پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Tuesday Aug 29, 2017

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کیا قربانی قبول ہوئی؟ ڈاکٹر محمد عقیل
• “حضرت قربانی سے متعلق کچھ ارشاد فرمائیں۔”
پوچھو کیا پوچھنا ہے۔
• قربانی کی بنیادی شرط کیا ہے ؟
میاں ! قرآن میں آتا ہے کہ اللہ کو تمہارا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقوی پہنچتا ہے۔ ۔ یاد رکھو! قربانی میں اصل اہمیت تقوی کی ہے گوشت اور خون کی نہیں۔ تقوی کے بنا سارے جانورگوشت اور خون ہیں جو کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن خدا کے نزدیک ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ تقوی ہو تو محض ناخن کاٹنے پر ہی خدا قربانی کا اجر دے دیتا ہے اور تقوی نہ ہو تو کروڑوں کی نام نہاد قربانی منہ پر پڑھنا جاری رکھیں »


روحانیت کا تعارف

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday May 29, 2016

روحانیت کا تعارف

از پروفیسر محمد عقیل

۱۔ اسلام میں روحانیت سے کیا مراد ہے؟

جواب: قرآن میں لفظ “روح” دو معنی میں استعمال ہوا ہے۔  ایک مفہوم میں “روح  “جبریل امین کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اس تحریر میں اس روح پر بات نہیں کی جارہی جس سے مراد جبریل امین ہیں۔ دوسری جانب روح کے لغوی معنی پھونک ، راحت ، سکون اور قرار کے ہیں۔  یہیں سے  یہ لفظ روحانیت نکلا ہے یعنی  وہ عمل جس سے سکون حاصل کیا جائے۔ قرآن میں  سورہ الحجر (آیت ۲۹) اور سورہ  ص (آیت ۷۲)میں پھونک والے مفہوم کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِيْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِيْنَ    29؀

ترجمہ: تو جب میں اسے درست کر چکوں اور اس میں اپنی روح (پھونک )پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔

وضاحت : اس آیت میں فرشتوں سے خطاب جاری ہے۔ اور کہا جارہا ہے کہ  جب میں کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے لگا ہوں ۔ جب میں اس کی نوک پلک درست کرکے اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اسی وقت اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا”۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس روح سے کیا مراد ہے؟ اس پر علما نے  بہت کلام کیا اور روح کی ماہیت کو طے کرنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ Divine Spark یا نور یزدانی ہے جس سے انسان اور حیوان میں تمیز پیدا ہوتی ہے، کچھ نے کہا کہ یہ خدا کی صفات کا پرتو یعنی عکس ہے ۔ یعنی خدا نے اپنی روح پھونک کر انسان میں اپنی صفات منتقل کیں۔ کچھ نے روح سے مراد صرف زندگی کی انرجی لیا۔ دوسری طرف کچھ  صوفیا نے یہیں سے  اپنے نظریات اخذ کیے کہ روح پھونک کر خدا انسان میں حلول کرگیا یا انسان اور  خدا ایک ہی ہیں  اور یہاں سے وحدت الوجود کی بنیادیں تلاش کی گئیں۔

روح کی  اصل حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں لیکن چند چیزیں ہم  منطقی طور پر قرآن سے اخذ کرسکتے ہیں۔پہلی بات یہ کہ روح جو کچھ بھی ہے اس کے بنا انسان نامکمل ہے اسی لیے سجدے کا حکم اس وقت آیا جب روح پھونک دی گئی ، اس سے پہلے نہیں۔ دوسرا یہ  اس سے قبل اللہ  نے انسان کا جسم  کھنکناتی مٹی اور گارے بنالیا تھا ۔ مٹی مادے کی علامت ہے ۔ جبکہ روح کی جانب اللہ نے اپنی طرف نسبت کی کہ جب میں اپنی روح یا پھونک پھونک دوں  تو سجدے میں گر جانا۔ اسی لیے روح سے مراد لطافت اور مادے کی ضد   کےلیے جاتے ہیں۔ یعنی مادیت سے مراد مادی  عناصر اور روح  سے مراد  غیر مادی عناصر ہیں۔آخری بات یہ کہ روح وہ عنصر ہے جس سے زندگی کا آغاز ہوتا اور اس کے نکل جانے سے زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اوپر کی بحث سے اندازہ ہوگیا کہ روح کے   لغوی معنی پھونک اور اصطلاحی معنی سکون ، راحت، لطافت کے بنتے ہیں۔یہ  روح خدا کی قربت کی علامت ہے کیونکہ اسے خدا نے اپنی جانب براہ راست نسبت دی ہے۔ گوکہ ہم نسبت کی نوعیت نہیں جانتے لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ خدا نے اپنی روح (پھونک) انسان میں پھونکی۔ اس کو سمجھنے کے لیے اگر ہم ” دم ” کو لے  لیں  تو بات کچھ واضح ہوجائے گی۔ جس طرح ہمارے ہاں بچے پر دم کیا جاتا ہے تو پھونک ماری جاتی ہے۔ یہ دم کرنا دراصل اپنی جانب سےایک خاص  روحانی تاثیر کو اس بچے میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔ خدا کے پھونک پھونکنے کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتے ہیں البتہ ہم دم کرنے کی مثال سے کسی حد اس عمل کو سمجھ سکتے اور اس کے مقاصد جان سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس پھونک یا روح کی ضرورت کیو ں پیدا ہوئی جبکہ انسان کا ایک ظاہری اور مادی وجود موجود تھا۔ اس پھونک یا روح کا جو مطلب سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے جس طرح اللہ نے اپنے ہاتھوں سے انسان کا ظاہری وجود مادے سے تخلیق کیا ، اسی طرح اپنی پھونک یا روح کے ذریعے انسان کا ایک باطنی وجود بھی تخلیق کردیا۔ اس کا فنکشن  اس کے مادی وجود سے مختلف تھا ۔ اس کا کام غیر مادی امور کو طے کرنا تھا۔ مادی اور روحانی وجود میں ایک اور فرق یہ ہے کہ مادی وجود مادی دنیا (یعنی عالم ناسوت)اور غیر مادی وجود یعنی روح غیر مادی دنیا  (عالم لاہوت )کے لیے مخصوص ہے۔ واضح رہے کہ لاہوت غیر مادی عالم کے لیے بولا جاتا ہے جس میں فرشتے، عرش ، لوح محفوظ اور امور تکوینی سب شامل ہیں۔

اگر ہم اپنے مادی وجود پر غور کریں تو یہ ہاتھ پاؤں چہرہ جسم ، دل گردے پھیپڑے اور دیگر اعضا پر مبنی ہے جن کا اپنا اپنا کام ہے۔ باطنی وجود  کو دیکھیں تو ایک الگ دنیا انسان کے اندر موجود ہے۔ یہاں جذبات ، احساسات، خوشی ، غمی، بے چینی ، سکون اور اس طرح کی دیگر کیفیا ت ہیں جنہیں ہم محسوس کرسکتے اور ان کا اظہار کرسکتے ہیں لیکن کسی کو دکھا نہیں سکتے۔

باطنی وجود کے اعضاء کا تعین اگر ہم مادی طور پر ہاتھ پاؤں اور چہرے وغیرہ کی طرح کرنا چاہیں تو ناکام ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے باطنی کیفیات کے لیے  قرآن کو اصطلاح استعمال کرتا ہے وہ بھی ظاہری اعضاء سے مستعار لی ہوئی ہے ۔ جیسے قرآن نے بار بار باطنی کیفیات کا مرکز قلب یعنی دل کو ٹہرایا ہے ۔  چنانچہ قرآن جگہ جگہ اس باطنی وجود کو بیان کرتے ہوئے    مختلف باتیں بتاتا ہے جیسے اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے،  ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے، دلوں کو زنگ لگ گیا، دل اندھے ہوتے ہیں، دلوں پر مہر لگ جاتی ہے وغیرہ۔کبھی اسی باطنی وجود کے ایک مظہر یعنی تعقل کو بیان کرنے کے لیے قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ بدترین جانور ہیں۔ اسی طرح  باطنی وجود کے سننے اور سمجھنے کو سماعت، بصارت سے تعبیر کرتا ہے۔ غور کریں تو عقل بھی نظر نہیں آتی ہے۔باطنی وجود کے چند مظاہر کو قرآن ایمان، یقین، خشوع، خضوع، انابت، اخبات وغیرہ سے تعبیر کرتا ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح انسان کا ظاہری وجود ہے اسی طرح باطنی وجود بھی ہے۔ باطنی وجود کو صرف محسوس کیا جاتاہے ، انہیں دیکھا یا چھوا نہیں جاسکتا اس کے باوجود یہ ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہی باطنی وجود ہے جو اللہ نے اپنی روح کے ذریعے یعنی پھونک کے ذریعے انسان میں پیدا کردیا۔ اب انسان دو عناصر کا مجموعہ بن گیا ایک مادی عنصر اور دوسرا غیر مادی یا روحانی  عنصر۔ مادی وجود کو خدا نے کھنکناتی ہوئی مٹی سے تخلیق  کیا اور غیر مادی وجود کو روح سے۔انسانی نفس دراصل مکمل  شخصیت کا نام ہے جو اسی ظاہری و باطنی یا مادی و غیر مادی وجود وں کا مجموعہ ہے۔

یہاں  یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ  جس طرح ظاہری وجود کا مذہب سے  براہ راست تعلق نہیں ایسے ہی باطنی وجود کا بھی مذہب سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ جس طرح فزکس یا بائلوجی کے قوانین ایک عیسائی ، ہندو، یہودی ، ملحد سب کے لیے برابر ہیں اسی طرح روحانیت یا نفسی علوم کے  معاملات بھی ایک بدھ مت، جین مت یا ملحد و مسلمان سب کے لیے برابر ہیں۔ جس طرح ایک  ایک ہندو  اور مسلمان دونوں کے ہاتھ پاؤں ناک کان ہوتے ہیں اسی طرح ان کے احساسات و جذبات کامن ہوتے ہیں۔ جس طرح ظاہری وجود کو استعمال کرنے کے قوانین مذہب سے ماوارا ہیں اسی طرح باطنی  وجود کو استعمال کرنے کے قوانین بھی یونیورسل ہیں۔ مذہب ان اصولوں کا  درست استعمال سکھاتا ہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “روحانیت ” سے کیا مراد ہے؟  یہ سمجھنے کے لیے ہمیں روحانیت کے تین پہلووں کو الگ الگ سمجھنا ہوگا۔ روحانیت کا پہلا پہلو  اپنی ذات کی معرفت ، دوسرا پہلو خارج یا خدا کی معرفت اور تیسرا پہلو اس معرفت کے  نتائج کو عملی شکل میں ڈھال کر شخصیت کی  تعمیر کرنا  ہے۔ابتدائی دو پہلو علمی اور تیسرا پہلو عملی ہے۔

پہلا پہلو اپنی ذات کو پہچاننا  یا اپنی ذات کی معرفت ہے۔یہاں  روحانیت اپنے باطنی وجود سے رجوع کرنے کا نام ہے، یہ اسے جاننے، اسے سمجھنے، اسے قابو کرنے اور درست طور استعمال کرنے کا نام ہے۔یہاں ایک انسان اپنے جذبات ، احساسات، شہوات، رغبات ، رحجانات ،اپنی شخصی کمزرویاں اور اپنی اچھائیاں جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جتنا جانتا چلا جاتا ہے اتنا ہی معرفت حاصل کرتا جاتا ہے۔

روحانیت کا ایک پہلو تو اوپر بیان کیا کہ اپنی باطنی شخصیت سے تعلق پیدا  اور انفس میں مراقبہ کرنا ہے۔ اس کا  دوسرا بنیادی مقصد آفاق یعنی خارج کی معرفت ہے۔ یعنی روحانیت کا دوسر ا مقصد خدا  اور کائنات کی معرفت ہے۔یہ معرفت مختلف مذاہب میں مختلف انداز میں  پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ہم اسلام میں دیکھیں تو خدا سےاس تعلق کو سب سے پہلے اس پر ایمان و یقین کے ذریعے پیدا کیا گیا ہے ۔ یعنی خدا کو مانے بنا  اسلام میں کوئی داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس کے بعد خدا  اور بندوں کے درمیان ایک دوسرے اہم تعلق یعنی  فرشتوں   پر ایمان کے ذریعے اس کمیونکیشن چین جو جوڑا گیا جو خدا اور بندے کے درمیان مسنگ تھی۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ انسان براہ راست خدا سے وحی لے ، اکثر پیغمبروں سے فرشتوں کے ذریعے ہی خدا نے رابطہ کیا ہے۔ خدا ور فرشتے غیب میں ہیں یعنی ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے۔اسے ہم عالم بالا کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد پیغمبروں  اور کتابوں   پر ایمان لانے کو کہا گیا۔ ان پیغمبروں یا کتابوں کا چونکہ مادی وجود ہے اس لیے ہم انہیں عالم زیریں کہہ سکتے ہیں۔اور اس عالم کا رابطہ عالم لاہوت سے ہوتا ہے۔

روحانیت کا تیسرا اور آخر پہلو شخصیت کی تعمیر ہے۔ جب انسان نے اپنے باطنی وجود کو جان لیا، اس نے خدا کی مطلوبہ معرفت بھی حاصل کرلی  اور زندگی کا مقصد واضح کرلیا تو اب ایک ایسی شخصیت کو تعمیر کرنا ہے جو ان کثافتوں سے پاک ہو جو اسے  رب کی بارگاہ میں نامقبول بنادیں۔چنانچہ اس کے لیے عبادات و اخلاقیات  کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جس مِیں علم و عمل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ عبادات میں  نماز، روزہ ، زکوٰۃ و حج کے ذریعے  شخصیت کو خدا کی جانب جوڑا جاتا ہے تو دوسری جانب اخلاقیات کے  مخلوق سے اچھے تعلق کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہاں ہم دیکھیں تو صرف ظاہری وجود ہی اللہ سے تعلق میں شامل نہیں بلکہ باطنی وجود نہ صرف شامل ہے بلکہ اصل تحریک بھی وہیں سے اٹھتی ہے۔

تو اگر ہم روحانیت کی تعریف کریں تو یوں بنتی ہے :

روحانیت سے مراد اپنی ظاہری اور باطنی اصل شخصیت کو جاننا، اپنے خالق کی معرفت حاصل کرنا اور اس علم کی بنیاد پر شخصیت   کا تزکیہ کرنا ہے۔

روحانیت = ذاتی معرفت+خارجی معرفت+تعمیر شخصیت

۲۔ کیا روحانیت کے حصول کے لیے تصوف اختیار کرنا لازمی ہے؟

جواب : روحانیت کو  اختیار کرنے کے جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ تین اہم پہلو ہیں۔ ایک پہلو اپنی ذات کی معرفت اور اس کا کنٹرول حاصل  کرنے کا عمل ہے۔ اس  باطنی وجود سے رابطے کا تعلق ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اس  میں  کسی مذہب کی کی مدد بھی لی جاسکتی ہے اور اس کے بغیر بھی یہ رابطہ کیا جاسکتا ہے۔  اس رابطے کا ایک پہلا طریقہ غور و فکر ہے۔ یہ غورو فکر اورتعقل کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔اس میں نفسانی علوم آجاتے ہیں جیسے علوم نفسیات  وغیرہ۔یہ طریقہ عام انسان استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی اپنی محدودیت ہے۔ اس   کا دوسرا طریقہ وحی سے مدد لینا ہے  کہ وحی نے کس طرح انسان کے داخلی وجود کو بیان کیا ہے۔ یہ بہت مستند ذریعہ ہے لیکن  وحی میں بالعموم جنرل باتیں ڈسکس ہوتی ہیں ۔ یہ کسی فرد کی داخلی شخصیت کے متعلق متعین طور پر نہیں بیان کرسکتی کہ اس کی داخلی شخصیت کا یہ پہلو ہے۔ اس کاایک اور طریقہ وجدان اور نفسانی معاملات  کے ذریعے اپنی  اندر ونی شخصیت کو جاننا ہے۔ مراقبے کے ذریعے ایک فرد  عمومی نہیں بلکہ خصوصی باتیں بھی جان سکتا ہے کہ اس کی باطنی شخصیت اصل میں ہے کیا۔ لیکن اس طریقہ کی محدودیت یہ ہے کہ ایک تو ہر انسان کے وجدان کی پرواز مختلف ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ اس  طریقہ کا ر میں زیادہ تر باتیں خواب اور تمثیل کی صورت میں ہوتی ہیں۔ انہیں سمجھنے کے لیے کسی نہ کسی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

روحانیت کا دوسرا پہلو خدا اور بندے کے روحانی تعلق کو بیان کرتا ہے۔ یہ پہلو ہر صورت میں مذہب کا محتاج ہے۔ ہر مذہب خدا کی کوئی نہ کوئی معرفت بیا ن کرتا ہے ۔ اس معرفت کے صحیح ہونے میں دو چیزیں اہم ہیں۔ایک تو وہ مذہب جو یہ تعلیمات بیان کررہا ہے ۔ اگر مذہب کی تعلیمات مستند نہیں تو حاصل  ہونے والی معرفت بھی ناقص ہوگی۔ دوسرا پہلو اس مذہب کی تعلیمات کو سمجھنا ہے۔ اگر کسی نے یہ تعلیمات غلط سمجھیں تو معرفت کا حصول بھی غلط ہوگا۔

روحانیت کا تیسرا پہلو ذاتی معرفت اور خدائی معرفت سے حاصل ہونے والے علم کو استعمال کرنا اور اسے عمل کی شکل میں ڈھالنا ہے۔ چونکہ اس عمل کا اظہار ہمار شخصیت ہی سے ہوتا ہے ، اسی لیے اسے تعمیر شخصیت کہا جاتاہے۔ یعنی ایک ایسی شخصیت جو ظاہر و باطن کو جانتی ہو، خدا کی معرفت رکھتی ہو اور اس کے مطابق درست عمل کرکے اپنی شخصیت کو اس سانچے میں ڈھال لیتی ہو جو خدا کو مطلوب ہے۔ تعمیر شخصیت کے بعض پہلو چونکہ مادی دنیا سے متعلق ہیں اس لیے ان پہلووں کے لیے مذہب کی ضرورت نہیں۔ لیکن  اگر اس شخصیت نے عالم ناسوت سے عالم لاہوت کی جانب سفر کرنا ہے تو اب لازم ہے کہ و ہ مذہب اور وحی کا سہارا لے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا تصوف  روحانیت کے حصول کے لیے تصوف اختیار کرنا لازمی ہے یا نہیں۔ اس کا جواب دینے سے قبل ہمیں تصوف کے تین اہم پہلووں کو سمجھنا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ کہ تصوف صرف اسلام کا خاصہ نہیں بلکہ یہ دیگر مذاہب میں بھی  موجود رہا ہے۔ تصوف  روحانیت کے حصول کے لیے  ایک جامع پیکج دیتا اور روحانیت کے ان تینوں پہلووں کو ایڈریس کرتا ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ اس کی تمام تعلیمات درست ہوں۔ اس کا پہلا کام انسان کی معرفت کا حصول ہے۔ یہ انسان کے باطن کے بارے میں علم دیتا ہے کہ وہ کن کن احساسات ، رغبات، شہوات، میلانات وغیرہ کا مرقع ہے۔ یہاں تصوف وہی کام کرتا ہے جو کسی حد علم نفسیات کرتا ہے۔ تصوف میں ایک استاد جسے مرشد کہتے ہیں وہ  انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی تعلیم دیتا ہے۔

اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ خدا کی معرفت کی کچھ تھیوریز دیتا ہے۔ یہاں تصوف مذہب کو بائی پاس کرکے اپنی تھیولاجی پیش کرتا ہے۔ عام طو ر پر تصوف خدا اور کائنات کی جو توجیہات پیش کرتا ہے ان میں تین سر فہرست ہیں ۔ ایک نظریہ وحدت الوجود ہے، دوسرا وحدت الشہود اور تیسرا حلول کا نظریہ ہے۔ وحدت الوجود کا کلمہ لاموجود الااللہ یعنی اللہ کے سوا کوئی موجود نہیں۔ وحدت الوجود کا مقصد فنافی اللہ ہے۔ وحدت الشہود میں کائنات کی تشریح خدا کے سائے طور پر کی جاتی  ہے۔ جبکہ حلول میں خدا انسانوں کی شکل میں زمین پر اوتار یا کسی اور صورت میں آجاتا ہے۔ یہ تینوں نظریات خلاف عقل  بھی ہیں اور اسلام کی تعلیمات کے خلاف بھی۔ نیز مذہب کی وضاحت کے بعد ان تشریحات کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی۔مذہب واضح طور پر خدا اور بندے کا تعلق بیان کرتا اور اس کا مقصد واضح کردیتا ہے۔

تصوف کا تیسر اکام اپنے مندرجہ بالا نظریات کی روشنی میں تعمیر شخصیت کرنا ہے۔ اس کے لیے مراقبے ، چلے، ضربیں، نفس کشی، وظائف، عملیات، تصور شیخ، رہبانیت  وغیرہ کی مشقیں کروائی جاتی ہیں۔ ان کی حیثیت ویسی ہی ہے جیسے آج کے دور میں لوگوں کو تربیت دینے کے لیے انٹرنیٹ، پاورپوائینٹ، وڈیو ،آڈیو کا استعمال کروایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ آیا تصوف  کے تعمیر شخصیت پیکج میں  جو مشقیں ہیں وہ جائز ہیں یا ناجائز۔ اس میں کچھ مشقیں تو اپنی اصل صورت  ہی میں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں  تو ان کے جواز کا تو کوئی امکان ہی نہیں۔ جیسے رہبانیت، تصور شیخ وغیرہ۔ اس کے علاوہ باقی مشقوں کو اگر دین کا حصہ نہ سمجھا جائے اور ان میں کوئی اخلاقی یا شرعی قباحت نہ ہو تو ان کے استعمال میں کوئی حر ج نہیں۔

تو خلاصہ یہ ہے کہ تصوف  کا پہلا پہلو نفس کی معرفت ہے جس میں عمومی طور پر بات درست ہے۔ دوسرا پہلو خدا کی معرفت ہے جو عمومی طور پر غلط ہے۔ تیسرا پہلو تعمیر شخصیت ہے جس میں معاملہ بین بین   ہے۔

۳۔ کیا قرآن روحانیت کا کوئی تصور دیتا ہے؟ اگر ہاں تو کیا دیتا ہے؟

جواب: قرآن کا اصل موضوع ہی  تزکیہ نفس یعنی ایسی شخصیت پیدا کرنا جو جنت کی شہریت کی حامل ہوسکے۔ قرآن کا مرکزی خیال انسان ہی  نہیں بلکہ انسان کی فلاح  بھی ہے۔ یہ فلاح دنیا و آخرت دونوں کے لیے ہے۔ چنانچہ اگر ہم روحانیت کے تین پہلووں کو دیکھیں تو قرآن حیرت انگیز طور پر ان تینوں پہلووں کو ایڈریس کرتا اور ایک واضح پلان پیش کرتا ہے۔

سب سے پہلا پہلو اپنے نفس کو جاننا ہے یعنی انسان کو جاننا۔ قرآن آدم وابلیس، ابراہیم و نمرود، لوط و قوم لوط، موسی  و فرعون، یوسف و برادران یوسف، ، ، طالوت و جالوت  ،محمد و بولہب ، یہود ومومومنین اور صحابہ و کفار کی کیس اسٹڈی کے ذریعے جگہ جگہ یہ بتاتا ہے کہ اچھے اور برے انسان کی کیا کیا خصوصیات ہوتی ہیں، کون سی خصلتیں خدا کوپسند ہیں اور کون لوگ اسے ناپسند ہیں۔ کس طرح تعصب  حق کو ماننے سے روکتا، کیسے حسد  عداوت پر مجبو ر کرتا، کس طرح مذہبی پیشوائیت مادی مفادات کا تحفظ کرتی  اورکس طرح انا پرستی انسان کی ناک رگڑنے کا باعث بنتی ہے۔دوسری جانب  حق پرستوں کی کیس اسٹڈی بیان کی گئی ہے کہ کس طرح  لوگ اپنی شخصیت کی کمزوریوں پر قابو پاکر قربانیاں دیتے اور دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتے ہیں۔

قرآن روحانیت کا دوسرا پہلو بھی بہت خوبصورتی سے ڈسکس کرتا اور خدا و بندے کے درمیان تعلق کو علمی اور فلسفیانہ سطح پر واضح کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ خدا تنہا ہے ، اکیلا ہے، نہ و کیس کا باپ ہے نہ بیٹا۔ وہ بادشاہ ہے، وہ رحمان و رحیم ہے، وہ رب ہے ، علم وحکمت کا مالک ہے، وہی پیدا کرتا اور مارتا ہے، وہی طاقت کا منبع ہے۔ خدا کی صفات کی صورت میں وہ خوبصورت تعارف قرآن پیش کردیتا ہے کہ اس کے بعد صرف اس کو سمجھا  تو جاسکتا ہے ، کوئی اضافہ نہیں  کیا جاسکتا۔

قرآن روحانیت کا تیسرا پہلو یعنی تعمیر شخصیت بھی موضوع بحث بناتا ہے۔ چنانچہ عبادات کی شکل میں نماز ، روزہ حج زکوٰۃ پیش کرتا ۔ معاشرت کے لیے نکاح   کو پسند کرتا اور اس کی بنیاد پر وجود میں آنے والے رشتوں کوتقدس عطا کردیتا ہے۔ معیشت کی بنیاد ظلم وعدوان سے پاک کرنے کی ہدایت کرتا، اخلاقیات میں  اصل الاصول خیر خواہی کو قراردیتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ قرآن روحانیت کے تینوں پہلووں پر جامع لیکن اصولی ہدایات دیتا ہے۔جس کی روشنی میں کوئی بھی فرد اپنے لیے لائحہ عمل طے کرسکتا ہے۔

۴۔ کیا روحانیت کا شخصیت کے ارتقا سے کوئی تعلق ہے؟

جواب: جیسا کہ اوپر بیان کیا کہ روحانیت ک ے تینوں پہلوو ں کا اصل مقصد  شخصیت کا ارتقا ہی ہے۔ ابتدا کی دو معرفتیں یعنی معرفت نفس اور معرفت رب علمی بنیادوں کا تزکیہ کرتیں اور تعمیر شخصیت کے ٹولز عملی بنیادوں کی اصلاح کرتی ہیں۔ یہ علم و عمل جب مل جاتے ہیں تو ایک ربانی یا روحانی شخصیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ شخصیت ایک جانب دنیا میں کامیاب ہوتی اور بندوں سے معاملات میں ان کے حقو ق پوری کررہی ہوتی ہے۔یہ دنیاوی معاملات میں مشکل پیش آنے پر واویلا مچانے کی بجائے صبر کرتی، کسی پریشانی پر ہول کھانے کی بجائے توکل کرتی، بیماری میں تحمل کا مظاہر کرتی ہے۔ دوسری جانب یہ شخصیت لوگوں کے لیے سراپا رحمت بن جاتی اور نہ صرف اپنی ذات سے دوسروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتی بلکہ آگے بڑھ کر انہیں مشکللات سے نکالنے کی حتی المقدور کوشش کرتی ہے۔

دوسری جانب یہ شخصیت خدا کی معرفت سے لبریز ہوتی ہے۔ یہ خدا کے لیے جان و مال لٹانے پر تیار ہوتی ہے۔اس کے بعد اس کا سونا جاگنا چلنا پھرنا سب عبادت بن جاتا ہے۔

اس قسم کی شخصیت کی پہلی مثال پیغمبر ہیں۔ یہ پیغمبر بہت برگزیدہ ہونے کے باوجود انسان تھے اور یہی ان کا کمال ہے۔ انہیں بھی بھوک پیاس لگتی تھی، انہیں بھی پتھر لگنے پر تکلیف محسوس ہوتی تھی، انہیں بھی لوگوں کے طنزیہ جملے تکلیف دیتے تھے، انہیں بھی معاش کے مسائل درپیش تھے، انہیں بھی اپنے خاندان والوں کی مخالفت کا سامناتھا، انہیں  بھی قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ ان سب کے باوجود ان کا اس اعلی اوصاف کا مظاہر ہ کرنا ہی اصل کمال تھا۔ کیونکہ یہ اپنی معرفت بھی رکھتے تھے اور خدا کی بھی ۔ساتھ ہی اس علم کو اپنے عمل میں ڈھالنے کا فن بھی جانتے تھے۔ یہی وہ روحانی شخصیات ہیں جن کے اسوہ کی پابندی کا ہمیں کہا گیا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ انہیں انسان ہی ماننے کو تیار نہیں۔ایک گروہ تو انہیں نور قرار دے کر ان کی تمام قربانیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے۔ دوسری جانب جو لوگ انبیا کو نور نہیں انسان مانتے ہیں وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمہ وقت خدا کے فرشتوں کے جلو میں رہتے  اور ان کو کوئ تکلیف دامن گیر نہ ہوتی تھی۔ نہیں ایسا نہیں۔ انہیں ہم سے زیادہ تکالیف ملیں لیکن پھر  بھی انہوں نے خدا کی پسندیدہ شخصیت بننے کا بیڑا اٹھایا اور خدا کے لیے تن من دھن قربان کیا۔ یہی ہمارا کام ہے کہ ان کی سنت پر عمل کریں۔

۵۔ کیا روحانیت اور توہمات میں فرق ہے، اگر ہے تو کیا؟

روحانیت کی بنیادیں فطرت، وحی، عقل  اور دیگر محکم علوم کی مضبوط بنیادوں پر ہیں۔،جبکہ توہمات اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان کے پاس علم کی کمی ہوتی ہے۔ جو لوگ روحانیت کے نام پر توہمات کے قائل ہوتے ہیں وہ مطلوبہ نتائج پیش کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں ۔ یہی توہمات اور روحانیت کے درمیان حد فاصل ہے۔

۶۔ کیا مراقبہ کرنے کو اگر اسلامی نہ سمجھا جائے تو یہ جائز ہے؟

جیسا کہ اوپر ڈسکس کیا کہ  مراقبہ اپنی شخصیت میں جھانکنے اور اسے مضبوط بنانے کا ایک ٹول ہے۔ جس طرح انٹرنیٹ کے ذریعے دین کی دعوت دینا بدعت نہیں ایسے ہیں مراقبہ اپنی ذات میں بدعت نہیں۔

۷۔ کیا مراقبے میں میوزک سننا جائز ہے؟

میوزک سننا اپنی ذات میں حرام نہیں بلکہ میوزک کا غیر شرعی استعمال حرام ہے۔ اس لیے اگر میوزک جائز حدود میں ہے تو یہ مراقبے میں سننا جائز ہے۔


عمل صالح کا محدود تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔ 
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم 
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ 
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔ 
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔ 
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل


نیکی کا درست تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

نیکی کا درست تصور

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی ہے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو نیکی کے تصور کو جاننے اور درست طور پر جاننے میں بہت اہم ہیں۔ اگر ہم قرآن کا جائزہ لیں تو قرآن سب سے پہلے جو بات ہمیں بتاتا ہے وہ یہ کہ اللہ نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ گویا عبادت ہی نیکی ہے اور عبادت سے گریز کرنا گناہ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کون سا عمل نیکی ہے؟ اس کےجواب میں بالعمو م روایتی حلقے ایک فہرست مرتب کردیتے ہیں جس میں اعمال صالح اور گناہوں کو بیان کردیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کے بارے میں ایک اندازہ وہوجاتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہ فہرست کارآمد نہیں رہتی۔ نیز اس فہرست کا دائرہ کار چند مخصوص معاملات تک محدود ہوجاتا ہے۔ اس اپروچ کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ عبادت، گناہ اور نیکی کو متعین کرنے کے لیے کسی مذہبی عالم کی تشریح کا محتاج رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے مذہبی طبقے پر تصوف کا بڑا گہرا اثر ہے اس لیے دنیا سے متعلق اچھے اعمال کو عام طور پر وہ نیکیوں میں شمار نہیں کرپاتے کیوں ان کی دانست میں اس سے دنیا پرستی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نیکی کی ایک جامع تعریف قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کی جائے اور اسی تناظر میں نیک اعمال اور گناہوں کا تعین کرنے کے عمل کو سیکھا جائے ۔ نیکی کی تعریف اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تو کچھ یوں بنتی ہے:
نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔
اس کی تشریح کی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلی بات کہ نیکی سے مراد کوئی بھی عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف دینی امور سے متعلق ہو، یہ دنیا کا بھی کوئی معاملہ ہوسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آگے بیان کردہ شرائط پوری ہورہی ہوں۔جیسا کہ اس آیت کو دیکھیں:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ١٧٧؁
نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو ۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (البقرہ ۱۷۷:۲)
ان آیات کو غور سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔
۲۔کسی عمل کے عمل صالح ہونے کے لیے پہلی شرط خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی قید کا خیال رکھنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا نے حلا ل و حرام کی قیود صرف وحی کے ذریعے ہی نہیں بتائی بلکہ انسان کی فطرت کے اندر بھی جائز و ناجائز کو طے کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھ دی ہے۔ بالخصوص اخلاقیات کے اکر معاملات میں اصل فتوی دل کا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا Ċ۝۽ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا Ď۝۽
اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے۔ پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔(سورہ الشمس ۹۱، آیات ۷-۸)
تو اصل بات یہ ہے کہ کسی عمل کے نیکی ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ وہ خدا کی بیان کردہ حدودو قیود کے اندر ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن وہ ناپاکی کی حالت میں ہے تو اس نے خدا کی حلال و حرام کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ بلاعذر ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ تصور ہوگا۔ ایسے ہی ایک شخص حج اگر حرام کی کمائی سے کررہا ہے تو یہ عمل بظاہر عبادت ہونے کے باوجود حقیقت میں نیکی نہیں۔اسی طرح ایک شخص اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے لیکن وہ اس چوری کے پیسوں سے یہ کام کررہا ہے ۔بچوں کا پیٹ پالنا ایک نیک کام ہے لیکن اس کو پورا کرتے وقت خد کے بیان کردہ حدود کی پاسداری نہیں کی گئی، اس لیے یہ نیکی نہیں۔
۳۔ کسی عمل کے نیکی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نیت کے اخلاص کا ہونا ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر یا لاشعور میں کہیں موجود ہونا چاہیے۔
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹ : ۲)
’’بے شک ، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف مطابق حق اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اطاعت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے۔ سن لو کہ خالص اطاعت کا سزاوار اللہ ہی ہے۔‘‘
مثلا ایک شخص روزہ رکھ رہا ہے لیکن اس کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہے تو یہاں اخلاص کی کمی ہے جس کی بنا پر اس کا روزہ عبادت یا نیکی نہیں۔ ایک شخص میدا ن جنگ میں جہاد کررہا ہے لیکن مقصد مال غنیمت ہے تو یہ نیکی نہیں۔لیکن ایک شخص اخلاص کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی سے کسی کو ایذا پہنچائے بنا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ عبادت یا نیکی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات نیت کا اظہار باقاعدہ زبان سے نہیں کیا جاتا اور یہ لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ جیسے ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس کچھ کہے بنا نیت باندھ لی۔ یہاں اس کا عمل یہ بتارہا ہے کہ وہ شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے نیت باندھی ہے۔
دینی معاملات میں تو بالعموم اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمل اللہ کے لیے کیا جارہا ہے لیکن دنیوی معاملات میں عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی نیت کا اظہار اکثر اوقات نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص روزانہ کمانے کو گھر سے نکلتا ہے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل میں اللہ کو راضی کرنے کی نیت موجود نہیں۔ اسی بنا پر کچھ لوگ کمانے کو عمل کو دنیا داری کہہ کر اسے نیکی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ شخص روزی کماتے وقت اللہ کی حدود و قیود کا خیال رکھ رہا ہے ۔ چنانچہ جس طرح نماز پڑھتے وقت لازم نہیں کہ زبان سے نیت کی جائے اسی طرح دنیاوی نیکیوں میں بھی ممکن نہیں کہ شعوری سطح پر ہر مرتبہ بیان کی جاری کیا جائے۔ بس ایک عمومی ارادہ کافی ہوتا ہے۔
۴۔ عمل صالح ہونے کی تیسر ی شرط اس عمل کو محنت یا مہارت سے یا خوش اسلوبی سے انجام دینا ہے۔
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ
اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے(النجم ۳۹:۵۳)
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کے لیے نیکی اتنا ہی عمل ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے لیے نیکی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس میں اس کی بالواسطہ کوشش شامل ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی عمل کیا جائے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے۔ اس کامطلب ہے کہ اس عمل میں جتنی بے دلی شامل ہوگی اتنا ہی وہ عبادت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی و ہ کام جو مارے باندھے کیے جاِئیں وہ نیکی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع و سجود درست طور پر ادا نہیں ہورہے تھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دوبارہ پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اسی طرح قرآن میں منافقین کی نماز کا ذکر ہے کہ وہ مارے باندھے مسجد میں آتے ہیں ۔
دنیاوی معاملات میں بھی محنت اور خوش اسلوبی ضروری ہے۔ ایک شخص جب ملازمت کرتا ہے تو کام چوری کرنا یا اپنی ذات کو آرام دینے کے لیے چور راستے تلاش کرنا نیکی کو گناہ میں بدل سکتا ہے۔
۵۔ آخری شرط یہ ہے کہ عمل کا مقصد کسی نہ کسی مخلوق کو براہ راست یا بالواسطہ نفع پہنچانا ہو۔ یہ نفع دنیا کا بھی ہوسکتا ہے اور دین کا بھی۔دین کے نفع کو نیکی ماننا تو ایک مسلمہ ہے لیکن دنیوی کاموں کو بھی متعدد احادیث میں صدقہ اور نیکی قرار دیا گیا ہے۔
۱۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بے ہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہو گی۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 251)
۲۔ اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔(مسلم)
۳۔ جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسلم)
۴۔ تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔(مسلم)
۵۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(مسلم)
۶۔ کتے یا کسی جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
۷۔ رشتے داری کا لحاظ رکھنا، گناہوں سے بچنا، مصیبت برداشت کرنا، اچھے اخلاق اپنا، قرض دار کو مہلت دینا سب اعمال نیکی ہیں۔(بخاری)
ا ن تمام روایات کو جمع کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ صدقہ یا نیکی سے مراد ہر و ہ عمل ہے جس میں خود کو یا کسی دوسری مخلوق کو نفع پہنچایا جارہا ہو۔ اس اصول کے تحت مثال کے طور پر ایک قاری اگر بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے تو چونکہ وہ انہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچا رہا ہے تو اس کا عمل نیکی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر بچوں کو کیمسٹری پڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد دنیوی فائدہ پہنچانا ہے تو یہ بھی ویسے ہی نیکی ہے جیسے قرآن پڑھانا۔
بعض اوقات انسان کوئی عمل کسی دوسری مخلوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کررہا ہوتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا خود کو دینی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے،اسی طرح رزق کمانا، پڑھائی کرنا یا معلومات میں اضافہ کرنا خود کو دنیوی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے اس لیے یہ بھی نیکی ہے۔
خلاصہ
اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی کا دائرہ کار صرف دینی عبادات، مذہبی رسومات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ ہر اچھا عمل نیکی ہے بشرطیکہ اسے ان حدود قیود میں کیا جائے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


بیماری نامہ ۔۔ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

از پروفیسر محمد عقیل

تحریرپڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tYkduRHUzTzFJdHc


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 23, 2015

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
“جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
“وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب “حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی


لبیک۔ ۔۔۔۔۔۔۔حاضر ہوں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Sep 18, 2015

حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
میں حاضر ہوں اس اعتراف کے ساتھ کہ تعریف کے قابل توہی ہے۔ تو تنہا اور یکتا ہے، تجھ سا کوئی نہیں ۔ تیرا کرم، تیری شفقت، تیری عطا ، تیری کرم نوازی اور تیری عنایتوں کی کوئی انتہا نہیں۔ تیری عظمت ناقابل بیان ہے، تیری شان لامتناہی طور پر بلند ہے، تیری قدرت ہر امر پر حاوی ہے، تیرا علم ہر حاضر و غائب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔تجھ سا کوئی نہیں اور کوئی تیری طرح تعریف کے لائق نہیں ۔
میں حاضر ہوں تیرے احسان کے بوجھ کے ساتھ کہ یہ ساری نعمتیں تیری ہی عطا کردہ اور عنایت ہیں۔ میری آنکھوں کی بینائی تیری دین، میرے کانوں کی سماعت تیری عطا، میرے سانسوں کے زیر و بم تیرا کرم، میرے دل کی دھڑکن تیری بخشش، میرے خون کی گردش تیری سخاوت، میرے دہن کا کلام تیرا لطف، میرے قدموں کی جنبش تیراا حسان ہے۔کوئی ان کو بنانے میں تیرا ساجھی، تیرا معاون اور شریک نہیں۔
میں حا ضر ہوں اس عجزکے ساتھ کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ تیری ملکیت ہے، یہ زمین تیری ، آسمان تیرا، سورج ، چاندستارے تیرے، پہاڑ تیرے ، میدان تیرے ، دریا و سمندر تیرے ہیں۔یہ میرا گھر، میرا مال، میری دولت، میرا جسم، میرے اہل و عیال میرے نہیں تیرے ہیں۔ کوئی ان کو بنانے اور عطا کرنےمیں تیر ا شریک نہیں حتیٰ کہ میں بھی نہیں ۔ پس تیرا اختیارہے توجس طرح ہے اپنی ملکیت پرتصرف کرے ۔
میں حاضر ہوں اپنے تمام گناہوں کے بار کےساتھ کہ تو انہیں بخش دے، اپنی تمام خطاؤں کے ساتھ کہ تو انہیں معاف کردے، اپنے تمام بدنما داغوں کے ساتھ کہ تو انہیں دھودے، اپنی تمام ظاہری و باطنی بیماریوں کے ساتھ کہ تو انہیں دور کردے،اپنے من کے کھوٹ کے ساتھ کہ تو اسے دھو دے، اپنی نگاہوں کی گستاخیوں کے ساتھ کہ تو ان سے چشم پوشی کرلے، اپنی کانوں کی گناہ گار سماعت کے ساتھ کہ تو اس کا اثر ختم کردے، اپنے ہاتھوں کی ناجائز جنبش کے ساتھ کہ تو ان سے درگذر کرلے، اپنے قدموں کی گناہ گار چال کے ساتھ کہ تو انہیں اپنی راہ پر ڈال دےاوربدکلامی کرنے والی زبان کے ساتھ کہ تو اس کو اپنی باتوں کے لئے خاص کرلے۔
میں حاضر ہوں شیطان سے لڑنے کے لئے، نفس کےناجائز تقاضوں سے نبٹنے کے لئے، خود کوتیرے سپرد کرنے کے لئے اور اپنا وجود قربان کرنے کے لئے۔پس اے پاک پروردگار! میرا جینا، میرا مرنا، میری نماز، میری قربانی، میرا دماغ ، میرا دل، میرا گوشت، میرا لہو، میرے عضلات اورمیری ہڈیاں غرض میرا پورا وجود اپنے لئے خاص کرلے۔
حاضر ہوں ، اے میرے رب میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔بے شک تو ہی تعریف کے لائق ہے اور نعمت تیری ہی ہے، بادشاہی تیری ہی ہے،تیرا کوئی شریک نہیں۔
از پروفیسر محمد عقیل


کاپیاں اور اعمال نامے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

کاپیاں اور اعمال نامے

پروفیسر محمد عقیل
میں نے اپنے اٹھارہ سالہ کیرئیر میں بے شمار کاپیاں چیک کی ہیں۔ کچھ کاپیاں انٹرنل امتحانات کی ہوتی ہیں اور کچھ بورڈ ایگزامز کی۔ بورڈ یا یونی ورسٹی کی کاپیوں کے چیک کرنے والے کو علم نہیں ہوتا کہ طالب علم کون ہے۔ اسی لیے بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں لکھی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک کاپی میں ایک لڑکی نے لکھا ” میری منگنی ہوگئی جس کی خوشی میں سب کچھ بھول گئی، پلیز پاس کردیں”۔ کسی میں لکھا تھا ” میرے بچے کی ساری رات طبیعت خراب رہی اس لیے پڑھ نہیں پائی تو پاس کردیں۔” اس کے علاوہ غربت و افلاس کی بنا پر پاس کرنے کی اپیلیں تو بہت کامن ہیں۔غرض کئی قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ دراصل یہ کاپیاں انسانی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں کہ امتحان دینے والا کس مزاج کا حامل ہے۔ اسی شخصیت کی کارکردگی کا اعلان رزلٹ کار ڈ کے ذریعے کردیا جاتا ہے کہ امتحان دینے والا پاس ہے یا فیل ۔ رزلٹ کارڈ کی طرح ایک دن آخرت میں ہمیں اعمال نامہ دیا جائے گا جس میں ہماری شخصیت کا تعین کردیا جائے گا کہ ہم اچھے انسان تھے یا برے، سنجیدہ تھے یا لابالی، خدا پرست تھے یا مفاد پرست۔ اسی لحاظ سے ہمارا انجام
متعین ہوجائے گا کہ ہم پاس ہیں یا فیل۔اسی تناظر میں ہم دیکھیں تو ہم ان کاپیوں سے بہت حد تک انسانی شخصیت کے بارے میں جان سکتے اور اس سے آخرت کے انجام کو سمجھ سکتے ہیں۔

بری کاپیاں
کچھ کاپیوں میں طلبا فلمی گانے ،اشعار، لطیفے، لایعنی کہانیاں اور دیگر خرافات لکھ دیتے ہیں۔ اس قسم کی کاپیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ لکھنےوالا پورے امتحانی نظام کا مذاق اڑارہا، چیک کرنے والے کو منہ چڑا رہا اور بدتمیزی کرکے یہ کہہ رہا ہے ” کرلو جو کرنا ہے۔” قیامت میں بھی کچھ لوگ اپنے نامہ اعمال میں اس قسم کے اعمال لائیں گے جب انھوں نے خدا کو گالی دی تھی، اس کا انکار کیا تھا، اس کی باتوں کا مذاق اڑایا تھا، اس کے پیغمبروں کی توہین کی تھی، اس کی جانب بلانے والوں کو دقیانوسی کہا تھا، اس کی کتابوں پر تبرا بھیجا تھا، اس کے امتحانی نظام کو چیلنج کیا تھا اور بغاوت کا علم بلند کرکے کہا تھا کہ ” کرلو جو کرنا ہے”۔ ایسے لوگوں کا انجام سادہ نہیں۔ بلکہ یہ نظام کے باغی ہیں اور ان کی سزا عام مجرموں کی طرح نہیں بلکہ اسپیشل طرز کی ہوگی۔

کچھ کاپیاں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ اس قسم کے طلبا نے سرے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور پورا سال لاابالی پن میں گزارا۔ آخرت میں بھی کچھ لوگوں کے اعمال نامے میں اچھائیاں اور نیکیاں نہیں ہوں گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ساری زندگی لہو لعب ، کھیل کود، غفلت اور دنیا میں لگادی اور آخرت کے حوالے سے کوئی کام بھی نہ کرپائے۔
کچھ لوگ ہیں جو امتحان میں محنت نہیں کرتے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے کاپی پر مختلف تعویذ اور وظائف لکھتے ہیں۔ ان کی مثا ل آخرت میں ان لوگو ں کی سی ہے جو توہمات کے سہارے اپنی زندگی گزارتے رہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان اور عمل صالح لازمی ہے اور نجات اسی پر موقوف ہے۔
کچھ طلبا رونے پیٹنے لگ جاتے اور بہانے بنانے لگ جاتے ہیں کہ ہماری طبیعت خراب تھی یا میں بہت غریب ہوں اس لیے پاس کردیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے بہانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص ایک دن قبل بیمار تھا تو کیا سارا سال بیمار تھا کہ ایک لفظ نہیں لکھ پایا۔ آخرت میں بھی اس قسم کے لوگ پیش ہوں گے جنھوں نے اس آس پر گناہ کیے ہوں گے کہ کوئی بہانہ کردیں گے۔ اول تو وہاں زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اگر کسی کا کوئی عذر ہوگا تو رب العٰلمین خود ہی اس کا لحاظ کرکے حساب کتاب کریں گے۔ لیکن وہاں جھوٹ بولنا، مگر مچھ کے آنسو بہانا، بہانے تراشنا ممکن نہ ہوگا۔

کچھ لوگ اس آس پر امتحان دیتے ہیں کہ پیسے دے کر پاس ہوجائیں گے ، یا کسی سیاسی تنظیم کی بنیاد پر کام کروالیں گے، یا ڈرا دھمکا کر کام نکال لیں گے یا کسی کی سفارش سے کام چلالیں گے۔ یہ سارے کام دنیا میں بھی اتنے آسان نہیں ہوتے۔ البتہ آخرت میں تو اس کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کون ہے جو خدا کو نعوذ باللہ دھمکا کر اپنا کام کروالے، وہ کو ن سی سیاسی تنظیم ہے جو اپنا اثرو رسوخ رب العٰلمین پر آزما سکے؟ وہ کو ن سا پیسا ہے جسے رشوت کے طور پر استعمال کیا جاسکے؟ وہ کون ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف سفارش کرکے نجات دلواسکے؟
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یعنی جواب دیتے ہوئے درمیان میں سوال ہی کاپی کردیتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کو یہ تاثر ہو کہ کاپی بھری ہوئی ہے۔ ممتحن کی نگاہ فورا ہی تاڑ لیتی ہے اور بھری ہوئی کاپی کو کاٹ کر وہ زیرو نمبر دے دیتا ہے۔آخرت میں خدا کو دھوکا دینا تو قطعا ممکن نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے اپنے نامہ اعمال میں الٹے سیدھے لایعنی اعمال بھر رکھے ہوں گے جنہیں وہ دین سمجھ کر کرتے رہے لیکن وہ سب خدا کے نزدیک ناقابل قبول تھے۔کوئی شخص دین داری کے نام پر لایعنی جلسے نکالتا رہا، وہ اسلام کے نام پر جھوٹی سیاست کرتا رہا، وہ جہاد کے نام پر فساد کرتا رہا، وہ دقیانوسی قبائلی کلچر کو اسلامی شعائرسمجھتا رہا، وہ ریا کار ی والے حج کو گناہوں کی مغفرت کا سبب سمجھتا رہا ۔لیکن جب وہ آخرت میں ان سب کو دیکھے گا تو علم ہوگا کہ یہ سارے اعمال اسے نجات دینے کی بجائے الٹے اس کے گلے پڑ گئے ہیں۔
امتحان دینے والے لوگوں کی ایک قسم ان لوگوں پر مبنی ہے جنھوں نے سوال ہی درست طو ر پر نہیں سمجھا۔ سوال کچھ تھا اور جواب کچھ اور۔ وہ سوال کا غلط جواب لکھتے رہے اور اسے ہی درست سمجھتے رہے۔ اس غلط جواب لکھنے کا ایک سبب تو غلط اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جوش و جذبات اور جلد بازی میں اتنے اندھے ہوگئے کہ سوال سمجھنے ہی کی زحمت نہ کی۔ آخرت میں بھی اس قسم کے کئی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے امتحانی سوال کو سمجھا ہی نہیں اور غلط جواب دے کر آگئے۔مثال کے طور پر مذہبی لیڈر شپ کا اصل امتحان یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ و تربیت کرتے لیکن وہ لوگوں میں تعصب پیدا کرنے کو دین داری سمجھتے رہے۔ ان کا کام تھا کہ لوگوں کے باطن کی اصلاح کرتے لیکن وہ ظاہری رسومات ہی کو دین کے طور پر پیش کرتے رہے۔
ایک اور قسم ان لوگوں کی ہے جو ایک سوال کا جواب اتنا طویل لکھ دیتے ہیں کہ سار ا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ دیگر سوال حل ہی نہیں کرپاتے۔ نتیجے کے طور پر وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ دین کے معاملے میں بھی یہ بہت کامن ہے۔ کچھ لوگ مثال کے طور پر عبادات میں ہی پوری زندگی بسر کردیتے ہیں ۔ فرض نمازوں کےساتھ ساتھ اشراق و چاشت پڑھتے، رمضان کے علاوہ نفلی روزے رکھتے اور فرضی حج کے علاوہ کئی حج بھی کرتے ہیں لیکن دین کے دیگر امور کو فراموش کردیتے ہیں۔یہ لوگ مثال کے طور پر اخلاقیا ت میں دوسرے سرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بدتمیزی کرتے، کاروبار میں دھوکا دیتے، بات چیت سے تکلیف پہنچاتے، بدگمانی و چغلی سے فساد برپا کرتے، انسانوں کا قتل کرنے والوں کی واہ واہ کرتے، تعصب کو دین سمجھتے اور ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکت کو اپنی عبادت گزاری کی آڑ میں جائز قرار دیتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اشراق اور چاشت کی نمازو ں نے تکبر میں مبتلا کردیا ۔یہ دین میں پوچھے گئے صرف ایک سوال ہی کا جواب دیتے رہے اور دوسرے سوالات کی تیاری ہی نہیں کی۔ نتیجہ “فیل “۔
کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے سوالات کا غلط انتخاب کرتے ہیں۔ انھیں دس میں سے پانچ سوال کرنے تھے لیکن انھوں نے وہ سوالات منتخب کیے جن میں وہ کمزور تھے یا جن کے جوابات مشکل تھے۔ دین میں بھی یہ کا م اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص کو ایک ساد ہ زندگی ملی تھی جس میں وہ باآسانی چند اعمال کرکے پاس ہوسکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی لالچ ، حرص اور طمع کے ذریعے ناجائز دولت کے انبار اکھٹے کرلیے ، جھوٹی شہرت کو زندگی کا مقصد بنالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوگیا، عبادات سے محروم ہوگیا ۔ تو اس نے ایسا سوال منتخب کرلیا جس کے جواب کا وہ مکلف ہی نہ تھا ۔

کچھ سوال اس طرح کے ہوتے ہیں جن کا جواب مخصوص ہیڈنگز میں ہی دینا ہوتا ہے جبکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب اپنی طرف سے دینا ہوتا ہے۔ دین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کچھ ایسے امور ہیں جس کا دین نے طریقہ مقرر کردیا ہے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ مخصوص ہے جیسے نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں دین نے مجمل چھوڑا ہے یعنی انسان آزاد ہے کہ ایک دائرے میں رہتے ہوئے ان پر عمل کرے جیسے انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق کتنا سوئے، کتنا کھائے ، کتنا پئیے وغیرہ۔ اب جو لوگ دین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں وہ متعین امور میں آزادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ نمازوں کو لایعنی سمجھ کر اذکار پر ہی اکتفا کرتے، روزوں کو فاقہ کشی سمجھ کر چھوڑنے کی کوشش کرتے، حج کو محض ایک رسم سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ظاہر پرست لوگ دین کی دی گئی رخصت میں بھی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ فجر کی نماز کے بعد سونے کو دین کے خلاف سمجھتے، کھانا پیٹ بھر کر کھانے کو تقوی کے منافی گردانتے اوردنیا کی جائز نعمتوں سے استفادے کو برائی جانتے ہیں۔اس روئیے سے دین کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نتیجہ بعض اوقات کٹر ظاہر پرستی یا ایک لابالی شخصیت کی شکل میں نکلتا ہے۔

اچھی کاپیاں
دوسری قسم کی کاپیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت اچھا لکھا ہوتا ہے، ہر صفحے پر سنجیدگی ، متانت، محنت اور دیانت ٹپک رہی ہوتی ہے۔ خوبصورت لکھائی دیکھ کر نفاست کا احساس ہوتا اورمتن پڑھ کر ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ہر سوال اچھی طرح سمجھا جاتا اور اس کا متوازن جواب دیا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نہ صرف امتحانی نظام کے تقاضوں کو سمجھا بلکہ اس پر ایمان لاکر اس کے مطابق تیاری کی، اس کے ہر سوال کو بغور پڑھا، اس کے جوابات پر نوٹس بنائے ، سمجھنے کے لیے کلاسز لیں، اساتذہ سے رجوع کیا، تعلیمی اداروں کی خاک چھانی، اپنا دن رات ایک کیا اور تن من دھن قربان کرکے یکسوئی اختیار کی۔ دین میں ایسے لوگوں کی مثال ان سلیم الفطرت لوگوں کی ہے جنھوں نے اپنی فطرت کے چراغ کی حفاظت کی، اسے ماحول کی آلودگی سے بچائے رکھا۔ اس کے علاوہ وحی کے علم سے اپنی شخصیت کو آراستہ کیا، خدا کے احکامات کو سمجھا ، جانا، مانا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے درست اساتذہ کا انتخاب کیا، ان سے اپنے مسائل ڈسکس کیے اور راہنمائی حاصل کرنے کے بعد منزل کی جانب چل پڑے۔
ایسے لوگوں کا آخرت میں انجام صدیقین، شہدا اورصالحین کی صورت میں ہوگا۔ ہر طرف سے ان پر سلامتی اور مبارکباد کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے، ان کے استقبال کے لیے فرشتے مستعد ہوں گے، انھیں خدا کی جانب سے کامیابی کی سند سے نوزا جائے گا اور ان کا آخری کلمہ یہی ہوگا۔
الحمدللہ رب العٰالمین۔

اسائن منٹ
• روز رات سونے سے پہلے اپنے پورے دن کا جائزہ لیجئے کہ آپ کے اعمال نامے کا شمار کن قسم کی کاپیوں میں شمار ہوتی ہے؟
• روز سوتے وقت خود کو بہتر کرنے کے لیے کم از کم ایک عادت کو چھوڑنے یا اپنانے کا ارادہ کر کے سوئیں۔


ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

ہم اللہ کو بھول گئے ہوتے

اسلامی عبادات میں نماز کی ایک منفرد اہمیت ہے۔ ایمانیات اور دیگر عبادات کی اہمیت بھی مسلّم مگر غور طلب بات یہ ہے کہ ایک عام مسلمان ا یک دن میں شعوری یا لاشعوری طور پر کتنی مرتبہ کلمہ پڑھتا ہے۔ یا یہ کہ فرشتوں کو، رسولوں کو یا آخر ت کو کتنی مرتبہ یاد کرتا ہے۔ اسی طرح عبادات کی مثال لے لیں۔

روزہ سال میں ایک مرتبہ ایک مہینہ کے لیے فرض ہے۔ زکوٰۃ صاحبِ نصاب پر فرض ہے ہر ایک مسلمان پر نہیں۔ حج کی فرضیت بھی صاحبِ استطاعت کے لیے ہے۔ یوں دین کا ایک بڑا حصہ ہماری روز مرّہ زندگی سے نکل جاتا ہے۔ اس طرح یہ تمام دینی فرائض عام مسلمان کے شعور کا با قاعدہ حصہ نہیں بن پاتے ما سوائے ان لوگوں کے جو ان باتوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔

اس کے بر عکس نماز ایک ایسی عبادت ہے جو ایک مسلمان کو اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہو نے دیتی۔ ایک دن میں پانچ مرتبہ اذان کی آواز، محلہ اور گلی کوچوں میں مسجد کا وجود، اور نماز کے مقررہ اوقات میں لوگوں کا مسجد کا رُخ کرنا ، ایسے مناظر ہیں جو اسلامی معاشرے میں اللہ کی موجودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ مناظر ایک عام بے نمازی کو بھی یہ یاد دلاتے ہیں کہ وہ بھی مسلمان ہے۔ اور یوں اللہ کے وجود کا احساس ہمارے اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق بن جاتی ہے۔ نماز سے تعلق کی بنیاد پر معاشرہ میں لوگوں کے کئی گروپ بن جاتے ہیں۔

اوّل تو وہ لوگ ہیں جن کے دل مسجد میں ا َٹکے ہوتے ہیں۔ اللہ کی یاد ایسے لوگوں کے رَگ و پَے میں دوڑتی ہے۔ بڑی سعادت ہے ایسے لوگوں کے لیے۔ یہ اُٹھتے بیٹھتے، جُھکے ہوئے اور کروٹوں کے بَل اللہ کو یاد رکھتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو فقط روٹین میں نماز ادا کرتے ہیں مگر اِن کا بھی ایک تعلق اللہ سے جُڑا ہوا تو ہوتا ہی ہے۔ پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو نماز تو نہیں ادا کرتے مگر اذان کی آواز ان کی سماعت کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیتی ہے۔

اگر نماز نہیں ہو تی تو شائد ہم اللہ کو بھول جاتےاور اُسے اپنے حافظہ سے محو کر دیتے، اور اگر اللہ اس کے بدلے میں ہمیں اپنے حا فظہ سے نکال دے تو؟
مصنف: شمیم مرتضی