پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

شوہر پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

انسانی شخصیت اور معاشرے کے لیے جو منفی رجحانات نقصان دہ ہیں ان میں بد گمانی بلاشبہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو انسان کی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک بے سکوینی، جھگڑے اور فساد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔بدگمانی اپنے دل میں کسی کے بارے میں بری سوچ رکھنے کو کہتے ہیں۔
ہماری خاندانی زندگی بدگمانی کا ایک سب سے اہم شکار شوہر ہوتا ہے ۔ عام طور پر خواتین اپنے شوہروں پر کئی پہلووں سے شک کرتی ہیں لیکن سب سے اہم پہلو یہی ہوتا ہے کہ یہ کسی دوسری عورت میں تو دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس بدگمانی کے بے شمار نفسیاتی، جذباتی ، واقعاتی یا دیگر اسباب ہوسکتے ہیں۔
خواتین کو یہ شک سب سےپہلے شوہروں کے رویے سے ہوتا ہے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں مرد کا رویہ بے حد رومانوی (Romantic)ہوتا ہے لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ رومانویت کی اس کمی سے بیوی کے دل میں یہی بات پیدا ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے یا ابتدائی دنوں میں تو یہ جان نچھاور کرتے، محبت کا اظہار کرتے اور مجھ سے خوب باتیں کرتے تھے، اب یہ بدل گئے ہیں۔ ضرور کوئی چکر ہے۔ بس یہ چکر کا خیال آتے ہیں چکر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہیں سے بدگمانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
ایک اور اہم سبب شوہر کا تاخیر سے گھر آنا ہے۔دفتری یا کاروبای مصروفیات کی بنا پر مرد حضرات تاخیر سے گھر آتے ہیں۔ عام طور پر بیویوں کو شک ہوتا ہے کہ کیا معاملہ ہے۔ پھر شوہر تھکے ماندے گھر واپس آتے ہیں اور عام طور پر باتیں نہیں کرتے۔بیوی جو سارا دن اس کا انتظار کرتی رہتی ہے اپنے پورے دن کی کتھا سنانے کے درپے ہوتی ہے۔
شوہر عام طور پر کوئی دلچسپی نہیں لیتے یا پھر صرف ہاں ہوں کرکے بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر مرد ویسے بھی خواتین کے مقابلے میں کم گو ہوتے ہیں۔ یہاں بھی بیوی میں بدگمانی پید اہوتی ہے کہ میری تو کوئی اہمیت نہیں ، کوئی اوقات نہیں وغیرہ۔ یہاں سے ایک خود ساختہ بے چارگی، احساس کمتری، شک اور دیگر گمانوں کی ایک چین شروع ہوجاتی ہے۔
بدگمانی کی ایک اور ممکنہ وجہ شوہر کی آزاد خیالی ، کھلا مزاج یا ڈبل اسٹینڈرڈہوتا ہے۔شوہر کا دیگر خواتین سے بات چیت کرنا، ان کے ساتھ ہنسنا بولنا، ان سے اچھی طرح بات چیت کرنا ایک بیوی کو بہت برا لگتا ہے ۔ یہاں سے بھی بدگمانی پیدا ہوتی ہے ۔ عورت خود کو کمتر سمجھتی اور شوہر پر مختلف طریقوں سے شک کرتی ہے۔
یہاں عین ممکن ہے کہ شوہر کی غلطی ہو اور اس کا رویہ نامناسب ہو لیکن اس کی نیت کسی عورت میں دلچسپی کا نہ ہو۔ اس صورت میں کی گئی بدگمانیاں سرد جنگ کو جنم دیتیں، لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی اور بعض اوقات علیحدگی کا سبب بھی بن جاتیں ہیں۔
یہ ضروری ہے ہم اپنے دماغ کو خود کے ہی قائم کردہ بے بنیاد مفروضات کی زنجیر نہ لگائیں بلکہ حسن ظن قائم رکھتے ہوئے اپنے معاملات حسن انداز میں طے کریں ۔بدگمانی و شک ایک ادھورا علم ہوتا ہے اور ادھورے علم کی بنیاد پر زندگی کی عمارت تعمیر کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل


مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

مجھے کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی
کسی بھی نارمل انسان کی زندگی میں یہ ممکن نہیں کہ کسی سی اس کا تنازعہ نہ ہو۔ ہر انسان کی طبیعت ، ، پسند نا پسند اور فطرت مختلف ہو نے کی وجہ سے زندگی میں ایسے بے شمار مرحلے آتے ہیں جب اس کا کسی نا کسی سے اختلافِ رائے ہو جاتا ہے۔ خواہ یہ اختلافِ رائے سیاسی اکھاڑے میں ہو، مذہبی مناظرے میں ہو، دوستوں کی محفل میں ہو یا خانگی زندگی میں ہو۔
جب کبھی تنازعہ پیش آئے تو ہمیشہ لوگ کہتے ہیں کہ “اُس نے میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی” دونوں فریقین یہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اس نے دوسرے کی بات سمجھنے کی کتنی کوشش کی۔ ہماری ساری زندگی اپنی بات منوانے کے چکر میں گذر جاتی ہے۔ ہم کسی اور کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ذرا سو چیے اللہ نے ہمیں دو کان اور ایک زبان کیوں دی ہے۔زیادہ سننے اور کم بولنے کے لیے۔کسی کی بات نا سننے اور نا ماننے کے حوالے سےہمارے رویے کے کئی عوامل ہو سکتے ہیں مثلاً :
1. ذاتی عناد
2. انا
3. کم علمی
ذاتی عناد جب کسی جھگڑے کی بنیاد بنتا ہے تو ہم اپنی دشمنی کی وجہ سے کسی کی کوئی بات ماننے کے لیے اس لیے تیار نہیں ہوتے کیوں کہ وہ “ہمارے دشمن” نے کی ہو تی ہے۔یہاں ایک نفسیاتی رکاوٹ حائل ہو جاتی ہے جو ہمیں عقلیت پر مبنی فیصلے نہیں کرنے دیتی۔ تنازعہ کے حل میں حائل ایک اور رکاوٹ ہماری انا ہوتی ہے۔ہمارا نفس ہمیں اکساتا ہے کہ کسی کی بات مان لینے میں ہماری سبکی ہو گی ۔ لوگ کیا کہیں گے کہ میں نے ان کی بات مان لی۔ میرا سر جھک جائے گا۔اور ہماری انا خود ہماری راہ میں آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسی مسٔلے کے حل میں رکاوٹ کی ایک تیسری بڑی وجہ کم علمی ہے۔ ہمیں اکثر بات پوری طرح پتہ نہیں ہوتی اور ہم اپنی کم معلومات پر ہی کسی چیز، واقعہ یا شخص کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں ؛ اور یہ رائے کم معلومات کی بنا پر صحیح نہیں ہوتی مگر ہم اُسے درست سمجھ کر اس کے دِفع میں اپنی ساری توانائی صرف کرتے ہیں۔
ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ہماری بات مانیں، ہماری بات سنیں، ہمارے طریقے پر چلیں اور اس طرح ایک سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ میرا طریقہ ہے۔ اس کے برعکس فریقِ ثانی کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے اور ایک دوسری سوچ ابھرتی ہے جسے ہم کہتے ہیں کہ یہ اس کا طریقہ ہے۔ اور ہر ایک اپنے طریقے کو منوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہتا ہے۔ اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین پر جذبات غالب رہتے ہیں۔اور جذبات کی اس آگ کو ہمارا نفس ہوا دیتا رہتا ہے۔ اپنی دشمنی کی وجہ سے، اپنی انا کے ہاتھوں سے مجبور اور اپنی کم علمی کی بنا پر ہم کسی تنازعہ کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔
ایسے میں ہمیں ایک ایسے طریقے کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ تو اس کا طریقہ ہوتا ہے نہ میرا طریقہ ہوتا ہے۔ وہ طریقہ جو ہمیں مسائل کے حل کی طرف لے کر جاتا ہو وہ نہ تو کسی کی خواہشات پر مبنی ہوتا ہو نہ جذبات پر۔ ایسے طریقہ کی بنیاد اصولوں پر ہوتی ہے۔اصول بھی وہ جو time tested ہوں اور اہم بات یہ ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں جن اصولوں کی پاسداری کرنے کے لیے کہتا ہے ان کو اگر زمان ومکان کی کسوٹی پر پرکھیں تو یہ اصول کھرے ثابت ہوتے ہیں۔کسی بھی زمانے میں کسی بھی جگہ ، آج سے ایک ہزار سال پہلے مغرب میں یا مشرق میں۔ ان اصولوں میں ایک universality ہے۔ان اصولوں پر مبنی طریقہ ایک بہتر طریقہ ہے۔

مصنف: شمیم مرتضی


نامناسب القاب سے منسوب کرنا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 4, 2013


نامناسب القاب سے منسوب کرنا
(تحقیق و تحریر: پروفیسر محمد عقیل)
کسی کی تحقیر کرنے اور اذیت پہنچانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے ایسے لقب سے منسوب کیا جائے جس سے اسے تکلیف یا اذیت پہنچے۔ مثال کے طور پر کسی کو لنگڑا یا لولا کہہ کر اسے دکھ پہنچایا جائے۔ اس روئیے سے تعلقات متاثر ہوتے اور تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر مخاطب کمزور ہو تو نتیجہ اس کی دل آزاری اور نفسیاتی اذیت کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ دوسری جانب اگر مخاطب طاقتور ہو تو وہ بھی اسی قسم کے القابات سے بولنے والے کو نوازتا ہے اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی بنا پر مہذب معاشروں میں اس قسم کا رویہ قابل مذمت ہوتا ہے۔ اس اخلاقی قباحت کی بنا پر اس روئیے کی قرآن و حدیث میں سختی سے مذمت کی گئی ہے۔جیسا کہ سور ہ الحجرات میں بیان ہوتا ہے:
“اور نہ(ایک دوسرے کو) برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں”۔(الحجرات۔۴۹:۱۱)
اس آیت میں واضح طور پر اس روئیے کو برا سمجھا گیا اور اس کی مذمت کی گئی ہے اور جو لوگ اس سے باز نہ آئیں انہیں ظالموں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔
برے القاب سے کسی کو پکارنا درحقیقت ایک اذیت دینے کا عمل ہے اور اذیت دینے کی احادیث میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوتا ہے:
“مسلمان کو اذیت نہ دو انہیں عار نہ دلاؤ اور ان میں عیوب مت تلاش کرو۔ کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عیب گیری کرتا ہےاور جس کی عیب گیری اللہ تعالیٰ کرنے لگے وہ ذلیل ہو جائے گا۔ اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔( جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2121 )
اسی طرح ایک اور جگہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9 )
برے القابات سے پکارنا بدگوئی کا ایک پہلو ہے جس کے بارے میں حدیث میں بیان ہوتا ہے ۔”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے”۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 977 )
برے ناموں سے منسوب کرنا درحقیقت مسلمان کی عزت کی اس قدر حرمت ہے کہ جو کوئی اس حرمت کو نقصان پہنچائے ، اس کی نمازیں تک قبول نہیں ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
“جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرتا ہے تو اس پر اللہ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اس کی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں ہوتی”۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 440 )
نامناسب القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم
برے القاب سے منسوب کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی متعین شخص کو ایذا پہنچانے کی نیت سے کوئی لقب دینا یا کسی ایسےلقب سے منسوب کرنا جس سے مخاطب کو ناحق تکلیف پہنچے یا کوئی ایسا نام یا لقب استعمال کرنا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر اخلاقی ہو ۔
شرائط
برےلقب سے موسوم کرنے کے لئے درج ذیل میں سے کسی ایک شرط کا پورا ہونا لازمی ہے۔
۱۔ لقب کو کسی شخص کو اذیت دینے کی نیت سے موسوم کرنا یا
۲۔ کسی کو اس لقب سے ناحق اذیت ہو یا
۳۔لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزوں ہو۔
وضاحت:
کسی نام سے منسوب کرنے کی تین شرائط میں سے کوئی ایک بھی پوری ہوجائے تو یہ گناہ سرزد ہوجائے گا۔ پہلی شرط یہ ہے کہ کسی کو نام سے منسوب کیا جائے اور اس کا مقصد اس شخص کی تحقیر وتذلیل کرکے اس کو اذیت دینا ہو۔ مثال کے طور پر زاہد نے فرحان کو اس کی پستہ قامتی کا احساس دلانے کے لئے اور اسے اذیت پہنچانے کے لئے جملہ کہا” اور بونے صاحب ! کہاں چل دئیے”۔ یہاں بونے صاحب کہنے کا مقصد چونکہ ایذا رسانی اور تنگ کرنا ہے اس لئے یہ برے لقب سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
دوسر ی شرط یہ ہے کہ لقب سے کسی کو ناحق اذیت پہنچے۔ یعنی کہنے والے کی نیت تو اذیت پہنچانے کی نہیں تھی لیکن سننے والے کو یہ لقب جائز طور پر برا لگا۔ مثلا الیاس نےغفار سے کہا ” اور ملا جی ! کہاں غائب تھے اتنے دنوں سے؟” الیاس کا مقصد ایذا پہنچانا نہیں تھا لیکن غفار کو ملا کے نام منسوب ہونا برا لگا تو یہ بھی ممنوع ہے۔
تیسری شرط یہ ہے لقب اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر موزو ں اور غیر اخلاقی ہو۔ مثال کے طور پر سلمان نے عزیر سے بے تکلفی میں کہا” او کمینے! بات تو مکمل کرنے دے، پھر اپنی کہنا”۔ یہ سن کر عزیر ہنسنے لگا۔ یہاں سلمان نے بے تکلفی میں جملہ کہا اور عزیر نے بھی مائنڈ نہ کیا یعنی اوپر بیان کی گئی دونوں شرائط پوری نہیں ہورہی ہیں لیکن کمینہ کہنا ایک غیر اخلاقی لقب ہے جس سے احتراز لازمی ہے۔
استثنیٰ
ہر سوسائٹی میں عرفیت کا رواج ہوتا ہے یا پھر لوگوں کو اس کی کسی علامت کی بنا پر مشہور کردیا جاتا ہے جیسے کسی کو لنگڑا، چھوٹو ، موٹو، کانا، چندا، کلو، لمبو وغیرہ کہنا یا پپو، گڈو، منا،چنا، بے بی، گڈی، گڑیا،چنی وغیرہ کے نام سے منسوب کرنا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ان ناموں سے منسوب کرنا کیسا ہے؟
اگر ان ناموں میں کوئی اخلاقی و شرعی قباحت نہیں اور ان میں ایذا کا کوئی پہلو موجود نہیں تو اس طرح مخاطب کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن عام طور پر یہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے افراد جب بچپن کی حدود سے نکلتے اور پختگی کی جانب مائل ہوتے ہیں تو انہیں ان ناموں سے مخاطب ہونا اچھا نہیں لگتا۔خاص طور پر ایسےافراد اجنبی لوگوں کے سامنے ان ناموں کو پسند نہیں کرتے جو ان کی عرفیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس صورت میں انہیں ان کے اصل نام ہی سے پکارنے میں عافیت ہے بلکہ اصل نام سے مخاطب کرنے میں اس قسم کے لوگ بالعموم بڑی عزت محسوس کرتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ القاب ایسے ہوتے ہیں جو کسی شخص کو عزت دینے، اس کا رتبہ بڑھانے یا بیان کرنے یا اسے عزت و توقیر کے لئے دئیے جاتے ہیں۔ جیسے فاروق، صدیق، غنی، قائد اعظم ،علامہ وغیر۔ ان میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں۔
القاب کی اقسام
عام طور پر ہمارے معاشرے میں درج ذیل بنیادوں پر القاب استعمال ہوتے ہیں۔
۱۔ جسمانی بنیادوں پر القاب جیسے چھوٹو، موٹو، ٹھنگو، لمبو، کلو، چٹا، منا، کبڑا، لنگڑا، ٹنٹا ، اندھا، کانا وغیر کہنا۔
۲۔ مذہبی حوالے سے القابات جن میں منافق، فاسق، کافر، بنیاد پرست، یہودی، نصرانی، مشرک ، بدعتی ، وہابی وغیرہ شامل ہیں۔
۳۔قومیت کی بناد پر القاب میں پناہ گیر، مکڑ، پینڈو ، چوپایا ، اخروٹ ، ڈھگا، بھا ئو غیرہ مشہور ہیں۔
۴۔ جنسی بے راہروی کی نشاندہی کرنے والے ناموں میں حرافہ، بدذات، طوائف، کال گرل، لونڈا، ہیجڑا، زنخا وغیرہ ہی قابل تحریر ہیں۔ اس ضمن میں ایک بات یہ جملہ معترضہ کے طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کچھ الفاظ کے معنی زمانے کے لحاظ سے بدل جاتے ہیں ۔ اس صورت میں اعتبار زمانی معنوں ہی کا ہوگا۔ مثال کے طور پر بھڑوا درحقیقت مڈل مین کو کہتے ہیں جو کرایہ وصول کرتا ہے۔ یہ لفظ شاید اپنی ابتدا میں اتنا معیوب نہ تھا لیکن آج یہ معیوب سمجھا جاتا ہے چنانچہ اس لفظ کے استعمال کا فیصلہ آج کے معنوں کے لحاظ سے ہوگا۔
۵۔ کسی برے عمل سے منسوب کرنا جیسے شرابی، زانی، قاتل، لٹیرا، دہشت گرد،چور وغیرہ
۶۔ کسی جانور سے منسوب کرنا جیسے کتا، گدھا، سور، الو، لومڑی ، بھیڑیا وغیرہ کہنا
۷۔ کسی غیر مرئی مخلوق سے منسلک کرنا جیسے شیطان ، چڑیل، بھوت، جن، بدروح وغیرہ کہنا
۸۔ کسی برے روئیے سے منسوب کرنا جیسے مغرور، بدخصلت، لالچی، بخیل، ذلیل، چمچہ، کنجوس،خودغرض ، فضول خرچ، عیاش وغیرہ کہنا۔
۹۔عمر کی بنیاد پر القاب بنانا جیسے کسی کو انکل ، آنٹی، چچا، ماموں، ابا ، اماں ، باجی وغیرہ کہنا۔ خاص طور پر خواتین اس معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں ۔ چنانچہ لوگوں مخاطب کرتے وقت ایسے القاب سے گریز کیا جائے جو ان کی عمر کی زیادتی کی علامت ہوں اور وہ اس سے چڑتے ہوں۔
۱۰۔ کسی کی چڑ بنالینا اور وقتا فوقتا اس چڑ سے اسے تنگ کرنا
۱۱۔ پیشے کی بنیاد پر القاب سے نوازناجیسے کسی کوموچی ،بھنگی، ڈنگر ڈاکٹر، ماسٹر،ہاری وغیرہ کہنا۔
اسباب و تدارک
چونکہ برے القاب سے منسوب کرنا بدگوئی کی ایک قسم ہے اس لئے اس فعل کے اسبا ب و تدارک جاننے کے لئے بدگوئی میں بیان کی گئی تحریر کا مطالعہ کرلیں۔
اسائنمنٹ
صحیح یا غلط بیان کریں:
۱۔ کسی کو عرف یعنی نک نیم سے پکارنا بالکل جائز نہیں۔
۲۔ برے لقب سے پکارنے کا گناہ سرزد ہونے کے لئے اوپر بیان کی گئی تینوں شرائط کا بیک وقت پورا ہونا لازمی ہے۔
۳۔برے لقب سے مخاطب کرنے کا مقصد کسی کی عزت افزائی ہوتا ہے۔
۴۔ اگر نیت ایذا دینےکی نہ ہو اور سننے والے کو بھی لقب برا نہ لگے تو اس صورت میں کسی بھی لقب سے بلانا جائز ہے۔
۵۔ ابو داؤد کی حدیث کے الفاظ ہیں” مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں”۔(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 9)
۶۔ایک شخص بہت کالا ہے اور کلو کے لقب سے مشہور ہے۔ اسے کوئی شخص طنز و تحقیر کی نیت سے مخاطب کرتا ہے ” ابے او کلو! ذرا ادھر تو آ”۔ اس طرح کلو کہنا برے لقب سے مخاطب کرنا ہے کیونکہ مقصد تحقیر ہے۔
۷۔نگہت نے رضیہ کی چالاکی کو بیان کرنے کے لئے اسے لومڑی کہا۔ یہ برے نام سے منسوب کرنے کا عمل ہے۔
۸۔ غزالہ نے اپنی کزن فرحانہ کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ” بھئی آج تو تم چاند لگ رہی ہو”۔ فرحانہ سمجھی کہ غزالہ نے چاند کہہ کر اس کا مذاق اڑایا ہے اور وہ برا مان گئی۔ غزالہ کا چاند سے موسوم کرنا برے القاب سے پکارنے میں نہیں آتا کیونکہ نہ تو غزالہ کی نیت تحقیر کی تھی ، نہ چاند کہنے میں کوئی برائی ہے ۔ جبکہ فرحانہ کا برا ماننا ناحق ہے اورغلط فہمی کی وجہ سے ہے۔
۹۔ ذیشان نے مسلکی فرق کی بنا پر اپنے پڑوسی کو اس کی غیر موجودگی میں غلط طور پر “کافر ” کہہ دیا۔ یہ کلام غیبت بھی ہے اور اس میں برے لقب سے منسوب کرنے کا گناہ بھی شامل ہے۔
۱۰۔ اسکول میں بچوں نے ایک موٹے عینک والی بچی کو” پروفیسر ” کے لقب سے موسوم کردیا جس سے وہ بچی چڑتی تھی۔ بچی کو پروفیسر کہنا غلط لقب سے موسوم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔


غیبت ۔ ایک تربیتی مضمون

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday May 4, 2013


غیبت ۔ ایک تربیتی مضمون
(تحریر: پروفیسر محمد عقیل)
غیبت کبیرہ گناہوں میں ایک بڑا گناہ ہے ۔ دیگر بڑے گناہوں کے برخلاف یہ گناہ بہت عام ہے اور اس میں ہر دوسرا مسلمان ملوث نظر آتا ہے۔دوسری جانب قرآن و حدیث میں غیبت کی بڑے واشگاف الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ کہیں اس عمل کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے پڑھنا جاری رکھیں »


غیبت ۔ ایک تربیتی مضمون

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Feb 17, 2013


(مصنف: پروفیسر محمد عقیل)
غیبت کبیرہ گناہوں میں سے ہے لیکن دیگر بڑے گناہوں کے برخلاف یہ گناہ بہت عام ہے اور اس میں ہر دوسرا مسلمان ملوث ہے۔دوسری جانب قرآن و حدیث میں غیبت کی بڑے واشگاف الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ کہیں اس عمل کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے تو کہیں اس عمل میں مبتلا لوگوں کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
اس واضح مذمت کے باوجودلوگ اس فعل میں بڑی تعداد میں ملوث ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں »


حسد – ایک تفصیلی مطالعہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Nov 17, 2011


اس مضمون کے مطالعے بعد آپ جان لیں گے کہ
۱۔کس فعل کو حسدکہتے ہیں اور کونسا عمل حسد نہیں ہے؟۔
۲۔ حسد اور رشک میں کیا فرق ہے؟
۳۔حسد کن وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے؟
۴۔ حسد سے کس طرح بچا جاسکتا ہے؟
قرآن کی آیت:
اور(میں پناہ مانگتا ہوں رب کی) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔( الفلق ۵:۱۱۳)
احادیث:۱
۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔”مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر حسد نہ کرنے لگو ۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1218) پڑھنا جاری رکھیں »


۔تجسس

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 9, 2011


ٹائٹل کی آیت: اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔اور ٹوہ میں نہ لگو(الحجرات۔۴۹:۱۲)
ٹائٹل کی حدیث: ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو۔۔(بخاری ، جلد سوم:حدیث ۱۰۰۴) پڑھنا جاری رکھیں »


۔بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 9, 2011


ٹائٹل کی آیت: اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔اور ٹوہ میں نہ لگو(الحجرات۔۴۹:۱۲)

ٹائٹل کی حدیث: ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ تم بد گمانی سے بچو اس لئے کہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔اور کسی کے عیوب کی جستجو نہ کرو اور نہ اس کی ٹوہ میں لگے رہو۔۔(بخاری ، جلد سوم:حدیث ۱۰۰۴)
کیا آپ جانتے ہیں کہ بدگمانی کسے کہتے ہیں؟
کیا آپ اس مرض سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
ان سب باتوں کو جاننے کے لئے مندرجہ ذیل ٹیسٹ کے سوالات کے جواب دے کر اپنے مارکس معلوم کریں پڑھنا جاری رکھیں »


خبر بلا تحقیق مان لینا یا پھیلانا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Jan 9, 2011

ٹائٹل کی آیت: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی اہم خبر لائے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو مبادا کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو، پھر تمہیں اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔(الحجرات ۴۹:۶)
مفہوم: اس آیت سے مراد یہ ہے اگر خبر کسی معاشرتی ، اخلاقی ، مذہبی یا کسی اور پہلو سے اہمیت کی حامل ہے اور اسکی اشاعت سے دور رس نتائج نکل سکتے ہیں اور اس خبر کا بتانے والا کوئی شریعت کی حدودو قیود سے لاپرواہ کوئی غیر سنجیدہ شخص ہے تو اس خبر کی اشاعت سے قبل اسکی تحقیق کرلینا ضروری ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ کونسی خبر کی تحقیق ضروری ہے؟
خبر کی تحقیق سے کیا مراد ہے؟
بلا تحقیق خبر مان لینے یا پھیلادینے کے کیا نقصانات ہیں؟
ان سب سوالات کے لئے ایک چھوٹا سا ٹیسٹ دیجئے۔ پڑھنا جاری رکھیں »


مذاق اڑانا

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jan 8, 2011

تزکیۂ نفس کور س

آیت: ’’اے ایمان والو! نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کیا عجب وہ ان سے بہترنکلیں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤاور نہ(ایک دوسرے کو) برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں‘‘۔(الحجرات۔۴۹:۱۱)
سوالات
کیا آپ مذاق اڑانے اور مزاح کرنے کا فرق جانتے ہیں؟
کیا آپ لوگوں پر طنز کرتے، ان پر پھبتی کستے اور انہیں طعنے دیتے ہیں؟
کیا آپ دوسروں کو کسی ناپسندیدہ نام یا چڑ سے پکارنے کے عادی ہیں؟
گر ان میں سے کسی سوال کا جواب ہاں میں ہے تو آپ ایک بڑے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اس تحقیر آمیز روئیے کو جاننے اور اس سے بچنے کے لئیدرج ذیل مضمون کا مطالعہ کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں »