پروفیسرڈاکٹر محمد عقیل |

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنااور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس سائٹ کے مقاصد ہیں۔۔۔۔۔۔۔قد افلح من زکھا۔

بیماری نامہ ۔۔ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Mar 10, 2016

ایک بیمار کی اللہ سے تعلق کی داستان

از پروفیسر محمد عقیل

تحریرپڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے

https://drive.google.com/open?id=0B6YkBK5vWD-tYkduRHUzTzFJdHc


قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Sep 23, 2015

قرآن کے کتاب الہیٰ ہونے پر عقلی دلائل
از: مدیحہ فاطمہ
1. اتنی صدیوں بعد بھی محفوظ ہے ۔ بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔
2. قرآن جیسے فصیح و بلیغ کلا م کا ایک امّی ﷺکی زبان سے ظہور بذات خود ایک معجزہ اور ایک بہت بڑی عقلی دلیل ہے۔
3. قرآن نے ساری دنیا کو چیلنج دیا کہ اگر کسی کو اس کے کلام الہی ہونےمیں شبہ ہے تو اس کی مثل بنا لائے۔ لیکن کسی میں بھی باوجود تمام دنیا کی بے پناہ مخالفت کےیہ ہمت نہیں آئی کہ اس کی مثل لے آئے۔
4. قرآن میں بہت سے غیب کی باتیں اور پیشن گویاں ہیں جو ہو بہو ویسے ہی واقعات پیش آئے جیسے کہ قرآن نے بتائے تھے۔
5. قرآن میں موجود سائنسی حقائق ہیں جنہیں آج کے زمانے میں پڑھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا یہ کسی انسان کا کلام ہوسکتا ہے؟ نہیں!
6. قرآن میں پچھلی امتوں کی تاریخی حالات کا ایسا صاف ذکر موجود ہے کہ اس وقت کے بڑے بڑے علما یہود و نصارٰی جو اس وقت کتاب کے ماہر سمجھے جاتے تھے ان کو بھی اتنی معلومات نہ تھیں۔ حضرت محمد ﷺ نے تو خود کسی قسم کی علم و تعلیم حاصل نہ کی تھی نہ ہی کبھی کسی کتاب کو ہاتھ لگایا تھا۔ پھر قرآن میں یہ ابد سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک کے حالات و واقعات کا قرآن میں آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یقیناً یہ خبریں آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہوں گی ، جو اس کائینات کا خالق و مالک و مدبّر ہے۔
7. قرآن مجید کی متعدد آیات میں لوگوں کے دل کی چھپی ہوئی باتوں کی اطلاع دی گئی اور پھر ان کے اقرار سے ثابت ہوگیا کہ وہ بات صحیح اور سچی تھی۔ یہ کام بھی عالم الغیب والشہادۃ ہی کرسکتا ہے ،کسی بشر سے عادۃ ممکن نہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ :
اِذْ ھَمَّتْ طَّاۗىِٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا
“جب تمہاری دو جماعتوں نے دل میں ارادہ کیا کہ پسپا ہوجائیں۔” (۱۲۲:۳)
يَقُوْلُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ
“وہ لوگ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمارے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔” (۵۸:۸)
یہ سب باتیں ایسی ہیں جس کا انہوں نے کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا لیکن قرآن پاک نے اس کو ظاہر کردیا۔ اس کا مشرکین عرب ے بھی اقرار کیا کہ بخدا یہ کسی انسان کاکلام نہیں۔ تبھی وہ کہا کرتے تھے کہ نبیﷺ کے پاس جنات /شیاطین آ کر یہ خبریں دیتے ہیں۔
8. قرآن مجید دنیا کی سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ شاید ہی کسی کتاب کی اشاعت اتنی ہوئی ہو جتنی آج تک قرآن مجید کی ہوئی ہے۔ نہ ہی کسی دوسری قوم یا مذہب کی کتاب کی اتنی اشاعت ہوئی جتنی کہ قرآن مجید کی یہ بھی حفاظت قرآن پاک کی ایک کڑی ہے۔
9. قرآن کو کلام الہی ماننے پر ہر وہ شخص مجبور ہے جس کی عقل وبصیرت کو تعصب وعناد نے بالکل ہی برباد نہ کردیا ہو۔اس دور مادہ پرستی کے مسیحی مصنفین جنہوں نے کچھ بھی قرآن میں غور وفکر سے کام لیا اس اقرار پر مجبور ہوگئے کہ یہ ایک بےمثل وبے نظیر کتاب ہے۔ مسٹر ولیم میورؔ نے اپنی کتاب “حیات محمد ” میں واضح طور پر اس کا اعتراف کیا ہے اور ڈاکٹر شبلی شمیلؔ نے اس پر ایک مستقل مقالہ لکھا ہے۔
10. اتنے مختصر و محدود کلمات میں جتنے علوم و معارف قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں کسی کتاب میں نہیں پائے جاسکتے۔ قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی: عائلی زندگی سے لے کر قبائلی اور شہری زندگی تک اور پھر عمرانیات واجتماعیات اور سیاستِ ممالک کے متعلق نظام پیش کرتا ہے۔پھر صرف نظام پیش کرنا ہی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا رواج پانا اور تمام نظامہائے دنیا پر غالب آکر قوموں کے مزاج ، اخلاق ، اعمال ، معاشرت اور تمدن میں وہ انقلاب عظیم پیدا کرتا ہے جس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی


کاپیاں اور اعمال نامے

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

کاپیاں اور اعمال نامے

پروفیسر محمد عقیل
میں نے اپنے اٹھارہ سالہ کیرئیر میں بے شمار کاپیاں چیک کی ہیں۔ کچھ کاپیاں انٹرنل امتحانات کی ہوتی ہیں اور کچھ بورڈ ایگزامز کی۔ بورڈ یا یونی ورسٹی کی کاپیوں کے چیک کرنے والے کو علم نہیں ہوتا کہ طالب علم کون ہے۔ اسی لیے بڑی عجیب اور دلچسپ باتیں لکھی ہوتی ہیں۔
ایک مرتبہ ایک کاپی میں ایک لڑکی نے لکھا ” میری منگنی ہوگئی جس کی خوشی میں سب کچھ بھول گئی، پلیز پاس کردیں”۔ کسی میں لکھا تھا ” میرے بچے کی ساری رات طبیعت خراب رہی اس لیے پڑھ نہیں پائی تو پاس کردیں۔” اس کے علاوہ غربت و افلاس کی بنا پر پاس کرنے کی اپیلیں تو بہت کامن ہیں۔غرض کئی قسم کی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ دراصل یہ کاپیاں انسانی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں کہ امتحان دینے والا کس مزاج کا حامل ہے۔ اسی شخصیت کی کارکردگی کا اعلان رزلٹ کار ڈ کے ذریعے کردیا جاتا ہے کہ امتحان دینے والا پاس ہے یا فیل ۔ رزلٹ کارڈ کی طرح ایک دن آخرت میں ہمیں اعمال نامہ دیا جائے گا جس میں ہماری شخصیت کا تعین کردیا جائے گا کہ ہم اچھے انسان تھے یا برے، سنجیدہ تھے یا لابالی، خدا پرست تھے یا مفاد پرست۔ اسی لحاظ سے ہمارا انجام
متعین ہوجائے گا کہ ہم پاس ہیں یا فیل۔اسی تناظر میں ہم دیکھیں تو ہم ان کاپیوں سے بہت حد تک انسانی شخصیت کے بارے میں جان سکتے اور اس سے آخرت کے انجام کو سمجھ سکتے ہیں۔

بری کاپیاں
کچھ کاپیوں میں طلبا فلمی گانے ،اشعار، لطیفے، لایعنی کہانیاں اور دیگر خرافات لکھ دیتے ہیں۔ اس قسم کی کاپیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ لکھنےوالا پورے امتحانی نظام کا مذاق اڑارہا، چیک کرنے والے کو منہ چڑا رہا اور بدتمیزی کرکے یہ کہہ رہا ہے ” کرلو جو کرنا ہے۔” قیامت میں بھی کچھ لوگ اپنے نامہ اعمال میں اس قسم کے اعمال لائیں گے جب انھوں نے خدا کو گالی دی تھی، اس کا انکار کیا تھا، اس کی باتوں کا مذاق اڑایا تھا، اس کے پیغمبروں کی توہین کی تھی، اس کی جانب بلانے والوں کو دقیانوسی کہا تھا، اس کی کتابوں پر تبرا بھیجا تھا، اس کے امتحانی نظام کو چیلنج کیا تھا اور بغاوت کا علم بلند کرکے کہا تھا کہ ” کرلو جو کرنا ہے”۔ ایسے لوگوں کا انجام سادہ نہیں۔ بلکہ یہ نظام کے باغی ہیں اور ان کی سزا عام مجرموں کی طرح نہیں بلکہ اسپیشل طرز کی ہوگی۔

کچھ کاپیاں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ اس سے علم ہوتا ہے کہ اس قسم کے طلبا نے سرے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور پورا سال لاابالی پن میں گزارا۔ آخرت میں بھی کچھ لوگوں کے اعمال نامے میں اچھائیاں اور نیکیاں نہیں ہوں گی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ساری زندگی لہو لعب ، کھیل کود، غفلت اور دنیا میں لگادی اور آخرت کے حوالے سے کوئی کام بھی نہ کرپائے۔
کچھ لوگ ہیں جو امتحان میں محنت نہیں کرتے اور اس کمی کو دور کرنے کے لیے کاپی پر مختلف تعویذ اور وظائف لکھتے ہیں۔ ان کی مثا ل آخرت میں ان لوگو ں کی سی ہے جو توہمات کے سہارے اپنی زندگی گزارتے رہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان اور عمل صالح لازمی ہے اور نجات اسی پر موقوف ہے۔
کچھ طلبا رونے پیٹنے لگ جاتے اور بہانے بنانے لگ جاتے ہیں کہ ہماری طبیعت خراب تھی یا میں بہت غریب ہوں اس لیے پاس کردیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے بہانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص ایک دن قبل بیمار تھا تو کیا سارا سال بیمار تھا کہ ایک لفظ نہیں لکھ پایا۔ آخرت میں بھی اس قسم کے لوگ پیش ہوں گے جنھوں نے اس آس پر گناہ کیے ہوں گے کہ کوئی بہانہ کردیں گے۔ اول تو وہاں زبانیں گنگ ہوجائیں گی ۔ اگر کسی کا کوئی عذر ہوگا تو رب العٰلمین خود ہی اس کا لحاظ کرکے حساب کتاب کریں گے۔ لیکن وہاں جھوٹ بولنا، مگر مچھ کے آنسو بہانا، بہانے تراشنا ممکن نہ ہوگا۔

کچھ لوگ اس آس پر امتحان دیتے ہیں کہ پیسے دے کر پاس ہوجائیں گے ، یا کسی سیاسی تنظیم کی بنیاد پر کام کروالیں گے، یا ڈرا دھمکا کر کام نکال لیں گے یا کسی کی سفارش سے کام چلالیں گے۔ یہ سارے کام دنیا میں بھی اتنے آسان نہیں ہوتے۔ البتہ آخرت میں تو اس کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کون ہے جو خدا کو نعوذ باللہ دھمکا کر اپنا کام کروالے، وہ کو ن سی سیاسی تنظیم ہے جو اپنا اثرو رسوخ رب العٰلمین پر آزما سکے؟ وہ کو ن سا پیسا ہے جسے رشوت کے طور پر استعمال کیا جاسکے؟ وہ کون ہے جو خدا کی مرضی کے خلاف سفارش کرکے نجات دلواسکے؟
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یعنی جواب دیتے ہوئے درمیان میں سوال ہی کاپی کردیتے ہیں تاکہ پڑھنے والے کو یہ تاثر ہو کہ کاپی بھری ہوئی ہے۔ ممتحن کی نگاہ فورا ہی تاڑ لیتی ہے اور بھری ہوئی کاپی کو کاٹ کر وہ زیرو نمبر دے دیتا ہے۔آخرت میں خدا کو دھوکا دینا تو قطعا ممکن نہ ہوگا۔ کچھ لوگوں نے اپنے نامہ اعمال میں الٹے سیدھے لایعنی اعمال بھر رکھے ہوں گے جنہیں وہ دین سمجھ کر کرتے رہے لیکن وہ سب خدا کے نزدیک ناقابل قبول تھے۔کوئی شخص دین داری کے نام پر لایعنی جلسے نکالتا رہا، وہ اسلام کے نام پر جھوٹی سیاست کرتا رہا، وہ جہاد کے نام پر فساد کرتا رہا، وہ دقیانوسی قبائلی کلچر کو اسلامی شعائرسمجھتا رہا، وہ ریا کار ی والے حج کو گناہوں کی مغفرت کا سبب سمجھتا رہا ۔لیکن جب وہ آخرت میں ان سب کو دیکھے گا تو علم ہوگا کہ یہ سارے اعمال اسے نجات دینے کی بجائے الٹے اس کے گلے پڑ گئے ہیں۔
امتحان دینے والے لوگوں کی ایک قسم ان لوگوں پر مبنی ہے جنھوں نے سوال ہی درست طو ر پر نہیں سمجھا۔ سوال کچھ تھا اور جواب کچھ اور۔ وہ سوال کا غلط جواب لکھتے رہے اور اسے ہی درست سمجھتے رہے۔ اس غلط جواب لکھنے کا ایک سبب تو غلط اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جوش و جذبات اور جلد بازی میں اتنے اندھے ہوگئے کہ سوال سمجھنے ہی کی زحمت نہ کی۔ آخرت میں بھی اس قسم کے کئی لوگ ہوں گے جنھوں نے اپنے امتحانی سوال کو سمجھا ہی نہیں اور غلط جواب دے کر آگئے۔مثال کے طور پر مذہبی لیڈر شپ کا اصل امتحان یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ و تربیت کرتے لیکن وہ لوگوں میں تعصب پیدا کرنے کو دین داری سمجھتے رہے۔ ان کا کام تھا کہ لوگوں کے باطن کی اصلاح کرتے لیکن وہ ظاہری رسومات ہی کو دین کے طور پر پیش کرتے رہے۔
ایک اور قسم ان لوگوں کی ہے جو ایک سوال کا جواب اتنا طویل لکھ دیتے ہیں کہ سار ا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ دیگر سوال حل ہی نہیں کرپاتے۔ نتیجے کے طور پر وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ دین کے معاملے میں بھی یہ بہت کامن ہے۔ کچھ لوگ مثال کے طور پر عبادات میں ہی پوری زندگی بسر کردیتے ہیں ۔ فرض نمازوں کےساتھ ساتھ اشراق و چاشت پڑھتے، رمضان کے علاوہ نفلی روزے رکھتے اور فرضی حج کے علاوہ کئی حج بھی کرتے ہیں لیکن دین کے دیگر امور کو فراموش کردیتے ہیں۔یہ لوگ مثال کے طور پر اخلاقیا ت میں دوسرے سرے پر کھڑے ہوکر لوگوں سے بدتمیزی کرتے، کاروبار میں دھوکا دیتے، بات چیت سے تکلیف پہنچاتے، بدگمانی و چغلی سے فساد برپا کرتے، انسانوں کا قتل کرنے والوں کی واہ واہ کرتے، تعصب کو دین سمجھتے اور ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکت کو اپنی عبادت گزاری کی آڑ میں جائز قرار دیتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اشراق اور چاشت کی نمازو ں نے تکبر میں مبتلا کردیا ۔یہ دین میں پوچھے گئے صرف ایک سوال ہی کا جواب دیتے رہے اور دوسرے سوالات کی تیاری ہی نہیں کی۔ نتیجہ “فیل “۔
کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے سوالات کا غلط انتخاب کرتے ہیں۔ انھیں دس میں سے پانچ سوال کرنے تھے لیکن انھوں نے وہ سوالات منتخب کیے جن میں وہ کمزور تھے یا جن کے جوابات مشکل تھے۔ دین میں بھی یہ کا م اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص کو ایک ساد ہ زندگی ملی تھی جس میں وہ باآسانی چند اعمال کرکے پاس ہوسکتا تھا۔ لیکن اس نے اپنی لالچ ، حرص اور طمع کے ذریعے ناجائز دولت کے انبار اکھٹے کرلیے ، جھوٹی شہرت کو زندگی کا مقصد بنالیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہوگیا، عبادات سے محروم ہوگیا ۔ تو اس نے ایسا سوال منتخب کرلیا جس کے جواب کا وہ مکلف ہی نہ تھا ۔

کچھ سوال اس طرح کے ہوتے ہیں جن کا جواب مخصوص ہیڈنگز میں ہی دینا ہوتا ہے جبکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب اپنی طرف سے دینا ہوتا ہے۔ دین کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کچھ ایسے امور ہیں جس کا دین نے طریقہ مقرر کردیا ہے اور اس کے ادا کرنے کا طریقہ مخصوص ہے جیسے نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہ۔اسی طرح کچھ امور ایسے ہیں جنہیں دین نے مجمل چھوڑا ہے یعنی انسان آزاد ہے کہ ایک دائرے میں رہتے ہوئے ان پر عمل کرے جیسے انسان آزاد ہے کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق کتنا سوئے، کتنا کھائے ، کتنا پئیے وغیرہ۔ اب جو لوگ دین سے جان چھڑانا چاہتے ہیں وہ متعین امور میں آزادی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ وہ نمازوں کو لایعنی سمجھ کر اذکار پر ہی اکتفا کرتے، روزوں کو فاقہ کشی سمجھ کر چھوڑنے کی کوشش کرتے، حج کو محض ایک رسم سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ ظاہر پرست لوگ دین کی دی گئی رخصت میں بھی پابندی کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ فجر کی نماز کے بعد سونے کو دین کے خلاف سمجھتے، کھانا پیٹ بھر کر کھانے کو تقوی کے منافی گردانتے اوردنیا کی جائز نعمتوں سے استفادے کو برائی جانتے ہیں۔اس روئیے سے دین کا توازن بگڑ جاتا ہے اور نتیجہ بعض اوقات کٹر ظاہر پرستی یا ایک لابالی شخصیت کی شکل میں نکلتا ہے۔

اچھی کاپیاں
دوسری قسم کی کاپیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں بہت اچھا لکھا ہوتا ہے، ہر صفحے پر سنجیدگی ، متانت، محنت اور دیانت ٹپک رہی ہوتی ہے۔ خوبصورت لکھائی دیکھ کر نفاست کا احساس ہوتا اورمتن پڑھ کر ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ہر سوال اچھی طرح سمجھا جاتا اور اس کا متوازن جواب دیا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے نہ صرف امتحانی نظام کے تقاضوں کو سمجھا بلکہ اس پر ایمان لاکر اس کے مطابق تیاری کی، اس کے ہر سوال کو بغور پڑھا، اس کے جوابات پر نوٹس بنائے ، سمجھنے کے لیے کلاسز لیں، اساتذہ سے رجوع کیا، تعلیمی اداروں کی خاک چھانی، اپنا دن رات ایک کیا اور تن من دھن قربان کرکے یکسوئی اختیار کی۔ دین میں ایسے لوگوں کی مثال ان سلیم الفطرت لوگوں کی ہے جنھوں نے اپنی فطرت کے چراغ کی حفاظت کی، اسے ماحول کی آلودگی سے بچائے رکھا۔ اس کے علاوہ وحی کے علم سے اپنی شخصیت کو آراستہ کیا، خدا کے احکامات کو سمجھا ، جانا، مانا اور پھر اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے درست اساتذہ کا انتخاب کیا، ان سے اپنے مسائل ڈسکس کیے اور راہنمائی حاصل کرنے کے بعد منزل کی جانب چل پڑے۔
ایسے لوگوں کا آخرت میں انجام صدیقین، شہدا اورصالحین کی صورت میں ہوگا۔ ہر طرف سے ان پر سلامتی اور مبارکباد کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے، ان کے استقبال کے لیے فرشتے مستعد ہوں گے، انھیں خدا کی جانب سے کامیابی کی سند سے نوزا جائے گا اور ان کا آخری کلمہ یہی ہوگا۔
الحمدللہ رب العٰالمین۔

اسائن منٹ
• روز رات سونے سے پہلے اپنے پورے دن کا جائزہ لیجئے کہ آپ کے اعمال نامے کا شمار کن قسم کی کاپیوں میں شمار ہوتی ہے؟
• روز سوتے وقت خود کو بہتر کرنے کے لیے کم از کم ایک عادت کو چھوڑنے یا اپنانے کا ارادہ کر کے سوئیں۔


شوہر پر شک اور بدگمانی

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

انسانی شخصیت اور معاشرے کے لیے جو منفی رجحانات نقصان دہ ہیں ان میں بد گمانی بلاشبہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ایک ایسی برائی ہے جو انسان کی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک بے سکوینی، جھگڑے اور فساد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتی ہے۔بدگمانی اپنے دل میں کسی کے بارے میں بری سوچ رکھنے کو کہتے ہیں۔
ہماری خاندانی زندگی بدگمانی کا ایک سب سے اہم شکار شوہر ہوتا ہے ۔ عام طور پر خواتین اپنے شوہروں پر کئی پہلووں سے شک کرتی ہیں لیکن سب سے اہم پہلو یہی ہوتا ہے کہ یہ کسی دوسری عورت میں تو دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس بدگمانی کے بے شمار نفسیاتی، جذباتی ، واقعاتی یا دیگر اسباب ہوسکتے ہیں۔
خواتین کو یہ شک سب سےپہلے شوہروں کے رویے سے ہوتا ہے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں مرد کا رویہ بے حد رومانوی (Romantic)ہوتا ہے لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ رومانویت کی اس کمی سے بیوی کے دل میں یہی بات پیدا ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے یا ابتدائی دنوں میں تو یہ جان نچھاور کرتے، محبت کا اظہار کرتے اور مجھ سے خوب باتیں کرتے تھے، اب یہ بدل گئے ہیں۔ ضرور کوئی چکر ہے۔ بس یہ چکر کا خیال آتے ہیں چکر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہیں سے بدگمانی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
ایک اور اہم سبب شوہر کا تاخیر سے گھر آنا ہے۔دفتری یا کاروبای مصروفیات کی بنا پر مرد حضرات تاخیر سے گھر آتے ہیں۔ عام طور پر بیویوں کو شک ہوتا ہے کہ کیا معاملہ ہے۔ پھر شوہر تھکے ماندے گھر واپس آتے ہیں اور عام طور پر باتیں نہیں کرتے۔بیوی جو سارا دن اس کا انتظار کرتی رہتی ہے اپنے پورے دن کی کتھا سنانے کے درپے ہوتی ہے۔
شوہر عام طور پر کوئی دلچسپی نہیں لیتے یا پھر صرف ہاں ہوں کرکے بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر مرد ویسے بھی خواتین کے مقابلے میں کم گو ہوتے ہیں۔ یہاں بھی بیوی میں بدگمانی پید اہوتی ہے کہ میری تو کوئی اہمیت نہیں ، کوئی اوقات نہیں وغیرہ۔ یہاں سے ایک خود ساختہ بے چارگی، احساس کمتری، شک اور دیگر گمانوں کی ایک چین شروع ہوجاتی ہے۔
بدگمانی کی ایک اور ممکنہ وجہ شوہر کی آزاد خیالی ، کھلا مزاج یا ڈبل اسٹینڈرڈہوتا ہے۔شوہر کا دیگر خواتین سے بات چیت کرنا، ان کے ساتھ ہنسنا بولنا، ان سے اچھی طرح بات چیت کرنا ایک بیوی کو بہت برا لگتا ہے ۔ یہاں سے بھی بدگمانی پیدا ہوتی ہے ۔ عورت خود کو کمتر سمجھتی اور شوہر پر مختلف طریقوں سے شک کرتی ہے۔
یہاں عین ممکن ہے کہ شوہر کی غلطی ہو اور اس کا رویہ نامناسب ہو لیکن اس کی نیت کسی عورت میں دلچسپی کا نہ ہو۔ اس صورت میں کی گئی بدگمانیاں سرد جنگ کو جنم دیتیں، لڑائی جھگڑے کا سبب بنتی اور بعض اوقات علیحدگی کا سبب بھی بن جاتیں ہیں۔
یہ ضروری ہے ہم اپنے دماغ کو خود کے ہی قائم کردہ بے بنیاد مفروضات کی زنجیر نہ لگائیں بلکہ حسن ظن قائم رکھتے ہوئے اپنے معاملات حسن انداز میں طے کریں ۔بدگمانی و شک ایک ادھورا علم ہوتا ہے اور ادھورے علم کی بنیاد پر زندگی کی عمارت تعمیر کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔
پروفیسر محمد عقیل


انٹرایکٹیو فہم القرآن کورس ۔۔ آٹھواں سیشن ۔۔ خلاصہ

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Aug 26, 2015

انٹرایکٹو فہم القرآن کورس
آٹھواں سیشن
سورہ البقرہ آیت نمبر 47 تا 66

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آیات نمبر ۴۳ سے سورہ بقرہ میں ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوچکا ہے۔ یہ اصل خطاب ہے جو بنی اسرائل سے کیا جارہا ہے۔ گذشتہ آیات میں اسی خطاب کی تمہید باندھی گئی تھی۔ جیسا کہ گذشتہ آیات میں ہم نے پڑھا تھا کہ بنی اسرائل کی حیثیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ایک امت وسط ہی کی تھی جس کے ذمے اللہ کا پیغام باقی انسانیت کو پہنچانا تھا۔ لیکن بنی اسرائل اپنی ذمہ دار ی نہ نبھا سکے اور اب انہیں معزول کرکے امت وسط کی حیثیت بنی اسماعیل کو دینی تھی۔ چنانچہ یہ ایک چارج شیٹ یا الزامات کی فہرست ہے جو بنی اسرائل کو دی جارہی ہے۔
ان آیات میں وہ احسانات یاد لائے جارہے ، ان کی نافرمانیاں گنوائی جارہیں اور ان کے کفران نعمت کے روئیے کو ایڈریس کیا جارہا ہے۔ یہ بتایا جارہا ہے کہ تمہیں تمام عالم پر فضیلت دی تھی اور تم نے کیا کیا؟ خود کو نسلی تفاخر میں مبتلا کردیا۔ تمہیں فرعون کی غلامی سے نجات دی اور ایک آزاد زندگی عطا کی لیکن تم نے اس احسان کو نہیں مانا۔ تم نے موسی علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنالیا، تو کبھی خدا کو آنکھوں سے دیکھنا کی ضد کی ۔ کبھی پیغمبروں کو ناحق قتل کیا تو کبھی من و سلوی کو حقیر جانا تو کبھی عجزو انکساری کی بجائے تکبر کے قول کو اہمیت دی۔ کبھی نبیوں کو ناحق قتل کیا تو کبھی نسلی امتیاز کی بنا پر جنت و جہنم کے فیصلے کرنے لگے۔ پھر تم نے سبت کے موقع پر کس طر ح حیلہ کرکے حرام کو حلال کرلیا۔
یہ ان آیات کا خلاصہ ہے۔ اگر ان آیات کو دیکھا جائے تو یہ بنی اسماعیل یعنی ہم پر بھی کافی حد تک منطبق ہوتی ہیں۔ہم مسلمانوں کو خود سے سوال کرنا چاہئے کہ آیا ہم بھی نسلی تفاخر کا تو شکار نہیں؟ کیا ہم بھی خود کو چہیتی امت تو نہیں سمجھتے جس کے لئے عمل صالح کی کوئی قید نہیں؟کیا ہم بھی تو سود یا دیگر فقہی امور میں سبت والوں کی طرح کوئی حیلہ تو نہیں کررہے؟ کیا ایسا تو نہیں جس طرح خدا بنی اسرائل سے ناراض تھا ویسے ہی خدا بنی اسماعیل یعنی ہم سے بھی ناراض ہو ؟
سوالات کے جوابات:
۱۔ آیت نمبر ۴۷ میں اللہ نے فرمایا کہ بنی اسرائل کو تمام عالم پر فضیلت دی تھی۔ تو یہ کس قسم کی فضیلت تھی ؟
اس فضیلت سے مراد یہی امت وسط ہونے کی حیثیت تھی۔ بنی اسرائل میں پے درپے پیغمبر آتے رہے اور ان پر یہ لازم تھا کہ اپنے ارد گرد کی اقوام تک خدا کی توحید کا پیغما پہنچائیں۔ یہاں فضیلت سے مراد نسلی برتری یا مادی ترقی نہیں تھی۔
۲۔ بنی اسرائل ہی میں ایک مدت تک پیغمبر مبعوث ہوتے رہے۔ اور آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں۔ یعنی پیغمبر آل ابراہیم میں ہی مبعوث ہوتے رہے؟ اس کی کیا وجہ تھی؟ اور کیا یہ ایک طرح سے اللہ کی جانب سے نعوذباللہ جانبداری نہیں تھی کہ صرف آل ابراہیم میں ہی پیغمبر آتے رہیں؟
نہیں ایسا نہیں تھا۔ خدا نے تمدنی ارتقا کے ساتھ ساتھ مختلف ماڈلز انسانوں کی ہدایت کے لئے بنائے۔ ایک ماڈل تو یہ تھا کہ مختلف اقوام میں پیغمبر آتے رہے اور انہیں خدا کی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے۔ ان میں حضرت نوح ، حضرت صالح، حضرت شعیب ، حضرت ھود اور حضرت لوط علہیم السلام شامل تھے۔
ان پیغمبروں کی دعوت کے کچھ عرصے بعد ہی لوگ دوبارہ سے ان برائیوں میں مبتلا ہوجاتے تھے جن سے ان کے پیغمبر منع کرکے گئے تھے۔ اس صورت حال میں اللہ نے یہ طے کیا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جس کی بنیاد توحید پر ہو۔ بے شک اس میں برائیاں آجائیں لیکن اس کی خالص تعلیمات میں تھیوری میں اصل پیغا محفوظ رہے گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا انتخاب کیا گیا۔ اس کی ایک شاخ بنی اسرائل تھی اور دوسری بنی اسماعیل۔ دونوں توحید کے علمبردار تھے۔ بنی اسرائل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت کئی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں لیکن یہ نظری طور پر کبھی شرک کو قبول نہیں کرپائے جیسے دیگر اقوام نے کرلیا تھا۔ایسے ہی بنی اسماعیل خدا کو تو مانتے تھے لیکن کچھ سفارشیوں کے ساتھ۔
تمدن کے ارتقا کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بناکر بھیج دیا گیا۔ تو گویا حضرت ابراہیم کی ذریت میں پیغمبر ی کا سلسلہ کوئی نسلی بنیادوں پر نہیں تھا بلکہ کسی اور بنیادوں پر تھا۔
۳۔ آیت نمبر ۵۱ میں ہے کہ اللہ نےب موسی علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ لیا۔ یہ چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا اور اس کا کیا مقصد تھا؟
چالیس راتوں کا وعدہ اسی لئے لیا گیا تھا تاکہ موسی علیہ السلام مخصوص عبادات کرکے اپنے اندر وہ صلاحتیتں پیداکریں جس کی بنیاد پر وہ تورات جیسی شاندار کتاب کی تعلیمات حاصل کرلیں۔
۴۔آیت نمبر ۶۲ میں ہے کہ
” جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا صابئین ، جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہو گا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے”۔
کیا اس آیت کے تحت اسلام لانا ضرور ی نہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی نجات بھی ممکن ہے؟
یہ آیت اگر سیاق و سباق سے دیکھی جائے تو یہود کے اس زعم کی نفی ہے کہ نجات کے لئے یہودی یا نصرانی ہونا ضرور نہیں اور نہ ہی کسی گروہ سے وابستگی نجات کا باعث ہے۔ بلکہ جو بھی ان گروہوں میں سے یا دیگر گروہوں میں سے اللہ پر اور یوم آخرت پر یقین رکھے گا، اسے نجات مل جائے گی۔
یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ مسلمان یا مسلم کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک نسلی اور دوسری عملی۔ جو شخص کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے و ہ نسلی طور پر مسلمان ہوتا ہے اور وہ نسلی طور پر توحید ، آخرت ، رسالت وغیرہ کے عقیدے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ دل سے یا عملی طور پر مومن نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی غیر اسلامی مذہب میں موجود ہو لیکن وہ دل سے خدا کی توحید اور آخرت اور رسالت وغیرہ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کا اظہار نہ کیا ہو۔ تو وہ شخص عملی طور پر مومن ہے بے شک وہ ظاہری طور پر مسلمانوں کے گرو ہ میں شامل نہیں۔
تو نتیجہ یہ نکلا کہ امت مسلمہ میں شامل تمام مسلمان ضروری نہیں کہ خدا کے نزدیک بھی مسلمان ہوں اور یہ بھی ضرور ی نہیں کہ تمام غیر مسلم خدا کے نزدیک بھی غیر مسلم ہوں۔ لہٰذا اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ آیت واضح طور پر یہ کہہ رہی ہے کسی گروہ سے وابستگی یا عدم وابستگی نجات کی بنیاد نہیں۔ اصل بنیاد ایمان ہے اور عمل صالح۔
۵۔ ان آیات میں بنی اسرائل کے جو جرائم گنوائے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی پانچ جرائم کو عنوانات کی شکل میں لکھیں یعنی پورا جملہ نہ لکھیں۔ مثال کے طور پر آیت نمبر ۵۱ میں انہوں نے جو بچھڑے کو معبود بنانے کا جرم کیا وہ جرم دراصل شرک تھا۔ تو آپ بھی ان آیات کو پڑھ کر تعین کریں کہ ان سے کون کون سے جرائم سر زد ہوئے ہیں جیسے ناشکری، ظاہر پرستی یا مادیت پرستی، نسل پرستی وغیرہ۔ کوئی پانچ عنوانات لکھیں۔
قتل انبیا، شرک، ناشکری، نافرمانی، مادیت پرستی

پروفیسر محمد عقیل


تزکیہ نفس قرآن کی روشنی میں

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Jun 12, 2013


اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ ( الذاریات56:51 )اس بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ خدا ہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے ( النحل 36:16 )۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے ( الملک 2:67 )۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا ہے پڑھنا جاری رکھیں »


آن لائن تزکیہ نفس پروگرام

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Thursday Jan 31, 2013


محترم قاری!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ یہ بات جانتے ہیں کہ آخرت میں کامیابی کا انحصار دنیا کی زندگی پر ہے۔ اس زندگی میں ہماری کارکردگی دو امور پر منحصر ہے ایک علم اور دوسرا عمل۔ انہی دو معاملات سے متعلق ہماری باز پرس ہوگی۔اگر ہم غور سے دیکھیں تو قیامت کے دن شاید ان امور پر براہ گرفت نہ ہو کہ ہم نے قرآن کے تراجم کا تقابلی مطالعہ کیا یا نہیں، ہم نے ادب جاہلی کو دیکھا یا نہیں، ہم نے تہذیب کا ارتقا معلوم کیا یا نہیں۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ ہم سے یہ ضرور پوچھا جائے گا کہ ہم آیا ہم نے غیبت، حسد، چغلی ، بہتان، بے ایمانی، دھوکہ دہی وغیرہ جیسے امور کے بارے میں کیا علم حاصل کیا اور ان سے بچنے کے لئے کیا عمل کیا۔ کہنے کامطلب یہ ہے کہ اخلاقیات دین کا وہ بنیادی حصہ ہے جس کے بارے میں ہم پڑھنا جاری رکھیں »


تزکیہ نفس کیا ہے؟

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Saturday Mar 3, 2012


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
میرے ایک دوست پاکستان سے باہر ایک مغربی ملک تشریف لے گئے۔ وہاں کا ماحول حسب توقع مادی رعنائیوں اور جنسی آزادی سے آراستہ تھا۔ وہ صاحب چونکہ مضبوط مذہبی پس منظر رکھتے تھے لہٰذا ان خرافات سے بچے رہے۔ ایک دن دوستوں کے اصرار پر وہ ایک عام سے ہوٹل میں چلے گئے جہاں شراب کے ساتھ ساتھ شباب بھی محو رقص تھا۔ وہ ابھی آکر بیٹھے ہی تھے کہ اسٹیج پر بو س و کنار کے گھٹیا مناظر شروع ہوگئے۔ ان کی طبیعت گھبرانے لگی اور یوں محسوس ہوا کہ الٹی ہوجائے گی۔ جب وحشت ناقابل برداشت ہوگئی تو وہ اس محفل پر تبرا بھیج کر باہر نکل پڑھنا جاری رکھیں »


آن لائن تزکیہء نفس پروگرام ۔ پروفیسر محمد عقیل

شائع ہونے کا وقت اور تاریخ :Wednesday Dec 29, 2010


تزکیہء نفس کی دین میں اہمیت: دین کا بنیادی مقصد نفس کا تزکیہ یا نفس کو پاک کرنا ہے۔ سورۂ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’ وہی (اللہ) ہے جس نے امیّوں میں ایک رسول بھیجا تاکہ وہ انکے سامنے آیات کی تلاوت کرے، اور انہیں پاک کرے ( یعنی تزکیہ کرے)، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ (سورۂ جمعہ:۲)۔ اگرچہ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بظاہر چار مقصد بیان ہوئے ہیں لیکن درحقیقت کتاب و حکمت کی تعلیم دینے اور آیات کی تلاوت کرنے کا مقصد تزکیہء نفس ہی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں »