پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Jun 23, 2017

شب قدر اور فرشتوں سے متعلق اہم سوالات
ڈاکٹر محمد عقیل
سورہ کا پس منظر کیا ہے؟
سورہ القدر کے مقام نزول پر اختلاف ہے کہ آیا کہ مکی سورۃ ہے یا مدنی۔ لیکن اس کا لہجہ بتاتا ہے کہ یہ مکہ کے آخری دور کی سورہ ہے۔اس سورہ میں دراصل تین اہم باتوں کو بیان کیا ہے۔ پہلا مضمون یہ کہ قرآن کا نزول اس رات میں ہوا ہے جس میں قوموں کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے اور خدا کے منصوبوں کو پڑھنا جاری رکھیں »


عمل صالح کا محدود تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

عمل صالح کا محدود تصور
پروفیسر محمد عقیل
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی نجات دو چیزوں پر منحصر ہے۔ ایمان اور عمل صالح یا نیک اعمال۔ ایمان کا معاملہ تو بہت حد تک واضح ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمل صالح سے کیا مراد ہے؟کیا اس سے مراد صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے ؟ کیا یہ تصور صرف دینی اعمال تک محدود ہے ؟ کیا اس میں دنیا کے حوالے سے کی گئی کوئی اچھائی شامل نہیں ہوسکتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کے جدید ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سائنسدانوں نے انسان کے لیے میڈیکل، ایجوکیشن، کمیونکیشن غرض ہر میدا ن میں بے شمار سہولیات پیدا کردیں لیکن مذہبی طبقہ اسے عمل صالح ماننے کو تیار نہیں۔
مذہبی طبقہ مدرسے میں پڑھنے کو تو نیکی مانتا ہے لیکن دنیاوی علوم پڑھنے کو نیک عمل تصور نہیں کرتا۔ وہ مسجد کی تعمیر کو تو صدقہ جاریہ کہتا ہے لیکن ہسپتال یا اسکول کی تعمیر کو صدقہ کہنے سے کتراتا ہے۔ وہ تسبیحات کو دس ہزار مرتبہ پڑھنے کو تو باعث اجرو ثواب کہتا ہے لیکن اچھی بات کرنے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ دوسری جانب ہم دیکھیں تو ہماری روزمرہ زندگی کے محض چند گھنٹے ہی عبادات اور دینی امور میں گذرتی ہے۔ ہماری زندگی کے اکثر لمحات دنیاوی معاملات میں گذرتے ہیں۔ 
گذشتہ مضمون میں ہم نے بات کی تھی کہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ اس تعریف سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی عمل کے نیک ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ اس کا تعلق دین سے ہو۔ کوئی بھی دنیاوی عمل جو اس تعریف پر پورا اترے وہ نیکی ہے اور اسی طرح اللہ کے ہاں مقبول ہے جیسے کوئی بھی دینی عمل۔
دوسری جانب جب ہم قرآن و سنت کی بات کرتے ہیں تو نیک اعمال صرف دین ہی نہیں دنیاوی امور سے متعلق بھی ہیں۔ جیسے سورہ البقرہ میں نیکی کے بارے میں یہ بیان ہوا کہ نیکی محض مشرق و مغرب کی جانب منہ کرلینے کا نام نہیں بلکہ نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔ اسی طرح ہم احادیث کو دیکھیں تو وہاں تو روزی کمانا، گناہ سے خود کو روکنا، کسی کو سواری پر چڑھنے میں مدد کردینا حتی کہ کتے کو پانی پلانے تک کو نیکی کہا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر و ہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے دنیا وی کاموں کو خدا کے نزدیک ناقابل قبول بنانے کی کوشش کی۔ ذیل میں ہم ان اعمال کا جائزہ لے رہے ہیں:
۱۔عمل صالح کی فہرست مرتب کرنا
اس میں سب سے پہلا محرک تو ظاہر ی متن بنا۔ یعنی جن باتوں کا ذکر قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ آگیا اسے تو نیکی قراردیا گیا لیکن جن کا ذکر نہیں آیا انہیں نیکی نہیں مانا گیا۔ مثال کے طور پرکسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا عمل قرآن میں نیکی کے طور پر بیان ہوا ہے تو اسے تمام مذہبی طبقات نیکی مانتے ہیں۔ لیکن کسی بچے کی اسکول فیس ادا کرنے کو اس درجے میں نیکی نہ مانا جاتا ہے اور نہ اسے بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بھوکے کو کھانا کھلانا تو ایک وقت کا کام ہے لیکن اسکول یا کالج میں بچے کو پڑھا کر اسے مچھلی پکڑنے کا کانٹا دیا جارہا ہے جس کی مدد سے وہ مستقبل میں ہزاروں مرتبہ کھانا کھاسکتا ہے۔یعنی یہاں نیکی کا تعین کرتے ہوئے استقرائی یعنی Inductive اپروچ سے کام نہین لیا گیا۔اگر لیا جاتا تو سارے اچھے کام اس میں آجاتے۔
۲۔ دنیا سے نفرت
دنیاوی امو ر کو نیکی یا عمل صالح میں شمار نہ کرنے کا ایک اور سبب دنیا سے نفرت ہے۔ ہمارے مذہب پر کچھ صدیوں بعد ہی تصوف کی ترک دنیا کی تعلیمات کا غلبہ ہوگیا۔ چنانچہ دنیا کو حقیر کو اس کے عمل کو شیطانی عمل سمجھا جانے لگا۔ اس کی وجہ سے روزی کمانا، میعار زندگی بلند کرنا، دنیاوی ہنر یا تعلیم حاصل کرنا، مفاد عامہ کے لیے فلاحی کام جیسے سڑک بنوانا، پناہ گاہیں تعمیر کرنا وغیرہ کو عمل صالح میں شمار کرنے سے انکار نہیں تو پہلو تہی ضرور کی گئی۔ حالانکہ دین میں اصل تقسیم دنیا و دین کی نہیں دنیا و آخرت کی ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو صدقہ جاریہ میں کنواں کھدوانا حدیث میں صراحتا عمل صالح بیان ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر سارے وہ کام جو عوام کے فائدے کے ہوں اور نیکی کی مندرجہ بالا تعریف پر اترتے ہوں وہ عمل صالح میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایک شخص اگر اپنی فلاح کا کوئی کام کررہا ہے اور وہ دین کے دائرے میں ہے تو وہ بھی نیکی ہے۔ اس اصول کے تحت روزی کمانا، بچوں کی تربیت، سب کچھ آجاتا ہے۔
۳۔ عمل کی ظاہری ہیت
عمل صالح میں دنیاوی معاملات شامل نہ ہونے کی ایک وجہ عمل کی ظاہری ہیت بھی ہے۔ کچھ اعمال اپنے ظاہر ہی میں نیکی نظر آتے ہیں جبکہ کچھ اعمال اس حیثیت سے نیکی نہیں دکھائی دیتے۔ مثال کے طور پر نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، قربانی، تسبیحات ، تلاوت وغیرہ اپنے ظاہر ہی میں اعمال صالح معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ دوسری جانب حقوق العباد سے متعلق نیک اعمال اپنے ظاہر میں اس طرح نیکی معلوم نہیں ہوتے جیسے تعلق باللہ کے امور۔ اسی بنا پر عوام اور کچھ علماء کو ان معاملات کو نیکی کے طور پر لینے میں ایک نفسیاتی تردد محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ جس اصول کے تحت تعلق باللہ کے امور اعمال صالح ہیں اسی اصول کے تحت روزمرہ کی زندگی کے معاملات بھی صالح اعمال ہیں۔ اصول وہی ہے یہ کوئی بھی عمل جو مخصوص شرائط کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا کسی مخلوق کی فلاح ہو۔
۴۔ دین و دنیا کی تقسیم 
ایک اور وجہ دنیا کو دین سے الگ سمجھنا ہے۔ حالانکہ اصل تقسیم دین و دنیا کی نہیں بلکہ دنیا و آخرت کی ہے۔ دنیاوی زندگی میں تمام امور بشمول دین شامل ہیں ۔اگرکوئی شخص دین کا کام کررہا ہے تو دراصل وہ خدا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچارہا بلکہ خدا کی مخلوق کو پیغام پہنچا کر ان کے لیے نفع کا کام کررہا ہے۔ یہی کام ایک ایک ڈاکٹر ، انجنئیر ، مصنف یا کوئی دوسری دنیا وی عمل کرنے والا شخص کررہا ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ دنیاوی کاموں کی بالعموم کوئی فیس لی جاتی ہے اور دینی کام عام طور پر بغیر کسی فیس کے ہوتے ہیں۔ لیکن نوعیت کے اعتبار سے دونوں کاموں میں کوئی فرق نہیں ، دونوں مخلوق کی فلاح کے لیے ہیں اور دونوں کا اجر آخرت میں ملنے کا امکان ہے۔ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی استاد مدرسے میں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہا ہے اور اس کے چالیس ہزار روپے لے رہا ہے تو اس کی تدریس کو نیکی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ یہ کام ایک دینی مدرسے میں کررہا ہے۔ لیکن اگر وہ یہی کورس کسی یونی ورسٹی میں پڑھائے اور اتنی ہی فیس لے تو اسے نیکی نہیں گردانا جاتا۔ حالانکہ دونوں کا مقصد فلاح پہنچانا ہے اور اس لحاظ سے دونوں اعمال نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ 
۵۔تمام غیر مسلموں کو کافر جاننا
ایک اور وجہ یہ مفروضہ ہے کہ تمام غیر مسلم کافر ہیں اور ان کے اعمال رائگاں ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سائنسدان جب کوئی چیز ایجاد کرتا ہے اور اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ لیکن اس پر سب سے پہلے یہ چیک لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں۔اگر وہ غیر مسلم ہو تو ہم سب پہلے ہی فتوی لگا دیتے ہیں کہ اس کا تو عمل قابل قبول ہی نہیں۔حالانکہ ہمیں علم نہیں کہ کیا اس پر اتمام حجت ہوچکی یا نہیں، کیا اس تک خدا کا پیغام صحیح معنوں میں پہنچ گیا؟ کیا اس نے سب کچھ سمجھ کر، جان کر اور مان کر اسلام کا انکار کردیا؟ ظاہر ہے ہمارے پاس کوئی پیمانہ نہیں ۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اس کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور فیصلہ خود کرنے کی بجائے حقیقت جاننے والی ہستی کو سونپ دیں۔ 
۶۔ نیت کا پوشید ہونا
ایک اور وجہ نیت کا ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے۔ دینی اعمال میں نیت باقاعدہ نظر آتی ہے کہ یہ عمل خدا کے لیے خاص ہے۔ مثال کے طور پر نماز یا روزے میں باقاعدہ یہ نیت ہوتی ہے کہ یہ عمل اللہ کے لیے ہے۔دوسری جانب دنیاوی عمل خواہ کتنا ہی فلاح و بہبود کا کام کیوں نہ ہو ، اسے نیکی تسلیم کرنے کے لیے فلٹریشن سے گذرنا ہوتا ہے۔ جیسے دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا عمل اپنی فلاح سے متعلق ہے اور نیکی ہے۔ لیکن اسے بلاکسی تخصیص کے دنیاداری سمجھا جاتا ہے اور نیکی نہیں مانا جاتا۔حالانکہ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے اور اپنی فیملی کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے، وہ اپنی خدمات سے سوسائٹی کی خدمت کرتا ہے، وہ اپنی آمدنی سے ملک کے جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ سارے کام چونکہ اپنی یا مخلوق کی فلاح کے ہیں اس لیے نیکی ہیں۔ 
خلاصہ
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا تصور دین میں محدود نہیں بلکہ وسیع ہے۔ اس کا دائرہ کار صرف دینی نہیں بلکہ دنیاوی اعمال تک پھیلا ہوا ہے۔ خدا کے نزدیک ہر وہ عمل نیکی ہے جو اس کی حرام و حلال کی قیود میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد اپنی یا مخلوق کی براہ راست یا بالواسطہ فلاح ہو۔
پروفیسر محمد عقیل


نیکی کا درست تصور

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Friday Apr 15, 2016

نیکی کا درست تصور

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی ہے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو نیکی کے تصور کو جاننے اور درست طور پر جاننے میں بہت اہم ہیں۔ اگر ہم قرآن کا جائزہ لیں تو قرآن سب سے پہلے جو بات ہمیں بتاتا ہے وہ یہ کہ اللہ نے ہمیں صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔ گویا عبادت ہی نیکی ہے اور عبادت سے گریز کرنا گناہ۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ کون سا عمل نیکی ہے؟ اس کےجواب میں بالعمو م روایتی حلقے ایک فہرست مرتب کردیتے ہیں جس میں اعمال صالح اور گناہوں کو بیان کردیا جاتا ہے۔ اس طرز عمل سے یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کے بارے میں ایک اندازہ وہوجاتا ہے لیکن بدلتے ہوئے حالات اور ماحول میں یہ فہرست کارآمد نہیں رہتی۔ نیز اس فہرست کا دائرہ کار چند مخصوص معاملات تک محدود ہوجاتا ہے۔ اس اپروچ کا ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ بندہ عبادت، گناہ اور نیکی کو متعین کرنے کے لیے کسی مذہبی عالم کی تشریح کا محتاج رہتا ہے۔ چونکہ ہمارے مذہبی طبقے پر تصوف کا بڑا گہرا اثر ہے اس لیے دنیا سے متعلق اچھے اعمال کو عام طور پر وہ نیکیوں میں شمار نہیں کرپاتے کیوں ان کی دانست میں اس سے دنیا پرستی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نیکی کی ایک جامع تعریف قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کی جائے اور اسی تناظر میں نیک اعمال اور گناہوں کا تعین کرنے کے عمل کو سیکھا جائے ۔ نیکی کی تعریف اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تو کچھ یوں بنتی ہے:
نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔
اس کی تشریح کی جائے تو مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
۱۔ پہلی بات کہ نیکی سے مراد کوئی بھی عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف دینی امور سے متعلق ہو، یہ دنیا کا بھی کوئی معاملہ ہوسکتا ہے۔شرط یہ ہے کہ آگے بیان کردہ شرائط پوری ہورہی ہوں۔جیسا کہ اس آیت کو دیکھیں:
لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ١٧٧؁
نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو ۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی ، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں ۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (البقرہ ۱۷۷:۲)
ان آیات کو غور سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے نیکی میں ایمان لانے کا عمل بھی شامل ہے، اس میں معاشرے کے مختلف مستحقین کو صدقہ دینا بھی شامل ہے ، نماز اور زکوٰۃ کی عبادات بھی ہیں اور مختلف مواقع پر صبر کرنا بھی شامل ہے۔ یعنی نیکی کا دائرہ کار صرف دینی امور ہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات تک وسیع ہے۔
۲۔کسی عمل کے عمل صالح ہونے کے لیے پہلی شرط خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی قید کا خیال رکھنا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا نے حلا ل و حرام کی قیود صرف وحی کے ذریعے ہی نہیں بتائی بلکہ انسان کی فطرت کے اندر بھی جائز و ناجائز کو طے کرنے کی بنیادی صلاحیت رکھ دی ہے۔ بالخصوص اخلاقیات کے اکر معاملات میں اصل فتوی دل کا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے:
وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا Ċ۝۽ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوٰىهَا Ď۝۽
اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیا ہے۔ پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔(سورہ الشمس ۹۱، آیات ۷-۸)
تو اصل بات یہ ہے کہ کسی عمل کے نیکی ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ وہ خدا کی بیان کردہ حدودو قیود کے اندر ہو۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے لیکن وہ ناپاکی کی حالت میں ہے تو اس نے خدا کی حلال و حرام کی حدود کی خلاف ورزی کی۔ چنانچہ بلاعذر ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا نیکی نہیں بلکہ گناہ تصور ہوگا۔ ایسے ہی ایک شخص حج اگر حرام کی کمائی سے کررہا ہے تو یہ عمل بظاہر عبادت ہونے کے باوجود حقیقت میں نیکی نہیں۔اسی طرح ایک شخص اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے لیکن وہ اس چوری کے پیسوں سے یہ کام کررہا ہے ۔بچوں کا پیٹ پالنا ایک نیک کام ہے لیکن اس کو پورا کرتے وقت خد کے بیان کردہ حدود کی پاسداری نہیں کی گئی، اس لیے یہ نیکی نہیں۔
۳۔ کسی عمل کے نیکی ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ نیت کے اخلاص کا ہونا ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جارہا ہے وہ واضح طور پر یا لاشعور میں کہیں موجود ہونا چاہیے۔
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْنَ أَلَا لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ.(الزمر ۳۹ : ۲)
’’بے شک ، ہم نے یہ کتاب تمھاری طرف مطابق حق اتاری ہے تو تم اللہ ہی کی بندگی کرو اطاعت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے۔ سن لو کہ خالص اطاعت کا سزاوار اللہ ہی ہے۔‘‘
مثلا ایک شخص روزہ رکھ رہا ہے لیکن اس کا مقصد صرف لوگوں کو دکھانا ہے تو یہاں اخلاص کی کمی ہے جس کی بنا پر اس کا روزہ عبادت یا نیکی نہیں۔ ایک شخص میدا ن جنگ میں جہاد کررہا ہے لیکن مقصد مال غنیمت ہے تو یہ نیکی نہیں۔لیکن ایک شخص اخلاص کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی سے کسی کو ایذا پہنچائے بنا زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو یہ عبادت یا نیکی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض اوقات نیت کا اظہار باقاعدہ زبان سے نہیں کیا جاتا اور یہ لاشعور میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہے۔ جیسے ایک شخص نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس کچھ کہے بنا نیت باندھ لی۔ یہاں اس کا عمل یہ بتارہا ہے کہ وہ شخص نماز پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا اسی لیے نیت باندھی ہے۔
دینی معاملات میں تو بالعموم اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمل اللہ کے لیے کیا جارہا ہے لیکن دنیوی معاملات میں عمل کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی نیت کا اظہار اکثر اوقات نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر ایک شخص روزانہ کمانے کو گھر سے نکلتا ہے تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اس عمل میں اللہ کو راضی کرنے کی نیت موجود نہیں۔ اسی بنا پر کچھ لوگ کمانے کو عمل کو دنیا داری کہہ کر اسے نیکی سے خارج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو وہ شخص روزی کماتے وقت اللہ کی حدود و قیود کا خیال رکھ رہا ہے ۔ چنانچہ جس طرح نماز پڑھتے وقت لازم نہیں کہ زبان سے نیت کی جائے اسی طرح دنیاوی نیکیوں میں بھی ممکن نہیں کہ شعوری سطح پر ہر مرتبہ بیان کی جاری کیا جائے۔ بس ایک عمومی ارادہ کافی ہوتا ہے۔
۴۔ عمل صالح ہونے کی تیسر ی شرط اس عمل کو محنت یا مہارت سے یا خوش اسلوبی سے انجام دینا ہے۔
وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى 39؀ۙ
اور یہ کہ انسان کے لیئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے سعی کی ہے(النجم ۳۹:۵۳)
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کے لیے نیکی اتنا ہی عمل ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ کسی دوسرے کا عمل اس کے لیے نیکی نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس میں اس کی بالواسطہ کوشش شامل ہو۔ اس کے علاوہ جو بھی عمل کیا جائے وہ خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے۔ اس کامطلب ہے کہ اس عمل میں جتنی بے دلی شامل ہوگی اتنا ہی وہ عبادت سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یعنی و ہ کام جو مارے باندھے کیے جاِئیں وہ نیکی نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر ایک شخص اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ رکوع و سجود درست طور پر ادا نہیں ہورہے تھے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دوبارہ پڑھو تمہاری نماز نہیں ہوئی۔ اسی طرح قرآن میں منافقین کی نماز کا ذکر ہے کہ وہ مارے باندھے مسجد میں آتے ہیں ۔
دنیاوی معاملات میں بھی محنت اور خوش اسلوبی ضروری ہے۔ ایک شخص جب ملازمت کرتا ہے تو کام چوری کرنا یا اپنی ذات کو آرام دینے کے لیے چور راستے تلاش کرنا نیکی کو گناہ میں بدل سکتا ہے۔
۵۔ آخری شرط یہ ہے کہ عمل کا مقصد کسی نہ کسی مخلوق کو براہ راست یا بالواسطہ نفع پہنچانا ہو۔ یہ نفع دنیا کا بھی ہوسکتا ہے اور دین کا بھی۔دین کے نفع کو نیکی ماننا تو ایک مسلمہ ہے لیکن دنیوی کاموں کو بھی متعدد احادیث میں صدقہ اور نیکی قرار دیا گیا ہے۔
۱۔ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعمال میں سے کونسا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان اور اس کے راستے میں جہاد؟ میں نے عرض کیا کہ کونسا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے اچھا اور قیمتی ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی کے کام میں اس سے تعاون کرو یا کسی بے ہنر آدمی کے لئے کام کرو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ان میں سے بھی کوئی کام نہ کر سکوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو اس لئے کہ اس کی حیثیت تیری اپنی جان پر صدقہ کی طرح ہو گی۔( صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 251)
۲۔ اچھائی کا حکم کرنا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے۔(مسلم)
۳۔ جو اپنے اہل وعیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اسی کے لئے صدقہ ہوگا۔(مسلم)
۴۔ تمہارے ہر ایک کی شرمگاہ میں صدقہ ہے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ کے رسول کیا ہم میں کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی اس کے لئے ثواب ہے فرمایا کیا تم دیکھتے نہیں اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو وہ اس کے لئے گناہ کا باعث ہوتا اسی طرح اگر وہ اسے حلال جگہ صرف کرے گا تو اس پر اس کو ثواب حاصل ہوگا۔(مسلم)
۵۔ دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا صدقہ ہے آدمی کو اس کی سواری پر سوار کرنا یا اس کا سامان اٹھانا یا اس کے سامان کو سواری سے اتارنا صدقہ ہے اور پاکیزہ بات کرنا صدقہ ہے اور نماز کی طرف چل کر جانے میں ہر قدم صدقہ ہے اور راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(مسلم)
۶۔ کتے یا کسی جانور کو پانی پلانا بھی نیکی ہے ( صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2208)
۷۔ رشتے داری کا لحاظ رکھنا، گناہوں سے بچنا، مصیبت برداشت کرنا، اچھے اخلاق اپنا، قرض دار کو مہلت دینا سب اعمال نیکی ہیں۔(بخاری)
ا ن تمام روایات کو جمع کیا جائے تو علم ہوتا ہے کہ صدقہ یا نیکی سے مراد ہر و ہ عمل ہے جس میں خود کو یا کسی دوسری مخلوق کو نفع پہنچایا جارہا ہو۔ اس اصول کے تحت مثال کے طور پر ایک قاری اگر بچوں کو قرآن پڑھا رہا ہے تو چونکہ وہ انہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچا رہا ہے تو اس کا عمل نیکی ہے۔ اسی طرح ایک استاد اگر بچوں کو کیمسٹری پڑھا رہا ہے تو اس کا مقصد دنیوی فائدہ پہنچانا ہے تو یہ بھی ویسے ہی نیکی ہے جیسے قرآن پڑھانا۔
بعض اوقات انسان کوئی عمل کسی دوسری مخلوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لیے کررہا ہوتا ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ جیسے نماز پڑھنا خود کو دینی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے،اسی طرح رزق کمانا، پڑھائی کرنا یا معلومات میں اضافہ کرنا خود کو دنیوی فائدہ پہنچانے کا عمل ہے اس لیے یہ بھی نیکی ہے۔
خلاصہ
اوپر کی بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نیکی کا دائرہ کار صرف دینی عبادات، مذہبی رسومات اور عقائد تک محدود نہیں بلکہ ہر اچھا عمل نیکی ہے بشرطیکہ اسے ان حدود قیود میں کیا جائے جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔
پروفیسر محمد عقیل


نفس کی بادشاہی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

نفس  کی بادشاہی

میں اور آپ جس ظاہری بدن کے ساتھ اس دنیا میں موجود ہیں یہ محض ایک ڈھانچہ ہے۔ اس ڈھانچے  کے اندر ہماری اصل شخصیت ہے جسے ہم خودی کا نام دیتے ہیں۔ہمارا ظاہری وجود  عام طور پر ہر دس سال کے بعد تبدیل ہوجاتا ہے اور ہمارے جسم کے سارے خلیات  تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری خودی  وہی رہتی ہے۔

یہ  ہماری باطنی شخصیت یا نفس  بظاہر ہمارا اپنا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک سرکش ،تندخو   اور آزاد منش کی مانند ہے۔یہ ایک آوارہ بادل کی طرح اپنی مرضی سے ادھر ادھر گھومنا ، اپنی مرضی سے گرجنا برسنا  اور تحلیل ہونا  چاہتاہے۔لیکن اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو انسان  اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

یہ نفس بے شمار داخلی اور خارجی  عوامل سے متاثر ہوتا ہے ۔ہمارے اندر  بھوک ، پیاس ، شہوت، غصہ ، چاہے جانے کا احساس اور دیگر داعیات ہوتے ہیں ۔ اگر ان پر قابو نہ پایا جائے تو یہی ہمارے نفس کو آلودہ کردیتے ہیں ۔  مثال کے طور پر   جنسی شہوت   ایک جبلی اور فطری تقاضا ہے   جو انسان کی بقا کے لئے لازمی ہے۔ لیکن اگر اس  تقاضے کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو   کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی اور انسان چوپائے کی طرح ہر جگہ منہ مارتا پھرتا ہے۔ یہی معاملہ باقی تقاضوں کا بھی ہے۔

دوسری جانب ہمار ا نفس باہر کے عوامل سے بھی متاثر ہوتا ہے ۔ اس خارج کے ماحول میں ماحول  ماں باپ ، بہن بھائی، دوست احباب اور دیگر لوگ اس نفس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان بھی اسی خارج کے ماحول سے دراندازی کرتا ہے۔

یہ داخلی اور خارجی ماحول مل کر انسان کی اصل شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ لیکن اللہ نے انسان کو اس پورے معاملے میں تنہا نہیں چھوڑا۔ کہیں انسان کے اندر ہی ضمیر یا نفس لوامہ کی  ایک چھوٹی سی عدالت لگادی جو قدم قدم پر اسے اس کی غلطیوں پر متنبہ کرتی رہتی ہے۔ دوسری جانب وحی کے ذریعے انسان کو ان امور پر متعین طور پر راہنمائی فراہم کردی جس میں اسے ٹھوکر لگنے کا اندیشہ تھا۔

انسان کی شخصیت یا نفس کی مثال ایک سرکش گھوڑے کی مانند  ہے   جس پر سوار بیٹھا ہے۔ گھوڑے کا داخلی نقص  اس کی سرکشی ہے جس کی بنا پر ہر دم یہ خطرہ ہے کہ یہ سوار کو منزل مقصود پر لے جانے کی بجائے راستے ہی میں پٹخ دے۔ گھوڑے کے خارجی ماحول میں پرخطر راستے ہیں جس  پر چلنے سے گھوڑا انکار کردےا ور بدک جائے۔ان خطرات سے نبٹنے کے لئے گھوڑے کو تربیت دینا اشد ضروری ہے تاکہ اس کی سرکشی کو ختم کیا جاسکے اور ساتھ ہی ساتھ اسے پرخطر راستوں کا عادی بنایا جاسکے۔


فار گرانٹڈ (For Granted)

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

فار گرانٹڈ

(For Granted)

زندگی میں بے شمار نعمتیں ہمیں   بن مانگے مل جاتی ہیں۔ ہم ان کے لئے نہ تو سوچتے ، نہ محنت کرتے، نہ پریشان ہوتے اور نہ ہی کوئی تگ و کرتے ہیں ۔اس کے باوجود یہ ہماری جھولی میں ڈال کر دے دی جاتی ہیں۔ اس میں سر فہرست  اللہ تعالیٰ کی جانب سے دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ ہم پیدا بھی نہیں ہوتے  اور ماں کے پیٹ میں ہماری کابندوبست ہوجاتا ہے۔ جب ہم اس دنیا میں آتے ہی تو زمین کی آغوش ہمارے لئے ماں کا پیٹ بن جاتی اور زندگی گذارنے کی تمام سہولیات بن مانگے مل جاتی ہیں۔  سورج حرارت فراہم کرتا، رات سکون مہیا کرتی، چاند تارے ذوق کی تسکین کرتے، فضا  تفس کو ممکن بناتی ، زمین اپنا سینہ چاک کرکے غذا کو اگلتی اور جانور گوشت کے پہاڑ  بنے    لذت کام و دہن کا سبب بنتے ہیں۔

 

ان نعمتوں کی فراہمی کو ہم فارگرانٹڈ لیتے اور اپنا حق سمجھتے رہتے ہیں۔یہیں سے ختم نہ ہونے والی غلطیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ پھر اس کی نعمتیں حقیر لگتیں، پھر اس کے وجود کا احساس ہی نہیں ہوتا، پھر اس کے کرم کا اندازہ نہیں ہوتا  اور اس کی لا متناہی شفقت محسوس ہی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ  خدا نعوذ باللہ ایک خودکار مشین کی مانند لگنے لگتا ہے ۔ پھر سب کچھ خود بخود ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔آفاق میں سورج  کا طلوع و غروب، سبزہ کا اگنا ، غلہ کی پیداوار ، زمین کی گردش، بارش کا برسنا سب کچھ خود بخود ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ انفس میں سانس و زیرو بم، دل کی دھڑکن، آنکھوں کی بصارت، زبان کا تکلم، کانوں کی سماعت، دماغ کی سوچیں سب ایک خود کار نظام کے تحت بندھے ہوئے لگتے ہیں۔

پھر لاشعور میں یہ خیال  راسخ ہوجاتا ہے جب سب کچھ خود بخود مل رہا ہے تو کیوں اس کی شکرگذاری کی جائے،  کیوں اس کی بندگی کی جائے، کیوں اس کی بات مانی جائے ، کیوں اس کے آگے جبین نیاز ٹیکی جائے؟ اس سے  اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اب کسی خدا کی کیا ضرورت؟یہ تو سب خود بخود ہورہا ہے۔ اس سے آگے کچھ لوگ بڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا موجود ہی نہیں اور نعوذباللہ  انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔

اسی صورت حال سے انسان کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ براہ راست مداخلت کرتے ہیں اور یہ احسا س دلاتے ہیں کہ یہ سب نعمتیں انسان کا حق نہیں بلکہ اللہ کی عنایت ہیں اور اللہ جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں۔ چنانچہ کبھی زمین کو ہلایا جاتا ، سمندر کے بند کھول دئیے جاتے،ہوا کی باگیں چھوڑدی جاتیں، آسمانی بجلی کو آزاد کردیا جاتا اوربارش کو طوفان میں بدل دیا جاتا ہے ۔ اس کا مقصد انسان کو یہ احسا س دلانا ہے کہ یہ سب کچھ فارگرانٹڈ لینے کے لئے نہیں۔ ان سب کے خالق کاشکر واجب ہے، اس کا احترام لاز م ، اس کی نمک حلالی ضروری ہے۔ خدا کی نعتموں کو فارگرانٹڈ نہ لیجئے ۔ ورنہ بہت جلد آپ کو یہ تجربہ کروایا جاسکتا ہے کہ یہ سب فارگرانٹڈنہیں ۔

 پروفیسر محمد عقیل

 

 

                                            

 

 


بیوی پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Sunday Apr 3, 2016

بیوی  پر شک  اور بدگمانی

کہتے ہیں مرد عام طورپر شکی  ہوتے ہیں۔شک کا ایک بڑا سبب عادت و مزاج ہوتا ہے۔ چنانچہ  کچھ مرد اپنی  بیویوں پر بلاجواز شک کرتے اور ان پر کڑی نگاہ رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ وہ انہیں ایک ایسے پولیس مین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہر شخص کو مجرم سمجھتا ہے۔ ایسے شوہر   اپنی بیوی کو مجرم گردانتے اور ہر دوسرے دن اس سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی عفت کا ثبوت پیش کرے۔

اس قسم کے لوگ باآسانی بدگمانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔  یہ بیوی کی  ہر ٹیلفون کل پر نظر رکھتے ، اس کے ایس ایم ایس سے غلط معنی اخذ کرنے کی کوشش کرتے، اس کے مو ڈ سوئینگ کو الٹی سیدھی توجیہہ دینے کی  کوشش کرتے ، اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کسی کا خِیال محسوس کرتے، اس کی چہل قدمی  کو کسی کا انتظار سمجھتے  اور اسکے میک اپ کو اپنی بدگمانی کی عینک سے مشکوک بنادیتے ہیں۔ جب بیوی ذرا بھی ان کے سوالات کا جواب دینے میں چوک جاتی اور انہیں مطمئین نہیں کرپاتی تو ان کے شک  کا سانپ اور سرکش ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے  شک کا یہ اژدہا پورے خاندان کو نگل لیتا ہے۔

شک  کا تعلق  ماحول سے بھی ہوتا ہے۔ بعض  اوقات ایک  ایک  بند ماحول میں رہنےوالا شخص باآسانی بدگمانی کی جانب مائل ہوجاتا ہے۔ اور اگر بیوی ذرا آزاد ماحول کی ہو  بس پھر تو معاملہ خراب۔ بیوی کا کسی سے ہنس کر بات کرنا، کسی کی بات پر مسکرادینا، کسی  کی تعریف میں دو بول بول دینا، کسی پر تبصرہ کردینا ایک تنگ نظر میاں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ ہر  آنے والا دن بیوی کوایک بے حیا عورت کے روپ میں  پیش کرتا  رہتا ہے۔ایسا مرد اپنی بدگمانی میں طرح طرح کی باتیں سوچتا اور الٹے سیدھے اندازے لگاتا رہتا ہے۔ اس کی بدگمانی کبھی اس کی مردانگی پر سوالیہ نشان ڈالتی، کبھی بیوی کے کردار کو براپیش کرتی، کبھی بیوی کی بے تکلفی کو فحاشی گردانتی تو کبھی اس کی سرگرمیوں کی ٹوہ لینے پر اکساتی ہے۔

بیوی سے بدگمان ہونے کی ایک اور وجہ کوئی واقعہ، قصہ، ڈرامہ   یا  کہانی  ہوتی ہے ۔ کبھی کسی فلم سے متاثر ہوکر  میاں اپنی بیوی کو اسی روپ میں دیکھنے لگ جاتا ہے جس میں ایک بے حیا عورت کے کردار کو دکھایا گیا ہوتا ہے۔ اب اسی مفروضے پر جب وہ روزمرہ کا جائزہ لیتا ہے تو بیوی کی بہت سے باتیں اس کردار سے ملتی جلتی معلوم ہوتی ہیں۔ اس کی  بیوی اس  بے حیا کردار کی طرح فیس بک  بھی استعمال کرتی، وہاٹس ایپ بھی چلاتی، ای میل بھی کرتی اور ایس ایم ایس بھی بھیجتی نظر آتی ہے۔ اسے اپنی بیوی بالکونی میں بھی کھڑی دکھائی دیتی  اور کبھی چھت پر جاتی نظر آتی ہے۔ اب اسے یہ  خیال  آتا ہے کہ کسی طرح بیوی کی جاسوسی کرے۔ اس جاسوسی میں  کوئی نہ کوئی ایسی بات مل سکتی ہے جو شک کو قوی کردے۔ اس کے بعد اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

بدگمانی کی اس کے علاوہ بھی بے شمار وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک بدگمان شخص اس مفروضے پر سوچتا ہے کہ اس کی بیوی غلط راہوں پر جارہی ہے یہی اصل خرابی کی جڑ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص کا شک درست ہوسکتا ہے لیکن اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شک غلط بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ عا م اصول کے تحت ہر شخص کو شک کافائدہ دینا چاہئے اور اسے اس وقت تک بے قصور سمجھنا چاہئے جب تک کہ اس کے قصور وار ہونے کے قوی ثبوت نہ مل جائیں۔

بدگمانی  کے کئی حل ہیں۔ اول تو بدگمانی جب بھی پیدا ہو تو اسے  پہلے مرحلے پر جھٹک دینا چاہئے۔اگر اس سے کام نہ بنے تو بدگمانی کی وجہ معلوم کرکے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔  اگر شک بہت  قوی ہو تو اسے بات چیت کے  ذریعے ڈسکس کرلینا چاہئے۔ اس سے رشتے میں دراڑ کی بجائے مضبوطی پیدا ہوگی۔ اگر معاملہ اس سے بھی حل نہ ہو تو چند بزرگوں کو  بیچ میں ڈال کر سماجی دباؤ کے تحت کام کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجو بھی اگر  معاملہ حل نہ ہو تو کیا کریں؟ فرض کریں ایک شخص کی بیوی واقعی کسی دوسرے مرد میں دلچسپی رکھتی ہے تو جذبات سے قطع نظر ہوکر دیکھیں تو کیا کیا جاسکتا ہے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں اور حل نہ ہونے کی صورت میں خوش اسلوبی سے علحیدگی اختیار کرلیں۔

پروفیسر محمد عقیل

 


دین کے بنیادی تقاضے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

دین کے بنیادی تقاضے

پروفیسر محمد عقیلؔ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا اور نیکیوں سے دور ہوجاتا ہے ۔ اس نافرمانی کی بنا پر انسانی ذات آلودگی کا شکار ہوجاتی ہے اور کوئی بھی شخص نافرمانی کی آلودگی کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے لازمی ہے کہ خود کو گناہوں سے پاک اور نیکیوں سے آراستہ کیا جائے۔ اس عمل کو تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔
یہ تزکیہ نفس اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک مومن ان کاموں سے نہ رک جائے جن سے اس کا رب روکے اور ان امور پر عمل کرے جن کو کرنے کا حکم دیا جائے۔ شریعت کی اصطلاح میں انہیں اوامر و نواہی سے جانا جاتا ہے۔ ان اوامرو نواہی پر عمل کرنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کے بارے میں علم حاصل کیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس علم پر عمل کیا جائے۔
اسلام کی یہ خوبی ہے کہ ایک دیہاتی شخص بھی اس پر عمل کرسکتا ہے اور ایک عالم فاضل اسکالر بھی۔ اسی لئے اسلام کو دین فطرت بھی کہا گیا ہے۔ یہ مختصر کتاب اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ان احکامات کی مختصر فہرست دے دی جائے جن پر ان کا رب عمل کروانا چاہتا ہے۔ اس کتاب میں اوامرو نواہی کی ایک جامع فہرست دی گئی ہے۔ یہ فہرست ان منکرات کے بارے میں بتاتی ہے جن سے بچنا لازم ہے اور ان اچھے اعمال کی نشاندہی کرتی ہے جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص خود کو ان منکرات سے محفوظ نہیں رکھتا یا ان لازمی اعمال کو نہیں اپناتا تو وہ اپنا نفس آلودہ کرتا اور خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ اس نافرمانی میں وہ جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا ہی جنت سے دور اور جہنم کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ان اوامرو نواہی کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے لازم ہے۔
اس کتاب میں بیان کردہ احکامات کی فہرست میں قرآن و حدیث کی وضاحت بھی بیان کی گئی ہے تاکہ اصل حکم تک رسائی ممکن ہوسکے۔آپ سے گذارش ہے کہ ان احکامات کو غور سے دیکھیں ، ان کے بارے میں اپنے علم میں اضافہ کریں اور پھر ان پر بھرپور عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی علم و عمل کی کاوش آخرت میں ہمیں سرخرو کرنے میں معاون ہوسکتی ہے جبکہ ایسا کرنے میں ناکامی کا انجام خد ا کی ناراضگی ہے جس کا متحمل ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔
پروفیسر محمد عقیل

کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tZHl1Z3dhWWZkMTA


قصص القرآن۔ ایک دلچسپ کتاب از پروفیسر عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

اس کتاب کی خصوصیات
قرآنی قصائص پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ یہ کتاب کئی پہلووں سے ان سے مختلف ہے۔ پہلا پہلو تو یہ ہے کہ اس میں چھ گروپ بنا کر قرآنی قصائص کو بیان کیا گیا ہے جس سے قاری کا ذہن ایک ہی موضوع سے متعلق رہتا ہے اور معاملے کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس میں اکثر قصائص سے متعلق تذکیری، اخلاقی یا سبق آموز پہلو پر روشنی ڈال کر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ قصہ کن پہلووں سے ہماری عملی زندگی سے متعلق ہے اور ہم اس سے سبق حاصل کرکے کیا عمل کرسکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ اس میں بنیاد قرآن کو بنایا گیا ہے اور واقعے سے قبل جہاں ممکن ہو وہاں قرآن کی آیت سے بات شروع کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ کوئی غیر مستند بات بیان نہ ہو ۔ چوتھا یہ کہ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اس واقعے کے تاریخی اور دیگر پہلووں پر تفصیل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانچواں یہ اس کتاب میں مختصر سوالات کے ذریعے قاری کے مطالعہ اور تفہیم کی صلاحیت کو جانچنے اور ساتھ ہی اسے پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اس کتاب کا استعمال
یہ کتاب یوں تو ہر طبقے کے لئے مفید ہے لیکن بالخصوص ایک عام پڑھے لکھے شخص، خواتین ، بڑی عمر کے بچوں ، طلبا اور اساتذہ کے لئے مفید ہے۔ ایک عام قاری کے لئے اس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے وہ ہر روز اس کا تھوڑا تھوڑا حصہ پڑھے اور پھر اس میں دی گئی مشقیں حل کرے۔نیز جو تذکیر وہ حاصل کرے اسے اپنی عملی زندگی میں اپلائی کرنے کی پوری کوشش کرے۔
اس کتاب کے مطالعے کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ اسے گھر کے سربراہ جن میں شوہر، خواتین یا بڑے بھائی بہن شامل ہیں اپنے دیگر خاندا ن کے دیگر افرادمیں اورخاص طور پر بچوں میں اسے پڑھ کر سنائیں اور ساتھ ساتھ اس کی وضاحت بھی کرتے جائیں۔ جو تاریخی تفصیل غیر ضروری لگے یا جو بات مخاطب کی سطح کے لئے نامناسب ہو اسے حذف کردیں تاکہ دلچسپی برقرار رہے۔ اس کے بعد ان سے کچھ سوالات پوچھ لیں تاکہ انہیں سننے کی ترغیب حاصل ہو۔
کتاب کے ابواب
یہ کتاب چھ ابواب میں منقسم ہے۔ پہلا با ب انبیاء علیہم السلام کے واقعات پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب قوموں کے قصون کو بیان کرتا، تیسرا نیک ہستیوں کی داستانیں بتاتا، چوتھا برے کرداروں پر روشنی ڈالتا ، پانچواں قرآن کے انکشافات کی تفصیل بیان کرتا اور چھٹا باب متفرق قصائص کی تفصیل کرتا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس کتاب میں کسی بھی کسی کی غلطی ہو تو ضرور مطلع کریں۔ نیز میرے لئے اور میرے ادارے کے ٖلئے خاص طور پر دعا کریں کہ اللہ ہمیں اپنے لئے خاص کرلیں۔
پروفیسر محمد عقیل
کتاب داؤن لوڈ کرنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tazBxOTNROV9GWnc


زلزلہ پر کچھ سوالات

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

زلزلہ پر کچھ سوالات

از پروفیسر محمد عقیل

تحریر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tOVdIVDR4eGJLMlk


جادو اور نفسی علوم کی حقیقت

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

جادو اور نفسی علوم کی حقیقت

از پروفیسر محمد عقیل

تحریر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tTVhBeFdwbXZBTkU