنے کے لیے کسی اخلاقی حدود کا پابند نہیں ۔ دوسری جانب ایک انسان غذا کی موجودگی کے باوجود خود کو کھانے سے روکنے پر قادر ہے، وہ جنسی مواقع پاکر بھی آزادانہ اخلاط سے گریز کرسکتا ہے۔

دراصل انسان میں جبلت سے ماورا ایک اور علم موجود ہے اور وہ ہے فطرت کا الہام۔یہ الہام انسان کو خیرو شر کا ایک اضافی علم و شعور دیتا ہے  جو حیوانوں میں  بہت ابتدائی سطح پر ہوتا  ہے۔ حیوانوں کا خیرو شر  زیادہ تر بقا کے تقاضوں  سے متعلق ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ودیعت کردہ الہام کے تحت  جو چیزیں آتی ہیں ان  کی فہرست تو بہت طویل ہے لیکن ان کا تعلق زیادہ تر دنیاوی امور اور باہمی معاملات سے ہوتا ہے۔اس میں لین دین، بات چیت کی حدود، میل ملاپ وغیرہ شامل ہیں۔

۲۔ وحی

فطرت کا الہام ایک خام تصورہے جس میں بہت سی چیزیں  خلط مبحث  کا شکار ہوسکتی ہے۔ نیز انسانی عقل اور فطرت ایک حد کے بعد آکر انسا ن کو راہنمائی دینا بند کردیتی ہے۔ وحی اس سلسلے میں اس نامکمل  علم کو تکمیل تک پہنچاتی اور اس کے خلا کو پورا کرتی ہے۔

مثال کے طور پر فطرت اور انسانی عقل ہمیں یہ تو بتاتی ہے کہ خدا ہے لیکن اس سے تعلق کس طرح قائم کرنا ہے اس بارے میں کوئی خاص راہنمائی نہیں کرتی۔ اسی طرح عقل کہتی ہے کہ ایک دن ایسا آنا چاہیے جب بروں اور اچھوں کو الگ کردیا جائے تو وحی اسے یقین کے ساتھ آخرت کی شکل میں بیان کردیتی ہے۔ وحی یہ سب باتیں تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے جس میں  قیامت، حشر، نامہ اعمال، جنت، جہنم  سب کچھ ایک یقینی علم کے طور پر ہوتا ہے ۔  اسی طرح وحی  فطرت کے ابہام کو دور کردیتی ہے جیسے حیا ایک بنیادی تصور ہے جو فطرت میں پایا جاتا ہے لیکن اس تصور میں کیا توازن پیدا ہو ، اس کا تعین وحی کرتی ہے۔  اسکے علاوہ وحی انسان کے تزکیے کے لیے اصولوں کا تعین کرتی ہے۔ وہ خدا کی شریعت دیتی ہے جس میں خدائی احکامات کی تفصیل ہوتی ہے۔

وحی پر اشکالات

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وحی تو نہ ماضی میں ہر شخص کو ملی ہے نہ حال میں۔ یعنی ماضی میں بھی پیغمبر آئے، انہوں نے  قوم کو مخاطب کیا اور دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ اس کے بعد ان کی تعلیمات کو دنیا میں باقی لوگوں میں پہنچایا جاتا تھا۔ اسی طرح ایک مسئلہ یہ تھا  پیغمبر ہر قوم میں نہیں بھیجے گئے  ۔ خاص طور پر آج کے دور میں تو نبوت کا سلسلہ بندہوچکا ہے۔ وحی کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے تین طرح کے مخاطبین ہوسکتے ہیں۔ایک وہ مخاطبین جن کو براہ راست پیغمبر مخاطب کرتے ہیں۔ ان پر قانون کا اطلاق مختلف ہوتا ہے۔ ان کی آزمائش بہت کڑی ہوتی ہے کہ ایک ایسے پیغمبر پر ایمان لائیں جس کے پیچھے کوئی تاریخی شان و شوکت  نہیں۔ چنانچہ یہ اگر مان لیتے ہیں تو ان کا اجر کافی  زیادہ ہے۔ انکار کی صورت میں سزا بھی کڑی ہے کیونکہ پیغمبر انہیں ہر بات کھول کر بیان کردیتا ہے لیکن یہ مان کرنہیں دیتے۔ انکار کی وجہ کوئی غلط فہمی نہیں بلکہ ضد، ہٹ دھرمی، مفاد پرستی ، تعصب یا کوئی اور اخلاقی برائی ہوتی ہے اور اس وجہ کو اللہ تعالی  کھول کر بیان کردیتے ہیں۔

پیغمبر کے دوسرے مخاطبین وہ ہیں  جو نسلی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور جن تک پیغمبر کی  تعلیمات بالواسطہ طور پر پہنچتی ہیں ۔ ان کے لیے یہ آسانی ہوتی ہے کہ پیغمبر پر یہ پیدائیشی طور پر ایمان رکھتے ہیں اور پیغمبر سے انہیں ایک عمومی عقیدت ہوتی ہے کیونکہ پیغمبر کے پیچھے ایک عظیم الشان تاریخ کھڑی ہوتی ہے۔  وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پیغمبر کی تعلیمات  میں بزرگوں کے اقوال شامل ہوجاتے اور کچھ غلط روایات بھی دین کاحصہ بن جاتی ہیں۔ ہر دور کے مذہبی پیشوا ان تعلیمات  کی تشریح کا حق اپنے ہاتھ میں لے لیتے اور عوام کے سامنے اس تشریح   کو دین بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سارے ہی مذہبی پیشوا بدنیت نہیں ہوتے لیکن  بہرحال وہ پیغمبر نہیں ہوتے اوروہ بات بیان کرنے میں غلطی کرسکتے ہیں۔

پیغمبر کے تیسرے مخاطبین وہ لوگ ہوتے ہیں جو غیر مسلم ہوں اور پیغمبر کی وفات کے بعد پیدا ہوئے ہوں۔ ان تک پیغام پہنچانے کی ذمہ امت پر ہوتی ہے۔ان غیرمسلموں کا پہلا کام تو یہ ہے کہ وہ عقل و فطرت کی بنیاد پر جو اچھائی اور برائی کا شعور رکھتے ہیں اس پر عمل کریں۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ جس  مذہب کو ماحول اور نسلی طور پر  حق سمجھتے ہیں  اس کی تعلیمات پر عمل کریں اور ساتھ ساتھ اس مذہب کی و ہ باتیں جو عقل و فطرت سے متصادم ہوں ان پر پیدا ہونے والے سوالات کے جواب تلاش کریں۔ تیسر ا یہ کہ اگر کوئی حق بات ان کے سامنے پیش کی جائے تو اس پر کا ن دھریں اور تعصب میں آکر اس کا انکار نہ کردیں۔

 وحی کا کام

پہلا اصول یہ جان لینا چاہیے کہ وحی کی تعلیمات تمام انسانوں کو برابر نہیں ملتیں۔ حضرت ابوبکر ، عمر ، عثمان، علی رضی اللہ عنہم  اور  دیگر صحابہ کو وحی جس طرح ملی اور سمجھ آئی، تابعین کو اس طر ح نہیں ملی۔ اسی طرح وحی کی تعلیمات جس طرح شاہ ولی اللہ کو سمجھ آئیں، ایک گاؤں میں بسنے والی  بوڑھی عورت کو سمجھ نہیں آئیں۔ تو مسلم معاشرے ہی میں وحی کا ابلاغ اور فہم مختلف اندازمیں ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وحی کی تعلیمات کا ابلاغ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں میں مختلف ہوا ہے۔ تو ہر بندہ اتنے ہی عمل کا مکلف یعنی پابند ہے جتنا علم اس تک پہنچا  ۔

بالکل یہی اصول   غیرمسلموں پر بھی اپلائی ہوتا ہے۔ ایک غیر مسلم اتنے ہی علم پر عمل کرنے کا مکلف ہے جتنا علم اس تک پہنچا۔ اگر وہ مانتا تھا کہ اس کے مذہب میں زنا کرنا حرام ہے اور وہ زنا کرتا ہے تو وہ عنداللہ پکڑ ا جاسکتا ہے۔  لیکن یہاں اس کی اصل آزمائش اور عقل و فطرت کی بنیاد پر ہوگی جس کا علم اس کے پاس پہلے سے موجود ہے۔

اگر ہم غور سے جائزہ لیں تو کسی ایک معیار کی بنیاد پر خیر و شر یا اچھائی اور برائی کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر اگر ہم وحی اور صرف وحی کو معیار بنالیں تو  بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو وحی میں موجود نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ دادی یا نانی سے نکاح حرام ہے یا زہر حرام ہے ۔ لیکن  عقل اور منطق کے استعمال کے ذریعے دادی یا نانی کو ماں کے حکم میں لیا جاتا اور ان سے نکاح حرام سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں کسی جان کو ناحق مارنے سے منع کیا گیا ہے اس لیے  زہر کو  کھانا خود کو ہلاک کرنے کے مترادف ہے اسی لیے اس کو کھانا حرام نہیں۔

۳۔عقل

ایک اور خیرو شر کا معیار عقل کو قرار دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک  نہیں کہ عقل  خیر و شر کے  تعین میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن یہ بذات خود کو ئی علم کا منبع یا خیر وشر کا معیار نہیں۔ عقل کا کام فطرت یا وحی یا کسی اور علم کی روشنی میں خیر و شر کا تعین کرنا اور اس کے حق یا رد میں دلائل فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب ہم اگر خیر و شر کا معیار صرف عقل کو بنالیں تو یہ بات بھی ناقص ہے۔  عقل  کی اپنی محدودیت ہے۔ عقل  ہمیں بہت سی باتیں تجربے سے سکھاتی ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کے بعد سیکھا کہ زہر کھانے سے ہلاکت ہوجاتی ہے، آزادنہ جنسی اختلاط سے ایڈز پھیل سکتا ہے، نکاح کا ادارہ تباہ کرنے سے خاندانی نظام ختم ہوجاتا ہے وغیرہ۔ لیکن اس تجربے کی بھینٹ ہزاروں لوگوں کو چڑھانا پڑتا ہے۔

۴۔ علم کے غیر مستقل ذرائع

فطرت و وحی علم کا مستقل ذریعہ ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی علم کے بے شمار ذرائع ہیں۔ لیکن  یہ خیر و شر کے تعین میں براہ راست مدد نہیں کرتے بلکہ عقل کو فیصلہ کرنے کا مواد فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سرفہرست معیار ماحول ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان خیرو شر کا  ابتدائی علم  اپنے ماحول ہی سے لیتا ہے۔ وہ اپنے والدین، اعزا و اقربا، دوس احباب وغیرہ کو دیکھ کر  بہت سی چیزیں سیکھ لیتا ہے جس میں خیرو شر کا تعین بھی ہوتا ہے۔ مثال کے طو ر پر ایک بچہ جو مغربی ممالک میں پلا بڑھا ہو وہ  شراب پینا جائز سمجھتا ہے لیکن ایک مسلمان ماحول میں پلنے  بڑھنے والا بچہ اسے ناجائز اور برائی سمجھتا ہے۔  لیکن شراب کو مطلقا اچھائی  کوئی بھی نہیں سمجھتا۔

مغرب میں پلنے بڑھنے والا ایک شخص بھی جب بڑا ہوتا ہے تو وہ بھی شراب کو کسی نہ کسی درجے میں برا سمجھتا ہے خواہ وہ ڈرائیونگ کے وقت ہو یا نابالغ کے لیے ہو۔ اسی طرح وہ بھی زنا کو بر اسمجھتا ہے اور وہ یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ کوئی اس کی ماں یا بیوی سے آزادانہ جنسی تعلق قائم کرے وغیرہ۔ اس کا مطلب ہے کہ ماحول کی بنا پر خیر و شر کا تعین کچھ مشکل تو ہوجاتا ہے لیکن  انسانی فطرت یہاں بھی اس کی راہنمائی کرتی ہے۔

علم دیگر غیر مستقل ذرائع جو خیر و شر کے تعین میں مدد دے سکتے ہیں ان میں ایک تجربہ بھی ہے۔ انسان تجربے کے ذریعے جان جاتا ہے کہ خیر اور شر کیا ہے۔ مثال کے طور پر انسان نے تجربے کی ذریعے جانا   کہ اسموکنگ کینسر کا باعث ہے، چکنائی کھانے سے ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے وغیرہ۔تجربہ اخلاقی معاملات میں بھی خیرو شر کے تعین میں مدد کرتا ہے۔ جیسے تجربہ نے بتایا کہ آزادانہ جنسی اختلاط کوئی اچھی بات نہیں وغیرہ۔علم کا ایک اہم ذریعہ ہمارے حواس خمسہ ہیں۔ کھانا ، دیکھنا، سننا ، چکھنا اور چھونا وہ علم حاصل کرنے کے طریقے ہیں جن کی وجہ سے ہم خیر و شر کے تعین میں مدد حاصل کرسکتے ہیں۔

 

انسانی لائف سائیکل

اس بحث سے یہ بات تو پتا چلتی ہے کہ خیرو شر کا معیار  کسی ایک علم  کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وحی کو عقل کی ضرورت ہے اور فطرت کو وحی کے تعین کی۔ اگر ہم انسانی لائف سائکل کو دیکھیں تو خیر و شر کا معیار بہت ہی فطری اور آسان ہے ۔ یہ اتنا خود کار عمل ہے کہ ایک بچہ بھی اس کی پیروی کررہا ہوتا ہے۔

ہم دیکھیں تو جب ایک بچہ بڑھا ہونا شروع ہوتا ہے اس وقت اسے وحی کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود وہ خوب اچھی طرح کچھ بنیادی چیزوں کو خیرو شر مان رہا ہوتا ہے۔ بہت ہی چھوٹے بچوں پر ایک مرتبہ ایک تجربہ کیا گیا۔ اس  میں بچوں کو دو طرح کے کھلونے دیے گئے۔ ایک وہ کھلونے تھے جو نیچے سے اوپر کی طرف جارہے تھے اور دوسرے وہ جو اوپر سے نیچے آرہے تھے۔ بچوں کی اکثریت نے نیچے سے اوپر جانے والے کھلونوں کو پسند کیا جو اس بات کا اظہار تھا کہ بچے فطر ی طور پر مثبت عمل کو پسند کرتے ہیں جو ایک خیر ہے۔

اسی طرح جب ایک بچہ بڑا ہوتا ہے تو وہ سچا ہوتا ہے اور اسی سچ کی بنیاد پر وہ دنیاوی مصلحتیں نہیں جانتا  اور سچ بولتا  اور اسے ہی پسند کرتا ہے۔ بعد میں وہ ممکن ہے اپنے والدین کی بنا پر جھوٹ بولنے لگ جائے۔ فطرت میں ودیعت کردہ خیرو شر کا تصور وہ پہلی وحی یا الہام ہے جو اللہ نے انسانوں کو دیا اور سب کو دیا۔ یہی وہ کسوٹی  ہے جس کی بنیاد پر دنیا میں اخلاقیات ظہور پذیر ہوتی اور پروان چڑھتی ہے۔

اس کے بعد بچہ میں کچھ عقل اور سمجھ بوجھ آنا شروع ہوتی ہے۔ اب وہ خیرو شر کے تعین کرنے میں ماحول  سے بھی مدد لیتا ہے۔ اس کی بنا پر وہ دیکھتا ہے کہ بہت سی باتیں جو اس  کی نے  فطرت نے  شر  کے طور پر بتائیں تھیں ، وہ معاشرے نے  خیر کے طور پر لی ہوئی ہیں۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے لیکن کچھ لوگ مصلحتا جھوٹ بولتے ہیں۔ چنانچہ وہ جب خود جھوٹ بولنا شروع کرتا ہےتو اس کا ضمیر شدید مزاحمت کرتا اور اسے گناہ کا احساس دلاتا ہے۔ اگر وہ ماحول سے متاثر ہوکر ضمیر کی آواز دبالے تو  اس کی عقل اسے حیلے فراہم کردیتی ہے۔ لیکن اس کے لاشعور میں ہمیشہ یہ احساس ضرور رہتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایک بری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اس سے جھوٹ بولتا ہے اور اسے دھوکا دیتا ہے تو اسے برا لگتا ہے۔

اس کے بعد بچے کی زندگی کی تیسرا مرحلہ تعلیم ہے۔ یہ تعلیم دینی تعلیم  اور دنیوی تعلیم دونوں ہوسکتی ہیں۔ دینی تعلیم میں بچے کو کوئی نہ کوئی مذہب پڑھایا جاتا ہے۔ اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی تم پڑھ رہے ہو وہ خدا کا پیغام ہے جس کے ماننے کی صورت میں نجات ہے ورنہ سزا۔ اب بچہ اس وحی ے بارے میں سوالات کرتا ہے جو عقل وفطرت پر مبنی ہوتے ہیں۔ کچھ سوالات عقل سے ماورا بھی ہوتے ہیں۔ یہاں بچے کو بالعموم تمام معاشروں میں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ وحی کو  من و عن مانے کیونکہ عقیدے میں عقل کا کوئی کردار نہیں، نہ ماننے کی صورت میں اسے  سخت سزاؤں سے ڈرایا جاتا ہے۔

اس موقع پر بچہ مذہب کے بارے میں یہ جان لیتا ہے کہ اگر اسے ماننا ہے تو عقل کو بند کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اس کا مذہب کے بارے میں ایک ایسا تصور پیدا ہوجاتا ہے جو پراسرایت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ مذہب کو چونکہ عقل سے نہیں پرکھا جاسکتا، اس لیے مذہبی تعلیمات جاننے کے لیے وہ نہ صرف اپنے مذہبی پیشواؤں کا محتاج ہے بلکہ ان کی باتوں کو من و عن ماننا اور بغیر کسی دلیل کے ماننا ہے۔

یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ایک بچہ اپنے مذہب سے دوری اختیار کرلیتا ہے۔ اس کی ساری توجہ دنیاوی امور اور دنیاوی تعلیمات پر ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا  کی باتیں اس کی سمجھ میں آرہی ہوتی ہیں اور مذہبی رہنما اس کے سوالات کے جواب دینے کی بجائے  سوال پوچھنے کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عقل ، وحی اور فطرت کا تعلق

یہاں ہمیں عقل ، فطرت اور وحی کے تعلق کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ انسانی لائف سائیکل سے ہم نے یہ جانا کہ  انسان ابتدا میں جو علم  لے کر پیدا ہوتا ہے وہ اس کی فطرت  میں ودیعت کردہ الہام ہے۔اس سے اگلے مرحلے میں و ہ عقل، وحی  اور ماحول کے ذریعے کچھ چیزیں سیکھتا اور فطرت کے اس علم کو پروان چڑھاتا ہے۔

اس بحث سے یہ علم حاصل ہوا کہ انسانی علم کا بنیادی ماخذ انسانی فطرت ہے۔   دوسرا علم  انسان  وحی کا علم ہے۔ایک اور ذریعہ ماحول ہے لیکن  یہ کوئی مستقل ذریعہ نہیں۔  انسانی عقل  ان تمام  علوم کو حاصل کرنے اور استعمال کرنے میں معاونت کرتی ہے۔

فطرت انسانیت  کی  وہ مشترکہ وحی ہے جس میں نہ کوئی فرقہ بازی ہے، نہ مذہبی منافرت، نہ تقسیم ، نہ فخر اور نہ حقارت۔ یہ الہام سب کے پاس موجود ہے۔ ایک ہندو بھی اس الہام کو جانتا ہے اور عیسائی بھی، یہ الہام ایک موچی کے پاس بھی ہے اور ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر کے پاس بھی، یہ عورت بھی جانتی ہے اور مرد بھی، یہ امریکہ میں بھی پایا جاتا ہےا ور افریقہ کے جنگلات میں بھی۔

لیکن فطرت کا یہ علم ناقص اور مبہم ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے وحی کا علم دیا جاتا ہے۔ وحی کا ابلاغ خود بخود نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مختلف ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وحی کی تعلیمات ہر شخص تک یکساں نہیں پہنچتیں۔ اسی لیے ایک شخص  وحی  کو ماننے کا مکلف یا پابند اتنا ہی ہے جتنا اس تک علم پہنچا۔وحی کو فطرت کے علم پر فوقیت حاصل ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ  وحی کا مستند  علم فطرت کے خلاف نہیں ہوتا  لیکن  اس ساتھ  ہی یہ علم فطرت کے علم سے زیادہ مستند  اور واحد کسوٹی ہے۔ اسی پر فطرت  ، ماحول یا دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کو پرکھا جائے گا۔

جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو عقل فطرت اور وحی کے علم کو اخذ کرتی، اسے سمجھتی ، پرکھتی اور پھر اسے مان کر عمل کرنے کی جانب راہنمائی دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عقل کے بغیر وحی اور فطرت سے علم حاصل نہیں کیا جاسکتا اور انسان دینی احکامات کا مکلف ہی نہیں رہتا۔ یعنی نماز کس طرح پڑھنی ہے یہ وحی  کے علم سے عقل اخذ کرکے لوگوں کو بتائے گی۔ اسی طرح خیر و شر کا تعین  فطرت سے کس طرح اخذ کرنا ہے، یہ بھی عقل کا کام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فطرت اور وحی عقل کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک قابل غور بات ہے کہ اگر فطرت اور وحی کی تعلیمات کو ختم  کردیا ہے تو عقل کچھ بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی ایسے انسان کا تصور کریں جسے وحی کا کچھ نہیں علم اور یہ بھی تصور کریں کہ فطرت کی تعلیمات  اس کی یاداشت سے مٹائی جاچکیں ( گوکہ یہ ممکن نہیں) تو مجرد عقل اسے نہیں بتاسکتی کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔

خلاصہ

خلاصہ کچھ یوں بنا  کہ انسانی علم کے دو بنیادی ماخذ ہیں ایک  فطرت اور دوسرا وحی۔ فطرت ہر شخص کے پاس ہے لیکن ناقص علم ہے۔ وحی ہر شخص کے پاس نہیں لیکن کام  علم ہے۔ عقل ان دونوں کو استعمال کرنے  اور خیر و شر اخذ کرنے کا نام ہے۔  خیر و شر کا تعین اس علم کی بنیاد پر ہوگا جو دستیاب ہو اور انسان اسی کا مکلف ہے۔ البتہ انسان اس بات کا بھی  مکلف ہے کہ موجودہ علم کی اصلاح کرے اور ضروری علم میں اضافہ کرے۔


تراویح کے مسئلے پر غیر جانبدار تحقیق

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Jun 7, 2016

تراویح کے مسئلے پر غیر جانبدار تحقیق کے لیے فائل ڈان لوڈ کریں۔

تراویح پر غیر جانبدار تحقیق


تنہائی، غصہ اور ڈپریشن

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jun 2, 2016

سوال: میں بہت تنہائی محسوس کرتی ہوں۔ مجھے بہت غصہ آتا ہے۔ غصے سے اندر ہی اندر کڑھتی رہتی ہوں ۔ دو دن غصہ رک جاتا ہے۔ تیسرے دن میں کنٹرول نہیں کرسکتی۔ غصہ مجھ پراتنا حاوی ہوجاتا ہے کہ میں اس سے لڑ نہیں سکتی۔ پھر میں بہت روتی ہوں۔ اور اس تیسری رات میں سو بھی نہیں پاتی۔ دم گھٹنے لگتا ہے۔ دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ جیسے دل بند ہوجائے گا ۔ کوئی بات یاد آجائے تو ساری رات کیا، کیوں اور کیسے ہوا سوچتے ہوئے گزرجاتی ہے۔ سوچیں میرے دماغ سے نکلتی نہیں ہیں۔ جب سے میرا پالتو طوطا میری غلطی کی وجہ سے مر گیا ہے میں مزید ڈپریش کا شکار ہو چکی ہوں ۔میری امی مجھے اکثر کہتی تھیں اور ابھی بھی انکا یہی خیال ہے کہ میں ذہنی مریض ہوں۔ اب مجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہےکہ واقعی میں مینٹلی ٹھیک نہیں ہوں۔ ایک مہینے سے دماغ نے ساتھ دینا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں سب ٹھیک ہیں بس میں ٹھیک نہیں ہوں۔ یہ جانتے ہوئے بھی میں اس کیفیت کو کنٹرول نہیں کرپاتی ۔ لوگوں کی تنقید سے اور برا محسوس کرتی ہوں۔سب کچھ برا ہے میرے ساتھ۔۔میری شادی ہونے والی ہے مگرلگتا ہے سب کچھ مل کے بھی خالی ہاتھ ہوں۔ کبھی میرا دل کرتا ہے باہر جاؤں ۔۔فرینڈز کے ساتھ گھوموں باتیں کروں اور کبھی بالکل تنہا رہنے کا دل کرتا ہے جہاں کوئی نہ ہو۔۔میں بہت ڈپریش میں ہوں ۔۔مدد چاہیے۔
جواب:آپ کے سوال میں بہت سی الجھی ہوئی سوچیں اور بے ربط خیالات ہیں۔۔دیکھیں آج دنیا میں بے شمار لوگوں کو آپ سے ملتے جلتے مسائل کا سامنا ہے یعنی گھر میں توجہ نہ ملنا،جسمانی خوبصورتی نہ ہونا،تنہائی،کسی عزیز کا بچھڑ جانا۔۔۔اور اپنی ناکامیوں پر مزید مایوس کن خیالات کی بھرمار۔۔۔لیکن اصل بات یہ مسائل نہیں بلکہ ان مسائل پر ہمارا ردعمل ہے۔ آج دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ہو جو کسی نہ کسی پریشانی کا شکار نہ ہو۔ آپ بالکل بھی ذہنی مریض نہیں صرف آپ میں قوت ارادی کی کمی اور زود حسی ہے۔یہ سب مسائل حل طلب ہیں اگر آپ ان کے آگے خود کو بےبس سمجھ کر ہتھیار نہ پھینکیں بلکہ مثبت سوچوں اور مثبت رویے کے ساتھ ان کا مقابلہ کریں۔یقین مانیں اگر آپ انہی لایعنی قسم کی سوچوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں تو دنیا کا کوئی بھی انسان آپ کی مدد نہیں کر سکتا ، نہ کوئی ہینگ آؤٹ اور نہ ہی کوئی دوست۔۔
اللہ نے ہر انسان کو اس کی ضروریات کے مطابق بے شمار نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے اور جن چیزوں سے محروم رکھا ہے یہ بھی اس کے لا محدود علم اور مصلحت کے تحت ہے جس کو ہمارا محدود ذہن نہیں سمجھ سکتا۔ مگر ہم اپنی اپنی محرومیوں کو خود پر اسقدر حاوی کر لیتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کر پاتے اور ان بے شمار نعمتوں کو سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمیں حاصل ہیں بغیر ہماری کسی کوشش کے۔
اب آپ کی مرضی کے مطابق آپ کی شادی ہونے والی ہے۔یہ آپ کے پاس اپنی زندگی کو نارمل کرنے کا سنہری موقع ہے،اب اگر آپ نے خود کو کنٹرول نہ کیا تو آگے بھی خدا نہ کرے ،سوائے مسائل کے،کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔میرا مشورہ ہے کہ:
۔اپنے گھر والوں کے رویے کو یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں کہ وہ آپ کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں ۔ بے شک ان کا طریقہ کار غلط ہے مگر ان کی نیت ہو سکتا ہے درست ہو، ان کی باتوں پر کڑھنے کی بجائے برداشت اور حوصلے کے ساتھ کوشش کریں کہ محبت کا برتاؤ کریں۔
۔آپ کو کسی مثبت ذہنی اور جسمانی سرگرمی کی شدید ضرورت ہے مثلاً اچھی کتابوں کا مطالعہ ،ہلکی پھلکی ورزش وغیرہ۔
۔دوسروں سے زیادہ توقعات وابستہ مت کیجئے۔ یہ فرض کر لیجئے کہ دوسرا آپ کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ بڑی بڑی توقعات رکھنے سے انسان کو سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
۔خوشی کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہونا سیکھئے اور بڑے سے بڑے غم کا سامنا مردانہ وار کرنے کی عادت ڈالئے۔
۔اللہ کے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کریں،اپنی چھوٹی بڑی ہر بات اس کے سامنے کریں اس یقین کے ساتھ کہ وہ قادر مطلق ضرور سنتا ہے۔۔یقین مانیں دل پرسکون ہو جاتا ہے۔۔
ان تمام طریقوں سے بڑھ کر سب سے زیادہ اہم رویہ جو ہمیں اختیار کرنا چاہئے وہ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل اور قناعت ہے۔ توکل کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہا جائے۔ اس کا انتہائی معیار یہ ہے کہ انسان کسی بھی مصیبت پر دکھی نہ ہو بلکہ جو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو ، اسے دل و جان سے قبول کرلے۔ ظاہر ہے عملاً اس معیار کو اپنانا ناممکن ہے۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اس کے جتنا بھی قریب ہو سکتا ہو، ہو جائے۔
آپ نے جس خیالی دنیا کا ذکر کیا ہے ، یقیناً وہ دنیا انسان کو ملے گی۔بس ہمیں خود کو اس کا اہل ثابت کرنا ہے اور وہ دنیا کا سکون بھی ہو سکتا ہے اور آخرت کا ہمیشہ کا آرام بھی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم یہ سوچیں کہ دنیا کی اس چند روزہ زندگی سے ہم نے اپنی آخرت کا سامان کیسے اکٹھا کرنا ہے؟؟یہ مشکل تو ہو گا مگر اس کے بعد ہمیشہ کا سکون مقدر بن سکتا ہے۔۔
اللہ آپ کو قوت برداشت اور ہمت دے کہ آپ خود کو بدلنے میں کامیاب ہو سکیں۔۔آمین
از: راعنہ نقی سید


عمل صالح کا محدود تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔ 
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم 
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ 
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔ 
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔ 
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل