پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

روزہ ، رمضان اور قرآن

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Jun 17, 2017

روزہ ، رمضان اور قرآن
ڈاکٹرمحمدعقیل
عام طور پر رمضان اور روزوں کے ذکر میں ہم مختلف لوگوں کی باتیں بیان کرتے ہیں کہ روزہ کا فلسفہ کیا ہے ؟ رمضان میں کیا کرنا چاہیے؟ تقوی کیا چیز ہے ؟ وغیرہ۔ ان تمام باتوں کی بنیاد اکثر اوقات قران و سنت ہی ہوتے ہیں۔ البتہ آج ہم یہ دیکھیں گے کہ قرآن نے جب روزوں اور رمضان کو بیان کیا تو اس کی پریزنٹیشن کی ترتیب اور فوکس کیا تھا پڑھنا جاری رکھیں »


رمضان کی تیاری

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Monday May 29, 2017

السلام علیکم
آپ سب کو رمضان مبارک۔ اللہ تعالی اس رمضان کو ہم سب کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں۔
رمضان میں ہم سب کو کچھ اہداف ضرور مقرر کرنے چاہئیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
۱۔ اپنا احتساب کرنا- اس کا مطلب ہے کہ ہم اب تک گذری ہوئی زندگی کا جائزہ لیں اور اپنی شخصیت کا SWOT تجزیہ کریں۔ یعنی اپنی شخصیت کی طاقتور اور کمزور پہلووں کو جانیں اور ساتھ ہی وہ مواقع اور خطرات بھی بیان کریں جو ہمیں دین پر چلنے میں پیش آسکتے ہیں۔ یہ کام لکھ کرکریں تو زیادہ بہتر ہے۔
۲۔ قرآن سے تعلق بڑھائیں۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور کم از کم ایک مرتبہ قرآن ترجمہ سے پڑھ لیں۔ اگر پڑھ نہ پائیں تو ترجمہ ہی سن لیں۔قرآن کا ترجمہ اس لنک پر اچھا دیا ہوا ہے۔

http://www.quranurdu.com/quran_ss/

۳۔ آئیندہ زندگی کے لیے لائحہ عمل تیار کریں کہ اب تک ہم سے جو کوتاہیاں ہوئیں ان کو کس طرح دور کرنا ہے۔
۴۔ کم از کم ویک اینڈ میں تہجد ضرور ادا کریں۔ اس میں رکعتوں کی تعداد پوری کرنے سے زیادہ صرف بیٹھ کر اللہ تعالی سے باتیں کریں، اس کی نعمتوں کا تصور کریں، اس کے جلال پر غور کریں۔ اس کی صفات پر غور کریں اور دنیاوی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اللہ کی خالص حمد و ثنا بھی کریں۔
۵۔ ہر ہفتے یہ جائزہ لیں کہ ہم نے ایک ہفتے میں کیا کھویا اور کیا پایا۔
اس ضمن میں اس لنک پر موجود ورک بک سے بھی مدد لی جاسکتی ہے:

https://aqilkhans.files.wordpress.com/…/ramazan-workbook.pdf


روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Jun 8, 2016

روزہ کا اصل مقصد اور ہمار ا طرز عمل

از ام مریم

اسلام میں عبادات کا مقصود

قرآن و سنت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی کا عبادات کے مقرر کرنے سے اصل مقصود انسان کو تزکیہ نفس کی تربیت دینا اور اسے اس کی تخلیق کے حقیقی مقصد کی یاد دہانی کروانا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے

”اور ہم نے پیدا کیا انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے” ّّْْ ْ (الزاریت)

اس آیت کی تفسیر میں عبد اللہ ابن عباس رضی  اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہاں عبادت سے مراد معرفت ہے کیونکہ تمام عبادات کا مفہوم  اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور جو عبادت انسان کو اللہ کے قریب لے جا کر اس کی پہچان نہیں  دلاتی  ، اس  کی موجودگی کا احساس انسان کے اندر پیدا نہیں کرتی وہ عبادت اپنے مقصود سے عاری ہونے کی بنا پر عبادت  کہلانے کی مستحق نہیں چنانچہ عبادت کی اصل روح اللہ کی معرفت  و رضا کا حصول ہے ۔اللہ کسی انسان کے نماز روزے کا محتاج نہیں ، ہاں وہ یہ ضرور چاہتا ہے کی اس کے بندے ، اس کے قرب ،معرفت اور اس کی رضا مندی کی چاہت و جستجو کریں ۔اللہ تعالی کی معرفت  و رضامندی کی چاہت کے ساتھ ہی عبادت میں خشوع اور حضوری  قلب  کی کیفیت میسر ہوتی ہے یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت اورزیادہ تر  عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے ۔ اس دوران  رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو اسی معرفت الہی یعنی توحید ، ایمان اور آخرت کی تعلیم دی  اور جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض  کی گئیں  تاکہ یہ عبادات بے روح نا ہوں۔

روزہ  کے مقاصد

اللہ تعالی نے قرآن   میں جہاں روزے کی فرضیت کا ذکر کیا ہے وہاں اس  کے مقصد کو بھی بیان کیا ہے

”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دیے گئے ہیں جیسا کی تم سے پہلے لوگوں  پر فرض کیے گئے تاکہ تم  پرہیز گار بن جاؤ ”

چنانچہ روزہ کا  اصل مقصد تزکیہ  و تقوی کا حصول ہے ۔ اہل علم نے روزے کی مشروعیت کے مختلف مقاصد بیان کیے ہیں  جو سب کے سب تقوی ہی کی خصلتییں ہیں ۔

1۔ روزے میں انسان قدرت و طاقت رکھنے کے باوجوداپنی  خواہشات اور حلال اشیاء بھی ترک کر دیتا ہے اس کا مقصدانسان کے اندر اللہ تعالی کی موجودگی کا احساس پیدا کرنا اور   اسےاس ایمان و یقین پر تیار کرنا ہے کہ اللہ تعالی ہر لمحہ اس کی نگہبانی و نگرانی کر رہا ہے۔

2۔ روزہ انسان کے لیے اللہ تعالی کی بے  چون و چرا اطاعت گزاری  و فرمانبرداری کی مشق ہے تا کہ اس کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ خداوند کی رضا جوئی کے لیے  جب حلال اشیاء و ضروریات   سے اجتناب کر رہا ہے تو حرام آخر کیونکر اپناے ۔

3۔روزہ شہوات اور نفسانی خواہشات  پر قابو پانے اور گرفت کرنے کی تربیت دیتا ہے جس سے ممنوع شہوات پر قابو پانے کے لیے تعاون ملتا ہے ۔ اور یہ چیز نفس کو اخلاق فاضلہ اپنانے کے لیے تیار کرتی ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان نوجوانوں کو بکثرت روزہ رکھنے کی نصیحت کی جو نکاح کی استطاعت نا رکھتے ہوں ۔

4۔ روزہ کا ایک مقصدانسان کو  اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی شکر گزاری کا احساس دلانا ہے ۔ حلال اشیاء کھانا پینا اور جائز ضروریات نفس  اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمتیں ہیں ۔ لہذا ان سے کچھ دیر کے لیے رک جانا ان کی قدر و قیمت معلوم کراتا ہے جس سے انسان کو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی طرف رغبت ہوتی ہے ۔

ہمارا طرز عمل

روزے کے ان تمام مقاصد کا حصول ہی اصل میں روزہ دار کا محور نگاہ ہونا چاہیے اور دوران روزہ  و رمضان ہمیں اپنا طرز عمل انہی مقاصد کے حصول کے مطابق ترتیب دینا چاہیے تا کہ ہم رمضان کے خاطر خواہ  فوائد حاصل کر سکیں جو ہمارے پروردگار کو اپنے بندے سے مطلوب ہیں  ۔ ان نتائج کے عدم حصول کی صورت میں آدمی کی بھوک پیاس بے سود ہے۔ رمضان اللہ تعالی کی طرف سے ایمان والوں کے لیے ایک بونس ہے جس میں اخلاص نیت پر مبنی عمل انسان کی ابدی نجات و محبت الہی کا باعث ہو سکتا ہے  لیکن دیکھنے میں آتا ہے کہ آجکل رمضان کا مہینا مسلمانوں کے مابین ایک رسمی  سی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ سحری و افطاری کے معمولات میں دستر خوان معمول سے زیادہ کھانوں سے بھرے نظر آتے ہیں جن کی دستیابی کے لیے مرد حضرات اپنا سارا وقت کاروبار وغیرہ کی نذر کرتے اور خواتین سارا دن کچن میں ان کی تیاری میں لگاتی ہیں ۔ عید کی شاپنگز  میں بیشتر وقت بازاروں اور مارکیٹیس کی نذر ہو جاتا ہے  خاص کر طاق راتیں جن کی اہمیت سے کون مسلمان واقف نا ہو گا۔ افطار پارٹیز کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ میڈیا ، میوزک ، ڈراماز جنہیں مس  کرنا لوگ اب نا گزیر سمجھتے ہیں ہر گھر میں چلتے نظر آتے ہیں اور بعض لوگ تو اسے روزہ گزارنے کا آسان ذریعہ خیال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کی روزہ سمیت عبادات کی اصل روح کا شعور حاصل کیا جاے اور اسی احساس کے ساتھ ان کی ادائیگی کا اہتمام کیا جاے ۔ رمضان کے فضائل و برکات سے مستفید ہونے کے لیے بھی اسی روح کے ساتھ اس کا اہتمام لازم و ملزوم ہے

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور کہا آمین ، آمین ، آمین ۔ صحابہ نے دریافت کیا  کہ آپ منبر پر چڑھے اور کہا آمین  ، کیوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس آے اور کہا ، جس شخص کی زندگی میں رمضان المبارک کا مہینہ آیا اور وہ اس میں اپنی بخشش نا کروا سکا تو وہ آگ میں داخل ہو  اور اللہ تعالی اسے اپنی رحمت سے دور کر دیں ۔ آپ کہیے آمین تو میں نے کہا آمین ”

صحیح الترغیب 997، کتاب الصوم ، ابن خزیمہ 1888

رمضان المبارک میں معمول کے دنیاوی امور کو بھی بالکل محدود کرتے ہوے عبادت  اور اس کے مقاصد کے حصول کی جدو جہد کو محور نگاہ بنانا ہی ایک مومن مسلمان کا شعار ہونا چاہیے تا کہ  وہ اس کے ذریعے سے اپنی بخشش کا سامان پیدا کرے۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو اس با برکت مہینے سے صحیح طرح استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین

 

 


عمل صالح کا محدود تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔ 
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم 
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ 
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔ 
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔ 
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 23, 2015

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
“جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
“وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب “حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی


ایک جنگ کی داستان

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Oct 10, 2013


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
منی کا پڑاؤ
منی میں قیام کے دوران میری سوتی جاگتی آنکھوں میں وہی منظر آنے لگا جب شیطان نے چیلنج دیا تھا کہ میں انسان کے دائیں ، بائیں ، آگے اور پیچھے غرض ہر جگہ سے آؤں گا اور اسے جنت کے راستے سے بھٹکا کر جہنم کے دہا نے تک لے جاؤں گا۔ میں نے غور کیا تو علم ہوا کہ شیطان نے بڑی عیاری سے انسان کے گرد اپنے فریب کا جال بنا اور اکثریت کو راہ پڑھنا جاری رکھیں »


حج کی روح اور عملی مسائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Oct 5, 2013


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حج کے لغوی معنی ارادہ کرنے کے ہیں۔ارکانِ اسلام میں حج پانچواں اہم رکن ہے۔ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی طرح حج کا انکار کرنے والا شخص بھی اسلام کے دائرے سے باہر سمجھا جاتا ہے اور اس مسئلے پر امت میں کوئی اختلاف نہیں۔ حج زندگی میں ایک بار ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اسکی استطاعت رکھتا ہو۔ پڑھنا جاری رکھیں »


زکوٰۃ کے عملی مسائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Aug 1, 2013


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نماز کی طرح زکوٰۃ کو ماننا بھی دین اسلام میں لازم ہے بصورتِ دیگرنماز کے منکرین کی طرح زکوٰۃ کا انکار کرنے والے لوگ بھی دائرۂ اسلام سے خارج سمجھے جاتے ہیں ۔
قرآن میں زکوٰۃ کا واضح حکم موجود ہے جیسا درج ذیل آیات میں بیان ہوتا ہے:
۱۔اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے واسطے آگے بھیجو گے اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ بیشک جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔(البقرہ ۱۱۰:۲ )
۲۔(مسلمانو،) نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ پڑھنا جاری رکھیں »


روزے کی مشکلات اور ان کا علاج

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jul 26, 2013


از پروفیسر محمد عقیل
تعارف
نماز اور زکوٰۃ کے بعد روزہ تیسری اہم عبادت ہے ۔ رمضان فرض روزوں کا مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کے لیے فجر سے مغرب تک کھانے پینے اور مخصوص جنسی عمل سے اجتناب برتنا لازم ہے البتہ مسافر، بیمار یا حیض میں مبتلا خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ روزہ صرف امتِ محمدی پر ہی نہیں بلکہ ماضی کی امتوں پر بھی فرض تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی بگڑی ہوئی شکل میں عیسائیوں ، یہودیوں حتیٰ کہ ہندوؤں کے یہاں بھی اب تک موجود ہے پڑھنا جاری رکھیں »